آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

زندگی نو، جولائی ۲۰۱۲ء زیر مطالعہ ہے۔ ’’آپ کی رائے‘‘ کے کالم میں محترم سید شکیل احمد انور کا مراسلہ پڑھا۔ سمجھ میں نہ آیا۔ پھر دوبارہ پڑھا۔ آخر چند سطور اس سلسلے میں لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ محترم کے مراسلے میں کچھ باتیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں کہ ’’آزادیِ ہند سے قبل برصغیر کے مخصوص سیاسی وسماجی حالات میں تحریکی فکر کا جو سرمایہ تشکیل پایا تھا وہ ہمیں ورثے میں ملا۔‘‘ —میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ مولانا مودودیؒ  نے یہ تحریکی فکر کا سرمایہ— کیا واقعی آزادی ہند سے قبل برصغیر کے مخصوص حالات کے پیش نظر تیار کیا تھا— یا قرآن وسنت کی روشنی میں ایک مستقل تقاضے کے پیش نظر اسلام کے صحیح تصور دین کو پیش کرکے ملت اسلامیہ کو، حاکمیت الٰہ یا اقامت دین کا فریضہ یاد دلانے کی کوشش کی تھی ۔ کاش محترم نشان دہی فرمادیں کہ وہ کون سا فکری سرمایہ ہے، جو محض مخصوص حالات میں لکھا گیا تھا اور اب اس کی ہمارے تحریکی سرمایے میں کوئی خاص ضرورت نہیں۔

پھر موصوف لکھتے ہیں دارالاسلام پٹھان کوٹ کی تقریر کے تعلق سے کہ ’’اس تقریر کے مخاطب وہ لوگ تھے جنہیں مستقبل میں قرار داد مقاصد منظور کرنا تھی۔ حاکمیت الٰہ نفاذ شریعت وغیرہ اصول جو اس کتابچے میں وضاحت سے بیان ہوئے ہیں وہ ہماری ﴿ہندوستانی وابستگان تحریک کی﴾ دعوتی ترجیحات نہیں ہوسکتے تھے۔‘‘ میری گزارش ہے کہ حاکمیت الٰہ یا نفاذ شریعت کا معاملہ— یہ صرف مولانا مودودیؒ  کے دماغ کی اُپج نہیں ہے، اور نہ ہمارا عقیدہ زماں ومکاں کی قید کا پابند ہے۔ ہندوستانی وابستگانِ تحریک دعوتی مرحلے میں بھی اگر ہوں تو وہ اس عقیدے سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوسکتے۔ یقینا حاکمیت الٰہ اور نفاذ شریعت کی راہ میں کافرانہ نظام میں نہایت درجہ نامساعد حالات پیش آسکتے ہیں۔ لیکن بہرحال دشوار گزار راہوں اور پرخاروادیوں میں بھی ’’لاالٰہ الا اللہ‘‘ کی ہی صدا گونجے گی۔ اور اس لاالٰہ الا اللہ کی صدا میں حاکمیت الٰہ کا تصور موجود ہے۔اسی طرح ایک اور جملہ مجھے کھٹک رہا ہے۔ موصوف کے مراسلے میں درج ہے کہ ’’جماعتی حلقوں میں فکری الجھنوں کا اصل سبب یہی ہے کہ آزادیٔ ہند سے قبل جو لٹریچر غیر منقسم ہندوستان میں اسلامی نظام کے قیام کی تائید میں لکھا گیا تھا وہ مسلسل شائع ہورہاہے‘‘ پھر آگے موصوف لکھتے ہیں کہ … ’’حالانکہ نئے لٹریچر کی ضرورت کا شدومد سے اظہار گزشتہ ساٹھ سالوں سے برابر ہورہا ہے۔‘‘

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر’’اسلامی نظام کے قیام‘‘ کے متعلق ہمارے جماعتی حلقوں میں ﴿بقول موصوف﴾ الجھن ہے تو پھر آخر جماعت کی ضرورت ہی کہاں باقی رہ جاتی ہے— اسلامی نظام— حاکمیت الٰہیہ۔اقامت دین۔نفاذ شریعت ان چیزوں کو لٹریچر سے نکالنا ہے تو پھر جماعت بھی ایک سماجی- تعلیمی اور خدمت خلق کا کام انجام دینے والی سیکولر اور جمہوری نظام کی علمبردار این جی او بن کر رہ جائے گی۔ ہندوستان میں اس طرح کی تنظیموں اور جماعتوں کی کمی کب ہے؟ نئے لٹریچر کی ضرورت کا شدومد سے اظہار گزشتہ ساٹھ سالوں سے ﴿یعنی تحریک کے قیام کے دس سال بعد ہی سے ﴾ کون کررہا ہے؟ ذراایک آدھ کسی تحریکی بزرگ یا ذمہ دار کی مثال دیں جو ۱۰سال بعد ہی سے نئے لٹریچر کا مطالبہ کرنے لگاہو۔

مولانا مودودیؒ  کے خیالات  انبیاء ی مشن کی ترجمانی ہیںاور  انبیاء ی مشن آزادی سے قبل یا آزادی کے بعدیا کسی خاص ملک یا علاقے کے تناظر میں وضع نہیں ہوگا۔ ہاں! حالات ومواقع کی مناسبت سے اقدام ضرور ہوگا۔ انداز حکیمانہ ہوگا۔ لیکن یہ کج فکری نہ ہوگی کہ سیکولر اور جمہوری نظام کی تائید تو بجا، لیکن اسلامی نظام کے قیام کی تائید ناگوار۔

میرا احساس یہ ہے کہ فسطائیت کی بڑی برائی کے مقابل چھوٹی برائی یا کم تر برائی کو گوارا کرلینے کا یہ تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ ہم یہاں تک سوچ بیٹھیں کہ اسلامی نظام کے قیام کی تائید میں مسلسل شائع ہونے والا لٹریچر ہی ہماری الجھن کا سبب ہے۔

ہماری سوچ اور فکر میں اس قدر تبدیلی واقع نہ کہ ہمارا عقیدہ اور نصب العین ہی متاثر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح نہج پر سوچنے اور فیصلہ کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔

محمدابراہیم خان

افضل باغ،آکوٹ، ضلع آکولہ﴿مہاراشٹر﴾

 

مکرمی!

جب دورِ اوّل کی تحریک اسلامی دعوت واصلاح کے مرحلے سے گزر کر جہاد کے مرحلے میں داخل ہوئی تو داخلی طور پر ایک ہیجان برپاہوگیا۔ اس انقلاب کاپوری طرح شعور نہ رکھنے والا طبقہ سراپا احتجاج بن کر کھڑا ہوگیا۔ اور آخری دم تک رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا۔ ان کی تن آسانی اور ٹھنڈی ٹھنڈی دعوت کے مزاج نے اقتدار کی کشمکش کے لیے آمادہ ہی نہیں ہونے دیا۔ ان کی زندگی کا محور و مرکز محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور اذکار ونوافل رہ گئے۔ اسلامی خلافت کے اذکار ونوافل اور دعاؤں کے ذریعہ قائم ہوجانے کی خوش فہمی لاحق رہی۔ وہ مختلف اندیشوں اور تاویلوں کے ذریعے انقلابی اقدام کو تباہ کن اور خطروں کا موجب قرار دے کر راہ فرار اختیار کرتے رہے۔

یہی صورت حال تحریک اسلامی ہند کو پیش آرہی ہے۔ اسی صورت حال سے دور اوّل کی تحریک اسلامی کو گزرناپڑا۔ اس پر جناب نعیم صدیقیؒ  نے اپنی معرکۃ الآرائ تصنیف محسن انسانیت میں تبصرہ کیا ہے: ’’تحریک دعوت کے مرحلے سے جہاد کے مرحلے کی طرف انقلابی موڑ مڑ رہی تھی۔ تحریکوں کے ایسے موڑ بہت سے لوگوں کو چکر میں ڈال دیتے ہیں ایسے موقعوں پر توازن صرف وہی کارکن برقرار رکھ سکتے ہیں جو پہلے سے کچھ سمجھ کر چلے ہوں کہ ہم کدھر جارہے ہیں اور کیا کیا منازل راہ میں پڑیں گی ورنہ دنیا بھر کی تحریکوں کو جب کوئی بڑا موڑ پیش آتا ہے اور وہ جست لگا کر ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں تو اس تغیر کا صحیح فہم نہ رکھنے والا فرد ضرور ناکارہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ تحریک دعوت سے جہاد کے مرحلے میں داخل ہوئی تو کچھ لوگ اپنا فکری توازن کھو بیٹھے اور خاص طور پر وہ عنصر جو ’’جہاد‘‘ کی گراں بارذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے آمادگی نہیں رکھتا تھا اور پہلے سے ذہن وفکر کو اس مرحلے کے لیے تیار کرکے نہیں لایا تھا۔

تحریکیں جب معرکہ آرا ہوتی ہیں تو ان کے علمبردار مخالف طاقتوں کو جہاں ضربیں لگاتے ہیں، وہاں ان کے ہاتھوں چوٹوں پر چوٹیں بھی کھاتے ہیں۔ تدابیر کے تیر نشانے پر لگتے بھی ہیں اور اُچٹ بھی جاتے ہیں۔ نتائج امیدوں کے مطابق بھی نکلتے ہیں اور خلاف بھی نکل آتے ہیں۔ ایسا تو کوئی بھی میدان کا رزار نہیں پایا گیا جس میں ہر نقصان ایک ہی فریق کے حصے میں آئے اور ہر فائدہ دوسرے فریق کے حصے میں رہے۔ جو فریق آخری فتح حاصل کرتا ہے وہ بھی بہت سی جانیں فتح کی قیمت میں پیش کرتاہے۔ بہت سے زخم کھاتا ہے بہت سامال جنگ کی آگ میں جھونکتا ہے۔

’’اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمھاری ﴿مراد ہے ذاتِ رسالت مآب﴾ بدولت ہے۔‘‘﴿النساء ۷۸﴾ ﴿محسنِ انسانیت، ص:۳۱۲،۳۱۳﴾

یہی صورت حال آج تحریک اسلامی ہند کو داخلی طور پر درپیش ہے۔ دعوت واصلاح وخدمت خلق کے کام ہر طرح کی مذمت اور مخالفت سے بچتے ہوئے پچھلے ساٹھ سالوں سے انجام دیئے جاتے رہے اب جماعت نے الیکشن میں حصہ لینے کا ایک اہم اور انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ تو ردعمل کی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ ’’ابھی تو ہماری دعوت مسلمانانِ ہند تک بھی نہیں پہنچی۔ غیر مسلم تو ہم سے واقف بھی نہیں ہیں۔ ابھی تو دعوت واصلاح کا بہت کام باقی ہے۔ ابھی تو ہم خدمت خلق کا کام خاطر خواہ انجام نہیں دے سکے۔ معاشرتی ومعاشی اور تعلیمی میدان میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ ‘‘لہٰذا نہ کبھی دعوت واصلاح کا کام مکمل ہوگا نہ الیکشن میں اُترنے کا مرحلہ پیش آئے گا؟ لیکن انقلابی تحریکوں کا مزاج یہ ہوتا ہی نہیں ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف دعوتی اصلاح وغیرہ کے کام انجام دیتے رہیں اور ایک طے شدہ مقام پر پہنچ کر اقتدار کی کشمکش کا آغاز کریں۔ پہلے دن سے ہی ان کی نظر اقتدار پر رہتی ہے وہ دیوانہ وار آگے بڑھتی جاتی ہیں اور اسی مزاج کے لوگ ہر طرف سے ٹوٹ ٹوٹ کر اُن میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔ ایک طرف دعوت واصلاح کا کام جاری رہتا ہے اور دوسری طرف اقتدار کی کشمکش اپنے مرحلے طے کرتی رہتی ہے۔ ’’لہٰذا کشمکش ہی زندگی ہے۔‘‘ جو کشمکش سے دور رہا وہ زندگی سے دور رہا آپ اقتدار کی کشمکش سے دورہ کر دعوت واصلاح کا کام چاہے کتنا ہی مؤثر انداز میں کرتے رہیں جہاد اور سعادت کے مرتبے کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ دین کبھی غالب آسکتا جو کہ اللہ کی اصل منشائ ہے۔ داعی کی دعوت میں اگر اقتدار کی طرف پیش قدمی نہ ہو تو وہ دعوت معاشرے میں انقلاب برپا نہیں کرسکتی۔ ’’عصا نہ ہوتو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد‘‘ قرآن کے اوراق جہاد اور اس کے ثمرات سے بھرے پڑے ہیں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی دعوت چاہے زندگی بھردی جائے۔ جہاد اور اقتدار کی کشمکش کے بغیر بلند درجات کبھی حاصل نہیں ہوسکتے۔ یہ پوری طرح عیاں ہوچکا ہے کہ دنیا میں جسے بھی انقلابی تبدیلی لانا ہے اسے جمہوری انتخابات کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ جو انقلابی تحریکیں اس ذریعے کو اپنے حق میں استعمال نہ کرسکیں وہ گمنا م گوشوں میں پڑی رہیں گی ۔

عبدالاحد خاں

سابق امیر حلقہ، مدھیہ پردیش ، سیونی

محترم مدیر زندگی نو!

ایک مضمون حاضر خدمت ہے، جس سے ماضی کے حالات اورتجربات کا علم ہوتا ہے۔ اور جورفقاء جماعت کے لیے رہنمائی اور حوصلہ کا کام انجام دیتا ہے۔ جو مضامین آپ کے مسلک کے نہ ہوں ان کو ’’آپ کی رائے‘‘ میں شائع کردینا چاہیے۔ عنوان اور فون نمبر کے ساتھ اناہزارے والا مضمون بغیر عنوان کے شائع ہوگیا اور اس کا آخری حصہ ﴿پیرا گراف﴾ حذف کردیاگیا۔ جب کہ وہی حصہ مضمون کا حاصل تھا۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس اور مضامین بھی ہیں۔ ’’دعوت کی اہمیت اور ہمارا طریق عمل‘‘ یہ مضمون بھی آپ کی رائے میں دے دیں ’’مولاناابواللیث صاحب سفر اور حضر میں‘‘یہ بھی آپ کی رائے میں دیاجاسکتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جو مضمون آپ کے لیے غیر مفید ہے اس کے لیے یہ کالم بہتر ہے۔ بہ شرطے کہ عنوان اور فون نمبر بھی شائع کیاجائے۔ عنوان ہی کی وجہ سے یہ مضمون جسارت میں شائع ہوچکا ہے۔ زندگی نو کے ایک کی بجائے دو شمارے آرہے ہیں دونوں کا خریداری نمبر ایک ہی ہے ﴿۳۶۸۸﴾ ۔تجربہ سے یہ بات علم میں آتی ہے کہ ’’اسلامی انقلاب کے علمبردار معاملات میں بودے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ متعلقہ فرد کو غلطی کا احساس کرادیں۔ دراصل اداروں میں نیک اور پرہیزگار افراد کے ساتھ کاروباری ذہن کے لوگ ہونے چاہئیں۔ امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

غلام رسول دیشمکھ

انجمن روڈ، بھساولMob. 09270831069

مکرمی !سلام مسنون

جولائی ۲۰۱۲ء زندگی میں آپ کی رائے کے تحت سید شکیل احمد انور نے ابواختر اعظمی صاحب کی تحریر پر اظہار خیال کرتے ہوئے احقر کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ۴۰ سال سے مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ پتا نہیں اس اظہار کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس عرصہ میں میری سرگرمیاں تحریک اسلامی کے لیے رہی ہیں۔ البتہ جب کبھی تحریک اسلامی کے اپنی بنیادی فکر سے ہٹنے کا اندیشہ ہوا تو اس پر بے لاگ تنقید کی گئی۔ موصوف لکھتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ  نے کوئی جامد واندھے مقلدین کا گروہ نہیں چھوڑا تھا بلکہ مجددین کاایک اچھا خاصا گروہ چھوڑا تھا۔ وہ سابقہ لائحہ عمل کیسے جاری رہ سکتا تھا۔ اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے ان چار منقطہ واری اجتماعات میں کی گئی آخری تقریر کا تذکرہ کیا ہے جو آئندہ کے پاکستان سے متعلق ہے۔ ہماری تنقید کا موضوع تو خطبہ مدراس رہا ہے یہ تقریر ہندوہندوستان کے مسلمانوں کے آئندہ لائحہ عمل کے سلسلے میں مولانا نے کی تھی۔ اس پر اظہار خیال کرنے کے بجائے جو علاقے اس وقت شمال مغربی ہندوستان کا حصہ تھے اُن کے سلسلے میں روشنی ڈالی ہے۔ گویا ناقدین اتنے کم فہم اور ناسمجھ ہیں کہ پاکستان سے متعلق پالیسی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ مدراس والی تقریر کو از کار رفتہ سمجھ کر منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اگر واقعی آپ سنجیدہ ہیں تو ٹھنڈے دل سے اس تنقید کا جائزہ لیجئے۔ سنگھ پریوار ہندتو کے مقابلے میں سیکولر جمہوری نظام کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دیتا بلکہ اُسے مسلمانوں کی چاپلوسی پر مبنی سمجھتاہے۔ لیکن آپ میں اتنی جرأت نہیں کہ سیکولرازم کے نقاب کو نوچ پھینکیں۔ سیکولرازم ایک مکھوٹا ہے جو ہندو فرقہ پرستی کو چھپانے کے لیے کانگریس نے لگالیا ہے۔ ۶۰ سالہ تاریخ گواہ ہے۔ نہرو کے دور میں ملٹری کے بعض شعبوں میں مسلمانوں کو ملازمت کے لیے منع کردیا گیا تھا۔ کے ایم منشی کی Fall of Hyderabadکتاب دیکھئے جس میں سقوط حیدر آباد کے لیے بنائی گئی پالیسی کا ذِکر ہے۔ پاکستان کے ٹوٹنے پر اندرا گاندھی کو درگاکا لقب کس نے دیا تھا۔ انھوں نے کہاتھا کہ ہم نے ۱۰۰۰ سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کا جو حشر ہورہا ہے وہ معلوم ہے۔ کم تر برائی کے فلسفے کا بھی ذکر تحریر میں موجود ہے۔ یہ پرانی دلیل ہے باطل نظام کی تائید کے لیے جمعیۃ العلماء  نے اسی کو اصل بناکر کانگریس کی غیر مشروط تائید کی تھی۔ اس کا انجام آپ دیکھ بھی  رہے اور بھگت بھی رہے ہیں۔ یہ اندھے اور جامد مقلدین کا گروہ نہیں تو کیا ہے جس کی تردید ۴۰ سال قبل آپ کے لٹریچر میں مدلل طور سے کی گئی تھی۔ رفقائ کو کلیت پسند ہونے کا طعنہ بھی دیاجارہاہے۔ کیا دین کلیت پسند نہیں ہے۔ کیا اب دینی احکامات جمہوری طریقے سے﴿عام مفہوم میں﴾ طے کیے جاتے ہیں۔ عبادات، معاملات، تعلقات وغیرہ امور کے سلسلے میں کوئی مجلس شوریٰ طے کرتی ہے یا ساری اصولی چیزیں طے شدہ ہیں آپ کو صرف اس کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔

بہرحال اللہ تعالیٰ جامد اور اندھے مقلدین سے تحریک اسلامی کو بچائے اور اپنے مقصد ونصب العین کے لیے یکسو ہونے کی توفیق دے۔ اسی ایک کام سے ویلفیئر کا کام ہوسکتا ہے اور پیس اور جسٹس مل سکتا ہے۔ یہ بات پہلے بھی صحیح تھی، اور کل بھی صحیح ہی رہے گی۔ یہ کام قرآن کا بتایا ہواہے اور قرآن کلام الٰہی اور رب کا حکم ہے۔ ایک آخری بات یہ ہے کہ بلاشبہ اخوان المسلمین نے الگ سیاسی پارٹی تشکیل دی ۔کہا جارہا ہے کہ اخوان کے قائدین نے سوچ سمجھ کر یہ اقدام کیا ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ کااخوان المسلمین سے کیا مقابلہ ہے انھوں نے ۶۰ سالہ تاریخ میں آزمائش وابتلا کی تاریخ رقم کی ہے اور صحابہؓ  کرام کے دور کی یاد دلائی ہے۔ کئی نے شہادت پائی اور پھانسی پر لٹک گئے۔ انھوں نے جو کردار پیش کیا ہے اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ رخصت ، حیلوں اور بہانوں کے سہارے گاڑی کھینچی جارہی ہے۔ سیکولرزم کی بنسی بجائی جارہی ہے۔ عوامی سطح پر اس کی کوئی پذیرائی نہیں ہوئی ہے۔ میرا یہ تاثر شاید کسی کو سخت معلوم ہومگر حقیقت یہی ہے ۔ اس پر اگر کوئی روشنی ڈالے تو مناسب رہے گا۔ جس کا تعلق متجددین کے گروہ سے ہو۔        ابوالکرم عرفان ﴿حیدرآباد﴾

محترم مدیر زندگی نو!

احقر کے مراسلوں کے تعاقب میں کبھی ابواختر اعظمی صاحب اور کبھی ثمینہ مظہر فلاحی صاحبہ نظر آرہے ہیں۔ حالانکہ اکثر محترم احسن مستقیمی صاحب ﴿میرٹھ﴾ کرم فرمایا کرتے تھے۔ حسن نوازش، محبت بھرا انداز اور قدیم رفاقت کے تقاضوں کے مدنظر انداز نہایت مشفقانہ ہوتا تھا مگر ان دونوں میرٹھیوں نے تو حد کردی ہے۔ انداز بیان جارحانہ اور طنز آمیز ہے۔ جملوں کو سیاق وسباق سے ہٹا کر اور مضمون کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔ جدید لٹریچر کی ضرورت اور قدیم لٹریچر پر نظر ثانی کا مسئلہ کیا احقر کے ایجاد کردہ امور ہیں۔ یہ موضوعات ۱۹۴۹ء سے مرکزی مجلس شوریٰ میں زیر غور آتے رہے ہیں۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی رودادیں ﴿دو جلدوں میں ۱۹۴۸ءسے لے کر ۱۹۸۹ء﴾ تک مطبوعہ ہیں انہیں پڑھ لیجیے ساری حقیقت کھل جائے گی۔ احقر نے صرف یہ کہا تھا کہ مجلس شوریٰ نے ۱۹۶۰ سے لے کر ﴿۲۰۱۲ ﴾ اب جو فیصلے حالات حاضرہ کے ماتحت کیے ہیں اور جو میقاتی پروگرامس ۱۹۶۱ سے اب تک جاری ہوئے ہیں، ان کے بیشتر موضوعات پر جدید لٹریچر کی ضرورت ہے۔ سیکولرزم کی تائید وتحسین میں لٹریچر کی فراہمی مراسلہ نگار کے ذہن کی پیداوار ہے۔ اسی طرح احقر نے کبھی سارے بنیادی لٹریچر کو دریا برد کردینے کانامعقول مشورہ نہیں دیاہے۔ یہ بھی مراسلہ نگار کی ذہنی حالت کی غمازی کررہاہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ میرامراسلہ پڑھ کر ان پر ہیجانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔               سیدشکیل احمد انور

22-8-585، اسلامک سنٹر، لکڑکوٹ، چھتہ بازار، حیدرآباد ۵۰۰۰۰۲

محترم مدیر زندگیِ نو!

موقر ماہنامہ زندگیِ نو کے اگست ۲۰۱۲ئ کے شمارے میں ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی ﴿گلبرگہ﴾ کا مراسلہ جودستور جماعت اسلامی ہند کے مغائر ہے آپ نے شائع فرمایا ہے۔ مقام اوّل پر گویا ترجیحاً موصوف کے گراں قدر خیالات پر غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے، ڈاکٹر مخدومی کا گزشتہ ماہ جماعت کی رکنیت سے اخراج عمل میں آیاہے۔ غالباً جماعت سے علیحدگی کے بعد ہی انھوں نے پہلا کام یہی کیا ہے کہ مذکورہ مراسلہ منتخب ارکان کو ارسال کرکے ان پر ان کے تاثرات وخیالات معلوم کیے ہیں۔ احقر کو بھی انھوں نے اس قابل سمجھا کہ اس نادر الخیالات مراسلے سے نوازا۔

انھوں نے جماعت کے تنظیمی نظام کو غیر مرکوز (Decentralise) کردینے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ مصارف زکوۃ کے ارد گرد گھومتی ہے۔ غالباً فرقہ خوارج کی مرکز گریزی کا محور بھی یہی تھا ۔ قبیلہ ثقیف ﴿اہل طائف و اطراف﴾ نے مرکزی بیت المال میں اپنی زکوٰۃ جمع کرانے سے استثنائ طلب کیا تھا اور مقامی طور پر جمع وخرچ کرلینے کے رجحان کااظہار کیا تھا۔ بہ ہرحال جماعت کے علماو فقہا اس مسئلے پر غور کریں۔ مگر صرف اس بنیاد پر جماعت کے تنظیمی نظام کو غیر مرکوز کر دینا عملاً جماعت کو تحلیل کردینے کے مترادف ہے۔ اس تجویز کی روح امیر جماعت کی اطاعت سے گریز اور مرکزی مجلس شوریٰ کی فیصلہ سازی کے اختیار ات سے روگردانی ہے اور یہ جماعت کو طوائف الملوکی (Anarchy) کی طرف لے جائے گی۔

موصوف نے تبلیغی جماعت کی بہت تحسین کی ہے۔ حالانکہ ان کے یہاں بھی بظاہر ایک غیر رسمی تنظیمی نظام ہے۔ اور مرکز امیر جماعت ، مجلس شوری، صوبہ وار امرائ وغیرہ موجود رہے ہیں۔ صرف باقاعدہ رکنیت نہیںہے۔ لیکن مخصوص شناخت، چھ باتوں والا دستور حیات امرائ کی بے چوں وچرائ اطاعت، اندھی عقیدت اور وہ سب کچھ ہے جو کسی موروثی مرشدی حلقے میں ہوا کرتاہے۔ موصوف چاہیں تودو چار چلّوں میں گھوم پھر کر مشاہدہ کرلیں۔ ڈاکٹر مخدومی بلا کے مراسلہ نگارہیں۔ ان کے مراسلے اردو اخبارات میں اکثر شائع ہوتے رہے ہیں، جن کا مجموعہ ’تہلکہ‘ کے چونکا دینے والا عنوان سے شائع ہوا ہے۔ حالیہ اُردوبک ریویو میں اس پر تبصرہ بھی شائع ہواہے۔ ان کے انگریزی مراسلوں کی ایک فائل انھوں نے احقر کو تبصرہ کے لیے ارسال کی تھی۔

ابوطفیل محمد انور

6-3-1498، ونستھلی پورم، حیدرآباد۵۰۰۰۷۰

ستمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau