ملک کی تقسیم کے بعد ہی سے مسلمانوں کی شریعت، شناخت اور شہریت کے سلسلے میں فرقہ پرست عناصر کی ریشہ دوانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ شریعت پر نشانہ مسلم پرسنل لا کے حوالے سے سادھا گیا، شناخت کو ہدف جبری تعلیم کی آڑ میں بنایا گیا اور شہریت کو مشکوک بنانے کے لیے سرحد پر ہونے والی مبینہ دراندازیوں کو بہانا بنایا گیا۔
ان تینوں حوالوں سے حالیہ برسوں میں فسطائی کوششوں میں تشویش نا ک حد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سول کوڈ نافذ کرنے میں مختلف ریاستیں ایک دوسری سے بازی لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔صرف مدرسہ بورڈ نہیں ، بلکہ مسلمانوں کے پورے دینی تعلیمی نظام کا وجود خطرے میں نظر آتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بے ضرر خالص مذہبی عبادت جیسے عمل کے ساتھ بھی اس طرح کا معاملہ کیا جارہا ہے گویا وہ ایک انتہائی درجے کا سماج مخالف عمل ہو۔ مساجد کے سلسلے میں ایسی شبیہ بنائی جارہی ہے کہ گویا ہر مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں نصابی کتابوں میں پہلے بھی کی جاتی تھیں ،لیکن حالیہ دنوں میں جس بڑے پیمانے پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں لاعلمی اور غلط فہمی کو بڑھاوا دینے کی کوششیں کی گئی ہیں اس کا تصور بھی پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وندے ماترم کے ان حصوں کو پڑھنے پر اصرار کیا جارہا ہے جنھیں قابل اعتراض ہونے کی بنا پر اتفاقِ رائے سے الگ رکھا گیا تھا۔ شہریت کے سلسلے میں پہلے سی اے اے اور این آر سی کا ہوّا کھڑا کیا گیا اور اب ایس آئی ار کا بہانہ بنا کر کئی ریاستوں کی مسلم آبادی کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ اس کی زد میں بعض پس ماندہ غیر مسلم طبقے بھی جو میں گھن کی طرح پس جاتے ہیں۔ لیکن بعض ریاستوں بہ طور خاص مسلم آبادی میں دہشت طاری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
فسطائی قوتیں مسلمانوں کے سلسلے میں بالآخر چاہتی کیا ہیں؟ اس سوال کے مختلف جواب ہوسکتے ہیں۔ ہر جواب کے حق میں کچھ شواہد بھی مل سکتے ہیں۔
ایک خیال یہ ہے کہ ان کے پیش نظر مسلمانوں کی مکمل نسل کشی ہے۔ اس کے لیے اسپین کی مثال بھی دی جاتی ہے۔ دہشت گرد اسرائیل سے یہاں کی فسطائی قوتوں نے بلڈوزر کاری جیسے تجربات مستعار لیے ہیں۔ بہ ظاہر ِحالات، اس کے حقیقی ہونے سے انکار کرنا مشکل ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ مسلمانوں سے عزت نفس کا احساس سلب کرکے انھیں تیسرے درجے کا شہری بنانے کی یہ سب تدبیریں ہیں۔ اس کے لیے ماضی کے شودروں کی مثال بھی دی جاتی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ مسلمانوں کو تمام حقوق و مراعات سے محروم کردینا اور انھیں کس مپرسی کے تنگ دائرے میں محصور کردینا مقصود ہے۔ اس کے لیے چین کے ایغور مسلمانوں کی مثال دی جاتی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ مسلمانوں کی دینی و تہذیبی شناخت ختم کرکے انھیں ہندو دھرم اور ثقافت میں ضم کردینا اصل ہدف ہے۔ اس کے لیے وسطی ایشیا کی مسلم اقوام کی مثال دی جاتی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ ان سب حرکتوں کے پیچھے محض سیاسی مفادات و مقاصد کارفرما ہیں۔ مسلمانوں سے دوری اور نفرت بڑھاکر اکثریت کے ووٹ بینک کو اپنے قابو میں رکھنا فرقہ پرستانہ سیاست کی کامیاب حکمت عملی خیال کی جاتی ہے تاکہ ملک میں ایک پارٹی کو استحکام و دوام حاصل رہے۔
فسطائی طاقتوں کے بیانات ، لٹریچر اور اقدامات وغیرہ سے ان سبھی باتوں کی کچھ نہ کچھ تائید ہوتی ہے۔یہ بھی بعید نہیں کہ یہ سبھی اہداف کسی نہ کسی درجے میں پیش نظر ہوں۔
بہرحال یہ بات تعجب خیز بالکل نہیں ہے کہ ملک کی کچھ قوتیں مسلمانوں کے مستقبل کے سلسلے میں اپنا ایک منصوبہ رکھتی ہیں، البتہ وہ منصوبہ اس پہلو سے تشویش ناک ضرور ہے کہ یہ قطعی طور پر مسلمانوں کے لیے تباہ کن ہے۔ یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ ہندو راشٹر کے تصور کی وضاحت میں بھی زیادہ زور اس پر دیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے گا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ ان کی بربادیوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ انھیں روبہ عمل بھی لایا جارہا ہے، خود مسلمان اپنے مستقبل کے سلسلے میں کوئی وژن یا منصوبہ نہیں رکھتے ہیں۔ دوسرے تو یہ طے کردینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کا مستقبل کیسا ہوگا ، لیکن کیا خود مسلمان بھی آئینہ ایام میں اپنا مستقبل دیکھنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں؟ یقین کے ساتھ اس کا جواب ہاں میں دینامشکل ہے ۔
موجودہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کے لیے اپنے مستقبل کے وژن اور منصوبے کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایسا وژن اور منصوبہ، جو محض درپیش خطرات سے حفاظت پر مرکوز نہ ہو، بلکہ مسلمانوں کے خیر امت ہونے کے شایانِ شان ہو، اور ایک عظیم کردار کی ادائیگی اس کا اصل محور ہو۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کے منصوبوں کو دیکھ کر اسی نہج پر اپنا منصوبہ بنانے کا خیال ذہن پر سوار ہوجاتا ہے۔ دوسرے آپ کو نقصان پہنچانے والے منصوبے بناتے ہیں تو آپ کا ذہن محض ان نقصانات سے بچنے کا منصوبہ سوچنے لگتا ہے۔ حالاں کہ آپ کو ضرورت کہیں زیادہ وسیع تر منصوبے کی ہوتی ہے۔ اس لیے سوچنے کا انداز یہ ہونا چاہیے کہ دوسروں کے عزائم سے قطع نظر، اس ملک میں مسلم امت کا اپنا منصوبہ کیا ہونا چاہیے، جس کے نتیجے میں مسلم امت بہترین امت ہونے کا کردار ادا کرسکے اور اپنی دنیوی ترقی اور اخروی فلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ترقی اور فلاح کا بھی ذریعہ بنے۔ ظاہر ہے، سازشوں سے محفوظ رہنا اور خطرات سے بچ جانا کسی قوم کے مستقبل کا منصوبہ نہیں ہوسکتا۔
بہرحال وژن اور منصوبے کی یہ شدید ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملت کے فہیم افراد سر جوڑ کر بیٹھیں، غور و خوض کریںااور جاری سازشوں کا رونا رونے کے بجائے اسلام کی عظیم نعمت سے مالا مال امت کی مطلوبہ کوششوں کے بارے میں سوچیں اور دن رات سوچیں کہ سوچنے سے راہیں کھلتی ہیں۔
وژن اور منصوبے کی یہ ضرورت تقاضا کرتی ہے کہ اجتماعی غور وفکر کے نتیجے میں جو وژن اور منصوبہ طے ہو، اس سے پوری ملت کو آگاہ کیا جائے اور تمام مسلمان سنجیدگی سے اسے عملی جامہ پہنانے میں اپنا فعّال کردار ادا کریں۔
وژن اور منصوبے کی یہ ضرورت تقاضا کرتی ہے کہ طے شدہ وژن اور منصوبہ ملی اتحاد کی عظیم بنیاد بن جائے۔تمام تر داخلی اختلافات کے باوجود اس کی خاطر سب کی کوششیں متحد ہو جائیں۔
یاد رہے کہ یہاں وقتی اقدامات زیر بحث نہیں ہیں۔ وقتی اقدامات کے سلسلے میں مسلمانوں میں کچھ نہ کچھ بے داری پائی جاتی ہے اور ادھر وہ بڑھی بھی ہے۔ حسبِ ضرورت عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی، حسبِ موقع جلسے اور دھرنے ، حسبِ حال پریس کانفرنسیں اور اخباری بیانات اور بے داری کی مہمات ۔یہ سب وقتی اقدامات ہیں اور ان کی ضرورت و افادیت تسلیم شدہ ہے۔ تاہم پوری ملت کے مستقبل کے لیے ایک واضح وژن اور جامع منصوبہ بندی کی شدید ضرورت ہے اور وہ وقتی اقدامات سے پوری ہونے والی نہیں ہے۔
مسلم ملت کے سامنے ایک قابلِ عمل اور امیدافزاں لائحہ عمل لازما ہونا ہی چاہیے۔ یہ لائحہ عمل ایسا ہو کہ ہر مسلمان فرد، ہر مسلم ادارہ اور ہر مسلم جماعت اس میں اپنے حصے کا رنگ بھرنے کا موقع رکھتا ہو اور اس پر عمل آوری ہر سطح پر ہو سکے —— گاؤں، محلہ، شہر، ریاست، اور ملک ہر سطح پر۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جاسکتا ہے، جسے بروئے کار لاتے ہوئے یہ امید کی جائے کہ فرقہ پرست فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم اور خطرناک سازشوں کے علی الرغم اسلامی شریعت اس ملک کی پسندیدہ شریعت بن جائے گی، شبیہ بگاڑنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم شناخت اس ملک کی قابل عزت شناخت بن جائے گی اور شہریت کے ثبوتوں کے تنگ نظر تصور سے اوپر اٹھ کر مسلمانوں کو وطنِ عزیز کا باعزت شہری تسلیم کرنے پر ملک کے لوگ دل سے آمادہ ہوجائیں گے؟
ظاہر ہے کہ یہ اہداف مسلمانوں سے کردار اور رویے میں بہت بڑی تبدیلی کا تقاضا کریں گے۔ اہلِ وطن سے الگ تھلگ رہنے کے بجائے بہت سے کام ان کے ساتھ مل کر انجام دینے ہوں گے۔ دوریوں کو قربتوں سے بدلنا ہوگا۔ اپنے تحفظ کے مسئلے سے آگے بڑھ کر پورے ملک کی بھلائی کی فکر کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کو تحفظ شریعت کے لیے بے دار کرنے سے زیادہ برادرانِ وطن کو شریعت کے محاسن سے آگاہ کرنے پر زور دینا ہوگا، اپنے انفرادی قول و فعل سے، اپنی خاندانی اور سماجی مثالوں سےاوراپنے اداروں کے شمولیت پسندانہ تجربات اپنی شناخت ایک قوم کے بجائے انسانیت کے خیر خواہ کی حیثیت سے قائم کرنی ہوگی۔ شہریت کو حقوق کی عینک سے دیکھنے کے بجائے فرائض کی عینک سے دیکھنا ہوگا۔ استفادے سے زیادہ افادیت پر توجہ دینی ہوگی۔ محض بیمار بننے بجائے مسیحا بننا ہوگا۔ اس لیے بھی کہ خیر امت کا مقام مسیحائی کا ہے اور اس لیے بھی کہ ہر طرف بیمار موجود ہیں۔
موجودہ حالات میں اس کا تصور بھی حد درجہ مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن مسلسل بدلتی ہوئی دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں ۔ وژن اور لائحہ عمل نہ ہونے کی صورت میں تو مسدود راستے پر ایک قدم بھی آگے بڑھنے کی امید نہیں باندھی جاسکتی، لیکن راستہ نظر آنے پر کسی بھی رفتار سے آگے بڑھنے کا موقع رہتا ہے، اوریہ موقع ضرور فراہم ہونا چاہیے۔ یہ بات طے ہے کہ صرف دفاعی تدابیر ان مسائل کا حل نہیں ہیں جن میں ہم گھرے ہوئے ہیں۔ آگے کا راستہ ہم سے اقدامی، مثبت اور جرأت مندانہ لائحۂ عمل اور عملی کوشش کا تقاضا کر رہا ہے: پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اقلیت میں ہونے کا مطلب مواقع سے محرومی نہیں ہوتا ہے۔
کیوں گرفتار ِطلسم ِہیچ مقداری ہے تو
دیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکتِ طوفاں بھی ہے






