سیرت رسول ﷺ کی تفہیم

ہندستانی تناظر میں (2)

محمد عبد اللہ جاوید

﴿۴﴾بچوں کی تربیت عالی اورسیرت رسول ﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیش کش کے حسب ذیل مقاصد ہوں گے:

٭ بچوں کی تربیت کی اہمیت و ضرورت واضح کرنا ٭ تربیت کے طریقوں کی نشاندہی ٭بچوں کی تربیت نہ ہونے کے نقصانات سے واقفیت۔

واقعات:  اس کے لیے سیرت رسول سے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾بچوں سے متعلق آپﷺکا رویہ ﴿۲﴾حضرت حسن ؓو حسینؓ سے آپﷺکی محبت ﴿۳﴾عبادت کے وقت بچوں کاآپﷺکے پاس آنا ﴿۴﴾نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ معاملات ﴿۵﴾بہترین ماں اور باپ سے متعلق آپﷺکی خصوصی ہدایات ﴿۶﴾بچوں کے لیے خصوصی دعائیں ﴿۷﴾اولاد کی بہتر تربیت سے متعلق آپﷺکی تاکید ﴿۸﴾صحابہؓ اور صحابیاتؓ کابچوں کے ساتھ معاملہ ﴿۹﴾بچوں سے شفقت و محبت سے متعلق آپﷺکی ہدایات ﴿۰۱﴾نیک اولاد کی برکت وفضیلت۔

احادیث:  اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾مَانَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہ‘ مِنْ نُّحْلٍ اَفْضَلُ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ ﴿ترمذی﴾

کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔

﴿۲﴾دَعَتْنِیْ آُمِّی یَوْماً وَّ رَسُوْلُ اللّٰہِا قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْہَا تَعَالَ اُعْطِیْکَ وَ مَآ اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیَہ‘۔ قَالَتْ اُعْطِیَہِ تَمْراً۔ فَقَالَ اَمَآ اِنَّکَ لَوْلَمْ تُعْطِیْہِ شَیْئاً کُتِبَتْ عَلَیْہِ کَذِبَۃً ﴿عبداللہ بن عامرؓابوداؤد﴾

میری ماں نے مجھے ایک روز بلایا، اس وقت رسولﷺگھر پر تشریف فرماتھے انھوں نے کہا: ادھر آؤ میں تمھیں ایک چیز دوںگی۔ آپﷺنے دریافت فرمایا: تم نے اسے کیا دینے کی نیت سے آواز دی؟ انھوں نے کہا: میں اسے کھجوردوںگی۔ آپﷺﷺ نے فرمایا:اگر تم اس کو کچھ نہ دیتی تو تمھارے اوپر ایک جھوٹ کاگناہ لکھ دیاجاتا۔

اقرع بن حابس نے دیکھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسنؓ کو پیار کررہے ہیں، انھوں نے کہا:

اِنَّ لِیْ عَشَرَۃً مِنَ الْوَلَدِ مَاقَبَّلْتُ وَاحِداً مِّنْھُمْ۔ قَالَ اِنَّہ‘مَنْ لَایَرْحَمُ لاَیُرْحَمُ ﴿ابوھریرہؓ مسلم﴾

میرے دس بچے ہیں مگر ان میں سے کسی کو بھی پیار نہیں کرتا۔ آپﷺنے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔

﴿۴﴾ مُرُوٓ ْ اَوْلَادَکُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَہُمْ اَبْنَآء  سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْہَاوَہُمْ اَبْنَآء  عَشْرٍ وَفَرِّقُوْابَیْنَھُمْ فِیْ الْمَضَاجِعِ     ﴿عمرو بن شعیبؓ، ابوداؤد﴾

اپنے بچوں کو نمازپڑھنے کاحکم دو جب وہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز نہ پڑھنے پر سزا دو اور ان کے بستروں کو الگ الگ کرو۔

﴿۵﴾دُعَاء  الْوَالِدِ یُفْضِیْ اِلٰی الْحِجَابِ     ﴿ام حکیمؓ ابن ماجہ﴾

والدین کی ﴿اپنے بچوں کے لیے﴾ دعا اللہ تعالیٰ کے خاص حجاب تک پہنچ جاتی ہے۔

﴿۶﴾ اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ ہُمَا رَیْحَانَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ﴿ابن عمرؓ -بخاری، ترمذی﴾

یقیناحسنؓ اور حسینؓ میری دنیا کے دوپھول ہیں۔

﴿۵﴾گھر کی خوش حالی اورسیرت رسول ﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیش کش کے حسب ذیل مقاصد ہوں گے:

٭خوش حال گھر کے خدوخال واضح کرنا ٭اچھے اعمال سے گھر کی خوش حالی کے تعلق کی وضاحت کرنا ٭بہتر سماج کے لیے خوش حال گھر کی اہمیت اجاگرکرنا، بدحال گھر کے مضراثرات سے واقف کرانا۔

واقعات:  اس موضوع کے لیے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾آپﷺکی گھریلوزندگی ﴿۲﴾گھر میں ا نجام دیے جانے والے اچھے کاموں کی وضاحت ﴿۳﴾بہتر گھر کی خوبیوں کابیان ﴿۴﴾بدتر گھر کی پہچان ﴿۵﴾والدین، بھائی بہن اور دیگر بزرگوں سے تعلقات ﴿۶﴾گھر میں کھانے، پینے کے آداب ﴿۷﴾فضول خرچی اور بے ہودہ چیزوں سے پرہیز ﴿۸﴾اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب ﴿۹﴾گھر میں سیکھنے اور سمجھنے کا ماحول ﴿۰۱﴾ایک اچھے گھر سے ایک اچھے خاندان کی تشکیل

احادیث:  اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٰ، وَاَنَا خَیْرُکُمْ لَاَہْلِیْ ﴿ہشام بن عمروہؓ -ترمذی﴾

تم میں اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور میں خود اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہوں

﴿۲﴾ مَاکَانَ النَّبِیُّا یَصْنَعُ فِیْ بَیْتِہٰ؟ قَالَتْ کَانَ یَکُوْنُ فِیْ مِہْنَۃِ اَہْلِہٰ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ قَامَ اِلٰی الصَّلٰوۃِ ﴿بخاری﴾

﴿حضرت اسودبن یزیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا﴾ نبی صلی اللہ علیہ وسلم! جب پنے گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیاکہ آپﷺاپنے گھر والوں کے کام میں ہاتھ بٹاتے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

﴿۳﴾لَایُرِیْدُاللّٰہُ بِاَہْلِ بَیْتٍ رِّفْقاً اِلاَّ نَفَعَہُمْ وَلَایُحْرِمُھُمْ اِیّاَہُ اِلَّا ضَرَّہُمْ ﴿عائشہؓ – بیہقی﴾

اللہ تعالیٰ کسی گھر کے لوگوں کے لیے نرم خوئی عطاکرنے کاارادہ فرماتاہے تو لازماً اس کے ذریعے سے انھیں فائدہ پہنچاتاہے اور اس کے برخلاف جس کسی گھر کے لوگوں کو نرم خوئی سے محروم رکھتاہے تو لازماً ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔

﴿۴﴾مَنْ کَانَتْ لَہ‘ اُنْثٰی فَلَمْ یَأْدُھَاوَلَمْ یُھْنِہَاوَلَمْ یُوْثِرْوَلَدَہ‘عَلَیْہَا یَعْنِی الذُّکُوْرَاَ دْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ ﴿ابن عباسؓ – ابوداؤد﴾

جس کی بیٹی ہو اور وہ اس کاجیناتنگ نہ کرے، نہ اسے ذلیل کرے اور نہ اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔

﴿۵﴾اَلْاِقْتِصَادُ فِیْ النَّفَقَۃِ نِصْفُ الْمَعِیْشَۃِ   ﴿ابن عمرؓ – بیہقی﴾

خرچ میں میانہ روی نصف معیشت ہے۔

﴿۶﴾ اَفْضَلُ دِیْنَارٍ یَّنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلیٰ عِیَالِہٰ ﴿مسلم﴾

افضل دینار ﴿پیسہ﴾ وہ ہے جس کو آدمی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے۔

﴿۷﴾اِذَا اَنْفَقَ الَّرجُلُ عَلٰی اَہْلِہٰ نَفَقَۃً یَحْتَسِبُہَا فَہِی لَہُ صدقۃٌ  ﴿ابومسعود بدریؓ -متفق علیہ﴾

جب آدمی اپنے اہل و عیال پر طلب ثواب کے لیے خرچ کرتاہے تو یہ اس کے لیے صدقے میں شمار ہوگا۔

﴿۸﴾اِذَا طَالَ اَحَدُکُمُ الْغَیْبَۃَ فَلَا یَطْرُقْ اَہْلَہ‘ لَیْلاً ﴿جابرؓ – متفق علیہ﴾

جب تم میں سے کوئی زیادہ دنوں تک گھر سے دور رہے تو رات کے وقت اپنے گھر والوں میں نہ آئے۔

﴿۹﴾ثَلٰثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ مُدْمِنْ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّوْتُ الَّذِیْ یُقِرُّفِیْ اَہْلِہٰ الْخُبْثِ  ﴿ابن عمرؓ -نسائی، مسند احمد﴾

تین آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ ہمیشہ شراب پینے والا، ماں باپ کا نافرمان اور وہ بے حیا جو اپنے گھروالوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے۔

﴿۱۰﴾  مَااَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ وَمَااَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَہُوَلَکَ وَمَااَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ وَمَااَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ  ﴿حدیث﴾

جو ﴿حلال کمائی﴾ تم اپنے ذات کے لیے خرچ کرتے ہو وہ تمھارے لیے صدقہ ہے اور جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ تمھارے لیے صدقہ ہے اور جو تم اپنے بچے کو کھلاتے ہو وہ تمھارے لیے صدقہ ہے اور جو تم اپنے ملازم کو کھلاتے ہو وہ تمھارے لیے صدقہ ہے۔

﴿۶﴾خاندان کی خوشگواری اور سیرت رسول ﷺ

مقاصد: اس موضوع کے تحت پیش کش کے حسب ذیل مقاصد ہوں گے:

٭مثالی خاندان کے خدوخال کی نشاندہی کرنا ٭مثالی خاندان کی تعمیر کی عملی شکلوں کی وضاحت کرنا ٭خاندانی استحکام کے ثمرات اور بگاڑ کے نقصانات سے واقف کرانا

واقعات : اس موضوع کے لیے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾خاندان کا تصور ﴿۲﴾خاندان والوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت ﴿۳﴾خاندان والوں کی اصلاح کے مختلف طریقے۔ دعوت وغیرہ کااہتمام ﴿۴﴾رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی ﴿۵﴾افراد خاندان کا باہمی تعاون ﴿۶﴾رشتے داروں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کوشش ﴿۷﴾باہمی تعلقات کی خرابی کے نقصانات ﴿۸﴾نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افراد خاندان سے تعلق کی نوعیت ﴿۹﴾ صحابہ کرامؓ کی اس ضمن میں کوششیں

احادیث:  اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾ اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَاناً اَحْسَنَہُمْ خُلُقًاوَاَلْطَفُہُمْ بِاَہْلِہٰ ﴿عائشہؓ – ترمذی﴾

مسلمانوں میں کامل ایمان والے وہ ہیں جن کااخلاق اچھا ہے اور اپنے گھروالوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔

﴿۲﴾ تَعَلَّمُوْا مِنْ اَنْسَابِکُمْ مَاتَصِلُوْنَ بِہٰ اَرْحَامَکُمْ فَاِنَّ صِلَۃَ الرَّحِمِ مُحَبَّۃٌ فِیْ الْاَہْلِ مَثْرَاۃٌ فِیْ الْمَالِ مَنْسَاۃٌ فِی الْاَثَرِ ﴿ابوہریرہؓ -ترمذی﴾

اپنے نسب سیکھوتاکہ اپنوں سے صلہ رحمی کرسکو۔ صلہ رحمی سے خاندان والوںمیں محبت، مال میں کثرت اور عمر میں درازی ہوتی ہے۔

﴿۳﴾ خَیْرُکُمْ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِیْرَتِہٰ مَالَمْ یَاثَمْ﴿سراقہ بن مالک بن جعشمؓ -ابوداؤد﴾

تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے خاندان والوں کی حفاظت کرے ، جب تک وہ ظلم اور گناہ کرنے والے نہ ہوں۔

﴿۴﴾ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّبْسَطَ لَہ‘ فِی رِزْقِہٰ وَیُنْسَالَہ‘ فِیْ اَثَرِہٰ فَلْیَصِلْ رَحِمَہ‘ ﴿انسؓ – متفق علیہ﴾

جوچاہتاہے کہ اس کے رزق میں فراخی اور اس کی عمر لمبی ہوتو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔

﴿۵﴾ لَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَافِیِٔ وَلٰ کِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِیْ اِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہ‘ وَ صَلَہَا ﴿ابن عمرؓ -بخاری﴾

بدلہ چکانے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے راشتے داری توڑی جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔

﴿۶﴾ اِنَّ لِیْ قَرَابَۃً اَصِلَہُمْ وَیَقْطَعُوْنَنِیْ وَاُحْسِنُ اِلَیْہِمْ وَیَسْؤنَ اِلیَّ وَاحْلُمُ عَنْھُمْ وَیَجْہَلُوْنَ عَلیَّ…؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا لَئِنْ کُنْتَ کَمَا قُلْتَ فَکَانَّمَا تُسفُّہُمُ الْمَلَّ، وَلَایَزَالُ مَعَکَ مِنَ اللّٰہِ ظَہِیْرٌ عَلَیْہِمْ مَاُدُمْتَ عَلٰی ذَلِکَ ﴿ابوہریرہؓ – مسلم﴾

﴿ایک صحابیؓ نے عرض کیا﴾ میرے کچھ رشتے دار ہیں جن کے حقوق ادا کرتاہوں اور وہ نہیں کرتے، میں ان کے ساتھ اچھابرتاؤ کرتاہوں اور وہ میرے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں، میں ان کے ساتھ حلم و بردباری کابرتاؤ کرتاہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت برتتے ہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ویسے ہوجیساکہہ رہے ہوتو گویا تم ان کے چہروںپر سیاہی مل رہے ہو۔ اللہ ان کے مقابلے میں تمھارا ہمیشہ مددگار رہے گا جب تک اپنی اس روش پر قائم رہوگے۔

﴿۷﴾ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ انِّیْ اَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِیْماً فَہَلْ لِّیْ مِنْ تَوْبَۃٍ قَالَ ہَلْ لَّکَ مِنْ اُمّّ؟ قَالَ لَا۔ قَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ خَالَۃٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَرَّہَا ﴿ابن عمرؓ – ترمذی﴾

﴿ایک شخص رسول اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا﴾ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیاہے کہ کیا میری توبہ ہوسکتی ہے؟ آپﷺنے فرمایا: کیا تمھاری والدہ ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپﷺنے فرمایا: کیا تمھاری خالہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں ہے۔ تو آپﷺنے فرمایاکہ ان سے بھلائی کے ساتھ پیش آؤ۔

﴿۸﴾ لاَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ  ﴿متفق علیہ﴾

وہ جنت میں نہیں جائے گا جو اپنے رشتے داروں سے تعلق ختم کرلیتاہے

﴿۷﴾انسانی عظمت اور سیرت رسول ﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیشکش کے حسب ذیل مقاصد ہوںگے:

٭انسان کے مقام اور اس کی حیثیت اجاگرکرنا ٭انسانی تکریم کے مختلف طریقوں کی نشاندہی ٭انسانوں پر ظلم سے ہونے والے نقصانات کی وضاحت کرنا

واقعات:  اس موضوع کے لیے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾انسان کا بلندمقام و مرتبہ ﴿۲﴾انسانوں سے محبت، اللہ سے محبت کی پہچان ﴿۳﴾خاندان اور قبیلے کی عصبیت سے پاک معاشرہ ﴿۴﴾یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق آپﷺکا طرزعمل ﴿۵﴾انسانوں کی خدمت پر اجرو ثواب ﴿۶﴾مال ودولت عزت و شرف کا معیار نہیں ﴿۷﴾کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا ﴿۸﴾ انسانوں سے متعلق اچھے جذبات ﴿۹﴾بدتر معاشرہ جہاں انسانوں سے ناروا سلوک کیاجائے ﴿۱۰﴾خوش حال معاشرہ جہاں انسانوں سے حسن سلوک کیاجائے۔

احادیث:  اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾اَنْسَابُکُمْ ہٰذِہٰ لَیْسَتْ بِمَسَبَّۃٍ عَلَیٰ اَحَدٍکُلُّکُمْ بَنُوْا اٰدَمَ… کَفٰی بِالرَّجُلِ اَنْ یَّکُوْنَ بِذِیاًّ فَاحِشاً بَخَیْلاً  ﴿عقبہ بن عامرؓ – مسند احمد﴾

تمھارے یہ نسب کسی پر لعن طعن کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ تم سب آدمؑ کی اولاد ہو… آدمی کی ذلّت کے لیے زبان دراز، فحش گو اور بخیل ہونا کافی ہے۔

﴿۲﴾لایرحم اللّٰہُ من لَّایرحم الناس ﴿جریر بن عبداللہؓ – متفق علیہ﴾

اللہ تعالیٰ اس پررحم نہیں فرمائے گا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔

﴿۳﴾ اَلَّذِیْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَ یَصْبِرُ عَلٰٓی اَذَاہُمْ خَیْرٌ مِنَّ الَّذِیْ لاَ ُیخَالِطُ وَلَایَصْبِرُ عَلٰٓی آذَاھُمْ  ﴿ترمذی﴾

وہ جو لوگوں سے مل جل کررہتاہے اور ان کے تکلیف دینے پر صبر کرتاہے اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مل جل کر نہیں رہتا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر صبر کرتاہے۔

﴿۴﴾ اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ فَاِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰٓی صُوْرَتِہٰ ﴿ابوھریرہؓ – متفق علیہ﴾

جب تم میں سے کوئی جھگڑا کرے تو چہرے پر مارنے سے بچے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدافرمایاہے۔

﴿۵﴾ الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِیْ الْاَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَّنْ فِیْ السَّمَآء  ﴿عبداللہ بن عمروؓ – ترمذی، ابوداؤد﴾

رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم فرماتاہے، لہٰ ذا تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔

﴿۶﴾خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس ﴿حدیث﴾

بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

﴿۷﴾لَاتَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئاً وَّلَوْاَنْ تَلْقیٰ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ﴿ابوذرغفاری- مسلم﴾

کسی بھی اچھے کام کو حقیر مت سمجھو اگر چہ وہ کام یہی ہو کہ تم اپنے بھائی سے کشادہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرو۔

﴿۸﴾لَاتُمَارِاخَاکَ وَلَاتُمَازِحْہُ وَلَاتَعِدْہُ مَوْعِداً فَتُخْلِفَہ‘ ﴿ابن عباسؓ – ترمذی﴾

اپنے بھائی سے مناظرہ نہ کرو اور اس سے مذاق کرو اور نہ اس سے وعدہ کرکے پھر وعدہ خلافی کرو۔

﴿۹﴾ مَااَحَبَّ عَبْدٌعَبْداً لِلّٰہِ اِلاَّاَکْرَمَ رَبَّہ‘ عَزَّوَجَلَّ   ﴿ابوامامہؓ -مسند احمد﴾

جس کسی بندہ نے خدا کے لیے کسی بندے سے محبت کی اس نے دراصل اپنے رب عزو جل کی تعظیم و توقیر کی۔

﴿۰۱﴾ لَایَسْتُرُعَبْدٌعَبْداً فِیْ الدُّنْیَا اِلَّا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیْامَۃِ  ﴿ابوھریرہؓ -مسلم﴾

جوکوئی دنیا میں کسی بندے کے عیب پر پردہ ڈالے گا خدا قیامت کے روز اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔

﴿۸﴾خلق خدا سے ہمدردی اور سیرت رسولﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیشکش کے حسب ذیل مقاصد ہوںگے:

٭خدمت خلق کا تصور واضح کرنا ٭خدمت کے طریقوں کی نشان دہی کرنا ٭خدمت پر ملنے والے اجر اور اس کے معاشرے پر خوش گوار اثرات سے واقف کرانا

واقعات:  اس موضوع کے لیے سیرت رسول اسے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾حضرت خدیجہؓ کاخدمت خلق کے حوالے سے آپﷺکی ڈھارس بندھانا ﴿۲﴾مکہ معظمہ میںکس طرح آپﷺلوگوں کے حقوق دلوایا کرتے ﴿۳﴾ایک بوڑھی عورت بھی اپنی حاجت کے لیے آپﷺسے رجوع ہوتی ﴿۴﴾زکوٰۃ، صدقات و خیرات سے متعلق صحابہ کرامؓ کارویہ ﴿۵﴾خدمت خلق کے نمونے، مسکرانا، ہاتھوں سے کماکر کھانا، کام کرنے والے کی مدد کرنا ﴿۶﴾پڑوسیوں، بیواؤں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنا ﴿۷﴾آپﷺکی مہمان نوازی ﴿۸﴾بھوکوں کو کھلانا، قیدیوں کو چھڑانا اور مسافروں کی مدد کرنا ﴿۹﴾ جانوروں سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کارویہ ﴿۰۱﴾خدمت خلق پر دنیا اور آخرت پر ملنے والا اجر

احادیث:  اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾ اَلْخَلْقُُ عِیْالُ اللّٰہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلیٰ اللّٰہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہٰ ﴿عبداللہؓ – بیہقی﴾

ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا گھرانا ہے۔ پس مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کو وہ سب سے پیارا وہ ہے، جو اس کے گھرانے سے اچھا سلوک کرے

﴿۲﴾ اَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ اَغْلاَہَا ثَمَناً وَّاَنْفَسُہَاعِنْدَ اَہْلِہَا۔ قَالَ فَاِنْ لَّمْ اَفْعَلْ؟ قَالَ تُعِیْنُ صَانِعاً اَوْتَصْنَعُ لِاَخْرَقَ۔ قَالَ فَاِنْ لََّمْ اَفْعَلْ؟ قَالَ تَدْعُ النَّاسِ مِنَ الشَّرِّ، فَانَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلٰی نَفْسِکَ ﴿ابو ذر غفاریؓ – متفق علیہ﴾

﴿ایک شخص نے عرض کیا﴾ کس طرح کے غلاموں کو آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟ آپﷺنے فرمایا: ایسے غلاموں کو آزاد کرنا جن کی قیمت زیادہ ہو اور جو اپنے مالک کے نگاہ میں بہتر ہوں۔ اس نے کہا:اگر میں یہ نہ کرسکوں تو کیا کروں؟ آپﷺنے فرمایا:تو پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کرو یا ایسے شخص کاکام کردو جو اپنے کام کو بہتر طریقے سے نہیں کرسکتا۔ اس نے پھر کہاکہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو کیا کروں؟ آپﷺنے فرمایا: لوگوں کو تکلیف نہ دو یہ تو تمھارا صدقہ ہوگا جس کا تمھیں اجر ملے گا۔

﴿۳﴾ اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ جُہْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْبِمَنْ تَعُوْلُ  ﴿ابوہریرہ-ابوداؤد﴾

﴿ایک شخص نے عرض کیا﴾کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپﷺنے فرمایا: تھوڑے مال والے کی کوشش و مشقت اور صدقہ دینے میں ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کی تم پر ذمّے داری ہے۔

﴿۴﴾اِنَّ لَیْ جَارَیْنِ فَاِلٰی اَیِّہِمَا اُھْدِیْ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی اَقْرَبِہِمَا مِنْکَ بَاباً۔ ﴿عائشہؓ -بخاری﴾

﴿ایک خاتون نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا﴾ میرے دو پڑوسی ہیں تو ان میں سے کس کے یہاں ہدیہ بھیجوں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پڑوسی کے یہاں جس کا دروازہ تمھارے دروازے سے زیادہ قریب ہو۔

﴿۵﴾ السَّاعِیُّ عَلٰی الْاَرْمِلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالسَّاعِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکَالْقَاِئمِ الَّذِی لَایَفْتُرُ وَکَالصَِآئِمِ الَّذِی لَایُفْطِِرُ﴿ابوہریرہؓ -متفق علیہ﴾

بیواؤں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، وہ اس رات میں قیام کرنے والے کی طرح ہے جو بغیر تھکے قیام کرتا ہے اور وہ اس روزے دار کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے۔

﴿۶﴾اَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہ‘ وَلِغَیْرِہٰ فَیْ الْجَنَّۃِ ہٰکَذَاوَاَشَارَبِاالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی وَ فَرَّجَ بَیْنَھُمَا شَیْئاً ﴿سہل بن سعدؓ – بخاری﴾

میں اور یتیم کی دیکھ بھال کرنے والا خواہ اپنا ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوںگے اور اپنی شہادت والی اور درمیانی انگشت مبارک سے اشارہ فرمایا اور جن کے درمیان تھوڑافاصلہ رکھا۔

﴿۷﴾اَیُّ الصَِدَقَۃِ اَعْظَمُ اَجْراً؟ قَالَ اَنْ تَصَدَّقَ وَاَنْتَ صَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَاْمُلُ الْغِنیٰ وَلاَ تُمْہِلْ حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفَلَانٍ کَذَا، وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ  ﴿ابوہریرہؓ – متفق علیہ﴾

کونسا صدقہ اجرو ثواب کے لحاظ سے بڑھاہوا ہے؟ وہ صدقہ افضل ہے جو تم سا حال میں کرو کہ تم صحیح و تندرست رہو اور تمھیں محتاجی کابھی خدشہ رہے اور ساتھ ہی یہ توقع بھی رہے کہ تمھیں مزید مال مل سکتا ہے۔ ایسے زمانے میں صدقہ کرنا سب سے افضل ہے اور تم ایسا نہ کرو کہ جب تمھاری جان حلق میں آجائے اور مرنے کا وقت قریب ہوتو کہنے لگو کہ اتنا فلاں کا اور اتنا فلاں کا ہے۔ ایسے حال میں تمھارے کہنے کا کیا فائدہ؟ اب تو وہ فلاں کا ہی ہوچکاہے۔

﴿۸﴾ مَنْ زَرَعَ زَرَعاً اَوْ غَرَسَ غَرْساً فَاَکَلَ مِنْہُ اِنْسَانٌ اَوْ دَآبَّۃٌکُتِبَ لَہ‘ بِہٰ صَدَقَۃٌ  ﴿جامع الصغیر﴾

جس کسی نے فصل تیار کی یا کوئی باغ لگایا، اگر کوئی انسان یا جانور اس میں سے کھالیں تو اس کے حصّے میں صدقہ لکھاجاتا ہے۔

﴿جاری﴾

نومبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau