آپ کی رائے

قارئین

مکرمی!

ممبئی کے حالیہ ادبی میلے میں مشہور ڈرامہ نگار گریش کرناڈ نے بڑی بے باکی کے ساتھ تنگ نظر ومتعصب اور مسلم دشمن خیالات ونظریات کے پھیلانے کے صلہ میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے مصنّف نائپال کو بھری محفل میں آئینہ دکھایا ہے۔ اس حق گوئی کے بعد گریش کرناڈایک وسیع النظر مصنف اور سچے ہندستانی بن گئے انھوں نے تاریخ سے ناانصافی اور تعصب زدہ سوچ کے برخلاف برملا حق اور صداقت کااظہار کیا ہے۔ یہاں ایک گہری زعفرانی سازش کے تحت تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اپنی تعصب زدہ سوچ کو ایک خاص مقصد کے تحت پھیلایا جارہا ہے۔ ابھی حال ہی میں نام نہاد بدعنوانی کے خلاف لڑنے والے وطن پرست مفکر نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ’’ملک کو مغلوں اور انگریزوں سے زیادہ کانگریسی اتحاد نے لوٹا ہے۔‘‘ اس جملے میں جان بوجھ کر تاریخ کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے اور ملک کی مالی سلامتی کے لیے فکر مند ، بدعنوانی کے خلاف برسرپیکار قدآور شخصیت کی بدنیتی ظاہر ہورہی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف کوششیں بہت ضروری ہیں مگر سوچ بھی صحیح ہونی چاہیے۔ نیت بھی اچھی ہونی چاہیے۔ کسی فرقے پر اس طرح جارحانہ حملہ کرنے سے بدعنوانی کے خلاف محاذ سے جڑے کارکنان کی سوچ چھلکتی ہے اور اس لیے ملک کا مسلم طبقہ اس ساری اچھل کود سے دور ہے۔

محترم مصنف گریش کرناڈ نے مسلمانوں کو ایک حوصلہ دیا ہے۔ جب کہ مخصوص زعفرانی سوچ کے تحت منظم سازشیں وطنِ عزیز کی تاریخ کو مسلسل مسخ کررہی ہیں۔تاریخ کی بدترین اور گھناؤنی سازش کے تحت ایک واضح تاریخی مسجد کو شہید کردیا گیا۔ وہی کھیل خفیہ طریقے سے تاج محل اور چار مینار کے خلاف کھیلا جارہاہے اور کئی تاریخی مقامات نشانے پر ہیں۔ حالانکہ تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم بھی وطن عزیز کا تقریباً ایک ہزار سالہ سنہری دور بہت اچھی طرح سے جانتا ہے، اِس سنہری دور میں وطن عزیز کو ایک حسین گلشن کی طرح، لہو دے کر سینچا گیا اور ایک خوبصورت دلہن کی طرح سنوارا گیا، اس کے بسنے والوں کو اپنے کنبے کی طرح چاہا گیا۔ ہندستان کے مسلم حکمرانوں نے اس ملک کو جو کچھ دیا ہے، اس کا تصور آج وہ عناصر کیا کریں گے جن کے حکمراں، بدعنوانیوں میں شیطان کو شرمندہ کرچکے ہیں۔ آج کے دور میں کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ مطلق العنان بادشاہ ، بلکہ شہنشاہ اپنے ہاتھوں سے قرآن کریم کی کتابت کرے اور ٹوپی بُنے، تاکہ اس کو دووقت کی روٹی ملے۔ کیا سرکاری خرچ پر اپنے نجی کاموں کے لیے پوری دنیا کی سیاحت کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ ایک شہنشاہ اپنے نجی کام کے لیے سرکاری چراغ کے تیل کااستعمال نہیں کرتا، بلکہ قلم کی سیاہی بھی استعمال نہیںکرتا۔

نادانوں کو لال قلعہ سے لے کر تاج محل اور قطب مینار، چار مینار تاج المساجد جیسی تاریخی تعمیریں جو پورے ملک میں بکھری ہیں نظر نہیں آتیں یہ سب مسلم حکمرانوں نے ملک کو ایک تاریخی یاد گار کے طور پر دی ہیں، وطن عزیز پر بکھرے ہوے کتنے ہی شہر ایسے ہیں جن کے بانی یہ معمار وطن تھے۔ کچھ تو آج بھی آباد، شادباد ہیں اور ان کے نام اعلان کرتے ہیں کہ وہ مسلم حکمرانوں کی باقیات ہیں جنھوں نے وطن عزیز کو کچھ دیا ہے، لیا نہیں ہے۔ اگر کسی نے لیا ہے تو اتنا ہی لیا ہے جتنا ان کی زندگی کے لیے ضروری تھا۔ آج کے حکمراںکررہے کیاہیں؟ لکھنے کی ضرورت نہیں۔

ملک کی سالمیت کو نام نہاد اسلامی دہشت گردی سے کوئی خطرہ ہے نہ تھا اور نہ ایسے آثار ہیں کہ مستقبل میں کسی تنظیم یا نام نہاد، مفروضہ انڈین مجاہدین سے کچھ خطرہ ہے۔ بلکہ ان سب سے بڑھ کر سپر پاور ملک چین سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے تو وہ وہی خطرہ ہے جس کو بڑے کھلے انداز میں ایس ایم مشرف صاحب نے ’کرکرے کے قاتل کون؟‘ میں بیان کیا ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکوں سے لے کر مکہ مسجد دھماکوں تک کی غرض وہی ہے جواب راز نہیںہے۔

محمد عامر،سرکل نمبر۳/۷، ممبئی سنٹرل جیل آرتھ روڈ ، ممبئی

محترم مدیرزندگی نو!     السلام علیکم

’’زندگی نو‘‘کے تازہ شمارہ فروری ۲۰۱۳؁ء  میں محترم احسن مستقیمی صاحب کا ایک مراسلہ مولانا محمد رضی الاسلام ندوی کے نام اور مولانا موصوف کی طرف سے اس کا جواب شائع ہوا ہے۔ مستقیمی صاحب کا سوال یہ ہے:’’کیا واقعی آپ پسندنہیں کرتے کہ آپ کا کوئی رفیق آپ کی تعریف وتحسین اور قصیدہ خوانی میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے؟ اگر پسند کرتے ہیں تو معلوم یہی کرنا ہے کہ کیا قرآن وسنت میں اس کی گنجایش نکلتی ہے؟ اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اس کی افادیت کیاہے؟‘‘مولانامحترم کا جواب پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقیمی صاحب کے اس مراسلے نے مولانا موصوف کے مزاج کو برہم کردیا ہے، جس کااظہار ان کے بعض جملوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً ’’ماہنامہ زندگی نو پر میرا کوئی زور نہیں ہے۔ اس جواب کی ایک نقل اس کے مدیر کو بھی دے دوں گا، اسے شائع کرنا یانہ کرناان کا کام ہے۔‘‘

بہرحال مولانا موصوف نے جو جواب عنایت فرمایا ہے، اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ ایک کتاب پر تعریف وتحسین کے ساتھ جو تعارفی تحریر شائع ہوئی ہے ،وہ نہ آپ کے قلم سے ہے اور نہ اس میں آپ کی مرضی شامل ہے۔ یہ سرتا سرمرکزی مکتبہ کے شعبہ ادارت کی کرم فرمائی ہے۔

محترم مستقیمی صاحب کے سوال کا جواب بھی دوٹوک انداز میں دے دیا گیا ہے کہ ’’اگر کوئی رفیق کسی مصنف کی تعریف وتحسین اور قصیدہ خوانی میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے تو یہ شریعت اسلامی میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ احادیث میں اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔‘‘ مگر حیرت کی بات ہے کہ مولانا از خود ایک مزید سوال قائم کرتے ہیں اور اسے منسوب مستقیمی صاحب کی طرف کرتے ہیں۔ جب کہ مستقیمی صاحب نے یہ سوال کیا ہی نہیں ہے۔ یعنی یہ سوال کہ ’’کیا تعریف وتحسین کی قرآن وسنت میں کوئی گنجائش نکلتی ہے؟‘‘ جواب میں موصوف نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’کسی کے منھ پر اس کی تعریف کی ممانعت کے سلسلے میں جواحادیث مروی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔‘‘ ان احادیث کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں ’’جن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کی تعریف اس کے منھ پر کرنا جائز ہے تو وہ بے شمار ہیں۔‘‘ ان میں سے آپ نے ستّرہ احادیث کا حوالہ دیا ہے۔ پھربتایا ہے کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے منھ اپنے محاسن بیان کرنے کی ایک صورت جہاں مذموم ہے وہیں دوسری صورت جائز یا پسندیدہ بھی ہے۔

میں بصد ادب مولانا محترم سے معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ کسی کے منھ پر اس کی تعریف کے جواز میں کیا یہ دلیل کافی ہوسکتی ہے کہ باپ اپنے بیٹوں ، استاد اپنے شاگردوں یا امیر حلقہ اپنے کارکنوں کی مخصوص صلاحیتوں اور خوبیوں کا تذکرہ کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ کیا یہ عمل بطور ثبوت پیش کیاجاسکتا ہے؟ اللہ کے رسولﷺ  کا یہ ارشاد کہ ’’میں پیغمبر ہوں اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ کیا یہ اس کے لیے وجہ جواز بن سکتا ہے کہ ازخود اپنی زبان اور اپنے قلم سے اپنی تعریف وتحسین کرے؟

ثمینہ مظہر فلاحی

میرٹھ یوپی

برادرمحترم ومکرم       سلام مسنون!

دسمبر ۲۰۱۲؁ء کے زندگی نو کے شمارے میں ’’دعوت دین کی منصوبہ بندی‘‘ کے سلسلے میں میرا مضمون شائع ہواہے۔ یہ دراصل تمل زبان میں دعوت دین کے مختلف پہلوؤں کے متعلق ایک کتابچے کا خلاصہ ہے ۔اس موضوع پر بدلے اور بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہے۔ امید ہے کہ دعوت کے میدان میں کام کرنے والے رفقائ،مردوخواتین ، اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔

البتہ ایک اہم پہلو اس مضمون میں شامل نہ کیا جاسکا وہ دعوت دین کے لیے جدید وسائل وذرائع میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا صحیح اور بھرپور استعمال ہے۔ ملک کے موقر ادارہ اسلامی فقہ اکیڈمی ﴿انڈیا﴾ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے بقول، کمپیوٹر، جدید دور میں قلم کی ایک اعلیٰ شکل ہے۔

یہ دعوت دین کا اور اپنی بات کو موثر ا ور بعجلت پہنچانے کا ایک اعلیٰ ذریعہ ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ سوشل نیٹ ورک اور U-tube کے ذریعے سے بھی ہم اپنی بات کو لاکھوں اور کروڑوں انسانوں تک گھر بیٹھے پوری دنیا میں پہنچاسکتے ہیں اور تبادلہ خیال کا موقع بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ ملک میں اور پوری دنیا میں اُمت کا ایک قلیل گروہ اس ذریعے کا بہتر اور نفع بخش استعمال کررہا ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ملت کا ایک بڑا طبقہ گروہی اور فقہی موشگافیوں اور بے مقصد بحث ومباحثہ کے لیے اِس ذریعے کااستعمال کررہا ہے اور تنازعات اور اختلافات کو اُجاگر کرکے نفع رسانی کے بجائے الٹا مضر اثرات پیدا کررہا ہے۔ چونکہ نوجوان اس ذریعے سے وابستہ ہیں اور خاصی دلچسپی بھی رکھتے ہیں، اس لیے میری گزارش ہے کہ اس موضوع کو قارئین زندگی نو کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کے صحیح اور بھرپور استعمال کے لیے مشورے اورمضامین طلب کیے جائیں۔ خوش قسمتی سے تحریک اسلامی ہند میں برادرم انجینئر محمد سلیم صاحب سکریٹری میڈیا کی شخصیت موجود ہے، جنھوں نے 3G سے آگے 4G میں اپنی ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے۔ وہ الحمدللہ عوامی رابطے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو دعوت دین کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کاایک واضح خاکہ تیار کرکے دیں۔ تاکہ عوام وخواص ، مردوخواتین اور خاص طور پر نوجوان اس سے کماحقہ فائدہ اٹھاسکیں۔

ایچ عبدالرقیب، چنئی

E-mail: [email protected]

Mobile: 094440 75501

مارچ 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau