اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خواتین کے حقوق

ثنا ناز

اسلام نے خواتین کے جان و مال عزت و آبرو کی نگہداشت اور تحفظ و احترام کے لئے جو احکام صادر فرمائے اس  حیثیت سے وہ نوع انسانی کی نسل کا ایک بنیادی پتھر ہے،اور شعبہ زندگی کے حقوق سے خواتین کو نوازتے ہوئے اس کی اصلاح حال،تہذیب و اخلاق،عفت  و پاک دامن،حسن معاشرت کے اصول و ضوابط مقرر کئے ہیں،اور خواتین کو وہ حقوق دیئے جن کا تصور بھی دوسری اقوام میں نہیں ملتا، لہٰذااس کی نظیر دنیا ئے انسانی پیش کرنے سے عاجز ہے۔

لیکن اسلام نے خواتین کو جو بلندی رفعت و عزت عطا فرمائی اس کو جو حقوق دئیے ،آخر  خواتین کے حقوق کیا ہیں؟ اس بات کا فیصلہ ان مسلمان معاشروں کو دیکھ کر کیا جائے گا بلکہ شریعت اسلامی کے حقیقی مصادر سے رہنمائی  حاصل کی جائے گی۔آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے جب انسانی سماج پر اپنا احسان عظیم فرمایا تو خواتین کو ظلم بے حیائی،رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا،اور انہیں تحفظ بخشا،اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں ،تو ہرعہد کی  خواتین کسی نہ کسی  مصیبت  و حالات سے دو چار رہی ہیں اور کیسی کیسی پستیو ں میں پھینک  دی گئی ہیں حتی کہ اہل عرب  خواتین کو موجب عار سمجھتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے،قرآن کریم نے اس کی شقاوت اور سنگ دلی پر سخت تہدید کی ہے،اور انھیں تحفظ بخشا ان کے حقوق کو اجاگر کیا،ماں،بہن،بیٹی ،بیوی  اور ان کے حقوق بتائے یہ حقوق اسلام نے خواتین کو اس لئے نہیں دئیے کہ خواتین اسکا مطالبہ کر رہی تھیں بلکہ یہ ان کے فطری  حقوق تھے جو دئیے جانا لازمی تھے۔

خواتین کے حقوق کی تقسیم اس طرح ہے۔

1۔ـ اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت بیٹی

2ـ -اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت بیوی

3ـ -اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت ماں

4- اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت بہن

اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت بیٹی ـ سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اسلام نے بیٹی کو اس کی جان کی حفاظت کا حکم دیا، اور ان کو قتل کرنے کی قبیح روایت کا خاتمہ کیا ہے،چوں کی اسلام سے پہلے عربوں میں بے چاری لڑکی کو باعث ننگ وعار تصور کیا جاتا تھا کہ اس کو زندہ رہنے دیا جائے،بہت سے سخت دل باپ اپنی بچی کا گلا گھونٹ کر اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیتے تھے ،ان کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے۔

وَاِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُىِٕلَت۝ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ۝   1؎

’’ـ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائیے گا کہ  وہ کس قصور میں ماری گئی ہے‘‘۔

بیٹی کو زندہ درگور کر دینے والے سنگدل باپ سے  اللہ تعالی  اس قدر خفا وناراض ہوگا کہ اس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرے گا۔آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے،اور ان کے پیدا ہونے کے بعد گھر میں افسردگی اور  رنج وغم  کا ماحول ہو جاتا ہے،اسلام نے آکر اس مکروہ اور ظالمانہ رسم کا خاتمہ کیا،اسلام نے بیٹوں کی تعلیم و تربیت اچھے طریقے سے کرنے کا حکم دیا۔

دوسرا حق اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے۔

حدیث نبوی ہے:

من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا ، وضم أصابعه 2؎

ِترجمہ :’’جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی وہ  اور  میں قیامت کے روز اس طرح ہوں گے یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا یا‘‘۔

تیسرا حق یہ ہے کہ بالغ ہوتے ہی ان کی شادی کر دی جائے  تاکہ وہ پاکیزہ معاشرتی زندگی گزارنے کے لائق ہو جائے۔

قرآن میں ہے:

اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ 3؎

ترجمہـ’’ میری اولاد میں میرے نیک بخت وارث اٹھا‘‘۔

اسلام میں عورت کے حقوق بحیثیت بیویـ اسلام نے عورت کو  بحیثیت بیوی کئی حقوق دئیے  ہیں،اور شوہر پر اس کی ادائیگی ضروری قرار دی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر  فرمایا’’ لوگوں عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرنا تمہاری زیر نگیں ہیں،تم نے ان کو اللہ کے عہد پر اپنی رفاقت میں لیا ہے،تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جس کا آنا گوارا نہ ہو،اگر ایسا کریں تو تم ا ن کو ہلکی مار مار سکتے ہو،اور تم پر ان کو کھانا کھلانا اور پلانا فرض ہے‘‘۔

عورتوں سے حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے،اسلام میں عورت کا تصور خاندان  کی تشکیل دینے والی شخصیت کا ہے بیوی کی حیثیت سے وہ مکان کو گھر بناتی ہے اسلام نے عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد و عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا،انسان کے دل و دماغ میں عورت کا جو مقام و مرتبہ اور وقار ہے،اس کو متعین کیا،اور اسکے سماجی معاشی اور معاشرتی حقوق کا فرض ادا کیا۔

قرآن میں ارشاد ہے۔

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا   4؎

ترجمہ’’ـ اللہ نے تمہیں  ایک انسان حضرت آدمؑ سے پیدا کیا،اور اس سے اس کی بیوی کو بنایا‘‘۔

بیوی کے کچھ حقوق متعین کیے جو درج ذیل ہیں

1۔حسن معاشرت2۔معاشی تحفظ3۔عدل وانصاف4۔تفریح و دل بستگی کے جائز مواقع فراہم کرنا

حسن معاشرت

نکاح میاں بیوی کے درمیان عہد ہوتا ہے۔کہ وہ احکام اِلٰہی کے تحت خوش گوار ازدواجی تعلق رکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا۔

خیرکم خیرکم لاھلہ وانا  لاھلی   5؎

ترجمہ’’ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ثابت ہو اور خود میں اپنے اہل و عیال کے لئے تم میں سب سے بہتر ہوں‘‘۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مردوں کو بیویوں کے حق میں سراپا محبت و مشفق ہونا چائیے  اور ہر جائز امور میں ان کی ضروریات کو مد نظر رکھنا اور اسکو حد درجہ پورا کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ۔

معاشی تحفظ

گھر کا کام  چلانے کے لئے سرمایہ کا بندوبست مرد کی ذمہ داری  ہے، عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گھر کا بندوبست کرے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حق یہ ہے کہ جب کھانا کھائے توکھلائے تو جب پہنے تو پہنائے اس کے چہرے پر نہ مارے اس کے لئے بد دعا کے الفاظ نہ نکالے اور اس سے ترک تعلق کرے تو صرف گھر میں کرے۔

عدل و مساوات

عدل انسان کا بنیادی تقاضہ ہے اسے ازدواجی   تعلقات میں جاری ر کھنا  چاہیے  عورت کا حق یہ ہے کہ مرد کے ساتھ  اسے مکمل مساوات رکھے اور مرد کو بھی چاہیے کہ بیوی کے ساتھ تمام امور معاشرت میں  عدل اورمساوات  جاری رکھے۔

تفریح و دل بستگی

ازدواجی زندگی کو استوارکرنے کے لئے اور خانگی زندگی پر مسرت بنانے کے لئے یہ بات بھی ناگزیر ہے کہ شوہر بیوی کے لئے تفریح کا مناسب سامان بھی فراہم کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازدواج کی دل جوئی کے علاوہ ان کے ساتھ گھریلو کام کاج میں بھی تعاون کرتے تھے پیوند خود لگاتے ،بکری  کا دودھ خود دوہتے تھے اور ایک ہی برتن میں خادم کے ساتھ کھانا کھانے میں کبھی تکلف نہ کرتے تھے،اپنے گھر کی ضروریات کو دوسروں کی ضروریات پر ترجیح دیتے ، اگرچہ خود کتنی ہی تکلیف برداشت کرنا پڑے،لہذا یہ  ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا عملی نمونہ ۔

ماں کا حق

اسلام میں عورتوں کے حقوق بحیثیت ماں۔اسلام میں ماں کو اتنا عالی مقام و مرتبہ اور با عزت درجہ عطا کیا گیا ،کہ بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ حق اسی کا رکھا گیا ہے۔

پیدائش انسانی کا  مقصد والدین کی اطاعت فرمانبرداری،حسن سلوک،خبرگیری و خدمت کو قرار دیا گیا ہے۔والدین کے ساتھ بھلائی کرنا یہ ہے ان کی زندگی میں ان کی جان و مال سے خدمت اور دل سے تعظیم و محبت کرے،مرنے کے بعد انکے لئے دعائے استغفار کرے اور ان کے ملنے والوں کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آئے۔

بعض احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا حق باپ سے بھی زیادہ ہے۔

قال رجل یا رسول اللہ من احق بحسن صحابتی  قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من ابوک  6 ؎

ترجمہ۔’’ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حسن سلوک احسان اور خدمت گزاری کا میرے لئے سب سے زیادہ مستحق کون ہیں۔فرمایا تیری ماں اس شخص نے کہا پھر کون فرمایا  تیری ماں اس شخص نے کہا  پھر کون فرمایا تیری ماں اس شخص نے کہا پھر کون فرمایا تیرا باپ‘‘۔

ماں چونکہ مصیبت و مشقت زیادہ برداشت کرتی ہے،عقل کا تقاضہ بھی یہی  تھا کہ ماں کا حق باپ سے زیادہ ہو ماں کے حقوق یہ ہیں کہ اس کے ساتھ ہمیشہ عاجزی  و انکساری سے پیش آئیں جیسے خطاکار غلام اپنے آقا کے ساتھ آتا ہے جب تک وہ زندہ رہیں اس کی خدمت کرتا رہے ،اس کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے نان ونفقہ کا خیال رکھے اسکی طرف نظر کرے تو محبت و شفقت کی نظر کرے۔

لہٰذا ماں کی خدمت دخول جنت کا موجب بنایا  گیا ہے، ماں کی محبت میں توازن قائم رکھنا کامیابی  کی پہلی سیڑھی ہے،ماں کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایا بھی سمجھے، اور اپنے لئے اس کار خیر کو سعادت بھی،اسی احساس اور جزبے سے اس حق کو ادا کرنے کی کوئی صورت پیدا ہو سکتی ہے جو ماں کے تعلق سے اولاد کے ذمہ  ہے۔

اسلام میں عورت بحیثیت بہن۔ اسلام نے عورت کو  بحیثیت بہن  نہایت محترم قرار دیا ۔

قرآن میں ارشاد ہے۔

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ7؎

ترجمہ۔’’مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘‘۔

جس طرح بیٹی کے حقوق باپ کے ذمہ ہیں، اور باپ کے بعد بھائی پر ذمہ داری  ہے،اس طرح  اگر بہن محتاج ہو اس کے پاس رہنے کا مکان بھی ہو،اور بھائی صاحب حیثیت ہو تو شرعا اس بہن کے نان و نفقہ کے لئے بھائی  پر جبر کیا جائیگا او رجبرا نان و نفقہ وصول کیا جائے گا،بعض جزئیات سے معلوم ہوتا ہے  کہ بڑی بہن کا درجہ مثل ماں کے ہوتا ہے اسی طرح اس کا ادب و احترام کرے اور چھوٹی بہن سے مثل بیٹی کے شفقت و رحمت سے پیش آئے۔

اگر خواتین اسلامی حدود کے اندر رہ کر صرف اپنے جائز اور واجبی حقوق کا مطالبہ کرے اور اس پر عمل پیرا ہو جائے تو نہ یہ کہ اسکو ترقی و عروج عزت و رفعت حاصل  ہو بلکہ دوسری  عورتیں اس سے روشنی حاصل کریں اور اس کے افعال اور طریقوں کو اپنے  لئے مشعل راہ بنائے۔

موجودہ زمانے میں خواتین کی ذمہ داریوں میں اضافہ  ہوا ہے، اگر وہ چاہتی ہیں کہ دنیا میں عزت و راحت کی زندگی بسر کریں تو ان کو لازم ہے کہ اپنے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں اسکی تعلیم پر عمل پیرا ہوں دینی تعلیم کے اصول پر زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول کریں اولاد کی تربیت ایسے طریقہ پر کریں کہ اس کا مزاج اسلامی اصول و تعلیم سے بیگانہ نہ ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر مشرق  علامہ اقبال نے کہا ہے کہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

حوالے و حواشی

1؎ سورۃ التکویر آیت8:9

2؎ صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ، باب فضل الاحسان الی البنات،جلد دوم،ص 330،مکتبہ اشرفیہ دیوبند

3؎ (سورۃ الاحقاف آیت: 15)

4؎ سورۃ النساء  آیت :1

5؎ سنن ترمذی کتاب المناقب:باب  فی فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم،جز 5،حدیث:3895

6 ؎   صحیح بخاری ،کتاب  الادب،باب:من احق الناس بحسن الصحبۃ ،جلد ثانی،ص:883،مکتبہ اشرفیہ دیوبند

7؎  سورۃ التوبۃ آیت:71

دسمبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau