اجالوں کا سفر

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔ (34)

مجھے اگر قرآن کے اس موقف میں کہ انسانی کردار فرشتوں کے کردار سے امکانی طور پر برتر ہے، اگر ذرا سا بھی شک تھا، تو اس آیت سے رفع ہوگیا۔ جب آدم علمی میدان میں وہاں کام یاب ہوئے جہاں فرشتے ناکام ہوگئے تھے تو خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پھر انھوں نے آدم کی برتری کے اظہار کے طور پر حکم کی تعمیل کی۔ سجدہ کرنا تابع ہونے کی علامت بھی ہے، چناں چہ قرآن نے اشارہ دیا ہے کہ فرشتے زمین پر انسان کی ترقی میں انسانیت کی خدمت پر مامور ہوں گے۔

تاہم، ابلیس، جو شیطان تھا، اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا، اور اس کے انکار سے قرآن گناہ کی ابتدا کا تصور پیش کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق گناہ کی جڑ مال اور حرص و ہوس میں نہیں بلکہ غلط اور تباہ کن غرور میں ہے۔ شیطان کو شامل کرکے صحیفے نے اب اس ڈرامے اور فرشتوں کے بنیادی سوال میں ایک اور اہم جز کا اضافہ کردیا، لیکن کیوں؟ شیطان کی کیا ضروت آن پڑی تھی؟ ایسی مخلوق کو کیوں بنایا جائے جس کا واحد مقصد انسانوں کو بھلائی کی راہ سے بھٹکانا ہے؟

اب تک قرآن فرشتوں کے سوال کا دانش مندانہ جواب دے رہا تھا، لیکن مجھے لگنے لگا کہ اب اس نے لڑکھڑانا شروع کردیا ہے اور انجیل والی کہانی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ شیطان آدم کو پھسلاتا ہے، آدم گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کی پوری نسل کو پوری زندگی زمین پر گزارنے کی سزا دی جاتی ہے۔ لیکن چوں کہ میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میں قرآن کے مطالعے میں اپنا ذہن کھلا رکھوں گا، اور صحیفے پر اپنی غیرضروری تشریح و تفہیم نہیں تھوپوں گا، تو میں نے سوچا کہ اسے شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے۔ میں نے خود سے سوال کیا، تو پھر شیطان کی تخلیق کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟

ہر ثقافت شیطان کے بارے میں مخصوص اعتقادات کی حامل ہوتی ہے، لیکن کم و بیش تمام مذہبی نظریات میں وہ انسان کے تحت الشعور میں ورغلانے اکسانے والی ہستی ہے جو اس کی سوچ میں شرانگیز خیالات پیدا کرتی ہے۔ جس طرح فرشتے خیر کے لیے تحریک پیدا کرتے ہیں، اسی طرح شیطان شر کی طرف مائل کرتا ہے۔ جب ہم کسی اخلاقی مخمصے میں گرفتار ہوں تو انھیں اپنے ذہن کی دو متضاد آوازیں سمجھتے ہیں۔

کیا ایسی ہی بات ہے؟ کیا قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں عقل کے ساتھ ساتھ خدا نے اخلاقی وجود بھی بخشا ہے، ایک ایسا وجود جو صحیح اور غلط میں تمیز کرسکتا ہے؟ کیا یہ کہہ رہا ہے کہ خدا نے ہمارے اخلاقی شعور کو بالیدہ کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کی تحریک اور شیطانوں کی ورغلاہٹ بھی دی ہے؟ کیا یہ اس حقیقت کی سمت اشارہ ہے کہ ہم ایسی مخلوق ہیں جو اخلاقی فیصلے کرسکتی ہے اور ہمیں لازماً کرنے چاہئیں؟ اگرچہ میں اس کے منطقی جواز تک نہیں پہنچ سکا لیکن مجھے اس سے قرآن کے اب تک کے بیانیے میں کوئی تضاد پیدا ہوتا ہوا بھی نظر نہیں آیا۔

اور پھر ہم نے آدم سے کہا کہ ‘‘ تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اِس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے۔ ’’ (35)

میرا صحیفے سے اعتماد اٹھتا جارہا تھا۔ ایک شان دار آغاز کے باوجود اب کہانی یقیناً انجیل والے بیانیے کی طرف بڑھ رہی تھی جس میں آدم و حوا شجر ممنوعہ کا پھل کھالیتے ہیں، اور انھیں سزا کے طور زمین پر زندگی بھگتنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔لیکن اس آیت میں کچھ عجیب بات ہے۔ انجیل والی کہانی میں خدا آدم کے شجر ممنوعہ سے کھانے سے برافروختہ اور خائف سا نظر آتا ہے، کیوں کہ یہ درخت علم اور حیات جاودانی کا درخت ہے، اور اگر آدم اس سے کھالیتے تو وہ خدا بن جاتے اور خدا کے حریف ٹھہرتے۔

لیکن اس آیت میں خدا بہت مطمئن اور مکمل کنٹرول میں نظر آتا ہے۔ یہاں ایسا کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا کہ درخت کا پھل کھانے سے آدم و حوا کو کوئی غیرمعمولی قوت مل گئی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ درخت تو بس یوں ہی چن لیا گیا تھا۔ قرآن بعد میں واضح کرے گا کہ شیطان نے آدم و حوا کو یہ کہہ کر بہکایا کہ اگر وہ اس درخت سے کھالیں تو انھیں حیات جاوداں ملے گی اور ایک ایسی سلطنت حاصل ہوگی جس کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ (20:121)، لیکن یہ اس کی طرف سے بالکل من گھڑت بات ہے۔ یہاں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ خدا اس بات سے پریشان ہے کہ آدم و حوا اس کی نافرمانی کریں گے، وہ انھیں بتاتا ہے اگر وہ ایسا کریں گے تو غلط کام کے مرتکب ہوں گے۔

گذشتہ آیات کی روشنی میں، ہمیں نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا کہ آخر کار آدم و حوا سے گناہ کا ارتکاب ہوگا۔ تو پھر کس لیے انسان کو ایسا اخلاقی وجود بنایا جائے جو بہکاووں میں آجائے؟ اب تک اس کہانی سے ہمیں جو کچھ معلوم ہوا ہے، فرشتوں کے سوال سے لے کر شیطان کی شمولیت تک، وہ یہ ہے کہ خدا اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ اس جوڑے سے غلطی کا ارتکاب ہوگا، اور اس نے انھیں اسی طور سے تخلیق کیا تھا کہ وہ غلطی کریں۔

ہمیں یہ بات بھی نہیں معلوم کہ آیا یہ وہ پہلا حکم تھا جو خدا نے اس جوڑے کو دیا تھا۔ قرآن اس سلسلے میں خاموش ہے۔ ہوسکتا ہے اس سے پہلے بھی اور احکام دیے گئے ہوں۔ ہم بس یہ جانتے ہیں یہ وہ پہلا حکم ہے، جس سے وہ سرتابی کریں گے۔ میں نے سوچا کہ کیا یہی اس کی واحد اہمیت ہے – کہ یہ جوڑے کا پہلا آزادانہ اقدام تھا، پہلی بار انھوں نے ایسا کچھ کرنے کا ارادہ کیا تھا جو خدا کے حکم سے انحراف پر مبنی تھا؟

آخرکار شیطان نے ان دونوں کو ]اُس درخت کی ترغیب دے کر] لغزش دی اور ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انھیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ہم نے حکم دیا کہ ‘‘ اب تم سب یہاں سے اُتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ ’’ (36)

اس آیت کو پڑھنے کے بعد میں قرآن رکھ کر ہمیشہ کے لیے بند کرنے والا تھا، کیوں کہ اب مجھے یقین ہوچکا تھا کہ یہ اپنے ابتدائی رستے سے ہٹ چکا ہے اور اسی روایتی ڈھرے پر آگیا ہے کہ ہماری ارضی حیات اصلاً آدم و حوا کے گناہ کی پاداش میں دی گئی سزا ہے۔ لیکن ایک بار پھر اس آیت کی لطیف لفظیات نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے گناہ کو، اس گناہ کو جس کی بدولت پوری نسلِ انسانی کو زمین پر دکھ، درد اور مصیبتیں جھیلنے اور موت کا مزا چکھنے کے لیے بھیج دیا گیا تھا، کیا وہ محض ایک ’’لغزش‘‘ (slip) تھی۔ انگریزی زبان میں لفظ slip لمحاتی طور پر توجہ بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں ہے، عارضی لڑکھڑاہٹ، ایک معمولی سی خطا جس کے نتائج سنگین نہ ہوں۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید یہ ترجمہ ہی غلط ہوگا، لیکن جلد ہی اپنے عرب دوستوں سے مجھے معلوم ہوگیا کہ عربی لفظ (ازلّ) انگریزی لفظ slip کا عین مترادف ہے، اور وہی معنی دیتا ہے جو انگریزی لفظ دیتا ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا قرآن کا مصنف آدم و حوا کے گناہ کی سنگینی کو نہیں سمجھتا؟

میں نے پھر سے آیت کو پڑھا اور اس سے پہلے والی آیت کو بھی کئی بار پڑھا۔ پھر مجھے سمجھ میں آیا کہ کیا واقعی اس جوڑے سے ایسا سنگین گناہ سرزد ہوا تھا؟ ہوسکتا ہے میں روایتی تشریح کا دامن نہ چھوڑنے پر مصر ہوں۔ شاید میں قرآن کے پیغام سے مزاحم ہورہا ہوں۔ اس جوڑے نے کوئی قتل، زنا یا ایسا کوئی بڑا جرم تو نہیں کیا تھا۔ یہ بس ایک درخت ہی تو تھا جس کا پھل انھوں نے چکھ لیا تھا۔

مجھے احساس ہوگیا کہ اس غلطی کو ‘لغزش’ کہنا بالکل بجا ہے۔ آیت کا جذبات سے عاری لہجہ بھی اسی کا غماز ہے۔ کیوں کہ جوڑے کو یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں زمین پر انتہائی شدید مصائب جھیلنا پڑیں گے، انھیں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔‘‘ ان الفاظ سے کسی الوہی ہستی کے غصے، رنج یا ناراضی کا اظہار نہیں ہوتا۔ خدا ان سے، اور شاید پوری انسانیت سے، اور غالباً شیطانوں اور فرشتوں سے بھی—کہتا ہے کہ وہ زمین پر اتر جائیں اور یہ کہ ان میں سے بعض دوسروں کے دشمن ہوں گے، تاہم فرشتوں کے سوال (2:30) اور آیت 2:34 سے اس بات کا پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔

مجھے اس بیان میں بھی دل چسپی تھی کہ آدم و حوا کی لغزش نے ’’انھیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔‘‘ وہ کس حالت میں تھے؟ متن سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کی کامل اتباع کی حالت میں نہیں رہے تھے، اب وہ غلط اور صحیح راہ کا انتخاب کرنے کے قابل ہوگئے تھے۔ لیکن یہ ایک مثبت بات کیسے ہوسکتی ہے؟ انسانوں کو زمین پر خدا کے نائب بننے میں اس کو کس طرح دخل ہے؟ میرے ذہن میں اور بھی کئی سوالات مچل رہے تھے، اس معمے کے کئی حصے تھے جنھیں جوڑنا تھا۔

میرے خیالات میں شک بھی داخل ہونے لگا تھا۔ شاید میں قرآن کو زیادہ ہی ڈھیل دے رہا ہوں، اسے شک کا زیادہ ہی فائدہ دے رہا ہوں۔ شاید یہ آیت زمین پر زندگی کو انسانیت کی سزا کے طور پر پیش کرتی ہے۔ شاید مصنف اپنا ذہن بنا نہیں سکا کہ اسے کیا پیغام دینا ہے۔

مجھے لگا کہ اگلی چند آیتوں سے بات واضح ہوجائے گی۔ اگر ان میں خدا ایک ناراض، غصہ ور اور منتقم ہستی محسوس ہوا تو قرآن یقیناً فرشتوں کو جواب کے اپنے ابتدائی پیغام سے بھٹک گیا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا، تو مجھے معلوم تھا کہ مجھے بہت سی بہت باتوں پر از سر نو غور کرنا پڑے گا۔

اُس وقت آدمؑ نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے ربّ نے قبول کر لیا، کیوں کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (37)

اس آیت میں لہجہ مذمت کا تو کیا ہوتا، اس میں تو خدا کی توابی اور رحیمی کی صفت بیان کی گئی ہے۔ اگلی آیت سے معلوم ہوا کہ آدم نے جو الفاظ اپنے رب سے سیکھے تھے وہ تشفی اور امید کے الفاظ تھے۔

ہم نے کہا کہ ‘‘ تم سب یہاں سے اُتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔’’ (38)

ان دونوں آیتوں سے ایک ہم دردانہ تصویر سامنے آتی ہے۔ جوڑے کو جنت سے زمین پر اپنے سفر کے لیے روانہ کردیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ فرض کرنا ہوگا کہ انھیں اپنے کیے پر سخت پچھتاوا ہورہا ہوگا اور ساتھ ہی حیات ارضی اور غیرمانوس ماحول کے بارے میں اندیشے بھی ہوں گے۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوکر ان سے درگزر اور رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ انھیں یقین دلاتا ہے کہ انھیں ہمیشہ اس کی طرف سے ہدایت ملتی رہے گی، اور جب تک وہ اس کی اتباع کریں گے انھیں کسی چیز سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح والدین اپنے بچے کو نرمی سے تسلی تشفی دیتے ہیں، خدا آدم و حوا سے کہتا ہے: ’’میں جانتا ہوں کہ تم خائف ہو، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمھیں یہ کام مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن تم بالکل سلامت رہو گے۔ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ رہوں گا، میں ہمیشہ تمھاری رہ نمائی کرتا رہوں گا۔ بس میری نشانیوں کے لیے اپنی آنکھیں، کان اور دل کھلے رکھنا، پھر تمھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے آدم و حوا کو معاف کردیا اور ان کی مدد کی، لیکن پھر اس نے انھیں دوبارہ جنت میں کیوں نہیں بھیجا؟ فرض کیجیے، مثال کے طور پر میری بیٹی کوئی غلطی کر بیٹھتی ہے اور میں اس کے جیب خرچ سے پانچ ڈالر کم کردیتا ہوں۔ فرض کیجیے کہ وہ بعد میں اپنے کیے پر نادم ہوتی ہے اور مجھ سے معافی مانگ لیتی ہے، اور میں اسے معاف کردیتا ہوں، لیکن میں اسے کہتا ہوں کہ اب بھی میں اس کے پانچ ڈالر کاٹوں گا۔ اس کا ردعمل فطری طور پر یہ ہوگا: ’’لیکن آپ نے تو کہا ہے کہ آپ مجھے معاف کرچکے ہیں، پھر بھی آپ مجھے سزا دے رہے ہیں! ایک بار اور  سوچ لیجیے۔‘‘

سو، اگر خدا نے جوڑے کو معاف کردیا تھا، تو پھر اس نے انھیں جنت سے زمین پر کیوں اتار دیا؟

اس سوال کا جواب بھی اتنی ہی تیزی سے ذہن میں آیا جتنی تیزی سے سوال پیدا ہوا تھا،  وہ یہ کہ قرآن کی رو سے حیاتِ ارضی سزا نہیں ہے۔ تمثیل کی بالکل ابتدا ہی سے خدا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ہمارا ارضی وجود ایک عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے ہے۔ جب تک یہ بات میرے ذہن میں مستحضر رہے گی، کہانی پوری طرح مربوط اور منطقی لگے گی۔ یہ بھی دیکھیے کہ قرآن آیت 2:38 میں اس بیان کو دہراتا ہے کہ ’’تم سب یہاں سے اتر جاؤ ‘‘لیکن اس مرتبہ اس کے گرد وہ سطریں ہیں جو خدا کے تواب اور رحیم ہونے اور جوڑے کو تسلی و تشفی دینے پر زور دیتی ہیں۔ گویا صحیفہ ایک ہی بار میں میرا یہ اشکال دور کر رہا ہے کہ خدا نے تمھیں زمین پر سزا کے طور پر نہیں بھیجا۔

اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ کے دوست ہیں، اور وہ ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔ (39)

قرآن کو یہ بات کیوں کہنی پڑی؟ مجھے ایک دم اشتعال آگیا۔ ابھی ابھی تو میں قرآن کی ذہانت پر مبنی اپروچ کی اتنی تعریف کر رہا تھا، اور ابھی سے یہ ڈرانے دھمکانے پر اتر آیا؟ میں نے شکوہ کیا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ میں تجسس کی بنیاد پر ہی اس کا مطالعہ جاری رکھتا، میں زندگی میں پہلے ہی بہت ڈرایا دھمکایا جاچکا تھا، اور اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ قرآن دوسروں کو تو ڈرا سکتا ہے، لیکن میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔ میں صحیفے کا تجزیہ جاری رکھوں گا—صفحہ بہ صفحہ، آیت بہ آیت ، سطر بہ سطر۔

پہلے پہل مجھے اس بیان سے رنج تو ہوا، لیکن صحیفے سے میری اب تک کی مختصر ملاقات نے مجھے سکھادیا تھا کہ جب کوئی آیت مجھے پریشان کرے تو ضرور اس میں کوئی اہم نکتہ مضمر ہوتا ہے۔ جب میں نے ان الفاظ پر مزید غور کیا تو مجھے یہ لفظیات ایک بار پھر حیران کن لگیں۔ اب تک کے بیانیے میں قرآن آدم و حوا کی کہانی اور زمین پر انسانی تجربے کی ابتدا کو بیان کر رہا تھا۔ اس آیت میں اچانک صیغہ ماضی میں آکر اس نے قاری کو مستقبل میں بہت دور لاکر کھڑا کردیا، اس انسانی ڈرامے کے اختتام پر جسے آخرت کہتے ہیں، جہاں وہ ان لوگوں کی حالت کا جائزہ لیتا ہے جنھوں نے زمین پر خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اس کا انکار کیا تھا۔یہ بیان کا زبردست آلہ ہے، کیوں کہ یہ بیک وقت دنیا کے پہلے جوڑے کے ساتھ خدا کی گفتگو کو انھیں تسلی و تشفی دینے کے ساتھ اختتام پر پہنچادیتا ہے اور وہیں اگلی آیت میں خیالات کا بہاو متاثر کیے بغیر قاری کو متنبہ بھی کردیتا ہے۔

لیکن برسبیل گفتگو، مان لیتے ہیں کہ خدا واقعی موجود ہے۔ کیا کوئی جان بوجھ کر اس کی نشانیوں کو جھٹلاسکتا ہے اور اس کا انکار کرسکتا ہے، یا محض بات یہ ہے کہ وہ نشانیاں اس کی نظر سے اوجھل یا بہت مبہم رہتی ہیں؟ کیا کوئی حق کا احساس کرکے اپنے ذہن میں اسے توڑ مروڑ کر پیش کرسکتا ہے؟ کیا کوئی اپنے ضمیر کے خلاف جاسکتا ہے؟

بے شک لوگ ایسا کرتے ہیں، میں نے دل ہی دل میں کہا، خود میں نے بھی تو یہی کیا ہے۔ میں نے کئی بار حق کو جھٹلایا، اسے توڑا مروڑا اور کسی ذاتی شر کی بنا پر اس سے سمجھوتا کرلیا۔ کئی بار میں نے بدیہی طور پر تباہ کن اور ذاتی طور پر تباہ کن افعال کو حق بجانب ٹھہرایا، اپنی غلطی ماننے سے انکار کیا، خود اپنے آپ سے بھی۔ اور اگرچہ میری غلط جستجو نے مجھے خالی پن، بے آرام اور بے سکون کیا ہے، میں اپنی غلط روش سے باز نہیں آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر خدا واقعی موجود ہے، تو میں نے یقیناً اس کی نشانیوں کو نظرانداز کیا ہے۔ لیکن یہ بہت بڑا ‘اگر’  ہے۔

اس عبارت نے بھی مجھے چونکادیا کہ ’’یہ لوگ آگ کے دوست ہیں (اصحاب النار)‘‘ کیوں کہ دوست تو وہ ہوتا ہے جو ہمیں پیارا ہو۔ جس کی صحبت ہم چاہتے ہوں، اور جس کے ساتھ کے ہم متمنی ہوں۔ کیا قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ بعض لوگوں نے آگے کی زندگی کی ابتلا اور مصیبت کو خود بڑھ کر اپنے گلے میں ڈالا ہے؟ جب قرآن کہتا ہے کہ ’’وہ ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے‘‘ تو کیا اس کی مراد یہ ہے کہ ان کی آگ والی زندگی حیات ارضی ہی سے شروع ہوگئی تھی؟ اگرچہ میرے ذہن میں سیکڑوں سوال اٹھ رہے تھے، میں ابھی مکمل تصویر دیکھنے سے قاصر تھا، میں جانتا تھا کہ اب مجھے خود سے ایک جنگ لڑنی ہوگی۔ اگر ان دس آیات نے مجھے اس قدر اذیت سے دوچار کردیا ہے تو میرے سامنے جو چیلنج ہے وہ اس سے عظیم تر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے خدا پر یا قرآن کے مصنف کے فوق انسانی ہونے پر یقین کرلیا، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میرا سامنا ایک غیر معمولی حریف سے ہے۔

مئی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau