عورت کی طاقت

شیخ علی طنطاوی | ترجمہ: اکمل فلاحی

۶۰۷؍ہجری کی بات ہے۔عالم اسلام پرآشوب دور سے گزر رہا تھا۔ صلیبیوں کی شکل میں سخت افتاد آپڑی تھی۔ وہ فلسطین اور شام کے شہروں پر مصیبت بن کر ٹوٹ پڑے تھے۔ ان کی فوجیں نابلس،عکا اور دوسرے شہروں میں طاعون کی طرح پھیل گئی تھیں۔

حملہ آوروں کا طوفان دن بہ دن بڑھ رہاتھا۔تباہی کا ننگا ناچ جاری تھا، انسانی خون ارزاں ہوگیا تھا اور تہذیب وتمدن کے نقوش روندے جارہے تھے۔اہل شام اس سے مقابلہ کے لیے بار بار اٹھتے مگر اسےٹالنے کی طاقت نہیں رکھتے۔نوبت یہاں تک آگئی کہ سرزمین شام نوجوانوں سے خالی ہونے لگی۔صرف بوڑھے، بچے اور عورتیں نظر آتے یاایسےبزدل اور کم ہمت جنھوں نےفریضۂ جہاد کوفراموش کردیاتھا۔

’میسون‘کےچاروں بھائی جانےوالوں کے ساتھ جاچکےتھے۔وہ گھر میں تنہارہ گئی تھی۔اس کی جوانی، اس کے حسن وجمال اور اس کے بھائیوں کی یاد کے علاوہ اسے کوئی تسلی دینےوالا نہ تھا۔اس کا شہر دمشق اسے قید خانہ محسوس ہوتا تھا۔

میسون غمگین رہنے لگی تھی،وطن عزیز اورپیارے بھائیوں کی یادنےاس کےذہن کوپریشان کر رکھا تھا۔خدا جانےان کے ساتھ کون سا حادثہ پیش آیاہےاور وطن پر کیا کچھ گزرنے والا ہے۔ایک دن جب اسے راہ چلنےوالوں کی کچھ باتیں سنائی پڑیں تواسے یقین ہوگیا کہ خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہےاورتباہی بس قریب ہے۔اسے یقین ہوگیا کہ یہ صلیبی گھس پیٹھیے رات کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں فلسطین کے ساحل پرمسلسل تیزی سے آ رہےہیں۔جیسے ہی تاریکی چھاتی وہ فوج در فوج ساحل پراترجاتے، اور دشمن افواج میں شامل ہوجاتے۔ میسون اپنے شہر کے لوگوں کے بارے میں فکر مند رہنے لگی۔ اسے فکر تھی کہ وہ ان کے لیے کیا کرے۔ کیسےان لوگوں کی رگ وپے میں ایمان کی آگ بھڑکادے جوصبح وشام اپنے بازاروں اور کاروباروں کارخ کرتےہیں۔جوقدرت کی طرف سے ملی ہوئی آسائشوں اور آرائشوں سے خوب لطف اٹھاتے ہیں۔جنھیں جسمانی لذتیں اورتجارتی منافع ملک پر چھائےہوئےخطرے سے غافل کیے ہوئے ہیں۔وہ طویل زمانے سے عافیت کی زندگی گزارتے آئے۔وہ اسی حالت میں پلے بڑھے اوراسی سے مانوس تھے۔وہ آزادی اور عظمت کے دن بھول چکے تھے۔وہ بھول چکے تھے کہ یہ ملک ان کا ملک ہے۔وہ بھول چکے تھے کہ وہ جانباز فاتحین کی اولادہیں۔انھوں نے ان صلیبی گھس پیٹھیوں کےاقتدار کواٹل سمجھ لیا تھا۔ انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ ان پر تقدیر الٰہی کا فیصلہ تمام ہوچکا ہے۔اس لیےاب کوئی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ سعادت کے دن ختم ہوچکے۔اس لیے اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

وہ لڑکی ہوتے ہوئےان نفوس کو کیسے بیدار کرے جن پر گہری نیند طاری تھی؟ایسی نیند جوموت کا پیش خیمہ تھی۔وہ تاش کے بے جان پتوں کی مانند حرکت میں رہنے والےاشخاص کو کیسے سمجھائےکہ زندگی شکم سیری کانام نہیں ہے،زندگی شہوت رانی کا نام نہیں ہے،زندگی دولت کی فراوانی کا نام نہیں ہے۔بلکہ زندگی تو عظمت،تقوی اورکارہائےنمایاں کانام ہے۔وہ چاہتی تھی کہ لوگ وطن کا حق پہچان لیں،وہ جان لیں، ہر عرب اور ہرمسلمان جان لےکہ جب تک فلسطین میں ان صلیبی گھس پیٹھیوں میں سےایک بھی رہے گاتب تک حرام ہے کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سےلطف اندوز ہو، حرام ہےکہ کوئی مال دار اپنے مال سے دل بہلائے، حرام ہے کہ کوئی سونےوالامیٹھی نیند سوئے۔

وہ اسی فکر میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک دروازہ پر دستک کی آواز آئی۔ یہ اس کے چاروں بھائیوں کی شہادت کی خبر تھی۔میسون خبر سنتے ہی بے ہوش ہوگئی۔اس کے نازک حواس اور نرم دل اس خبر کی تاب نہ لاسکا،اب وہ بے جان اور نڈھال ہوگئی تھی۔لیکن یکایک اس کا ایمان اور اس کی جوانی دونوں بیدار ہوگئے، دونوں مصیبت کے گرد وغبار اورصبر کے کھنڈرات سےاٹھ کر انتقام کے لیے شیرنی کو جگانے لگے۔ انتقام کا جذبہ دوگنا ہوگیاتھا۔ ابھی تک تو وہ اپنے وطن کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔ مگراب تو اسے اپنے بھائیوں کا بدلہ بھی لینا تھا۔اس کے ایمان اور جوانی نے اس کے اعصاب میں بارود بھر دیا تھا جس طرح توپوں کے اندر بھرا جاتا ہے۔پھر اسے اس سوئی ہوئی قوم میں بھیج دیا تاکہ اس کے کانوں کو گرج دار آواز سے جھنجھوڑے تاکہ اب ہوش میں آجائے یا پھر ابدی نیند سوجائے۔

میسون نے محسوس کیا کہ اس کی رگ وپےمیں ایسی طاقت ہے جو دمشق کو جھنجھوڑ کررکھ دے گی، اس کےگلے میں ایسی آواز ہے جو مُردوں کوجگادے گی، اس کے دل میں ایسا حوصلہ ہے جوکبھی پست نہیں ہوسکتا،ایساسہارا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا، ایسی طاقت ہے جوفوجوں کو شکست دے دے گی اور قلعوں کو چورچور کرکے رکھ دے گی۔یہی ایمان کی طاقت ہے کہ اگر کسی عورت کے دل میں اتر جائے تو اسے ایسا مرد آہن بنادے جوکبھی مغلوب نہیں ہوسکتا، ایمان کا معاملہ کتنا عجیب وغریب ہے!

اب میسون نے اپنا میدانِ عمل تلاش کرنے کاتہیہ کرلیا۔اس نے اپنے آس پاس زمین میں دیکھا مگر اسے نہ کوئی اپناقریبی ملا اور نہ کوئی رشتہ دار ملاتو اس نے زمین سے امیدوں کا رشتہ توڑ لیااور انھیں آسمان سے جوڑ دیا،تب اس نے محسوس کیا کہ اسے ایک ایسی الٰہی طاقت کی تائید حاصل ہے جس نے لوگوں کے بالمقابل اسے چن لیا ہے تاکہ وہ (خوبرو اورنازک لڑکی ہوتے ہوئے بھی) ان مردوں کو سکھائے کہ مردانگی کس طرح اپنا لوہا منواتی ہے!

اسےپتہ نہیں تھا کہ کام شروع کہاں سےکرے،اس لیےوہ سوچنے لگی اورریشم کی طرح چمکتے اور لٹکتے بالوں پراپنا ہاتھ پھیرنےلگی، تب اندھیرے میں بجلی کےچمکنے کی طرح اسےایک خیال سوجھا، روشن خیال۔ یہی اس کا ہتھیار تھا،اس نے سوچ لیا کہ وہ ان نرم وملائم بالوں کی رسی بناکر مردوں کواس سے باندھ دے گی اور پھر انھیں کھینچ کرمیدان کارزار کی طرف لے جائے گی۔ یقیناً وہ ان کم زور بالوں سے ایسی طاقت پیدا کرے گی جو طاقت والوں کو سبق سکھادے۔

پھر وہ گئی اور اپنی ان پڑوسن سہیلیوں کو آواز دی، جو اس کی سنتی تھیں، اور اس کا ساتھ دیتی تھیں،اس نے اپنے بھائیوں کی شہادت کی خبر دی،توانھوں نےسمجھا کہ اس نے انھیں اپنا غم ہلکا کرنے اور تسلی لینے کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن وہ تو کچھ اور کہہ رہی تھی، اور کہتے ہوئے بلند سے بلند تر ہوتی جارہی تھی، یہاں تک کہ وہ قربانی اوربے نفسی کی بلندی تک پہنچ گئی اوراپنے ساتھ انھیں بھی اس بلندی تک پہنچادیااور جب ان کی طرف سے پورا اطمینان حاصل ہوگیا تواس نے کہا:بلاشبہ ہم مرد بناکر نہیں پیداکیے گئے ہیں کہ تلوار اٹھا سکیں اور فوج کی قیادت کرسکیں، لیکن جب مرد بزدلی کا شکار ہوجائیں توہم جد وجہدکرنے سے ہرگز عاجز وقاصرنہیں رہیں گے،یہ میرے بال جومیرے نزدیک بہت قیمتی ہیں، میں ان سےدست بردار ہوتی ہوں، میں ان سےراہ خدا میں جہاد کرنے والے گھوڑوں کی رسی بناؤں گی، تاکہ ان زندہ لاشوں کو حرکت میں لاسکوں۔پھر اس نے قینچی لی اور اپنے بال کاٹ ڈالے، اس کی دیکھا دیکھی سب لڑکیوں نے اپنے بال کاٹ لیے،اوران لڑکیوں نے انھیں خوب اچھی طرح تیار کیا،پھرجنگی گھوڑوں کے لیےان بالوں کی چوٹی گوندھ کرلگام اوررسیاں بنانے کے لیے بیٹھ گئیں،اس طرح کی چوٹیاں وہ نہ رخصتی کے دن بناتیں اور نہ شادی کی رات۔

پھر انھوں نے ان رسیوں اور لگاموں کو دمشق کی جامع مسجد(جامع اموی) کے امام ’سبط ابن الجوزی‘(امام ابن الجوزی کے نواسے) کو بھجوادیا،وہ انھیں لے کر جمعہ کے دن جامع مسجد پہنچ گئے اور منبر کے پاس جاکر بیٹھ گئے،ان کی بے تابی قابل دید تھی، جوش وولولہ نے انھیں جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا، انھیں ایک پل قرار نہیں آرہا تھا،ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا تھا،پھر جیسے ہی وقت ہواوہ تیزی سے لپکے اور منبر پر بیٹھ گئے،یہ لگامیں اوررسیاں ان کے ساتھ تھیں،ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا رہی تھیں اوران کے چہرے کا رنگ جوش سے سرخ ہورہاتھا،لوگ ایک طرف یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے اور دوسری طرف حیرانی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے،جب اذان ختم ہوئی تو وہ کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کی۔

انھوں نے ایسا خطبہ دیا جس کا لفظ لفظ ایک شعلہ تھا،جو سننے والوں کے تن بدن میں آگ لگا رہا تھا،جس کےہر ہر جملے میں بے پناہ سحر آفرینی تھی وہ ایسا روحانی خطاب تھا جو روح کی گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا،جس کے الفاظ معانی کے ترجمان بنے ہوئے تھے،پھر یہ معانی ایمان،قربانی اور جاں بازی کے جذبوں میں تبدیل ہوتے جارہے تھے، یہ تقریر بلاغت کا ایسا عظیم معجزہ تھی جس کا ذکرہرزمانے میں محدثین کی زبان پر ضرورآئےگا اوراہل قلم اسے لکھتے رہیں گے، یہ کوئی کرامت ہی تھی، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ (مردہ)الفاظ کو زندہ وجاوید بنادیتاہے،جس میں روحوں کو کھینچ لینے والی روح، اعصاب کو جکڑ لینے والا ہاتھ اورنگاہوں کا ادراک کرلینے والی آنکھیں ہوتی ہیں، لوگوں نے خطبےکے کچھ جملوں کومحفوظ رکھا اور انھیں دوسروں تک منتقل کیا:

اے لوگو!تمھیں کیا ہوگیا ہے؟تم نےاپنے دین کو کیوں فراموش کردیا؟تم اپنی عزت وحمیت کوکیوں چھوڑ دیا؟تم نے اللہ کے انصاربننے سے کیوں بھاگنے لگے؟تمہاری بزدلی اور کم ہمتی کی وجہ سے اللہ نے اپنی مدد کا ہاتھ تم سے کھینچ لیا، تم یہ کیوں سمجھ بیٹھے کہ طاقت وغلبہ مشرکوں کا حق ہے جبکہ اللہ نے عزت وسربلندی کواپنے لیے،اپنے رسول کے لیے اور مومنوں کےلیے خاص کیا ہے؟

اے لوگو! تباہی ہے تمھارے لیے۔کیا تمھیں تکلیف نہیں ہوتی، کیا تمھارے دل پاش پاش نہیں ہوجاتے یہ دیکھ کر کہ اللہ کے اور تمھارے دشمن اس سرزمین پر دندناتےپھر رہے ہیں جسے تمھارے آبا نے اپنے لہو سےسینچا ہے،وہ تمھیں ذلیل وخوار کررہے ہیں، وہ تمھیں اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں حالانکہ تم دنیا کے امام تھے؟

کیا تمھارےدلوں کو جھنجھوڑنے اور تمھیں جوش دلانے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تمھارے بھائیوں کو دشمنوں نے گھیر لیا ہے اور طرح طرح سے انھیں ذلیل کیا ہے؟

کیسےتم کھا پی رہے ہو،کیسے تم داد عیش دے رہےہو حالانکہ تمھارے بھائی اس وقت آگ کے شعلوں میں جھلس رہے ہیں،اورانگاروں پر لوٹ رہے ہیں؟

اے لوگو!جنگ چھڑ گئی ہے، جہاد کےلیے منادی نے ندا لگادی ہے،آسمان کے دروازے کھل چکے ہیں،اب اگر تم جنگی شہسواروں میں شامل نہیں ہوئےتو معرکہ آرائی کی خاطرعورتوں کے لیے راستہ چھوڑدو اور تم غازہ اور کاجل لگاکر، چوڑیاں پہن کرگھر بیٹھ جاؤ!پگڑیاں باندھ کر اور داڑھیاں رکھ کر بھی تم سب عورت ہو!اگر نہیں تو پھر گھوڑوں کا رخ کرو۔

لوگو! کیاتمھیں معلوم ہے کہ یہ لگام اور یہ رسیاں کس چیز سے بنائی گئی ہیں؟

انھیں عورتوں نے اپنے بالوں سے بنایا ہے، کیونکہ ان کے پاس ان بالوں کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے وہ فلسطین کی مدد کرسکیں۔

خدا کی قسم یہ ان پردہ نشیں خواتین کے بالوں کی چوٹیاں ہیں جن پر ان کی عفت وپاک دامنی کی وجہ سے سورج کی پرچھائیں بھی نہیں پڑی ہے، انھوں نے اپنی چوٹیاں کاٹ ڈالی ہیں کیونکہ محبت کی تاریخ ختم ہوچکی ہے اور مقدس جنگ کی تاریخ شروع ہوگئی ہے،اللہ کی راہ میں،وطن کے راستے میں اور عزت وناموس کی خاطر لڑی جانے والی جنگ۔تو اگر تم ان چوٹیوں سے بنی لگام کے ذریعے گھڑسواری کی طاقت نہیں رکھتے تو انھیں لے جاؤ اوراپنےلیے گیسو اور چوٹی بنالو۔۔۔یہ عورتوں کے بالوں سے بنائی گئی ہیں،توکیاتمھارے اندر ذرا بھی احساس باقی نہیں ہے!

پھرامام صاحب نےان رسیوں اور لگاموںکو سامعین کی طرف اچھا ل دیا اور زور دار آواز میں کہا:اے گنبد نسر پھٹ جا، اے مسجد کے ستونوں جھک جاؤ، اے پتھرو گرجاؤ،کیونکہ مرداپنی مردانگی کھوچکے ہیں!یہ سنتے ہی لوگوں نے ایسا آوازہ بلند کیا کہ ویسی آواز کبھی سنی نہ گئی تھی۔اور پھرموت کی تمنا لیے میدان کارزارکی جانب دوڑ پڑے۔

زندگی کوجب اس طرح کےدل نصیب ہوئے تو زندگی ایمانی غیرت وحمیت اورجوشِ عزت وشرف سے ہم کنار ہوگئی، آباء واجداد کی میراث کونئی زندگی ملی، دمشق کے شہسوار راہ جہاد میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے لگےاور نابلس کونصرت وتائید ملنے لگی،وہی نابلس جو ہمیشہ سےفتح وکامرانی کا سورج بن کرطلوع ہوتا رہا،وہی نابلس جو فلسطین کا دمشق ہے، صلیبی گھس پیٹھیوں پران شیروں نےحملہ کیا اور انھیں کھدیڑ کر بھگا دیا یہاں تک کہ انھوں نے بھاگ کر عکہ میں جاکر پناہ لی،پھروہاں بھی ان کا محاصرہ کیایہاں تک کہ وہ سرنگوں ہوگئے اور انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔اور اس طرح دنیا نے دیکھ لیا کہ محمدﷺ کے پیرو کاروں میں جب تک کوئی ایسا مرد اور کوئی ایسی عورت رہے گی جس کے سینے میں ایمان کی شمع روشن ہو، اور غیرت ایمانی کی انگیٹھی دہکتی ہو، وہ نہ ذلیل وخوار ہوسکتے ہیں اور نہ انھیں غلام بنایا جاسکتا ہے۔

 

مارچ 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau