سیرت رسول کی تفہیم

ہندستانی تناظر میں

محمد عبد اللہ جاوید

﴿۳۱﴾ حکمران و قائدین اور سیرت رسول ﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیش کش کے حسب ذیل مقاصد ہوں گے:

٭مثالی حکمران و قائدین کے خدوخال کی نشان دہی ٭انسانی مسائل سے حکمرانوں کے تعلق کی نوعیت واضح کرنا ٭مثالی معاشرے کے لیے حکمران اور عوام کے درمیان مطلوبہ تعلقات کی وضاحت کرنا۔

واقعات: اس موضوع کے لیے سیرت رسول اسے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾حکمران کا تصور، عادل حکمران، جابر حکمران ﴿۲﴾رسول اکرم ا بحیثیت مثالی حکمران ﴿۳﴾حکمراں، عوام کی ضروریات کی تکمیل کرے ﴿۴﴾عوام اور حکمرانوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ﴿۵﴾معاشرتی بُرائیوں کو مٹانے میں حکمرانوں کا رول ﴿۶﴾معاشرے میں بھلائیوں کے فروغ میں حکمرانوں کارول ﴿۶﴾خلفائے راشدین کی طرزحکمرانی ﴿۷﴾ذمے داری کے احساس سے عاری حکمراں کا انجام ﴿۸﴾مثالی حکمرانی، مثالی معاشرہ ﴿۹﴾مثالی حکمران کے لیے عوام کامثالی کردار ﴿۰۱﴾مثالی طرزحکمرانی اور اللہ کے انعامات

احادیث: اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾ اَلاَکُلُّکُمْ رَاعٍٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌوَھُوَمَسْئُوْلٌ رَّعِیَّتِہٰ  ﴿عبداللّٰہ بن عمرؓ – متفق علیہ﴾

خبردار تم میں سے ہر ایک، ایک رعیت کا نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیاجائے گا۔ وہ لیڈر جو لوگوں پر حاکم ہے نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیاجائے گا۔

﴿۲﴾ مَامِنْ عَبْدٍ یَّسْتَرْعِیْہِ اللّٰہُ رَعِیَّۃً فَلَمْ یَحُطْہَا بِنَصِیْحَۃٍ اِلَّا لَمْ یَجِدْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ  ﴿معقل بن یسارؓ – متفق علیہ﴾

کوئی بندہ ایسانہیں جس کو اللہ تعالیٰ رعیت پر ذمے دار بنادے پھراگر وہ ان سے خیرخواہی نہ کرے اور اپنی ذمے داری کو ادا نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔

﴿۳﴾ اِنَّ شَرُّاالرُّعَائِ الْحُطْمَۃُ  ﴿عائذ بن عمروؓ – مسلم﴾

حکمرانوں میں سب سے بدترین ظالم ہیں

﴿۴﴾ مَامِنْ اَمِیْرِعَشْرَۃٍ اِلَّایُؤتٰی بِہٰ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُوْلاً حَتیّٰ یَفُکَّ عَنْہُ الْعدْلُ اَوْیُوْبِقَہُ الْجَوْرُ ﴿ابوہریرہؓ -دارمی﴾

جوکوئی دس اشخاص پربھی حاکم ہوگااس کو قیامت کے دن طوق پہناکر لایاجائے گا یہاں تک کہ عدل اس سے طوق کو اتاردے گا یا ظلم اس کو ہلاک کردے گا۔

﴿۵﴾ اَفْضَلُ الْجِہَادِ مَنْ قَالَ کَلِمَۃَ حَقٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِر﴿ابوسعیدؓ -ابوداؤد، ابن ماجہ﴾

بہترین جہاد ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا ہے۔

﴿۶﴾اِنَّ الْاَمِیْرَ اِذَابْتَغَی الرِّیْبَۃََ فِیْ النَّاسِ اَفْسَدَہُمْ ﴿ابوامامہؓ -ابوداؤد﴾

جب ایک حکمران اپنے ماتحت لوگوںمیں شک کرنے لگے تو معاملہ بگڑجاتاہے

﴿۷﴾ کَمَاتَکُوْنُوْنَ کَذَالِکَ یُؤَمَّرُ عَلَیْکُمْ ﴿یونس بن اسحاق عن ابیہ- بیہقی﴾

جیسے تم ہوگے اسی طرح کے تم پر ذمے دار مقرر کیے جائیں گے۔

﴿۸﴾ یَسِّرَاوَلاَتُعَسِّرَوَبَشِّرَا وَلاَ تُنَّفِرَاوَتَطظاَوَعَاوَلَا تَخْتِلفَا  ﴿ابوبُردہؓ -متفق علیہ﴾

آسانی پیدا کرو مشکل پیدا نہ کرو، نفرت نہ دلائو اور آپس میں اتفاق رکھو اور اختلاف نہ کرو ۔

﴿۹﴾ لَایَقْضِیَنَّ حَکَمٌ بَیْنَ اِثنَیْنِ وَہُوَغَضَبَانُ ﴿ابوامامہؓ -ابوداؤد﴾

غصے کی حالت میں کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔

﴿۱۰﴾ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلیٰ عَمَلٍ فَرَزَقْنَاہُ رِزْقاً فُمَا اَخَذَ بَعَدَ ذَالِکَ فَہُوَ غُلُوْلٌ  ﴿ابوبُردہؓ -ابوداؤد﴾

کسی کام پر ہم کسی شخص کو ذمے دار مقرر کردیں، ہم اس کو تنخواہ دیں گے ، اس کے بعد وہ جو کچھ لے گا خیانت ہے۔

﴿۱۱﴾ خِیَارُاَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَہُمْ وَیُحِبُّوْنَکُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَیْہِمْ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ ﴿مسلم﴾

تم میں سب سے بہتر ذمے دار وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو، وہ تمھارے لیے رحمت و سلامتی کی دعا کریں اور تم ان کے لیے رحمت و سلامتی کی دعا کرو۔

﴿۱۲﴾ مَنْ کَانَتْ لَہ’ سَرِیْرَۃٌ صَالِحَۃٌ اَوْسَیِّئۃٌ اَظْہَرَ اللّٰہُ مِنْہَا رِدَآئً یُّعْرَفُ بِہٰ  ﴿عثمانؓ – مشکوٰۃ﴾

جس کی سیرت اچھی یا بُری ہوتو اللہ تعالیٰ اس کی نشانی ظاہر فرمادیتاہے جس کے باعث اسے پہچان لیاجاتاہے۔

﴿۱۴﴾امن اور سیرت رسول ﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے حسب ذیل مقاصد ہوں گے:

٭موجودہ حالات میں امن کی اہمیت و ضرورت ٭سماجی بگاڑ کی وجوہ کی نشان دہی۔

واقعات: اس کے لیے سیرت سے حسب ذیل نکات کے پیش نظرواقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾حلف الفضول اور اس کی اہمیت سے متعلق آپﷺکے احساسات ﴿۲﴾ مکہ معظمہ میں امن کی بحالی کے لیے آپﷺکی کوششیں ﴿۴﴾بُرائیوں کو مٹانے کے لیے لوگوں کی ذہن سازی ﴿۵﴾مثالی معاشرے کے خدوخال ﴿۶﴾ معاشرے میں رہنے کے آداب ﴿۷﴾سماج کی بہتری کے لیے باہمی اشتراک سے کام، کعبہ میں حجراسود نصب کرنے کا واقعہ ﴿۸﴾مکہ معظمہ میں لوگوں کے حقوق دلوانے کی کوشش ﴿۹﴾ظلم و ناانصافی کے ازالے سے متعلق آپﷺکے اقدامات ﴿۳﴾ہجرت کے بعد مدینے اور اطراف کی آبادیوں سے امن معاہدات ﴿۰۱﴾معاشرے میں پائیدار امن کے قیام کے شرائط۔

احادیث: اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾اَمِنَ الْعَصْبِیَۃِ اَنْ یُّحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَہ’؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا لَاوَلٰکِنْ مِّنَ الْعَصَبِیَّۃِ اَنْ یَّنْصُرَالرَّجُلُ قَوْمَہ’ عَلیَ الظُّلْمِ ﴿ابوفیلہؓ -مشکوٰۃ﴾

﴿ایک شخص نے عرض کیا﴾ کیا اپنے لوگوں سے محبت کرنا عصبیت ہے؟ رسول اکرم ا نے فرمایا نہیں، بل کہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے معاملے میں اپنی قوم کا ساتھ دے۔

﴿۲﴾ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلیٰ عَصَبِیَّۃِ وَّ لَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِیَّۃٍ وَّ لَیْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلیٰ عَصَبِیَّۃٍ  ﴿جبیر بن معطم-ابوداؤد﴾

وہ ہم سے نہیں ہے جو عصیت کی طرف بلائے اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کے باعث لڑے اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرے۔

﴿۳﴾ قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی اَنَا اللّٰہُ وَاَنَا الرَّحْمٰنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَہَا مِنْ اِسْمیْ لَہَا مِنْ اِسْمِیْ فَمَنْ وَ صَلَہَا وَصَلْتُہ’ وَمَنْ قَطَعَ بَتَتُّہ’ ﴿عبدالرحمن بن عوفؓ -ابوداؤد﴾

اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میں اللہ ہوں، رحمن ہوں، تم کو میں نے پیدا کیا ، اسے اپنے نام سے جوڑا، جو اسے جوڑے تو میں اسے جوڑوںگا اور جو اسے توڑے میں اسے توڑوںگا۔

﴿۴﴾لاَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ عَلٰی قَوْمٍ فِیْہِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ ﴿عبداللّٰہ بن ابی اوفیؓ -ابوداؤد﴾

اس قوم پر رحمت نازل نہیںہوتی ، جس میں قطع رحمی کرنے والا ہو۔

﴿۵﴾مَامِنْ ذَنْبٍ اَحْرَیٰ اَنْ یُّعَجِّلَ اللّٰہُ لِصَاحِبِہٰ الْعُقُوْبَۃَ فِیْ الدُّنْیَا مَعَ مَایَدَّخِرُ لَہ’ فِیْ الاٰخِرَۃِ مِنَ الْبَغْیِ وَقَطِیْعَۃِ الرَّحِمِ ﴿ابوبکر!-ترمذی، ابوداؤد﴾

کوئی گناہ اس سے زیادہ لائق نہیں کہ اس کے مرتکب کو اللہ بہت جلد دنیا میں سزا دے ، آخرت کے عذاب کو اس کے لیے ساتھ ہی ذخیرہ کردے، وہ ہے امام سے بغاوت و قطع رحمی۔

﴿۶﴾ اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَالَنَا مِنْ مَّجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْہَا فَقَالَ اِدْاَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہ’ قَالُوْا وَمَاحَقُّ الطَّرِیْقِ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الَاذیٰ وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْاَمْرُبِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَر  ﴿ابوسعید خدریؓ -بخاری﴾

تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ا ہمارے لیے تو باہم گفتگو کرنے کے لیے راستوں میںبیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آپﷺنے فرمایا اچھا اگر تم وہیں بیٹھنا چاہتے ہوتو راستے کا حق ادا کردیا کرو۔ لوگوں نے دریافت کیا۔ اے اللہ کے رسول ا راستے کا حق کیاہے؟ آپﷺنے فرمایا: نگاہیں بچانا، تکلیف دینے والی باتوں سے بازرہنا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا۔

﴿۷﴾ اَلاَمَنْ ظَلَمَ مُعَاہِداً اَوْفَوْقَ طَاقَتِہٰ وَاَخَذَ مِنہُ شَیْئاً بِغَیْرِ طِیْبِ فَاَنَا حَجِیْجُہ’ یَوْمَ الْقِیْامَۃِ ﴿صفوان بن سلیمؓ – ابوداؤد﴾

جس نے اس ﴿غیرمسلم﴾ پر ظلم کیا جس سے معاہدہ ﴿مخلوط سماج میں امن وبھائی چارے کے ساتھ رہنے کا﴾ ہوچکاہے یا اس کے حقوق کو نقصان پہنچایا، اس کی طاقت سے زیادہ اس پر ذمے داری کا بوجھ ڈالا یا بغیر اس کی دلی خوشی کے کوئی چیز اس سے لے لی تو قیامت کے روز ایسے شخص کے خلاف میں احتجاج کروںگا۔

﴿۸﴾اَلْقُضَاۃُ ثَلاَ ثَۃٌ وَاحِدٌ فِی الْجَنَّۃِ وَاِثْنَانِ فِی النَّارِفَاَمَّا الَّذِی فِی الْجَنَّۃِ فُرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضیٰ بِہٰ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِی الْحُکْمِ فَہُوَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ قَضیٰ لِلنَّاسِ عَلیٰ جَہْلٍ فَہُوَ فِی النَّارِ ﴿بُریدہ- ابوداؤد، ابن ماجہ﴾

قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں، جن میں ایک جنت میں جائے گا اور دو دوزخ میں جائیںگے۔ جنت میں جانے والا وہ شخص ہے جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا اور جس نے حق کو جانا مگر اپنے فیصلے میں ظلم کیا وہ دوزخ میں جائے گا اور جو شخص جہالت کی وجہ سے حق نہیں پہچان سکا اور اسی حالت میں لوگوں میں تنازعات کا فیصلہ کیا وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔

﴿۱۵﴾ اہلِ ملک کی خیرخواہی اور سیرت رسولﷺ

مقاصد:  اس موضوع کے تحت پیش کش کے حسب ذیل مقاصدہوں گے:

٭خیرخواہی کا تصور واضح کرنا ٭خیرخواہی کے طریقوں کی نشان دہی ٭خیرخواہی کے پڑنے والے خوش گوار اثرات سے واقفیت

واقعات: سیرت رسول اسے حسب ذیل نکات کے پیش نظر واقعات بیان کیے جائیں:

﴿۱﴾ رسول اکرم ا کی اپنے وطن مکہ معظمہ سے فِطری محبت ﴿۲﴾اہلِ ملک کی خیرخواہی بُرائیوں کے ازلے کے ذریعے ﴿حرمت شراب پر صحابہؓ کا طرزعمل﴾ ﴿۳﴾نیکیوں کا فروغ اور معاشرے کی بھلائی ﴿۴﴾مظلوموں کی دادرسی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ﴿۵﴾عدل وانصاف کے قیام کی کوششیں ﴿۶﴾سود، شراب، زنا جیسی بُرائیوں کے ازالے کے لیے آپﷺکی ہدایات ﴿۷﴾اچھے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون کے طریقے ﴿کامن پروگرام وغیرہ﴾ ﴿۸﴾اہلِ ملک کی خیرخواہی، خدا کے ساتھ مضبوط رشتے سے ممکن

احادیث: اس موضوع کی مزید وضاحت کے لیے حسب ذیل احادیث بیان کی جاسکتی ہیں:

﴿۱﴾اِذَا عُمِلَتِ الْخَطِیْئَۃُ فِی الْاَرْضِ مَنْ شَہِدَ فَکَرِہَہَا کَانَ کَمَنْ غَابَ عَنْہَاوَمَنْ غَابَ عَنْہَا فَرَضِیْہَا کَانَ کَمَنْ شَہِدَہَا  ﴿عُرس بن عمیرہؓ – ابوداؤد﴾

جب زمین میں گناہ کیاجائے تو جو وہاں موجود ہو اور وہ اسے ناپسند کرے تو ایسا ہے جیسے وہ وہاں موجود نہیں اور جو موجود نہیں لیکن اس سے وہ راضی ہے تو ایسا ہے جیسے موجود ہو۔

﴿۲﴾ مَامِنْ رَّجُلٍ یَّکُوْنَ فِی قَوْمٍ یَّعْمَلُ فِیْہِمْ بِالْمَعَاصِیْ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّغَیِّرُواعَلَیْہِ وَلَایُغَیِّرُوْنَ اِلاَّ اَصَابَہُمُ اللّٰہُ مِنْہُ بِعَقَابٍ قَبْلَ اَنْ یَّمُوتُوْا ﴿جریر بن عبداللّٰہ – ابوداؤد، ابن ماجہ﴾

کسی قوم کا کوئی شخص ان کے درمیان گناہ کرتاہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب بھیجے گا اس سے پہلے کہ انھیں موت آئے۔

﴿۳﴾ قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلْ لَوْ اَنَّ عَبِیْدِیْ اَطَاعُوْنِی لَاَسْقَیْتُہُمُ الْمَطَرَ بِاللَّیْلِ وَاَطْلَعْتُ عَلَیْہِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ وَلَمْ اُسْمِعْہُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ ﴿ابوہریرہؓ -مسند احمد﴾

اللّٰہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات کو ان پر بارش برسائوں اور دن میں ان پر سورج طلوع کرتا رہوں اور انھیں گرج کی آواز سناؤں۔

﴿۴﴾ مَاظَہَرَالْغَائِلُ فِی قَوْمٍ اِلاَّ اَلْقَی اللّٰہُ فِی قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ وَلاَفَشَا الزِّنَا فِی قَوْمٍ اِلاَّ کَثُرَفِیْہِمُ الْمَوْتُ وَلَانَقَصَ قَوْمُ نِ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانِ اِلاَّ قُطِعَ عَنْہُمُ الرِّزْقُ وَلاَحَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِحَقٍ اِلَّا فَشَافِیْہِمُ الدَّمُ وَلاَ خَتَرَقَوْمٌ بِالْعَہْدِ اِلاَّ سُلِّطَ عَلَیْہِمُ الْعَدُوُّ  ﴿ابن عباسؓ -مالک﴾

جس قوم میں خیانت ظاہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوںمیں رعب ڈال دیتاہے اور جس قوم میں زنا پھیلے وہاں موت کی کثرت ہوجاتی ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اس کا رزق کم کردیاجاتاہے، جو قوم حق کے خلاف فیصلے کرے، اس کے درمیان خونریزی عام ہوجاتی ہے، جو قوم اپنا معاہدہ توڑے اس پر دشمن مسلط کردیاجاتاہے۔

﴿۵﴾ اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْمَظْلُوْماً فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْل اللّٰہِ اَنْصُرُہ’ مَظْلُوْماً فَکَیْفَ اَنْصُرُہ’ ظَالِماً قَالَ تَمَنَہ’ مِنَ الظُّلْمِ فَذَالِکَ نَصْرُکَ اِیّاہُ  ﴿انسؓ – متفق علیہ﴾

بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔ عرض کیاگیا۔اللہ رسول(ص)! مظلوم کی مدد تو کرسکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کیسے؟ آپﷺنے فرمایا: اُسے ظلم سے روکو ، یہی اس کی مدد کرنا ہے۔

﴿۶﴾ مَنْ اَغَاثَ مَلْہُوْفاً کَتَبَ اللّٰہُ لَہ’ ثَلٰثاً وَّ سَبْعِینَ مَغْفِرَۃً وَّاحِدَۃً فِیْہَا صَلَاحُ اَمْرِہٰ کُلِّہٰ وَثَنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ لَہ’ دَرَجَاتٌ یَوْمَ الْقِیْامَۃِ ﴿انسؓ – بیہقی﴾

جس نے کسی مظلوم کی فریادرسی کی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تہتر﴿۳۷﴾مغفرتیں لکھ دیتاہے، جن میں سے ایک کے تمام کاموں کو درست کرتی ہے اور باقی بہتر ﴿۷۲﴾ قیامت کے روز اس کے لیے درجات ہوں گے۔

﴿۷﴾ خَیْرَالْاَصْحَابِ عِنْدَاللّٰہِ خَیْرَہُمْ لِصَاحِبِہٰ وَخَیْرالْجِیْرَانِِ عِنْدَاللّٰہِ خَیْرُہُمْ لِجَارہٰ  ﴿عبداللّٰہ بن عمرؓ – ترمذی﴾

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھے دوست وہ ہیں،جو اپنے دوستوں کے لیے اچھے ہیں اور اچھے پڑوسی وہ ہیں، جو اپنے دوستوںکے لیے اچھے ہیں۔

طریق کار

﴿۱﴾ سیرت پیش کش کے آغاز میں، رسول اکرمﷺکی زندگی کا ؒ ذکرہ مختصر انداز سے کیاجائے اور رسالت کی اہمیت اور ضرورت پر بھی مختصر گفتگو کی جائے۔

﴿۲﴾ سیرت پر پیش کش مسلسل تین دن چلے۔ ہر دن کسی ایک موضوع کا انتخاب ہو۔ ہر موضوع پر رسول اکرم ا کی حیات مبارکہ سے واقعات اور آپﷺکے ارشادات کی تشریح ہو۔ پھر سوالات وجوابات کے لیے وقت رکھاجائے۔ اس طرح تین تین دنوں کے وقفہ سے پروگرام منعقد ہو اور مندرجہ بالا تمام موضوعات کااحاطہ ہو۔

﴿۳﴾سیرت رسول ا پر یہ پیش کش دعوتی نقطہ نظر سے ہے، اس لیے ہرموضوع کے تحت موجودہ حالات کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔

﴿۴﴾بیان کردہ احادیث کے علاوہ بھی موضوع سے متعلق مزید احادیث پیش کی جاسکتی ہیں۔احادیث کاانتخاب ایساہوکہ موضوع کا حق ادا ہواورمقاصد کا مکمل احاطہ ہو۔

﴿۵﴾ پیش کش میں موضوع کی مناسبت سے آیات کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔

﴿۶﴾ سیرت رسول(ص)سے متعلق اٹھنے والے متوقع سوالات کی قبل از وقت تیاری کرلی جائے۔

﴿۷﴾انداز بیان ایساہوکہ سیرت پر درس سننے کے بعدبرادران وطن میں اپنے خالق و مالک کو پہچاننے کی تڑپ پیداہو اور ان پر یہ بات واضح ہو کہ آپﷺاللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

﴿۸﴾ سیرت رسول ا سے متعلق مختلف کتابچوں/کتابوں کی تقسیم کااہتمام کیاجائے۔‘‘

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau