آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

ستمبر ۲۰۱۲؁ء کا زندگی نو پڑھا۔ ماشاء اللہ زندگی نو خوب سے خوب تر کی طرف جارہا ہے۔ خصوصاً کالم ’آپ کی رائے‘ میں بصیرت افروز مراسلات شائع کرکے آپ نے جماعت کے اصحاب کو اپنی تازہ فکر قارئین تک پہنچانے کاایک مفید موقع فراہم کیاہے۔ تعمیری تنقیداور احتساب تنظیموں کو مضبوط کرنے کاایک اہم ذریعہ ہے۔

محترم شکیل احمد انور صاحب لطیفی صاحب مرحوم کی زیرنگرانی چلنے والے اسٹڈی سرکل کے ایک فعال رکن رہے ہیں۔ میں ان اصحاب کا نام لینا چاہوںگا جو اس اسٹڈی سرکل کے رکن ہوا کرتے تھے۔ ۱-جناب وحیدالدین خاں ﴿موجودہ امیرمقامی چارمینار﴾، سید یوسف صاحب مرحوم سکریٹری جماعت اور رکن مرکزی مجلس شوریٰ، ناچیز ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی ﴿سابق امیرمقامی﴾، ابولکرم عرفان صاحب، یوسف احمد نسیم صاحب، خورشید الحسن رضوی صاحب، محمد اعظم صاحب ﴿سابق ناظم مکتبہ اسلامی﴾، ظفرالدین سعید صاحب ﴿حال مقیم امریکہ﴾، مرحوم امیرحلقہ اپنی خاص نگرانی میں دو تین سال تک یہ اسٹڈی سرکل چلاتے رہے۔ کریم نگر سے وہ شہر حیدرآباد آتے تو سب سے پہلے ارکان اسٹڈی سرکل سے ملتے اور مختلف حالات پر تبادلۂ خیال فرماتے۔ فاضل مکتوب نگار نے میرے مراسلے کو دستورِ جماعت اسلامی ہند کے مغائر قرار دیا ہے۔ یہ کس بنا پر ہے؟ جماعت پر یا اس کے فیصلوں پر تنقید و تبصرہ کرنا اور پالیسی کے بارے میں کچھ لکھنا کیا غلط ہے؟ ہم کو تویہ تعلیم ملی ہے کہ صرف ذاتِ الٰہی اور انبیاء  کرام ہی تنقیدو احتساب سے بالاتر ہیں۔ایک وسیع وعریض ملک ہندستان کے حالات مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں۔ ہر ریاست میں علماے کرام موجود ہیں۔ ان کے اجتہاد سے جماعت استفادہ کرسکتی ہے۔ ڈی سنٹرالائزیشن کا مقصد جماعت کی علاقائی لیڈرشپ کو ابھارنا تھا۔ نہ کہ ان کو خارجی فرقے کی تقلید پرآمادہ کرنا۔ ہر حلقے میں ایسی قابل اور فعّال شخصیتیں ہیں جن کی ترقی ایک سطح پر آکر رک گئی ہے۔ کیوںکہ وہ کسی بھی اہم مسئلے میں Initiativeلے کر کام کرنے سے ’معذور‘ ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی، گلبرگہ

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

موقر ماہ نامہ زندگیِ نو ستمبر ۲۰۱۲؁ء میں برادرم عبدالاحد خاں صاحب سابق امیر حلقہ مدھیہ پردیش ، کا مراسلہ پڑھ کر تازہ ہوا کا جھونکا آتا ہوا محسوس ہوا۔ ساتھ ہی یہ شعر بھی زبان پر آیا:

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے

دیر آید درست آید کے مصداق ایک صحیح فیصلے کی مدافعت میں قلمی و عملی حق ادا فرمایا ہے۔ اب یہ کام سربراہان تنظیم کا ہے کہ تحریکِ اسلامی کے حلقوں میں بالخصوص اور مسلمانوں اور برادران وطن میں بالعموم تنظیم کا وسیع پیمانے پر تعارف کرائیں۔جو لوگ خصوصاً نوجوان اس کے ساتھ آرہے ہیں ان میں صحیح سیاسی شعور بیدار کرنے کااور تربیتی و اصلاحی نظام سے گزارنے کا بندوبست کریں۔اُن کو اخلاق وکردار پر مبنی کارِسیاست (Politics Based On Morality and Values) کے تقاضے سمجھائیں تاکہ وہ اقتدار کو خلقِ خدا کی خدمت کے لیے اور حقیقی فلاح کے ضامن اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے استعمال کریں۔

آج جو بددیانتی (Corruption)اور سیاسی اقتدار کا مجرمانہ استعمال (Criminalization)ہورہاہے اس کا علاج اور متبادل، پاکیزہ سیاست ہے جو صرف اور صرف ویلفیئرپارٹی آف انڈیا کے پاس ہے اور اس کو پرزور انداز سے پیش کریں۔

سیدشکیل احمد انور

6-3-1498 این جی اوکالونی ، ونستھلی پورم، حیدرآباد

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

ماہ اکتوبر ۲۰۱۲؁ء کا زندگی نو زیرمطالعہ ہے۔ چند تاثرات و تجاویز حاضر خدمت ہیں:

٭           زندگی کا شمار علمی و فکری رسائل میں ہوتاہے۔ اس کے قارئین و اہل قلم بھی اہل دانش ہی ہیں۔ لہٰذا اس میں ایسے مضامین شائع ہوں جن سے اہل علم کے علم میں اضافہ ہو، تحریکی افکار ونظریات کو تقویت حاصل ہو۔ زیرِنظر شمارے کے بیش تر مضامین صرف پندو نصائح پرمشتمل معلوم ہوتے ہیں۔

٭           ’مولانا ابواللیث ندویؒ  کے چند خطوط‘ دس صفحات پر شائع کیے گئے ہیں، ان خطوط کی اشاعت کی افادیت فہم سے بالاتر ہے۔

٭           ’آپ کی رائے‘ میں مستقل الیکشن، سیاست، سیاسی پارٹی وغیرہ کے متعلق خطوط کی اشاعت ایک طرف پالیسی اور پروگرام اور مرکزی شوریٰ کے فیصلوں کے مغائر ہے اور دوسری طرف اختلافات کو ہوا دینے کا سبب بھی ہے۔

٭           زندگی کے مضامین جامع، مدلل اور پالیسی کے مطابق ہونے چاہییں۔ اس میں ملک و ملت کو درپیش مسائل کا تجزیہ کیاجائے نیز باطل تحریکات کے عزائم وپروگرام سے آگاہی کا اہتمام ہو۔ اس کے علاوہ اسلامی تحریکات کی پیش قدمی کی رپورٹ پر مشتمل مواد آنا چاہیے۔ موجودہ دور میں مختلف نظام ہائے فکرو نظر اور طرزہائے حکومت کے مقابلے میں اسلام کو ایک متبادل کی شکل میں پیش کرنا چاہیے۔

٭           اکتوبر میں عیدالاضحی اور حج کی تاریخیں بھی ہیں لیکن زیرنظر شمارے میں اس موضوع پر کوئی مضمون نہیں ہے۔                                   عبدالغفار صدیقی

مرکزجماعت اسلامی ہند، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو،نئی دہلی

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

ایک مضمون ’تحریک اسلامی ہند اور امکانی مہلک خطرے‘ حاضر خدمت ہے۔ زندگی نو کی قریبی اشاعت میں شائع کرکے ممنون فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ ایک ہفتے قبل یہ مضمون E-mailسے روانہ کیا ہے۔ احتیاطاً ڈاک سے بھی روانہ کررہاہوں۔ رابطے کے لیے میرا موبائل نمبر بھی مضمون کے ساتھ شائع کردیجیے۔ ایک بات میں نے اس سے قبل بھی تحریر کی ہے کہ زندگی نو دو عدد ہر ماہ آرہاہے، اس کو روک کر صرف ایک عدد روانہ کیاجائے۔ مضمون تحریر کرتے وقت ۱۹۸۰؁ء کا اجتماع ناگپور یادآیا تو کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔ شرکا آپ کے تعلق سے اچھی رائے رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو احباب کی امیدوں پر پورا اتارے۔ آمین ۔

غلام رسول دیشمکھ

انجمن روڈ، بھُساول، مہاراشٹر

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

اتفاق سے ابھی چند لمحات قبل زندگی نو جون ۲۰۱۲؁ء کا اداریہ پڑھتے پڑھتے صفحہ ۶ کی آخری دوسطور تک اور صفحہ ۷ کی ابتدائی دوسطور تک پہنچا تو ایک خیال ذہن میں اُبھرا:جملہ یہ ہے: ’…اگر کسی علاقے کے باشندے اسلام کے تمدنی واجتماعی اصولوں کی برکتوں سے واقف ہوجائیں…‘یہاں ’ہوجائیں‘ کے بعد میں نے یہ نوٹ لگایا ہے: یہ بنیادی شرط ہے، اور صرف دعوت سے ہی پوری کی جاسکتی ہے۔ جب کہ مسلم قوم پرستانہ اپروچ اس کی ضد ہے۔ محض ’مسلمانوں کے مفادات‘ کے تحفظ کی فکر اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ تحریک اسلامی کاایک احتجاجی و مطالباتی اسلوب، اس کام کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ غیرمسلم اکثریت والے خطوں ﴿ملکوں﴾ میں اسلامی ریاست کا قیام ایک جذباتی اور خوش کُن مفروضہ بالکل نہیں بن سکتا۔ اور جناب عبدالاحد صاحب کا ’اقتدار کی کشمکش‘ کا فلسفہ تو اس کے یکسر Antitheticalہے۔ ﴿مصر اور تیونس کو جو لوگ نظیربناتے ہیں وہ جذباتیت اور عجلت پسندی میں اتنی موٹی اور اظہرمن الشمس بات بھی نظرانداز کردیتے ہیں کہ بھارت، مصر نہیں ہے نہ غزہ پٹی ہے نہ تیونس ہے۔ ان میں زمین آسمان کا، بلکہ غالباً اس سے بھی کچھ سوا فرق ہے﴾۔ ابھی آپ کے اداریہ سے مزیداستفادہ باقی ہے۔

محمد زین العابدین منصوری

دہلی

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

موقر ماہ نامہ میں برادرم محمد ابراہیم خاں صاحب ﴿اکولہ﴾ کامراسلہ چھپا ہے۔ پڑوسی ملک ﴿جومشرق و مغرب کے ممالک میں منقسم ہے﴾ اسلام کے نام پر تشکیل دیا گیا تھا۔ وہاں اسلامی نظام کے قیام کے لیے تحریک چلائی گئی۔ بدقسمتی سے جو صورت حال وہاں ہے وہ کچھ اس شعر کے مصداق ہے:

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

جب کہ برصغیر کی مجموعی صورت حال اس وقت یوں ہے:

دیکھ مسجد میں شکستہ رشتۂ تسبیح شیخ

بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ

اس میں کیا شک ہے کہ تحریکات اسلامی کا جو لٹریچر قیام جماعت سے قبل دس سال کے دوران وجود میں آیا وہ قیام نظام اسلامی کی تائید میں تھا۔ قائد تحریک اسلامی کی ماچھی گوٹ کے اجتماع کی تاریخی تقریر میں تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد بوجوہ اپنے نصب العین کا قرآنی متبادل ہم نے اختیار کیا۔ غالباً اس تبدیلی کے پیچھے یہ محرک بھی رہاہے کہ آزادی سے قبل کی تحریکی اصطلاحات کو بتدریج بدلنا ہے چنانچہ مجلس شوریٰ نے نئے لٹریچر کی تیاری اور بعدازاں قدیم لٹریچر پر نظرثانی کے فیصلے کیے۔ حیرت ہے کہ مجلس شوریٰ کی متعلقہ رودادیں مراسلہ نگار نے نہیں دیکھیں یا پھران فیصلوں کی تفصیلات مستحضر نہیں رہیں؟

اب رہانصب العین یعنی اقامت دین کی تفصیلات کا معاملہ تو اس کے مراحل فرد کاارتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل ہیں۔ البتہ ہمارے ملک میں اکثریت غیرمسلم ہے اور اسلام، نظام اسلامی اور تحریک اسلامی سے بدگمان، متوحش اور بے شمار غلط فہمیوں میں مبتلا ہے اِس صورت حال میں یہ کام محتاط رویے اور حکمت و تدبر کے متقاضی ہیں۔ مولانا ابواللیث ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی امارت کے ۳۵ برسوں ﴿دوقسطوں میں﴾ اس رویّے کی دریافت کی کوشش کی گئی ہے۔دستور جماعت جس مطلوبہ صالح انقلاب کا تذکرہ اپنے طریق کار میں کررہاہے اور اسے جن شرائط کے تحت بیان کررہاہے، انھی حدود کے اندر نصب العین کے تینوں مرحلے طے کرنے ہیں۔ ۱۹۶۰؁ء سے جو تشکیل جدید برصغیر کے اس خطۂ زمین میں تحریک کی ہوئی ہے اس کا نہایت سنجیدگی ومتانت سے کارکنانِ تحریک مطالعہ فرمائیں اور جن امور میں وہ متفق نہ ہوں انھیں تفرقے کا موجب نہ بننے دیں۔ اگرایسے فیصلے ہوئے جو تقسیم ہند سے قبل کے لٹریچر کے بعض حصوں کے مغائر ہیں توانھیں ملکی حالات میں انقلابی تبدیلیوں کے سبب ناگزیر سمجھیں۔ پڑوسی ملک میں قائدتحریک اسلامی کو بھی انھی حالات سے گزرنا پڑا جب انھوں نے پرانی روش کو نئی صورت حال کی وجہ سے بدل دیا۔اس سلسلے میں اراکین مجلس شوریٰ کے مقالات ﴿۲ حصوں میں﴾ ’مسئلہ انتخابات اور جماعت اسلامی ہند‘ اور’ جماعت اسلامی ہند کے ۲۷سال‘ ﴿مرتبہ افضل حسین مرحوم﴾ ضرور پڑھیں۔ مولانا ٹی کے عبداللہ صاحب کا ایک نہایت اہم انٹرویو ’رفیق منزل‘ کے اگست ۲۰۱۲کے شمارے میں چھپا ہے۔ اس کابھی مطالعہ فرمائیں۔

سیدشکیل احمد انور

6-3-1498 این جی اوکالونی ، ونستھلی پورم، حیدرآباد

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

میری جماعتِ اسلامی ہند سے ۱۹۹۲ئ سے وابستگی ہے اور میں ’ماہ نامہ زندگی نو‘ کا مستقل قاری ہوں۔ میری رائے یہ ہے کہ آج ہم لوگ اِسلامی انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اِس کا دُور دُور تک پتا نہیں ہے۔ کیا افرادی قوت کے بغیر دورِ حاضر میں اِسلامی انقلاب لایاجاسکتا ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارا رشتہ کچھ خاص لوگوں سے ہے، عوام سے کٹ چکاہے۔ یقین نہ آئے تو الیکشن میں حصہ لے کر دیکھ لیں معلوم ہوجائے گا کہ عوام ہم کو نہیں کسی اور کو پسند کرتے ہیں۔ وہ لوگ گھر گھر جاکر ہر چھوٹے بڑے سے مل کر سیکھو اور سکھاؤکا نعرہ بلند کرتے ہوئے لوگوں کو مسجدتک راست پہنچاتے ہیں۔ اور ہمارا حال کیاہے ، یہ سب کو معلوم ہے۔ رپورٹ میں تو تحریر ہے کہ ہم نے اس ہفتے دس غیرمسلموں سے ملاقات کی اور اِتنے ائمہ کرام سے ملاقات کی۔ لیکن ائمہ کرام کو جماعتِ اسلامی سے دل چسپی نہیں ہے۔ تعلیم کے دوران اُن کی تربیت ہی کچھ اِس انداز سے کی گئی ہے کہ وہ جماعت سے بھاگتے اور بدکتے ہیں۔ہمارے قائدین اور اُمرائے حلقہ دورے کرتے ہیں لیکن ہر علاقے اور ریاست کے حالات مختلف ہونے کی وجہ سے اکثر دورہ مفید نہیں ہوپاتا۔ اِن دوروں پر بڑے وسائل خرچ ہوجاتے ہیں۔ اگر اِن روپیوں سے مدارس کی ترویج اور ائمہ مساجد کی تعلیم و تربیت کا کام لیاجائے تو دن دور نہیں ہے جب ہمارا عوام سے رشتہ پھر سے مضبوط ہوجائے گا اور افرادی قوت بھی حاصل ہوجائے گی۔

محمداِسرافیل زیدی

اَرریہ، بہار

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau