نماز ہی نہیں، ہر عبادت انسان کو بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔
روزہ ہی نہیں، ہر عبادت ڈھال ہے اور بندہ مومن کی حفاظت کرتی ہے۔
زکوٰۃ ہی نہیں، ہر عبادت نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔
حج ہی نہیں، ہر عبادت جہاد ہے جس میں انسان نفس کے ساتھ مجاہدہ کرتا ہے۔
شرم ناک فائلیں
اس وقت عالمی سطح پر کچھ شرم ناک قسم کی فائلوں کا چرچا ہے۔ ان فائلوں کی تفصیلات کا حاصل یہ ہے کہ اس وقت دنیائے انسانیت بے حیائی کے تباہ کن طوفانوں کے خوف ناک گھیرے میں ہے۔
ان فائلوں نے انسانیت کے مستقبل کے سلسلے میں گمبھیر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ خدائے ذوالجلال کے قانونِ فطرت اور قانونِ شریعت دونوں ہی سے بغاوت کرکے انسان شرم و حیا کی تمام حدوں کو توڑ چکا ہے اور ہر قسم کے حفاظتی انتظام سے محروم ہوگیا ہے۔
شرم ناک فائلوں میں اونچے اونچے مناصب اور اسٹیٹس والوں کے نام یہ بتاتے ہیں کہ جب انسان پستی کے کھڈ میں گرنا شروع کرتا ہے تو اس کی گراوٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ پھر شرم و حیا اور قلب و ضمیر کی بات تو دور ہے، اسے نہ اپنے منصب کا لحاظ رہتا ہے اور نہ اپنی نام وری کا۔
حفاظتی حصاروں کی ضرورت
اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بے حیائی کے ان طوفانوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی حصاروں کا اختیار کرنا ضروری ہے۔
سب سے مضبوط حصار تو اللہ پر ایمان ہے۔ جو اس حصار سے محروم ہوتا ہے وہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں رہتا ہے۔ اس کی مثال اللہ تعالی نے اس طرح بیان کی ہے:
حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ [الحج: 32]
(یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے)
ایمان لانے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے اہلِ ایمان کو بہت سے حفاظتی حصارعطا کیے جاتے ہیں۔ ان حفاظتی حصاروں میں ایک اہم حصار اسلامی عبادتوں کا بے مثال مجموعہ ہے۔ جو شخص عبادتوں کے سائے میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیتا ہے وہ اپنے لیے بہت مضبوط پناہ گاہ حاصل کرلیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہاں عبادت سے مراد شعور و شوق سے بھرپور عبادت ہے۔ بے شعوری اور بے دلی سے ادا کی جانے والی عبادتوں میں یقینًا وہ اثر نہیں ہوتا ہے جو شعور کی موجودگی اور دل کی حضوری کے ساتھ ادا کرنے میں ہوتا ہے۔
اس مضمون میں عبادتوں کے اس خاص پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اصلاح و تربیت کی کوششوں میں عبادت کے اس پہلو پر توجہ دی جائے گی۔
عبادت: خدائے پاک کی جلوہ گاہ ہے
انسان بے حیائی کے راستے پر اسی وقت بڑھتا ہے جب اس کے دل و دماغ پر اس کی خواہش نفس سوار ہوجاتی ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب دل و دماغ میں خدا کا خیال کم زور پڑجاتا ہے۔ دورِ جدید کے انسان کی سب سے بڑی بیماری خدا سے غفلت ہے۔ اس غفلت کے ہوتے ہوئے خواہشاتِ نفس کا غلبہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہاں عبادتوں کا کردار واضح ہوکر سامنے آتا ہے۔ عبادتیں انسان کے دل و دماغ میں خدا کا خیال جاگزیں کرتی ہیں۔ نماز کی حالت میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے کی کیفیت، روزے میں اس احساس کے ساتھ بھوکے پیاسے رہنا کہ اللہ دیکھ رہا ہے، صدقہ و زکٰوۃ میں مال نکالتے وقت بس یہ خیال کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ تو دیکھ رہا ہے اور بس اسی کی رضا مقصود ہے۔ حج کا پورا سفر اللہ کے خیال میں ڈوب کر کرنا۔ لبیک اللھم لبیک “حاضر ہوں میرے مرکزِ محبت، میرے معبود، میں حاضر ہوں” کے جذبات سے بھرپور ترانے۔ غرض ہر عبادت انسان کو اللہ کے خیال میں غرق کردینے والی ہوتی ہے۔
انسان کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کا خیال ہے۔ اس خیال کے ہوتے ہوئے تمام خواہشات قابومیں رہتیں اور اپنی حد سے آگے نہیں بڑھتی ہیں۔ خدا کا خیال ہی تقوی ہے۔ عبادتوں سے تقوی کی کیفیت طاقت ور ہوتی جاتی ہے۔
يَاأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ[البقرة: 21]
(اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔)
عبادت: بلندی کا سفر ہے
عبادتیں انسان کو بلندی عطا کرتی ہیں۔ بلندی کے سفر کا ذوق حاصل ہونے کے بعد پستی سے از خود نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔
عبادت کے دوران انسان معراج کا لطف اٹھاتا ہے۔ وہ دنیا کی ساری پستیوں سے اوپر اٹھ کر ملأ اعلی کی بلندیوں میں سیر کرتا ہے۔
ان بلند فضاؤں میں پرواز کرنے کے بعد یکایک کسی کھڈ میں جاگرنا اس کے لیے سوہانِ روح ہوتا ہے۔
بلندیوں کا مسافر پستیوں سے شدید نفرت رکھتا ہے۔
جسے اللہ کے ذکر میں لطف حاصل ہونے لگے وہ بے حیائی کی باتیں کرنا تو دور کی بات ہے، سننا بھی کیسے پسند کرسکتا ہے؟؟
جسے اللہ سے ملاقات کی لذت حاصل ہوجائے وہ گندگی کی محفلوں میں رہنا کیسے گوارا کرسکتا ہے؟؟
جسے اللہ کے ساتھ خلوت کا تجربہ ہوجائے وہ شیطانی خلوتوں کو کیسے قبول کرسکتا ہے؟؟
عبادت: پاکیزہ ماحول دیتی ہے
تربیت کا یہ آفاقی اصول ہے کہ برائیوں کی عادت میں گرفتار انسان کو اگر پاکیزہ ماحول فراہم ہوجائے تو اس کی اصلاح کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکیزہ ماحول کا ایک مطلب یہ ہے کہ انسان ایسے لوگوں کے درمیان رہے جو پاکیزگی پسند ہوں اور پاکیزہ ماحول کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کو پاکیزہ ذہنی کیفیت میسر آجائے۔
ہر عبادت انسان کو ایک پاکیزہ ذہنی کیفیت عطا کرتی ہے۔ نماز میں انسان پوری دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے حضور کھڑا ہوجاتا ہے۔ مسجد کی چہار دیواری میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی تمام آلائشوں کو باہر چھوڑ کر انسان ایک پاکیزہ فضا میں آگیا ہے۔ مسجد کے باہر بھی جہاں کہیں انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، گویا اسے پاکیزگی کا ایک ہالہ گھیرے میں لے لیتا ہے۔ روزے میں انسان پاکیزگی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ رمضان کا پورا مہینہ انسان کو پاکیزگی کے شب و روز مہیا کرتا ہے۔ حج کا سفر پورا کا پورا پاکیزگی کے ماحول میں طے ہوتا ہے۔ صدقہ و زکوٰۃ سے انسان کو دل کی پاکیزگی کا لطیف احساس حاصل ہوتا ہے۔ غرض عبادتیں انسان کو پاکیزہ کیفیت، پاکیزہ ماحول اور پاکیزہ مقام سے ہم کنار کرتی ہیں۔
یہ رب کریم کی رحمت ہے کہ عبادتوں کے دوران انسان کو گندے ماحول سے نکلنے اور پاکیزہ ماحول میں سانس لینے کا نہایت خوش گوار احساس حاصل ہوتا ہے۔
عبادت کی کیفیت برائیوں سے توبہ کے لیے بہترین فضا تیار کرتی ہے۔ بے حیائی کے نشے میں مدہوش انسان کو ہوش میں لانے کے لیے عبادتیں بہت پر اثر ہوتی ہیں۔
عبادت: قوت مزاحمت بڑھاتی ہے
نماز، روزہ، صدقہ و زکوٰۃ اور حج، غرض ہر عبادت نفس کے خلاف اعلان جنگ ہوتی ہے۔ ہر عبادت کی ادائیگی کے وقت انسان شیطان کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ یہ عبادتیں جتنی زیادہ توجہ (انابت) اور دل کے جھکاؤ (خشوع) کے ساتھ کی جائیں اتنی ہی زیادہ انسان کی ایمانی قوت کو مضبوط کرتی ہیں۔
اسلام میں عبادتوں کا نظام ایسا ہے کہ وہ ہر طرح سے قوت مزاحمت میں اضافہ کرتی ہیں۔ نماز سے الگ طرح کی قوت بڑھتی ہے تو روزے سے الگ اور صدقہ و زکوٰۃ سے الگ طرح کی قوت بڑھتی ہے۔ کہیں مال کی خواہش کو شکست ہوتی ہے، تو کہیں آرام کی خواہش کو اور کہیں کھانے پینے کی خواہش کو۔ اور سفر حج میں تو بہت سی خواہشیں ایک ساتھ شکست کھاتی ہیں۔ خواہشِ نفس کی ہر شکست انسان کی قوتِ مزاحمت بڑھاتی ہے۔
قوت مزاحمت بندہ مومن کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب شیطان خواہشات نفس کے لشکر کے ساتھ انسان پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کے مقابلے کے لیے ایمانی قوت مزاحمت درکار ہوتی ہے۔
عبادت: بے حیائی سے نفرت بڑھاتی ہے
خوشبوؤں کے متوالے بدبوؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ جو لذیذ پکوانوں کے دل دادہ ہوتے ہیں، پھیکے اور بے لذت پکوان انھیں راس نہیں آتے۔
اسی طرح جنھیں عبادت کا لطف حاصل ہوجائے وہ بے حیائی اور فحاشی سے بے حد متنفر ہوجاتے ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان کو عبادت میں بھی لطف آئے اور بدکاری کی طرف بھی رغبت ہو۔
حیا اور بے حیائی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ہیں۔ عبادت میں رب سے حیا کی نشو ونما ہوتی ہے۔ پوری نماز میں بندہ اپنے رب سے حیا کرتے ہوئے کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتا ہے۔ روزے میں اپنے رب سے حیا کرتے ہوئے روزے کے منافی کوئی کام نہیں کرتا ہے۔ صدقہ و زکوٰۃ میں رب سے حیا کرتے ہوئے ریا کاری سے بالکل دور رہتا ہے۔ عبادتوں کے اہتمام کے نتیجے میں رب سے حیا دل و دماغ پر غالب آجاتی اور کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر ہر قسم کی بے حیائی سے شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔
جو شخص اللہ سے اتنی حیا رکھتا ہو کہ نماز میں نگاہ کو سجدہ گاہ سے ہٹنے نہ دے، وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کی طرف حرام نگاہ ڈالے؟؟
جو شخص اللہ سے اتنی حیا رکھتا ہو کہ روزے میں پانی کا قطرہ حلق سے نیچے نہ اترنے دے، وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے کہ حرام کاری کی طرف بڑھتا چلاجائے؟؟
جو شخص اللہ سے اتنی حیا رکھتا ہو کہ غریب کو صدقہ دے کر شکر و تعریف کی خواہش تک نہ کرے وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے کہ اپنے مال سے اپنے ایمان کا سودا کرلے؟؟
جس شخص کے قدم اللہ کے گھر کی طرف بڑھنے کے لیے بیتاب رہتے ہوں وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے کہ بدکاری کے اڈوں کی طرف لپک جائے؟؟
جس کی خلوتیں اللہ کے ذکر سے آباد ہوچکی ہوں وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے کہ اپنی خلوتوں کو گندی فلموں اور عریاں تصویروں سے آلودہ کردے؟؟
عبادت: رضائے الٰہی کی طلب بڑھاتی ہے
انسان جب عبادتوں کی مشقتیں برداشت کرتا ہے تو اسے رضائے الٰہی کی طلب ہوتی ہے اور وہ اللہ سے اجر عظیم کا امیدوار ہوتا ہے۔
رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کی یہ طلب اسے ایسے ہر کام سے دور رکھتی ہے جس سے اس کی محنت کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آدمی خدا کی رضا کا طالب ہو اور خدا کو ناراض کرنے والے کاموں کا دل دادہ بھی ہو؟؟
خدا کو راضی کرنے کے جذبے سے کی جانے والی عبادتیں مزید عبادتوں کے لیے مہمیز بنتی ہیں۔ جس طرح دنیا میں ہر کامیابی اگلی کامیابی کے لیے محرک بن جاتی ہے، اسی طرح ہر عبادت اگلی عبادت کے لیے محرک بن جاتی ہے۔ عبادتوں کے سلسلے سے وابستہ فرد کوئی ایسا کام کرنا پسند نہیں کرے گا جو اسے زندگی بھر کی عبادتوں کے اجر سے محروم کردے۔ رب کی طرف دوڑنے والا بندہ کبھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ اس کی دوڑ اسے رب کی طرف لے جانے کے بجائے جہنم کے گڑھے تک لے جائے۔
عبادت: جنت میں رہنے کا احساس دلاتی ہے
عبادت کی حقیقی لذت کو وہ بندہ مومن سمجھتا ہے جو اپنی ہر عبادت ذوق و شوق اور انابت و خشوع کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ بندہ مومن کو عبادت میں اتنا لطف آتا ہے کہ گویا عبادت بندہ مومن کے لیے دنیا میں جنت کی طرح ہوتی ہے۔ اس جنت کی سیر میں اسے بے پناہ لذت ملتی ہے جس کا اندازہ وہ لوگ کر ہی نہیں سکتے جنھیں عبادت ایک بوجھ معلوم ہوتی ہے۔
ایک طرف تو بندہ مومن کی روح کو عبادتوں میں ناقابل بیان لذت و سکون ملتا ہے اور دوسری طرف گناہوں کے تصور سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بے حیائی اور بدکاری کے کام اسے جہنم کی طرح بھیانک نظر آتے ہیں۔ وہ اس جہنم میں جانا کبھی گوارا نہیں کر سکتا۔
غرض مومن کی پہلی جنت جو اسے دنیا ہی میں مل جاتی ہے، اس کی عبادت ہے اور وہ کبھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ اس جنت سے محروم ہو جائے۔
عبادت: ہمہ جہت تزکیے کا سامان کرتی ہے
اسلام میں عبادت کا نظام ہمہ جہت تزکیے کا کام کرتا ہے۔ بظاہر نماز اللہ کے حضور جذبہ بندگی کا اظہار ہے، لیکن وہ فحش اور منکر کاموں سے روکتی بھی ہے۔ نماز کی ایک ایک ادا اور تمام ہی اذکار نفس کے تزکیے کا سامان کرتے ہیں۔
روزہ کھانے پینے سے رکنے کا نام ہے لیکن وہ انسان کے اندر تمام ہی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا داعیہ مضبوط کرتا ہے۔ صدقہ و زکوٰۃ میں غریبوں پر مال خرچ کیا جاتا ہے لیکن اسی سے دل کی تطہیر و تزکیہ بھی ہوتا ہے۔ حج کے سفر کا ہر قدم تزکیہ نفس کی سمت بڑھاتا ہے۔ گناہ مٹتے جاتے ہیں اور گناہوں سے نفرت و بیزاری بڑھتی جاتی ہے۔
غرض ہر عبادت انسان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی اور پوری شخصیت کو بنانے اور سنوارنے کا کام کرتی ہے۔
عبادتیں انسان کے جذبہ عبودیت کی تکمیل کرتی ہیں اور ساتھ ہی اس کے نفس کا تزکیہ کرتی ہیں۔ اس طرح زندگی کی عمارت کی کرسی اونچی ہوتی ہے اور سماج میں بہتے برائیوں کے سیلاب سے قدرے محفوظ ہوجاتی ہے۔
عبادت: مجاہدہ نفس ہے
حدیث میں حج کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔ حج میں انسان اپنے نفس کے ساتھ ہر پہلو سے مجاہدہ کرتا ہے۔ مال خرچ کرنے کا مجاہدہ، گھر سے نکلنے کا مجاہدہ، سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کا مجاہدہ، اعمال حج کی انجام دہی میں جسم کو تھکانے کا مجاہدہ۔ غرض حج ایک زبردست مجاہدہ ہے۔ اسی طرح سے باقی عبادتیں بھی مختلف پہلوؤں سے مجاہدہ ہیں۔
نفس کے ساتھ یہ نوع بہ نوع مجاہدہ انسان کے اندر نفس کو قابو میں رکھنے کی طاقت بڑھاتا ہے۔ یہ انسان کی سب سے اہم طاقت ہوتی ہے۔ اس طاقت کے ہوتے بے حیائی کے طوفان کا مقابلہ آسان ہوجاتا ہے۔
جو انسان اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ نہیں کرتا، اس کے لیے سخت آزمائشوں میں ثابت قدم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مجاہدے کے لیے لوگوں نے بہت سے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ عام طور سے ان کے منفی اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔
مجاہدے کا سب سے بہترین اور معتبر طریقہ اسلامی عبادتیں ہیں۔ ان عبادتوں کے ذریعہ نفس کو نقصان پہنچائے بغیر اسے اطاعت خداوندی کا خوگر بنایا جاتا ہے۔
عبادت: زہد کی تربیت ہے
عبادت نام ہے ایک ایسی کھڑکی کا جس سے انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ جو شخص آخرت کی ایک جھلک دیکھ لے اس کی نظر میں دنیا بے حیثیت ہوجاتی ہے۔
امام حسن بصری فرماتے ہیں: حج مبرور یہ ہے کہ آدمی جب حج کرکے لوٹے تو دنیا میں رغبت نہ رہے اور آخرت میں ساری رغبت رہے۔
یہ نہ صرف حج کی بلکہ تمام عبادتوں کی اہم خاصیت ہے۔ عبادتیں دنیا کی رغبت کو کم اور آخرت کی رغبت کو زیادہ کرتی ہیں۔
دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی شدید رغبت انسان کو بے حیائی کے بھنور میں پھنسنے سے بچاتی ہے۔
عابد و زاہد دو الگ الگ کردار نہیں ہیں، بلکہ عابد ہی اپنی عبادتوں کے ذریعے زہد کی منزلیں طے کرتا ہے۔
عبادتیں بے اثر کیوں؟
کوئی سوال کرسکتا ہے کہ اگر عبادتوں کی تاثیر اتنی زبردست ہے تو پھر بہت سےعبادت گذاروں میں ان عبادتوں کا اثر کیوں نظر نہیں آتا؟
یہ سوال بہت اہم ہے اور گہرے جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔
اس کا جواب جاننے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ عبادتوں کے سلسلے میں لوگوں کے درمیان کیا تصورات رائج ہیں۔
بہت سے لوگ عبادتوں کو محض حکم الٰہی کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس حکم کی بظاہر تعمیل کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ حکم الٰہی کے مطلوب مقاصد کیا ہیں اور ان کا حصول کس قدر ہورہا ہے۔
وہ اس کا تو پورا خیال کرتے ہیں کہ عبادتوں کی صحت کے لیے بتائی گئیں ساری شرطیں اور ارکان پورے کرلیں لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ اس کی فکر کم کرتے ہیں کہ عبادتوں کے مقاصد کے حصول کی کوششیں کریں۔
عام طور سے عبادتوں کی تعلیم فقہ کی کتابوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ فقہ کی کتابیں حکم الٰہی کے ظاہری پہلو پر بات کرتی ہیں اور اس کی روح اور مقصد کے سلسلے میں خاموش رہتی ہیں۔
حکم الٰہی کے ظاہری پہلو تک نگاہ محدود رہ جانے کے سبب فکر و عمل پر اس کے مطلوبہ اثرات واقع نہیں ہوتے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندگی اور زندگی ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔ زندگی پر بندگی کا کوئی قابل لحاظ اثر نظر نہیں آتا۔
عبادتوں کی تعلیم و تبلیغ کے سلسلے میں ضروری ہے کہ عبادتوں کے مسائل و فضائل کے ساتھ ان کے مقاصد اور مطلوبہ اثرات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
آخری بات
عبادتوں کا مقصد صرف فرائض کی ادائیگی اور اجر و ثواب کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ عبادتوں کی انجام دہی کے وقت یہ بھی پیش نظر رہے کہ ہماری شخصیت پر عبادتوں کا گہرا اثر پڑے۔ ہر عبادت ہمیں پہلے سے زیادہ بہتر اور طاقت ور بنائے۔ عبادتوں کی مثال اس بھٹی کی ہے جو خام سونے کو نکھار سنوار کے خالص سونا بناتی ہے۔
عبادتوں کی تعلیم دیتے وقت بھی اس پہلو کو سامنے رکھنا اور ذہن نشین کرنا چاہیے۔ عبادتوں کو محض ارکان کا مجموعہ بناکر نہیں بلکہ ارکان و مقاصد کے حسین گلدستے کی صورت میں پیش کیا جائے۔ عبادتوں کا طریقہ سکھاتے ہوئے ان کا پیغام بھی بتایا جائے، تاکہ ہر عبادت برائیوں کے خلاف جہاد اور برائیوں سے حفاظت کرنے والی ڈھال بن جائے۔







