آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

یوں تو میں ’’زندگی ٔ نو‘‘ کا قدیم قاری اور خریدار ہوں۔ مولانا سید احمد عروج قادری سے ڈاکٹر رفعت صاحب تک درمیان میں ’’زندگی ٔ نو‘‘ کامعیار ومضامین اس قدر غیر معیاری ہوگئے تھے کہ کئی کئی ماہ کے پرچے آتے اور میں ان کو کھولنا تک گوارا نہیں کرتاتھا۔ تازہ زندگی ٔ نو مئی ۲۰۱۲؁ء آیا اس کے ایک گھنٹے بعد جناب وحیدالدین سلیم صاحب کا فون آیا کہ میاں سعید کیا تمھارے پاس مئی کا زندگی ٔ نو آیا ہے اور انھوں نے رفعت صاحب کے اداریے کی بہت تعریف کی اورمیں نے پرچہ کھول کر پڑھنا شروع کیا، ایک ہی دن میں مکمل پرچہ شروع سے آخر تک پڑھ لیا اور ایک عرصۂ دراز کے بعد پرچہ پڑھنے پر مسرت نصیب ہوئی۔

﴿۱﴾ اداریہ اس لیے پسند آیا کہ اس میں سیدی ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت اسلامی کو اصل نصب العین اقامت دین کو بے مقصد (De Rail) ہونے سے بچانے کی حتی المقدور یہ ایک سعی ہے۔

﴿۲﴾ ’’والعصر‘‘ مضمون معیاری ہے ،مگر بعض آیات کا ترجمہ تفہیم القرآن کے علاوہ بھی لیاگیا ہے ۔ بہتر ہے کہ مضمون نگار ترجمے کے ساتھ حوالے کا اہتمام کریں یا نوٹ لکھ دیں کہ اس کی نوعیت معلوم ہو۔ قرآن مجید کے ترجمے اور ترجمانی میں احتیاط جماعت اسلامی کی پہچان ہے۔ اس مضمون میں دو جگہ پروف کی غلطی ہے ۔ صفحہ ۲۴ پر زمی لکھا ہوا ہے اس کو زمین اور صفحہ ۲۷ پر جگ ہے اس کو جگہ ہونا تھا۔

﴿۳﴾ برکت کا مفہوم ۔ مفتی تنظیم عالم قاسمی۔ مضمون اچھا ہے۔

﴿۴﴾ جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور علم دین، ڈاکٹر سیدعبدالباری کا جاندار مضمون ہے۔ ’ثانوی درس گاہ ‘ کا تذکرہ پڑھ کر قلبی مسرت کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ مگر اس نوعیت کی ضرورت کل بھی تھی، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ کیا اس کے احیائ کی صورت ممکن ہے؟

﴿۵﴾ انعام الرحمن خاں صاحبؒ کے عنوان سے ڈاکٹر تابش مہدی صاحب کا مضمون پرچے کی جان ہے۔ میں نے ان کے شاگرد جناب اشفاق صاحبکو جو رائے پورمیں رہتے ہیں، فوری فون پر بتایااور ’’زندگی ٔ نو ‘‘ مئی میں مولانا انعام الرحمن صاحب پر شاندارمضمون پڑھنے کے لیے کہا ۔ وہ جماعت کے رکن رہ چکے ہیں۔ اب بہت نالاں ہیں، مگر بہت مخلص ہیں۔ وہ انجینئر ہیں۔

﴿۶﴾ ’’آپ کی رائے‘‘ میں اظہار رائے ، تنقید کی آزادی ہے مگر معیاری۔

جناب سید شکیل احمد انور صاحب کا موقف نہایت مجہول ہے۔ یہ لوگ اگرمحترم انعام الرحمن صاحب ؒ جیسے مخلصین کی تربیت سے محروم نہ رہتے تو جماعت اسلامی کے لیے مفید ثابت ہوتے۔

احمد ابوسعید۔ حیدرآباد

09949035357

 

مکرمی ومحترمی!

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ سے کسی نے ان کی اسناد کے بارے میں معلوم کیا تھا کہ انھوں نے کہاں کہاں سے فراغت حاصل کی ہے۔ مولانا مرحوم نے جواباً تحریر فرمایا تھا کہ سند فراغت تو ان سے معلوم کرنا چاہیے جنھوں نے کوئی کام نہ کیا ہو۔ میں نے کام کیا ہے میرا کام چھُپا ہوا نہیں چھپا ہوا ہے۔ ہر ایک اسے دیکھ سکتا ہے۔ ﴿مفہوم اپنے الفاظ میں﴾

مولانا مودودیؒ کی کسی تحریر یا کسی کتاب کے تعارف کے لیے ان کی ’’سند فراغت‘‘ کو کبھی ذریعہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مولانا کی تحریروں اور تصانیف نے اور ان کی دینی وملی خدمات نے خود ان کا تعارف کرایا ۔ یہی کیفیت اور صورت حال مولانا مودودیؒ کے ہم عصردیگر تحریکی قائدین کی تھی ۔ مولانا صدرالدین اصلاحی ، مولانا سید حامد علی، مولانا سید احمد عروج قادری اور نعیم صدیقی وغیرہ ان میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اپنی اسناد اور مبالغہ انگیز القاب وآداب کی وجہ سے متعارف ہوا ہو۔ کسی نے کبھی یہ شکایت نہیں کی کہ ان کے مضامین اور ان کی تصانیف کا رفقاء مطالعہ نہیں کرتے۔ مگر اب صورت حال تبدیل ہورہی ہے۔ ’’زندگی ٔ نو‘‘ ماہ مئی کے شمارے میں دو بزرگ قائدین تحریک کی دوکتابوںکا تعارف نامہ شائع ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’کتاب مقصد زندگی کا اسلامی تصورکے مصنف مشہور ماہر اسلامیات اور فلسفے کے ممتاز عالم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری ہیں۔ انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی۔ اے، فلسفے میں ایم اے، پی ایچ ڈی اور ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ایم ٹی ایس کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے بعد سوڈان یونیورسٹی ، ظہران یونیورسٹی ﴿سعودی عرب﴾ اور امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض ﴿سعودی عرب﴾ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے طور پر علمی خدمات انجام دیں‘‘۔ صفحہ ۵۷، ۵۸

اسی طرح ایک دوسرے قائد تحریک اور عالم دین بزرگ کی ایک کتاب ’’دعوت وتربیت‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے ضروری سمجھا گیا کہ قائد کے مقام ومنصب کو بھی پُرزور انداز میں پیش کیا جائے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ’’یوں تو مولانا سید جلال الدین عمری ﴿پیدائش: ۱۹۳۵ئ﴾ کی شہرت عالم اسلام کے نام ور عالم دین، ممتاز محقق اور صاحب طرز مصنف کی حیثیت سے ہے۔ عصر حاضر کے اہم سماجی موضوعات پر ان کی تصانیف علمی و دینی حلقوں میں مقبول ہیں لیکن ان کی شخصیت کاایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک قادرالکلام اور بے مثال خطیب بھی ہیں۔ قرآن وسنت سے ماخوذ دلائل، طرز استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی تقریر اور تحریر دونوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔‘‘ ﴿ص:۸۸﴾

یہ دونوں بزرگ شخصیتیں ہم سب کے لیے انتہائی معزز اور قابل احترام ہیں۔ پروفیسر محمد عبدالحق انصاری صاحب پورے چار سال جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ہیں۔ ان کے متصلاً بعد سے مولانا جلال الدین عمری صاحب گزشتہ پانچ سال سے جماعت اسلامی ہند کے منصب امارت پر فائز ہیں۔ کیا یہ دونوں شخصیتیں اس کی محتاج ہیں کہ ان کی اسناد اور مبالغہ انگیز القاب و آداب کو ان کی طرف منسوب کرکے ان کی کتابوں کا تعارف کرایا جائے؟ اور اس طرح رفقاءجماعت ان سے مرعوب ہوکر ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگیں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔ شخصیتیں اپنی عظیم خدمات سے پہچانی جاتی ہیں۔ کوالیفکیشن ، اسناد اور القاب ان کی عظمت کا معیار نہیں ہیں۔ مذکورہ دونوں بزرگوں سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ ان کی کتابوں کے اشتہاربھی بڑے پیمانے پر اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں اور کتابوں سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ جو حضرات اس طرح کے تعارف نامے تیار کرتے اور شائع کراتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان کی یہ ’’خدمات‘‘ ہمارے ان قائدین تحریک کے شایان شان نہیں ہیں۔

احسن مستقیمی۔ میرٹھ

 

مکرمی ومحترمی!

میرٹھ کے ابواختر اعظمی صاحب کافی منجھے ہوئے قلم کار ہیں۔ موصوف کی فکر، تنقید ی انداز بیان اور قدیم تحریکی اصطلاحات سے ان کی وابستگی جا نی پہچانی ہے۔ احقر کے کتابچے : ’’تحریک اسلامی۔ مرحلے اور تقاضے‘‘ کے حوالے سے موصوف کا تجزیہ گزشتہ سال بھی قارئین کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ ابوالکرم عرفان صاحب گزشتہ چالیس سال سے مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ اب ان قدیم فکری وعملی زاویوں سے انھوں نے جماعت اسلامی ہند کے میقاتی پالیسی و پروگرام بابت اپریل ۲۰۱۱ئ تا مارچ ۲۰۱۵ئ پر ’’ناقدانہ نظر ‘‘ ڈالی تھی اور وہ مضمون اتفاق سے ماہ نامہ زندگی نو کے صفحات میں بلا تبصرہ شائع ہوگیا تھا۔

آزادیٔ ہند سے قبل برصغیر کے مخصوص سیاسی وسماجی حالات میں تحریکی فکر کا جو سرمایہ تشکیل پایا تھا وہ ہمیں ورثے میں ملا۔ کیا یہ مناسب تھا کہ یہ نہایت قیمتی سرمایہ تقسیم ہند کے بعد جماعت کا واحد اثاث البیت بنا رہتا اور اس میں ذرہ برابر کمی وبیشی نہ ہوتی اور بدلے ہوئے حالات میں جو نئے تقاضے فکری وعملی چیلنجز کی شکل میں درپیش آرہے تھے ان کا کوئی نوٹس نہ لیا جاتا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اگر جامد واندھے مقلدین کا کوئی گروہ یہاں چھوڑ کر ہجرت فرمائی تھی تو بلاشبہ ایسا ہی ہوتا۔ ہندوستان میں تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل نامی کتابچے سے آگے قدم بڑھانے کی کوئی جرأت کرسکتا تھا؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۶۰ئ تک اس پر عمل کرکے جب سے نئے میقاتی پالیسی وپروگرام شروع ہوئے سابقہ لائحہ عمل کو منسوخ کردیاگیا۔ شاید کچھ لوگ اب بھی اسے رائج سمجھے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی کی دعوت کے نام سے سید مودودیؒ کی جو تقریر دارالسلام پٹھان کوٹ ﴿برصغیر میں جماعت اسلامی کا پہلا مرکز﴾ میں ہوئی تھی وہ آزادیٔ ہند سے قبل جماعت کے چار منطقہ واری اجتماعات کے سلسلے کی آخری تقریر تھی جو شمال مغربی ہندوستان کے ان ارکان جماعت کے اجتماع کی تقریر تھی جن میں سے بیشتر موجودہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ اس تقریر کے مخاطب وہ لوگ تھے جنھیں مستقبل میں قرارداد مقاصد منظور کرنا تھی۔ حاکمیت الٰہ نفاذ شریعت وغیرہ کے اصول جو اس کتابچے میں وضاحت سے بیان ہوئے ہیں وہ ہماری ﴿ہندوستانی وا بستگان تحریک کی﴾ دعوتی ترجیحات نہیں ہوسکتے تھے۔ تبھی تو ۱۹۶۰ئ اور ۱۹۷۱ئ میں ہمیں سیکولر جمہوری نظام کی جزوی تائید میں قراردادیں لانا پڑیں۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ کتابچے میں بیان کردہ اصولوں کی جامد تعبیر اور مطلق تشریح کی من وعن پیروی میں مذکورہ قراردادوں کا کیا جواز تھا؟ ایک عجیب اتفاق ہے کہ سنگھ پریوارہندتوا کے مقابلے میں سیکولر جمہوری نظام کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا بلکہ وہ اسے مسلمانوں کی چاپلوسی پر مبنی سمجھتا ہے۔ ہماری جماعتی برادری میں کچھ لوگ اسے باطل نظام قرار دے کر ٹھکرا رہے ہیں۔ ا ن دونوں کے محرکات جداگانہ مگر ہدفِ تنقید ایک ہی ہے۔

جماعت موجودہ نظام کو غیر اسلامی او ر خلاف حق سمجھتی ہے مگر ہندتو ا اورفسطائیت پر مبنی کسی نظام کے مقابل ایک کم تر برائی کے طور پر گوارا کر رہی ہے۔ ہمارے کلیت پسند رفقاء کو یہ کب گوارا ہے؟ جماعتی حلقوں میں فکری الجھنوں کا اصل سبب یہی ہے کہ آزادی ہند سے قبل جو لٹریچر غیر منقسم ہندوستان میں اسلامی نظام کے قیام کی تائید میں لکھا گیا تھا وہ مسلسل شائع ہورہا ہے جبکہ ہماری دعوتی، اصلاحی، تعلیمی ترجیحات اور ملکی وملی مسائل وموضوعات کی وضاحت وتفصیل کے سلسلے میں نیا لٹریچر نہیں کے برابر ہے۔ حالانکہ نئے لٹریچر کی ضرورت کا شدومد سے اظہار گزشتہ ساٹھ سالوں سے برابر ہورہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جماعتی ملی وملکی حالات پر جو فیصلے ہوتے ہیں ان کے سلسلے میں کامل فکری یگانگت عملی تسلسل اور تیز تر جدوجہد میں کمی محسوس ہوتی ہے۔  والسلام

سید شکیل احمد انور

22-8-585، اسلامک سنٹر ، لکڑکوٹ، چھتہ بازار، حیدرآباد۔۲

محترم مدیر!

مئی کے شمارے میں مضامین بہت اچھے رہے۔ اسی طرح اس معیار کو قائم رکھیں۔ اس وقت امت مسلمہ میں مسلکی اختلافات بہت خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

ایم نصیر

مالیر کوٹلہ ﴿پنجاب﴾

جولائی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau