فلاح و کامرانی — منزل اور حصولِ منزل

ڈاکٹر محمد رفعت

فلاح، کامرانی اور کامیابی کی تمنا ہر شخص کرتا ہے۔ شاید کوئی انسان ایسا نہ ہوگا جو کامیاب نہ ہونا چاہتا ہو اور جو یہ کہے کہ میں ناکامی کو پسند کرتا ہوں۔ انسان کے دل کی یہ تمنا پوشیدہ ہوتی ہے لیکن انسان کی مختلف حرکات و سکنات سے مسلسل اپنے وجود کا پتہ دیتی رہتی ہے۔ اگر انسان کے دل کو ٹٹولا جاسکے یا وہ اپنے دِل کی بات زبان پر لانے پر آمادہ ہو تو یقینا وہ زبان سے بھی یہی کہے گاکہ کامیابی میرا مقصد اور میرا ہدف ہے۔ انسانوں میں تمام اختلافات کے باوجود کامیابی کی جستجو اور تلاش پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ انسان آج کے زمانے کا ہو یا آج سے ہزاروں سال قبل کا، ناخواندہ ہو یا تعلیم یافتہ، مہذب ہو یا ناآشنائے تہذیب و تمدن، شہری ہو یا دیہاتی، مرد ہو یا عورت، سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور کوئی نہیں چاہتا کہ ناکامی اس کے نصیب میں آئے۔

کامیابی کا مفہوم

لیکن کامیابی ہے کیا؟ کس انسان کو ہم کامیاب کہیں گے اور کسے ناکام؟ اس سوال کے جواب میں انسانوں میں اتفاق نہیں پایا جاتا۔ کامیابی کی تعریف اور اس کے پیمانے مختلف ہیں۔ کوئی عزت و شہرت کو کامیابی سمجھتا ہے۔ کسی کے نزدیک اقتدار اور حکومت کا حصول کامیابی ہے۔ کسی کے خیال میں علم و تحقیق کی بلندیوں پر پہنچ جانا کامیاب ہوجانا ہے اور کسی کے خیال میں ایک اچھے کیریئر (Career) یعنی مفید معاشی مصروفیت ومادی سہولیات اور مال و دولت کا حاصل ہوجانا کامیابی ہے۔

ان اختلافات کی موجودگی میں یہ طے کرنا کہ “کامیابی کیا ہے؟‘‘ بظاہر ایک مشکل مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ مشکل آسان ہوجاتی ہے اگر ہم انسان کی فطرت پر غور کریں اور خود کامیابی کے سلسلے میں اپنے دل کو بھی ٹٹول کر دیکھیں کہ وہ حقیقی کامیابی کس چیز کو سمجھتا ہے؟

انسانی وجود کی معرفت

انسان کا وجود کوئی سادہ وجود نہیں بلکہ وہ اپنے متعدد پہلو رکھتا ہے۔ ہر پہلو اس لائق ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔ فطرت انسانی کا معتدل، متوازن اور جامع تصور اسی وقت ہماری گرفت میں آسکتا ہے جب وجود انسانی اور شخصیت انسانی کے کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

ایک اعتبار سے انسان مادی وجود ہے اور طبعی قوانین میں جکڑا ہوا ہے۔ اس اعتبار سے وہ کائنات کی بے جان و بے شعور اشیاء سے مماثلت رکھتا ہے۔ جس طرح ایک پتھر کو زمین کششِ ثقل سے اپنی طرف کھینچتی ہے اسی طرح انسان کو بھی کھینچتی ہے۔ جس طرح ایک مکان جگہ گھیرتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اپنے لیے جگہ (Space)درکار ہوتی ہے۔ جس طرح بے جان اشیاء چھوٹے چھوٹے ذرات کا مجموعہ ہیں اسی طرح انسان بھی ہے۔ لیکن غالباً کوئی انسان بھی یہ ماننے پر آمادہ نہ ہوگا کہ وہ محض پتھر جیسا ایک مادی وجود ہے اور اس کی حقیقت ایٹموں کے مجموعے کے علاوہ کچھ نہیں۔ انسان کا دل اندر سے پکار کر کہتا ہے کہ وہ محض “عناصر کا مجموعہ‘‘ نہیں اور اس کی حقیقت پہاڑوں اور پتھروں سے کہیں عظیم تر ہے۔

ایک اور اعتبار سے انسان ایک حیوانی وجود ہے۔ مغرب کا فلسفہ انسان کو ترقی یافتہ حیوان ہی قرار دیتا ہے۔ حیوانات کی طرح انسان سانس لیتا ہے، ماحول کے عوامل سے متاثر ہوتا ہے اور اپنی نسل بڑھاتا ہے۔ اسے غذا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ انسان میں وہ اخلاقی حس (Ethical Sense)پائی جائی ہے جو حیوانات میں نہیں نظر آتی؟ اور اس بنا پر اسے محض حیوان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایک اور اعتبار سے انسان ایک اجتماعی جاندار (Social Animal)ہے۔ وہ تمدنی زندگی کو پسند کرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہنا چاہتا ہے یہاں تک کہ بعض مغربی مفکرین نے سماجی بندھنوں کو انسان کے وجود کی اصل حقیقت قرار دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ سماجی تعلقات کا تانا بانا(Structure of Social Relations) ہی وہ شے ہے جو شخصیت انسانی کی تعمیر کرتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک زبردست خودی پائی جاتی ہے جو اپنے ذاتی اور انفرادی وجود پر اصرار کرتی ہے۔ اس لیے انسان اجتماعیت کے اندر اپنی انفرادیت بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہ جذبۂ انفرادیت بسا اوقات کشمکش کی شکل بھی اختیار کرتا ہے، جب انسان اجتماعی اداروں سے بغاوت کرتا ہے اور ان کو اپنے خیال کے مطابق درست نہ پاکر انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک نئے نظام کا تصور پیش کرتا ہے۔ تمام فکری و سیاسی انقلابات کی بنیاد بعض مفکرین کے افکار ہیں جو انھوں نے زیادہ تر اپنی انفرادی حیثیت میں پیش کیے اور ان افکار میں وقت کے مسلّمہ اجتماعی نظاموں کو چیلنج کیا۔ اس لیے انسان کو ہم محض اجتماعی وجود قرار نہیں دے سکتے۔ واقعہ یہ ہے کہ بعض اعتبارات سے انسان جمادات، حیوانات اور اجتماعیزندگی گزارنے والے جانداروں سب سے مختلف ہے۔ اس کے اندر پوشیدہ حقائق کو جاننے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے جو دوسری مخلوقات میں نظر نہیں آتی۔

بڑی بات یہ ہے کہ انسان جذبہ عبادت رکھتا ہے۔ اس جذبے نے قدیم ترین انسان سے لے کر آج تک کے انسانوں کو عبادت گاہیں تعمیر کرنے اور مراسم عبادت انجام دینے پر آمادہ کیا ہے۔ یہ جذبہ حیوانات میں نظر نہیں آتا۔ انسان میں تسخیر کائنات کا داعیہپایا جاتا ہے جو اسے ایک منزل کے بعد دوسری منزل کے حصول کے لیے بے چین رکھتا ہے۔ اس کے اندر اخلاقی حس پائی جاتی ہے جو انسانی ادب ، آرٹ، مذہبی تصورات اور نظامِ قوانین کی اصل روح ہے۔ ان ساری خصوصیات میں انسان بے مثل ہے۔ ان کو ہم خالص “انسانی خصوصیات‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اسلام نے ان خصوصیات کو اس ایک بنیادی نکتے میں بیان کیا ہے کہ “انسان اللہ کا خلیفہ ہے۔‘‘

انسان کے اللہ کے خلیفہ یا نائب ہونے کے چند اہم نتائج ہیں جو فطرت انسانی کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے ہیں:

(۱) اللہ کا نائب ہونے کی حیثیت سے انسان ارادہ و اختیار کی طاقت رکھتا ہے۔ انسان کی اخلاقی حس اسی اختیار کی بنا پر ہے۔ نیکی اور بدی، خیر اور شر، اچھے اور برے میں تمیز اور خیر کو اختیار کرنے کا شدید اخلاقی تقاضا یہ انسان کی امتیازی خصوصیت ہے۔

(۲) چونکہ انسان اللہ کا نائب ہے اس لیے اسے محدود انسانی پیمانے پر اللہ کی صفات کا پرتو (Shadow)ملا ہے۔ اس لیے انسان علم کی طلب رکھتا ہے۔ علم اصلاً اللہ کی صفت ہے۔ علم کی طلب کی اس خصوصیت نے انسانی تاریخ میں مسلسل علمی ترقی کے لیے ایک مہمیز کا کام کیا ہے۔

(۳)  انسان اللہ کا نائب ہے اور اللہ نے کائنات کی بہت سی اشیاء کو انسان کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اس لیے انسان تسخیر کائنات کا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ جذبہ انسان کے تمدنی ارتقاء کی بنیاد ہے۔

(۴)  انسان کے لیے وہ ذات جو Idealاور نمونے کی حیثیت رکھتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لیے کہ زمین کی جو مخلوقات انسان کے دائرئہ علم میں ہیں وہ انسان سے کم تر ہیں۔ محض اللہ کی ذات انسان سے بالاتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام عیوب، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ اس لیے وہ انسان کا ideal  معیارِ مطلوب ہے۔

“صبغۃ اللّٰہ ومن احسن من اللّٰہ صبغۃ‘‘ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا کس کا رنگ ہوگا۔

یہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ بلند ترین معیار ہے جو انسان کے سامنے ہوسکتا ہے۔ یہ انسان کی امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ مادی اور حیوانی وجود کے باوجود اپنی نگاہیں پستی کی طرف نہیں بلکہ بلندی کی طرف رکھتا ہے۔ یہ بلندی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے وابستہ ہے۔ اس لیے کہ انسان سے بلند تر اسی کی ہستی ہے۔

(۵)  انسان کے لیے جو ذات بندگی اور اطاعت کی مستحق ہوسکتی ہے وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ خود انسانوںکا اپنے جیسے انسانوں کی بندگی اختیار کرنا بالکل غلط اور بے محل ہے اس لیے کہ بحیثیت انسان، سارے انسان برابر سطح پر ہیں۔ رہیں دوسری  زمینی مخلوقات تو وہ انسان سے کم تر ہیں اور زمین پر محدود اقتدار اور حکمرانی ان مخلوقات کی نہیں ہے۔ اس واقعہ کی موجودگی میں انسان کی اطاعت اور بندگی کا مستحق صرف اللہ ہے۔

انسانی خصوصیات کا تناظر

فطرت انسانی کی مندرجہ بالا وضاحت سے اختلاف کرنا غالباً ممکن نہیں۔ ارادہ و اختیار کی طاقت، تسخیر کائنات کا جذبہ، حقیقت تک پہنچنے کی آرزو،اخلاقی حس اور خیر و شر میں امتیاز، روحانی بلندیوں اور حقائق غیب کی تلاش نیز جذبہ عبادت و پرستش انسانی خصوصیات ہیں اور دوسری زمینی مخلوقات میں یہ صفات ہم کو نظر نہیں آتیں۔ آخر ان صفات کی توجیہ کیا ہے؟ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے یا انسان کو اس کا بندہ و نائب نہیں سمجھتے وہ ان صفات کی کوئی توجیہ نہیں کرسکتے۔ وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ اگر خدا موجود نہیں ہے تو انسان کے اندر اس کی طلب اور جستجو کیوں ہے؟ بقولِ شاعر               ؎

اگر کوئی شے نہیں ہے پنہاں تو کیوں سراپا تلاش ہوں میں؟

یہ درد میں دلکشی سی کیوں ہے، اگر وہ درد آشنا نہیں ہے

حقیقت یہ ہے کہ اس مادی اور طبعی کائنات میں انسانی صفات رکھنے والی انسان نامی مخلوق کا وجود خود اللہ کے وجود کی ایک واضح نشانی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا انکار کردیا جائے تو انسان کے وجود کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ شاعر نے یہی بات ان لفظوں میں کہی ہے         ؎

تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود

مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا

کامیابی کی تعریف

اب ہم اس سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ کامیابی کیا ہے؟ یقینا کامیابی کا وہی تصور درست ہوسکتا ہے جو انسان کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہو اور انسانی شخصیت کے تمام پہلوؤں کی رعایت کرتا ہو۔ اس کے ساتھ ہم اپنے دل کو ٹٹولیں تو وجدانی سطح پر ہر انسان اس بات سے آگاہ ہے کہ کامیابی کیا ہے؟ غور کیا جائے تو انسان کا دل دو باتوں کے حصول کو کامیابی قرار دیتا ہے:

۱ اطمینان قلب

۲  تکمیل ذات یا اپنی شخصیت کا مکمل ارتقا۔

بظاہر انسان مال، دولت، آسائش، اقتدار، عزت اور شہرت سب کا طلب گار ہے لیکن ان چیزوں کے ذریعہ جو اصل شے اس کی مقصود ہے وہ اطمینانِ قلب ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو یہ سب مادی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں لیکن اطمینان قلب اسے حاصل نہیں ہوتا۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ مادی وسائل اور سہولیات سے محروم شخص کا دل بالکل مطمئن ہوتا ہے اور اسے جمعیت خاطر حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح انسان دوسری چیز جو چاہتا ہے وہ اپنی ذات کی تکمیل اور اپنی شخصیت کا ارتقا ہے۔ علم کی طلب اور اس کا حصول، حقیقتوں کی جستجو اور ان کا انکشاف انسان کی ذات کی تکمیل ہی کے  کچھ پہلو ہیں۔ اخلاقی بلندیوں کا حصول بھی تکمیل ذات کا ایک حصہ ہے۔ تسخیر کائنات کا جذبہ بھی اسی تکمیل ذات کی خواہش کی علامت ہے۔ اپنے سے بالاتر ہستی خدائے واحد کی ذات سے وابستگی اور اس کی رضا کی طلب ،تکمیل ذات کے اس سفر کی معراج ہے۔

اب ہمیں اس راستے کی جستجو کرنی چاہیے، جو انسان کو کامیابی سے ہم کنار کرسکتا ہے یعنی اسے قلب کے اطمینان سے بہرہ ور کرسکتا ہے اور اس کی ذات کی تکمیل اور شخصیت کے ارتقا کا سامان فراہم کرسکتا ہے۔

اطمینان قلب کا حصول

اسلام انسان کے اس مطالبے کو پورا کرتا ہے یعنی اطمینان قلب اور تکمیلِ ذات کا سامان فراہم کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم پورے یقین کے ساتھ اسلام کو کامیابی کا راستہ قرار دے سکتے ہیں۔ اطمینان قلب کے حصول کے لیے اسلام کی رہنمائی یہ ہے:

۱ اسلام کی دَین یہ ہے کہ اسلام کائنات اور انسانی زندگی کے معمے کا حل انسان کو بتاتا ہے۔ مشہور روایت کے مطابق گوتم بدھ کے سامنے حیات انسانی کا معمہ اس سوال کی شکل میں سامنے آیا کہ “کائنات میں دکھ کیوں ہے اور انسان اس دکھ سے کس طرح نجات پاسکتا ہے؟‘‘ اس سوال کی وجہ ان کا یہ مشاہدہ تھا کہ کائنات میں دکھ ہی دکھ ہے۔ یہاں زندگی ہے مگر اس کا انجام موت ہے۔ یہاں سرسبزی وشادابی ہے مگر مرجھا جانے اور ختم ہوجانے کے لیے ہے۔ یہاں صحت و توانائی ہے مگر بیماری اور ضعف اس کے تعاقب میں ہیں۔ گوتم بدھ نے اس سوال کا یہ جواب تلاش کیا کہ دکھ کی وجہ  اِنسان کی خواہش ہے اور دکھ کا علاج خواہش کا خاتمہ ہے۔

اسلام کی نظر میں نہ یہ مشاہدہ درست ہے نہ اس کی توجیہ درست ہے اور نہ علاج درست ہے۔ اسلام کائنات کے معمے کے بارے میں انسان کو بتاتا ہے کہ یہ کائنات اللہ نے ایک منصوبے کے تحت بنائی ہے اور ا سکے بعد آخرت آنے والی ہے۔

ما خلقنا السموات والارض و مابینہما الا بالحق واجل مسمی۔  (الاحقاف: ۳)

“ہم نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور ایک متعین مدت کے لیے۔ مگر انکار کرنے والے اس حقیقت سے (یعنی آخرت سے) جس سے ان کو آگاہ کیا گیا ہے، منھ موڑ رہے ہیں۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت کی آمد کو نظر انداز کردیا جائے تو یہ دنیا انسان کو بے مقصد نظر آئے گی، اس میں بے انصافی، ظلم اور عدم توازن نظر آئے گا اور یہ دکھ، تکالیف اور مصائب کا مجموعہ معلوم ہوگی۔ لیکن جونہی اس حقیقت کا ادراک انسان کو ہوگا کہ یہ موجودہ دنیا محض پہلا مرحلہ ہے اور اصل مرحلہ وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے تو اس پورے خدائی منصوبے کی حکمت اس کی سمجھ میں آجائے گی اور کائنات کے معمے سے پریشان اور الجھنوں کا شکار انسان حقیقت پاکر مطمئن ہوجائے گا۔ اسلام جس معرفت سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے اس کو پاکر اطمینان قلب کی پہلی شرط پوری ہوجاتی ہے۔

۲ اطمینان قلب کے لیے دوسری ضرورت زندگی کی مشکلات میں ایک مضبوط سہارے کی ہے۔ اسلام یہ سہارا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کی شکل میں فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ نعم المولیٰ و نعم النصیر (الحج) ہے۔ یعنی ’’کیا ہی بہترین آقا (ولی و سرپرست) ہے اور کیا ہی بہترین مددگار ۔‘‘

اہلِ ایمان ایک طرف اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ اللہ ان کا حامی ومددگار ہے اور دوسری طرف وہ یہ جانتے ہیں کہ دنیا کی پوری زندگی آزمائش ہے۔ اس لیے یہاں کے مصائب و آلام سے گھبرانے کے بجائے ان کو آزمائش سمجھ کر ہر حال میں حق و صداقت پر قائم رہنا چاہیے۔ یہی صبر ہے جو اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے۔

۳ غیبی حقائق نظروں کے سامنے نہیں رہتے تو انسان بے اطمینانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ، اس کی صفات اور آخرت کو مسلسل یاد دلانے کے لیے اسلام نے اللہ کے ذکر کی تلقین کی ہے۔ اس ذکر کی اعلیٰ ترین شکل نماز ہے۔ اقم الصلوٰۃ لذکری۔ (میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔) نمازکے علاوہ ذکر کی دوسری شکلوں کی بھی اسلام تلقین کرتا ہے۔ دل اور زبان اللہ کی یاد کرتے رہیں تو انسان کو حقائق یاد رہتے ہیں محسوس دنیا کے حقائق بھی اور عالم غیب کے حقائق بھی۔ اس طرح وہ بے اطمینانی سے نجات پاتا ہے اور اطمینانِ قلب کی دولت پالیتا ہے۔

الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب۔

’’بے شک دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔‘‘

شخصیت کا ارتقاء

اسلام نے انسانی شخصیت کے ارتقاء اور انسان کی ذات کی تکمیل کا مکمل سامان فراہم کیا ہے۔ وہ ان تمام موانع کو دور کرتا ہے جو انسان کی ذات کی تکمیل میں رکاوٹ بنتے ہیں:

۱  وہ انسان کو بتاتا ہے کہ اگر وہ اللہ کو اپنا ولی و سرپرست بنالے تو وہ جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکل کر صداقت و حق کی روشنی میں آجائے گا اور اس کی ترقی کی راہ کا بنیادی روڑا دور ہوجائے گا:

اللّٰہ ولی الذین آمنوا یخرجہم من الظلمات الی النور۔ والذین کفروا اولیائہم الطاغوت یخرجونہم من النور الی الظلمات۔  (البقرہ)

’اللہ اہلِ ایمان کا سرپرست ہے۔ وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور انکار کرنے والوں کے سرپرست طاغوت ہیں۔ وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔‘‘

۲ اسلام انسان کو بہت سے آقاؤں کی بندگی سے نکال کر اسے ایک اللہ کی بندگی میں لاتا ہے۔ شرک کے پھندوں سے نکال کر توحید کی نعمت سے ہم کنار کرتا ہے اور اس طرح ارتقاء شخصیت کی راہ کا ایک اور بڑا روڑا دور ہوجاتا ہے۔ توحید کو اپنانے کے بعد انسانی شخصیت کو مختلف طاقتیں متفرق سمتوں میں نہیں کھینچتیں بلکہ انسان اللہ وحدہ لاشریک کے لیے یکسو ہوجاتا ہے اور اس کی ترقی کی راہ کھل جاتی ہے۔

۳ اسلام انسان کو دوسری مخلوقات کی بندگی سے نجات دلاتا ہے اور خود اسے اپنے نفس کی بندگی سے بھی آزاد کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ خواہشات نفس کی غلامی انسان کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام اس رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ خواہشِ نفس کی غلامی سے نجات کے لیے اسلام صرف تلقین پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ ذکرِ الٰہی اور عبادات کے وہ طریقے بھی تجویز کرتا ہے جو بتدریج انسان کوضبطِ نفس پر قادر بنادیتے ہیں۔

ان موانع کو دور کرنے کے ساتھ اسلام ایجابی طور پر وہ طریقے بتاتا ہے جن کو اپنا کر انسان اپنی ذات کی تکمیل کرسکتا ہے اور اپنی شخصیت کو مکمل ترقی دے سکتا ہے۔ اسلام کے تجویز کردہ یہ طریقے درج ذیل ہیں:

۱ رضائے الٰہی کا نصب العین: اس واضح نصب العین کو اپنانے کے بعد انسانی سرگرمیوں کو ایک محور اور مرکز مل جاتا ہے اور انسان کی سرگرمیاں منتشر رہنے کے بجائے منظم اور مرتکز ہوجاتی ہیں۔

۲  ارکان اسلام: اسلام کے ارکان بیک وقت غیبی حقائق کا شعور تازہ رکھتے ہیں اور انسان کو دوسرے صالح انسانوں کے ساتھ بھی جوڑتے ہیں تاکہ یہ سب ایک دوسری کی ترقی میں معاون بن سکیں۔

۳ انفاق فی سبیل اللہ: یہ عمل انسان کے دل کو پاک کرتا ہے اور انسانی شخصیت کو بلندیوں تک لے جانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

۴   آیاتِ الٰہی پر غور: انفس و آفاق میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں پر غور کرکے انسان اپنے ایمان و یقین کو گہرا، واضح اور مضبوط بناتا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں پر غور سے انسان بالآخر معرفت کی منزل تک پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے لیے غیبی حقائق کو یاد رکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

۵ علم کتاب و حکمت کا حصول: اسلام کے نزدیک انسان کی ذات کا ارتقاء متوازن ہونا چاہیے۔ اس لیے وہ اخلاقِ حسنہ اور روحانی پاکیزگی پر جتنا زور دیتا ہے اتنا ہی زور علم کے حصول اور حکمت کی تلاش پر بھی دیتا ہے۔

ہو الذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ۔ (الجمعۃ)

’’وہ اللہ ہے جس نے اُمیوں میں خود ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اوران کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ “

اس آیت میں انسانوں کی شخصیت کے ارتقاء کے لیے ضروری تمام اقدامات بتادیے گئے ہیں۔

۶ شریعتِ الٰہی کی پابندی: انسان کی شخصیت کے ارتقاء کے لیے اسلام تلقین کرتا ہے کہ انسان کو احکامِ الٰہی کی مکمل پابندی اختیار کرنی چاہیے۔ حدودِ الٰہی کے اندر زندگی گزارنے سے انسان ان تمام چیزوں سے بچ جاتا ہے جو اس کی ترقی کی راہ روک سکتی ہیں اور اس راستے پر اس کے قدم جمے رہتے ہیں جو ارتقاء اور تکمیل کی طرف جاتا ہے۔

انسانی ذات کی تکمیل اور شخصیت کے ارتقاء کے اس پروگرام کے لیے اسلام کا دیا ہوا جامع عنوان تزکیہ ہے۔ اسلام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جو لوگ بھی تزکیہ اختیار کریں گے وہ فلاح پائیں گے:

قد افلح من زکھا۔(الشمس)

’’بے شک وہ فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔‘‘

اسلام نے تزکیہ کے اپنے تجویز کردہ لائحۂ عمل میں ان امور کا تذکرہ نہیں کیا ہے جن کو انسان اپنی جبلت کی وجہ سے اختیار کرنے پر مجبور ہے مثلاً کائنات کو مسخر کرنے کی کوشش، ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لیے تگ و دو، لطف و تفریح کے سامان کی فراہمی وغیرہ۔ ان امور میں اسلام اس امر پر اعتماد کرتا ہے کہ انسان اپنی فطرت اور ضروریات سے مجبور ہوکر ان میدانوں میں پیش رفت کرے گا اور ان پہلوؤں سے بھی اس کی شخصیت کا ارتقاء ہوسکے گا۔ البتہ ان سارے امور میں وہ توازن و اعتدال اور زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی کماحقہ رعایت کی تعلیم دیتا ہے تاکہ زندگی کے یہ دیگر پہلو نظر انداز نہ ہونے پائیں۔ اسلام یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ ان سارے میدانوں میں پیش رفت کرتے ہوئے انسان ذکر الٰہی کا اہتمام کرے، اللہ کے شکر کے جذبے سے سرشار رہے اور اس کے حدود کی پابندی کرے۔

قرآنی رہنمائی

کامیابی کے راستے کا مثبت تعارف قرآن مجید نے اس طرح کرایا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَo الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکَاۃِ فَاعِلُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَo إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُومِیْنَo فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء  ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْعَادُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِأَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُونَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلَی صَلَوَاتِہِمْ یُحَافِظُونَo أُوْلَئِکَ ہُمُ الْوَارِثُونَo الَّذِیْنَ یَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُوْنَo  (المؤمنون:۱-۱۱)

’’بے شک فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، جو لغو کاموں اور باتوں سے دور رہتے ہیں، جوزکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوںکے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہیں کہ ان پر محفوظ  نہ ر کھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد وپیمان کی نگہداشت کرتے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ وارث ہیں، جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اسی طرح منفی  تعارف یوں کرایا گیا ہے:

وَالْعَصْرِoإِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍo إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ o  العصر

’’ زمانہ گواہ ہے کہ اِنسان خسارے میں ہے سوائے اُن لوگوں کے جوایمان لائے، جنہوں نے نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کوحق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی ۔‘‘

نومبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau