آپ کی رائے

قارئین

گرامی قدر السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

’زندگی ٔ  نو‘ماہ جنوری کے اشارات ماشاء اللہ حرکت وعمل کو دعوت دینے والے ہیں۔ اداروں کے تئیں آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں جن نکات کو پیش فرمایا ہے، وہ فی زمانہ بے حد قیمتی ہیں۔ اداروں کے ذمے دار بلا کسی تحفظ کے اگر ان پر عمل کریں تو ان شاء اللہ نہ صرف وہ اداروں کو بہ حسن وخوبی چلا سکیں گے بلکہ مطلوبہ مقاصد بھی حاصل کرپائیں گے۔ ’عوام کے اندر صالح قیادت سے وابستگی اور غیر صالح قیادت سے بیزاری کے جذبات فروغ پائیں‘۔ اگر اس نکتے کو مسلمان سمجھ لیں تو امت سے قیادت کا بحران ختم ہوجائے گا۔ اِس ذیل میں آپ کے خیالات بلاشبہ تحریک اسلامی کے وابستگان کے لیے بھی غوروفکر کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ دوسری اہم ترین بات جس کی طرف فی الفور توجہ کی ضرورت ہے وہ ’’تصویر‘‘ سے متعلق ہے۔ تصویر کے فتنے کی جس انداز میں آں جناب نے وضاحت فرمائی ہے وہ لائق تحسین ہے ۔ کتنے افسو س کی بات ہے کہ تحریک میں بھی یہ فتنہ تیزی سے جڑ پکڑتا جارہا ہے۔ چناں چہ تحریکی اداروں کے تعارفی کتابچوں یا رپورٹ کے کتابچوں یا فولڈروں پر اصحاب تحریک کی تصاویر کو پیش کیا جارہا ہے، جس پرفی الفور روک لگانے کی شدید ضرورت ہے۔ جناب محمد رفعت صاحب کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازے اور وابستگان تحریک کو ان باتوں پر عمل کی توفیق بخشے۔ اُمید کہ اسی طرح برننگ عنوانات پر اشارات کا سلسلہ جاری رہے گا۔  محمد نصیرالدین۔ حیدرآباد

 

مکرمی!                      السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کچھ دنوں سے مسلمانوں کے سیاسی مسئلے میں مختلف حضرات اپنی آراء کااظہار کر رہے ہیں اور اس میں ٹیپ کا بندیہ ہے کہ مسلمانوں کو بھی اسی طرح جدوجہد کرنا چاہیے جس طرح مایاوتی نے یوپی میں کی ہے۔ ہم ان تمام دانشورانِ سیاست اور مفکرین کو بڑے ادب سے کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے مسئلے میں اتنا سہل انگاری سے کام نہ لیجیے۔ ہندستان میں سیاست کی بیل ایک قوم کے غیر منطقی نظریے پر پروان چڑھی ہے۔ ایک قوم تصور کرنے اور ایک ہونے میں بنیادی فرق ہوتا ہے اور حقیقی دنیا میں اس کا کہیں وجود نہیں ہوتا۔ ممالک کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ ہم نے مختلف مواقع پر یہ بات کہی ہے کہ مختلف مذاہب و تہذیبوں کے ملک میں ایک قوم کا تصور کرکے اکثریت کے انتخاب کا جو اصول رائج کردیا جاتا ہے، وہ بہ جائے خود ناانصافی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ گویا یہاں جو اکثریت ہے وہ اس دستور کے تحت حکمرانی کرے گی۔ یہاں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور وہ حکمرانی کا حق اپنے لیے دستوری طور پر حاصل کرچکے ہیں۔ دوسری اقوام جو اکثریت میں نہیں ہیں، ان کے لیے کیا مواقع ہیں اِلّا یہ کہ دستور میں کچھ تحفظات دیے جائیں جن پر عمل کرنا نہ کرنا اکثریت کے رحم وکرم پر ہوگا۔

حال ہی میں کانگریس کے مسلمان قائد راشد علوی نے کہاہے کہ اگر مسلمان کی بنیاد پر تحفظات دیے جائیں تو بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ یہی سیاسی مصلحت اور ضرورت ہے جو سچر کمیٹی کی رپورٹ پر عمل درآمد میں مانع ہے۔ اس سلسلے میں سچر کمیٹی کے رکن نے اظہار کردیا ہے کہ حکومت اس پرعمل کرنا نہیں چاہتی۔ اب کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑے۔ اس کے لیے کوئی اخلاقی بنیاد نہیں اور جمہوری بنیاد تو عمل نہ کرنے کی ہے۔ کیوں کہ اکثریت حامی نہیں ہے اور اکثریت کی حکمرانی کا اصول رائج ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کادوسری اقلیتوں کی طرف دیکھنا اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا کسی طرح سے صحیح نہیں ہے۔ نہ تدبیر کے لحاظ سے اور نہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل حیثیت کو فراموش نہ کریں۔ بلکہ ایک بامقصد و اصولی گروہ کی حیثیت سے سیاست میں حصہ لیں۔ اپنے مقصد ونصب العین سے عوام کو متعارف کرائیں۔ توحید ،آخرت اور رسالت کے تقاضوں کو بھی پیش کریں۔ اس بات کو واضح انداز میں پیش کریں کہ ہم خدا کی زمین پر خدا کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ سارے معاملات اخلاقی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں ۔ عزت و شرف کا معیار کردار کو بنایاجائے گا۔ اس کے لیے خود مسلمانوں کو اپنا انداز بدلنا پڑے گا۔ اب تک جس طرح کا طرز عمل اختیار کیاگیا ہے اس کو یکسر بدلنا ہوگا۔ یہ حقوق کی لڑائی، مفادات کے تحفظ کا مطالبہ اور دستوری تحفظات کے مطالبے سے دستبردار ہوناپڑے گا۔ اس کے برعکس ہمیں ذمے دارانہ انداز اختیار کرنا پڑے گا۔ معاشرے کی فلاح اوربھلائی کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔ معاشی استحصال کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ عورت ومرد کے درمیان عدل، ذات پات ، اونچ نیچ کی تفریق اپنے عملی رویے سے کرنی ہوگی۔ مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہونا پڑے گا اور اس کے لیے کسی سے بھی لڑجانے میں عار نہیں ہوناچاہیے۔ اسلام کے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب خلافت کی ذمے داریاں سنبھالیں تو پہلے ہی خطبے میں اس کااعلان کیا، جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے۔ جب تک میں اس سے حق نہ لے لوں جو اس نے غصب کیا ہے۔ میرے نزدیک جو کمزور ہے وہ طاقتور ہے، جب تک میں اس کو اس کا حق نہ دلا دوں۔ یہی انداز حکمرانی معاشرے کے مسائل حل کرسکتا ہے۔

ابوالکرم عرفان، حیدرآباد

مکرمی ایڈیٹر! ماہ نامہ ’’زندگی ٔ نو‘‘    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

دعا گو ہوں کہ تحریک اسلامی واقامت دین کے ترجمان ماہ نامہ ’’ زندگی ٔ  نو‘‘ کی شناخت سدا اسلامی رہے۔ ادب وثقافت اسلامی عَلَم کے تحت بہ قدر ضرورت پروان چڑھے۔ ذیل کے امور میں سنجیدگی سے توجہ کا طالب ہوں۔ مضامین کی کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کا معیاری اہتمام ہونا چاہیے۔ تاکہ ماہ نامہ ’’زندگی ٔ  نو‘‘ کے معیار کی بلندی برقرار رہے۔ اس کی ضرورت اور اہمیت سے ادارہ بہ خوبی واقف ہے۔ماہ دسمبر ۲۰۱۱؁ء کے ’’زندگی ٔ  نو‘‘ میں شائع ہونے والا مضمون ’’اولاد کے حقوق‘‘ اچھی کاوش ہے۔ اس مضمون کے صفحہ ۴۱ پر حضرت ابراہیم ؑ  کی دعا اپنی اولاد اور آنے والی نسل کے لیے حوالہ یکسر علاحدہ ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت :۱۳۶ کے بہ جائے سورۃ البقرہ کی آیت: ۱۲۴۔۱۲۶﴾ ہونی چاہیے تھی۔ ترجمہ درست اور آیت یکسر علاحدہ ہے۔ عام قاری کے لیے یہ بڑی ہی Miss Guiding  والی بات ہے۔

’’زندگی ٔ  نو‘‘ دسمبر۲۰۱۱؁ء ہی کے ’’نقد وتبصرہ‘‘ والے اوراق بھی ادب وثقافت کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں —’’ زندگی نو ‘‘ خالص تحریکی جریدہ ہے اور اپنے نصب العن ’’اقامت دین‘‘ کا بنیادی طور پر اپنی ابتداء سے ترجمان رہا ہے اوران شاءاللہ رہے گا۔ اس جریدے کاایک ایک حرف وسطر تحریک اسلامی کی امانت ہے۔ غیر معیاری مضامین سے گریز فرمائیں۔

ڈاکٹر محمد مجتبیٰ حسین ﴿ابوطلحہ﴾

مدینہ منورہ﴿سعودی عربیہ﴾

اپریل 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau