اجالوں کا سفر

(4)

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

سوال 3۔ (ایک اٹھائیس-تیس سالہ امریکی نو مسلم کی جانب سے):

میں نے قبولِ اسلام سے پہلے کبھی قرآن نہیں پڑھا تھا، لیکن اب پڑھ رہا ہوں۔ بحیثیتِ مجموعی مجھے اس کے دلائل معقول لگتے ہیں، تاہم بعض ایسی بھی باتیں ہیں جن پر مجھے تردّد ہے۔ کیا آپ بھی قرآن میں بعض ایسے بیانات سے گزرے ہیں جو آپ کو عقلی دلائل سے متعارض محسوس ہوئے ہوں؟ اگر ہاں، تو آپ ان کی وضاحت کس طرح کرتے ہیں؟

اگر میں کہوں کہ مجھے قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ملی جس پر میں نے منطقی بنیادوں پر سوال نہیں اٹھایا ہے، تو یہ غلط بیانی ہوگی۔ البتہ ایسے مواقع کم کم ہی آئے ہیں، اور ان بیانات کی منطق من حیث المجموع ایسی مستحکم ہے کہ مجھے تعارض (conflicts) کی وجہ مفہوم یا ترجمے کا سقم نظر آتاہے، بجائے اس کہ اسے عقلی استدلال سے متصادم ٹھہراؤں۔ کم از کم مجھے تو جن آیات کے تعلق سے اشکال رہا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ یہی بات درست نکلی (یعنی ترجمے کی خامی)۔

یہاں عقل سے متعارض ہونے اور ذاتی جذبات سے متعارض ہونے میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ قرآن کی بعض آیات، جن میں سخت سزاؤں کا تذکرہ ہے، پہلے پہل مجھے بہت ظالمانہ محسوس ہوئیں تھیں، تاہم یہ احساس موضوعی (subjective) تھا معروضی (objective) نہیں، جو بسا اوقات میرے لبرل، مغربی اور اکیڈمک پس منظر کا آئینہ دار تھا۔ دوسری طرف مجھے یہ بھی اعتراف تھا کہ یہ تعزیریں واقعی ان رویوں کو روکنے میں واقعی معاون ثابت ہوں گی جن پر یہ ضرب لگاتی ہیں، اس لیے اپنے مقاصد کے اعتبار سے درست قرار پاتی ہیں۔ لہذا اس حوالے سے مجھے کوئی منطقی تعارض نظر نہیں آیا۔ جب ہم قرآن میں عقلی تعارض کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد ان بیانات سے ہوتی ہےجو دیگر آیات اور مسلمہ حقائق سے متصادم ہیں۔ مسلمہ حقائق میں وہ تاریخی اور سائنسی حقائق شامل ہیں جو ناقابلِ انکار ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے گذشتہ سوالات کے جواب میں عرض کیا، مجھے ان خطوط پر قرآن کے خلاف ایک بھی مضبوط دلیل نہیں ملتی۔

قرآن کے بعض دعوے—جنھیں یہ غیب سے موسوم کرتا ہے، یعنی وہ حقائق جو انسانی تجربے اور ادراک سے باہر کی چیزیں ہیں، مثلاً آخرت، جنت و جہنم، صفات و افعالِ الہی وغیرہ—ضرور ایسے لگیں گے کہ ان پر سوال اٹھایا جاسکے، لیکن صرف اس حد تک کہ ہم ان کا مفہوم لفظی طور پر (literally)لیں۔ البتہ قرآن نے کئی انداز سے اس رویے کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔

سورہ بقرہ کے شروع ہی میں ہم قرآن کے علامتی طرز بیان کا دفاع اس طرح پاتے ہیں:

ہاں، اللہ اِس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اُس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انھی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو اُن کے رَبّ ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انھیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سرو کار ؟ اِس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گم راہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ اور اُس سے گم راہی میں وہ انھی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔[سورہ بقرہ: 2:26]

قابلِ ذکر ہے کہ یہ بات اہلِ ایمان کے ابدی ٹھکانے جنت کے دل فریب تذکرے کے بعدکہی گئی ہے (2:25)، یہ تذکرہ خصوصی طور پر ساتویں صدی عیسوی کے عرب تخیل سے ہم آہنگ ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ بیان سورہ بقرہ کی پہلی 29 آیات کے بعد آتا ہے، جن میں قرآن کے بڑے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس کےبعد تیسری سورہ(آ لِ عمران ) میں قرآن نے زور دیا ہے کہ بعض اوقات یہ رمزیہ زبان کا استعمال کرتا ہے اور ان لوگوں کو ملامت کی ہے جن کا شیوہ اس کے متشابہ بیانات کو لفظی معنی پہناناہے۔

اے نبیﷺ، وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالاں کہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ‘‘ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف ہیں۔ ’’ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ [آل عمران: 3:7]

غزوۂ بدر کی جانب بھی ایک دل چسپ اشارہ موجود ہے جس میں کم تر اسباب و اسلحے اور قلیل تر تعداد کے باوجود مسلمانوں کی جماعت نے ان لوگوں کو شکستِ فاش سے دوچار کردیا تھاجو ماضی میں ان پر ظلم روا رکھتے تھے۔ یہ آیت بھی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ہمیں وحی الہی کے مفاہیم کے سمجھنے میں ہمیشہ قوتِ مدرکہ سے کام نہیں لینا چاہیے۔

اور وہ موقع یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمھاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے تمھیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمھیں خوش خبری ہو اور تمھارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقینًا اللہ زبردست اور دانا ہے۔[الانفال: 8:9،10]

قرآن میں ذیل کے بیان کی طرح اور بھی بیانات موجود ہیں جو جہنم کی منظرکشی کرتے ہیں اور کافروں کو سخت عذاب کا انتباہ دیتے ہیں۔

اور اے نبی ﷺ، اسی طرح ہم نے اسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں۔[طہ: 20:113]

اس کے علاوہ جب قرآن انسانی تجربے اور قوتِ مدرکہ سے خارج کی بات کرتا ہے تو بارہا اس طرح کے فقرے ’’اس کی مثال ایسی ہے جیسے‘‘ (جنت، جہنم، کافروں کا حال وغیرہ) کا استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح سورہ النور میں ہم اللہ کے نور کے عظیم الشان تذکرے کے بعد دیکھتے ہیں:

وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ [النور: 24:35]

قرآن کے تمثیلی بیانیے کے حوالے سے اپنے بیانات کم و بیش ان تمام اعتراضات کو رفع کردیتے ہیں جو انسانی تجربے کے خارج میں حقائق کی مرقع کشی کے سلسلے میں کیے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اس قسم کی نکتہ چینی اور بھی بیجا ٹھہرتی ہے جب قرآن ان بیانات میں قدرے مبہم لفظیات کا استعمال کرتا ہے اور روایتی لفظیات سے بچتے ہوئے رسواےزمانہ دینیاتی مناظروں (theological debates) سے بھی گریز کرتا ہے۔ ایک عمدہ مثال قدریت کے مسئلے کی ہے۔

ایک خدا پر یقین رکھنے والے بیشتر مذاہب کا ماننا ہے کہ خدا سب کچھ جانتا ہے، اور ہر چیز پر اختیار اور قدرت رکھتا ہے۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے۔ البتہ اگر خدا مستقبل کا علم رکھتا ہے تو مستقبل ایک طے شدہ حقیقت ہوا۔ اگر ایسا ہے، تو کیا مستقبل پہلے سے مقدر و متعین نہیں ہے؟ تو اس صورت میں کیا اعمال کا محاسبہ اور جزا و سزا کا فیصلہ کرنا حق بجانب ہے؟

ہر چند کہ خدا کے کسی عمل کے واقع ہونے کے پیشگی علم سے یہ بات مستلزم نہیں ٹھہرتی کہ اسے وہی انجام دے رہا ہے، اور خدا کی ہم پر قدرت ہونا اس امر سے متناقض نہیں کہ ہمیں عمل کی آزادی و طاقت بخشی گئی ہے۔ لیکن قرآن جب الوہی ارادے اور انسانی ارادے پر بات کرتا ہے تو ان دینیاتی مصطلحات (theological terminology) سے گریز برتتا ہے جو کسی امر کے پہلے سے متعین، مقدر اور طے شدہ ہونے جیسے معانی دیں، کیوں کہ جب یہ مصطلحات استعمال کی جائیں گی تو ان سے خدا کے حوالے سے ایسا منطقی تعارض کھڑا ہوگا جس سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

قدریت کا بنیادی مقدمہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ خدا ہماری طرح قیدِ زمان میں رہ کر مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ تاہم اگر خدا اپنی مخلوق سے ماورا ہے—اور قرآن نے کئی اسالیب سے یہ بات کہی ہے کہ وہ اپنی مخلوقات سے ماورا ہستی ہے—تب زمان و مکان کی حدود کا پابند وہ نہیں، ہم ہیں۔ خدا کی ذات ماضی و مستقبل کے جھمیلوں سے آزاد ہے، تاہم مخلوقات کا ماضی و مستقبل ہوتا ہے۔ خدا ان کائناتوں کی قیدِ زمان و مکان سے بالا تر ہے جنھیں اس نے خلق کیا ہے۔ چناں چہ کائناتیں جن اصولوں سے بندھی ہیں، خدا ان سے بندھا ہوا نہیں ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ خدا مستقبل کو پہلے سے متعین کرتا ہے تو خدا کے بارے میں دو باہم متعارض مفروضے بھی بیک وقت فرض کر لیے جاتے ہیں: یہ کہ خدا وقت سے ماورا ہے مگر اس میں مقید ہے۔ لہذا خدا کے لیے قدریت (predestine) جیسے الفاظ کا استعمال کرنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ان سے خدا کا زمان میں واقع ہونا مستلزم آتا ہے اور اس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ وہ نہ صرف ہمارا مستقبل طے کرتا ہے بلکہ اپنا مستقبل بھی متعین کرتا ہے۔ (اس موضوع پر مزید گفتگو اس باب کے سوال 7 میں ہے۔)

قرآن سے خدا کے کامل علم کا—جو ہمارے نقطہ نظر سے مستقبل ہے—نیز اس کے ذریعے متعدد واقعات کے تعین کا اثبات ہوتا ہے۔ البتہ اس کے لیے جو لفظیات اختیار کی گئی ہیں وہ غیر روایتی اور مبہم ہیں۔قرآن بسا اوقات ایسے واقعات کو ’’مکتوب‘‘، ’’لکھا گیا‘‘ [1] قرار دیتا ہے۔گویا یہ کہنا مقصود ہے کہ حیاتِ ارضی ایک کتاب کے مانند ہے، جس میں ہمارے ایام اس کے اوراق ہیں اور اس کتاب میں ہمارا حصہ ہماری زندگی کے بقدر ہے، جب کہ خدا اس کتاب کو من حیث المجموع دیکھ سکتا ہے۔ لیکن یہ قول کہ ’’خدا کے نزدیک تمام واقعات ‘لکھے’ جاچکے ہیں‘‘اس قول کے مساوی نہیں کہ ’’ان کا فیصلہ پہلے سے کرلیا گیا ہے۔‘‘ یقیناً مکتوب کی تفہیم بعض لوگ اس طرح بھی کرسکتے ہیں، لیکن محض قرآن کے ذریعے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ اس کا یہی واحد مفہوم ہے۔ قرآن کی انوکھی اور مبہم لفظیات قدریت کے داخلی تناقض (paradox) سے اجتناب کرتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر شے پر اللہ کے ہر شے پر محیط علم اور مخلوق پر کامل قدرت کا اظہار بھی کرتی ہیں۔[2]

اسی طرح جب قرآن کہتا ہے کہ ہر شے اللہ کے منصوبے (ڈیزائن) کے مطابق واقع ہو رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر شے کو مخصوص ’’پیمانے‘‘ کے مطابق پیدا کیا ہے [3] یہاں اسے لفظ ’’طے شدہ ‘‘(predestine) کے مترادف—اور معروف مترادف—کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، بشر طے کہ قرآن قدریت (predestination) کا حامی ہو، لیکن ایک بار پھر بغیر تشریح کے، یہ انوکھی مصطلحات کا استعمال کرتا ہے [4] ، اس طرح قرآن اپنے قاری کے نقطہ نظر اور ذہنی استعداد کے مطابق مفہوم اخذ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔

’’غیب‘‘ کی باتوں کے بیان میں قرآن کے ذریعے استعمال کردہ غیر روایتی مصطلحات اتنی عام ہیں کہ یہ اتفاقی نہیں ہوسکتیں۔ انسانی تجربہ و ادراک سے خارج کی باتوں پر اس کا ابہام یقیناً ارادی ہے۔ چناں چہ یہ کہنے کے باوجود کہ بعض قرآنی بیانات کی تفہیم لفظی طور پر نہ کی جائے، اس کی پرشکوہ لفظیات کی بنا پر ایسا کرنے سے رکا بھی نہیں جاتا۔

ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے میں بھی اس تعارض کا امکان موجود ہے۔ زبان اس تاریخ و ثقافت کے خمیر میں گندھی ہوتی ہے جس میں وہ پروان چڑھتی ہے، چناں چہ یہ اپنی مخصوص روایات، سماجی ڈھانچوں اور تصورِ حیات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہر زبان کے بہت سے الفاظ اور اظہاریے ایسے ہوتے ہیں جن کے دیگر زبانوں میں مرادف موجود نہیں۔ چناں چہ ترجمہ محض ایک اظہارِ بیان کو دوسرے مساوی اظہاریے میں تبدیل کرنے کا نام نہیں ہے۔ اس میں ایک ثقافت کے خمیر میں گندھے ہوئے مفاہیم کو اجنبی ثقافت سے ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔مترجم کا اصل کام ترجمانی کرنا ہے۔ وہ دونوں زبانوں کے متنوع الفاظ و مفاہیم میں سے مناسب الفاظ کا انتخاب کرتا ہے۔ مترجم کے اخلاص و صلاحیت کے قطع نظر، ترجمہ بس ایک ’’کارِ قیاس آرائی‘‘ ہے۔ دونوں ثقافتوں کے مابین جتنا زیادہ بُعد ہوگا، اتنا ہی ترجمہ کاری کا عمل دشوار ہوتا چلا جائے گا۔ ساتویں صدی عیسوی کے عرب اور جدید مغرب سے زیادہ مختلف دو ثقافتیں اور کون سی ہوسکتی ہیں!

عربی میں الفاظ مادوں (roots)کے اشتقاق سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مادے سہ حرفی ہوتے ہیں۔ بعض یک حرفی، دو حرفی، چہار حرفی اور پنج حرفی مادے بھی موجود ہیں۔ کسی مادے کے بنیادی معنی کا ربط اس سے مشتق تمام الفاظ میں پایا جاتا ہے۔ عربی کے طالب علم کا جس چیز سے پہلے پہل واسطہ پڑتا ہے وہ بیشتر الفاظ کا کثیرالمعانی ہونا ہے۔ لین کی لغت (Lane’s Arabic-English Lexicon) میں کسی مصدر سے نکلے ہوئے الفاظ کے بیشتر معانی و مفاہیم کئی کئی صفحات کو محیط ہیں، اس لیے کہ بہت سے الفاظ مفاہیم کی متنوع پرتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ عربی ذخیرۂ الفاظ کی اسی ثروت مندی کی بدولت اس زبان میں زبردست لچک ہے جس کی وجہ سے اسے زمانہ قدیم ہی سے شاعری اور شان دارعربی فنونِ لطیفہ کے لیے آئیڈیل وسیلہ اظہار تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔[5]

عربوں نے ہمیشہ قرآن کے بے نظیر حسن و لطافت اور فصاحت و بلاغت کا اعتراف کیا ہے۔ چناں چہ ہر ترجمہ اصل سے یقیناً جمالیاتی طور پر کم تر تو ہوگا ہی، اس سے بھی بڑھ کر وہ ابلاغ کے معاملے میں بھی فروتر قرار پائے گا، اس لیے کہ ترجمے کے دوران مترجم کو بدیسی مترادفات کے چناؤ میں بہت سے ممکنہ مفاہیم سے لامحالہ صرفِ نظر کرنا پڑے گا۔ اس بنا پر بہت سے ظاہری تناقضات در آتے ہیں۔ [6] مثال کے لیے اس آیت کا عبداللہ یوسف علیؒ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے بنایا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر ہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔[الاعراف: 7:179]

Many are the Jinns and Men We have made for hell: They have hearts wherewith they hear not, eyes wherewith they see not, and ears wherewith they hear not. They are like cattle—nay more misguided: for they are heedless (Of our signs).

پہلی فقرے کے ترجمے سے لگتا ہے کہ گویا بعض لوگوں کے لیے پہلے ہی سے جہنم کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جب کہ آیت کا باقی ٹکڑا اشارہ دیتا ہے کہ ایسے لوگ اس لیے جہنم میں جائیں گے کہ وہ خدا کی نشانیوں سے غافل ہوگئے تھے۔ تاہم آیت کا ابتدائی فقرہ پوری طرح فلسفہ قدریت کی وکالت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ عربی لفظ جس کا ترجمہ یوسف علی نے made (بنایا) کیا ہے وہ ’’ذَرَأَ‘‘ ہے۔ بعض مترجمین نے ذَرَأَکے معنی میں سختی برتتے ہوئے اس کا ترجمہ created (پیدا کرنا) کیا ہے۔ تاہم ہینس ویہر (Hans Wehr) کی لغت(A Dictionary of Modern Written Arabic) [7] میں، جو غالباً سب سے معروف عربی انگریزی لغت ہے، اس لفظ کے تحت ان میں سے ایک بھی معنی، بلکہ اس کے قریب تر بھی کوئی معنی درج نہیں ہے۔ کاسِس [Hanna Kassis] کی معجم الفاظ قرآنی (A Concordance of Quran) کی رو سےقرآن میں لفظ ذَرَأَ چھ بار وارد ہوا ہے، لیکن محولہ بالا آیت کے سوائے دیگر تمام مقامات پر اس کا مفہوم to scatter (بکھیرنا)، to multiply (بڑھانا) دیا گیا ہے جو اس کے بنیادی مفہوم سے قریب ترہے۔ [8] ایڈورڈ لین کی معرکہ آرا لغت (Arabic English Lexicon)میں معنی to create [پیدا کرنا] درج تو ہیں، لیکن بنیادی معنی کے طور پر نہیں، اور لین نے اس کے استعمال کی مثال میں قرآن کی اسی آیت (الاعراف 179) کا کلاسیکی ترجمہ پیش کیا ہے۔ چناں چہ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ ماقبل اسلامی ادوار میں ذَرَأَ کا یہ مفہوم مراد نہیں لیا جاتا تھا، بلکہ یہ بعد میں آیا ہے، جو بعض مکاتب فکر کے دینیاتی رحجان (theological leanings) کا غماز ہے۔ یہ تمام مراجع ظاہر کرتے ہیں کہ ذَرَأَ کے بنیادی معانی بکھیرنا، پھیلانا، کھنڈانا، لنڈھانا، پھینکنا، بونا، بڑھانا وغیرہ کے ہیں۔ علاوہ ازیں، جملہ لَقَد سے شروع ہوتا ہے، جو کسی عمل کے مکمل ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔ مذکورہ آیت کا بہتر فطری مفہوم اس طرح ہوتا:

اور ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم میں ڈال دیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں…

لہذا یہ آیت قدریت کے بارے میں ہے ہی نہیں، خصوصاً اس صورت میں جب کہ اس کے اور اس کے بعد آنے والی آیت کے بیانیے کا سیاق ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قصداً اللہ کی نشانیوں (یا وحی الہی) کو رد کرتے ہیں۔ [الاعراف 7:182]۔ مجھے یہاں پر قرآن کے اس اسلوب کی ایک اور شان دار مثال نظر آتی ہے جو یہ اکثر استعمال کرتا ہے، وہ یہ کہ قرآن  حکیم بسا اوقات آخرت کے واقعات کو مستقبل کے صیغے کے بجائے ماضی کے صیغے میں بیان کرتا ہے۔ اگرچہ مفسرین کے بقول یہ کسی وقوعے کی ناگزیریت پر زور دینے کا لسانی طریقہ اظہار (grammatical device) ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ خدا زمان و مکان سے ماورا ہے، اور ہمارے لیے آخرت یکسر مختلف جہت ہوگی۔

درج بالا سطور میں میں نے ان باتوں کا تذکرہ کیا ہے جو میرے نزدیک قرآن اور عقلی استدلال کے درمیان تعارض کے سب سے عام ذرائع ہیں۔ نوجوان امریکی مسلمانوں کے ساتھ اپنی گفتگوؤں سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ مسائل اکثر و بیشتر قرآن کو پڑھتے ہوئے لفظی مفہوم مراد لینے (excessive literalism) اور ترجمے کے طبعاً محدود و ناقص ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن عربی زبان پر قدرت اور قدیم عرب تاریخ و ثقافت سے عدم واقفیت نیز قرآن میں علامتی اظہار کو قبول کرنے کی آمادگی کے قطع نظر، ہمیں غیب، خصوصاً اللہ کے بارے میں، بات کرتے ہوئے تمام انسانی زبانوں کی فطری محدودیت کے بارے میں باخبر رہنا چاہیے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے، زبان کا سروکار انسانی تجربے سے ہے، لیکن چوں کہ قرآن اکثر اس تجربے سے ماورا حقائق کا تذکرہ کرتا ہے، اس لیے تمام انسانی زبانیں، بشمول عربی کے، ان مفاہیم کے ابلاغ کی محدود صلاحیت رکھتی ہیں۔چناں چہ ہمارے نظام ہاے ابلاغ و فلسفہ خواہ کتنے ہی پیچیدہ و ترقی یافتہ ہوجائیں، ایسے سوالات ہمیشہ موجود رہیں گے جو ہماری رسائی سے پرے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ درج ذیل آیت کے بین السطور میں اسی بات پر زور دیا گیا ہے:

زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔[لقمٰن: 31:27]

حوالہ جات و حواشی:

  1. سورہ آل عمران 3:145، سورہ الحجر 15:4، الحدید 57:22
  2. اس کی اور بھی مثالیں ہیں۔ بعض اوقات قرآن کہتا ہے کہ خدا نے بہت سی باتوں کا فیصلہ پہلے سے کرلیا ہے (قضاء) اور بہت سی مصطلحات اور واقعات کو نام دے دیا گیا ہے (سمّی)۔
  3. اس کے لیے عربی الفاظ ’’قدر‘‘ اور ’’تقدیر‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جن کے معنی ہیں لگی بندھی پیمائش۔
  4. دیکھیں قرآنی آیات الرعد13:8، الحجر 15:21، المومنون 23:18، یٰس 36:38، الشوریٰ 42:27، الزخرف 43:31، القمر 54:49،50، عبس 80:18،19، الاعلیٰ 87:1،3۔ میں نے ان متشابہ قرآنی لفظیات کی مثال اس لیے دی ہے کیوں کہ بعد میں میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ بیشتر مسلمان عربی لفظ قدر کو predestinationکا مترادف مانتے ہیں، اگرچہ ان آیات کی تفسیر قدرے الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قدریت کا مسئلہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں علما کے درمیان بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ قدر کی یہ مخصوص تفسیر ایک مستحکم موقف کی نمائندگی کرتی ہے جو بعد میں فکرِ اسلامی کا غالب رجحان قرار پائی۔
  5. عرب دنیا میں شاعری کی مجلسیں اور مقابلوں میں اب بھی کثیر تعداد میں سامعین شرکت کرتے ہیں۔ فلمیں، ڈرامے، ٹیلی وژن پروگرام، رنگا رنگ شو اور عوامی تقریباًت میں اکثر شعر و شاعری کے پروگراموں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
  6. میرے نزدیک، عقلی دلائل سے مزعومہ تعارض کی سب سے بڑی وجہ اب تک یہی رہی ہے۔
  7. A Dictionary of Modern Written Arabic, Hans Wehr, Cornell University Press, 1961, Ithaca, New York.

8.       Hanna E Kassis, A Concordance of the Quran, University of California Press، 1983، p. 377۔ یہ لفظ قرآن میں یٰس 36:6، النحل16:13،المومنون 23:79،الشوریٰ 42:11 اورالملک 67:24 میں وارد ہوا ہے۔

جولائی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau