اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

شیخ علی طنطاوی ترجمہ - برہان احمد صدیقی

آئیے ہم آپ کو ایک نہایت سنگ دل سلطان کے دربار میں لے چلتے ہیں۔ یہ سرزمین ترک کا سلطان ہے، لیکن اب یہ مصر اور شام کا فاتح بھی ہے۔ عالم اسلام کا دار خلافت کبھی بغداد ہوا کرتا تھا، اسے ترکی منتقل کرنے کا سہرا اسی سلطان کے سر جاتا ہے۔ یہ وہ ہے، جس نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو تاریخ کا حصہ بنایا اور ایک عظیم متحد سلطنت کی بنا ڈالی، ایسی سلطنت جسے تلوار نے قائم کیا اور جب وہ تلوار زنگ آلود ہوگئی اور اس کی دھار ٹوٹ گئی، تو اس کے سہارے کھڑی سلطنت بھی لڑکھڑا گئی اور زمیں بوس ہوگئی۔ اب وہ ماضی کا فسانہ ہے۔

’یاوز‘ اس کا لقب تھا، وہ تھا بھی درحقیقت ایک یاوز یعنی کوندتی بجلی، جس کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت کسی میں نہ تھی، یہ سلطان سلیم کا ذکر ہے، عثمانی سلطنت کا نواں بادشاہ، بے رحم، سنگ دل، جس نے بے دریغ خون بہایا، لاشوں کے انبار لگائے۔ جب اس نے ’حلب‘کے باشندوں کو ان کی جان و مال کی امان دی تو بدلے میں ان پر بھاری ٹیکس عائد کردیا، ان کی معیشت کو تباہ کردیا اور انھیں بدحال بنا دیا۔ یہ وہی بادشاہ تھا جس نے پہلے تو مصر کے سلطان کو پیغام بھیجا اور اس سے دعائے خیر کی درخواست کی پھر اسی کے قتل کا حکم بھی صادر کردیا۔ اسی سلطان نے اس ’جاویش‘کو بھی قتل کیا جس نے اس کے خلاف ہمت دکھائی، اسی بادشاہ نے ’رملہ‘کے باشندوں کا صرف اس افواہ کے چلتے قتل عام کردیا کہ انھوں نے اس کی فوج میں سے ایک سپاہی کو قتل کیا ہے۔

گویا، قتل اس کے نزدیک سب سے آسان کام تھا، جب اسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے بھائی منصب خلافت میں اس کے حریف نہ بن جائیں تو انھیں گلا گھونٹ کر مروادیا، اس نے اپنے ہی خاندان کے تقریبا سترہ افراد کو قتل کرایا، اور اپنے سات وزیروں کو سزائے موت دی۔ ایک بار اس کے وزیر اعظم ’یونس باشا‘نے اس کی بات کاٹی تو بادشاہ نے اس کی گردن کاٹنے کا حکم دے دیا جس کی تعمیل بالفور کردی گئی، اور اسے اسی جگہ دفن بھی کردیا گیا۔ حالاں کہ وزیر کی بات درست تھی۔

سلطان سلیم نے فتح کے بعد جب شرکسی قبائل کی جائیداد انھیں کے حوالے کردی تو اس کے صدر وزیر ’بری پاشا‘نے کہا:   بادشاہ سلامت!  ان سے جنگ کرنے میں ہم نے اپنا مال کھویا اور جانیں گنوائیں، کیا ان کی جائیداد یوں ہی ان کے لیے چھوڑ دینا مناسب ہوگا کہ وہ ان کے بل پر پھر ہمارے خلاف تیاری کریں؟ سلطان کا ابھی ایک پیر گھوڑے کی رکاب میں ہی تھا اور دوسرا زمین پر تھا کہ اس نے جلاد کو اشارہ کیا اور پلک جھپکتے وزیر کا سر قلم کردیا گیا۔ اس کے گھوڑے پر سوار ہونے سے پہلے وزیر کا سر زمین پر گر چکا تھا۔ وزرا کی گردن زدنی دیکھ لوگوں کے درمیان یہ کہاوت مشہور ہوگئی کہ موت کا خواہش مند شخص، سلطان سلیم کا وزیر بن جائے۔

وزرا کے درمیان خوف کا عالم یہ تھا کہ جب کوئی شخص وزارت کے لیے نامزد کیا جاتا، وہ پہلی فرصت میں اپنا وصیت نامہ لکھتا، اپنا کفن تیار کرتا اور اپنے اہل وعیال سے الوداعی ملاقات کرلیتا۔ اسے ہمیشہ اپنے انجام کا خوف دامن گیر ہوتا، نہ جانے سلطان کے دربار میں حاضری کی صورت میں وہاں سے واپسی اپنے قدموں سے ہوگی یا کسی کے کندھے پر!

ایک دن کی بات ہے، درباری اپنی اپنی جگہ ڈرے سہمے بیٹھے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف عیاں تھا۔ نہ جانے کسے حاضری کا حکم ہو اور وہ خلعتوں سے سرفراز کیا جائے اور کون عتاب کا سزاوار ٹھہرے اور کسے کب بادشاہ سلامت کی ناراضی ہمیشہ کے لیے برطرف کردے۔

اسی درمیان، انھیں حضرت قاضی صاحب کی غیر متوقع آمد نے سراسیمہ کردیا، کیوں کہ نہ دربار میں ان کا کوئی کام ہوتا اور نہ وہ ادھر آیا کرتے۔ انھیں دیکھتے ہی بڑھ کر سب نے ان کا استقبال کیا اور صدر مجلس کی کرسی پر لا بٹھایا۔

دربار میں حضور کی تشریف آوری کی کوئی خاص وجہ؟ کسی نے دریافت کیا۔

مجھے سلطان سے ملنا ہے، ایک اہم بات کرنی ہے۔

درباریوں کی حیرت اور بڑھی۔ دربان نے بادشاہ سلامت سے اجازت طلب کی، اور بادشاہ نے تنہا قاضی صاحب کو داخلے کی اجازت دے دی۔

قاضی صاحب داخل ہوئے، سلام کیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔

سلطان قاضی صاحب کو دیکھتا رہا، غصہ ضبط کرنا اس کے لیے محال ہورہا تھا، لیکن وہ غصہ دبائے خاموش بیٹھا تھا، آخر ماجرا کیا ہے؟ کیوں یہ صاحب بغیر بلائے چلے آئے، اور بغیر اجازت بیٹھ گئے۔

قاضی صاحب پرسکون لہجے میں گویا ہوئے:  فتوی دینے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سلطان کی عاقبت بچانے کی بھی فکر کریں۔ آپ نے اپنے دربار کے ڈیڑھ سو آدمیوں کے قتل کا حکم صادر کیا ہے، ان کا قتل شرعی اعتبار سے جائز نہیں، ضروری ہے کہ آپ ان سے درگزر کا معاملہ کریں۔

قاضی صاحب کی اس جرأت پر سلطان آگ بگولا ہوگیا، مارے طیش کے اسے کچھ دکھائی نہ پڑ رہا تھا۔ وہ قاضی صاحب کا سر قلم کرنے کا حکم دینے کو ہی تھا- ویسے بھی قتل کا حکم ہمیشہ اس کی نوکِ زبان پر ہوتا- لیکن اس نے اپنے غصے پر قابو رکھا اور قتل کے بجائے سرزنش کو کافی سمجھا۔

بادشاہ قاضی سے مخاطب ہوا:

آپ حکومت کے معاملے میں مداخلت کر رہے ہیں اور یہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں۔ بادشاہ سمجھا قاضی صاحب مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں کریں گے اور چلے جائیں گے۔

لیکن قاضی صاحب نے پلٹ کر جواب دیا:  میں تمھاری عاقبت کی خاطر اس میں مداخلت کررہا ہوں اور یہ میرے فرائض میں ہے۔ آپ کتنی بھی لمبی عمر پالیں لیکن ایک دن مرنا ضرور ہے، اور پھر آپ اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اس رب کے سامنے آپ حساب دینے کے لیے کھڑے رہیں گے۔ اگر وہ معاف کردے تو نجات مل جائے گی اور اگر وہ معاف نہ کرے تو آپ کے سامنے جہنم ہوگی۔ آپ کی یہ سلطنت اور آپ کی یہ بادشاہت آپ کو بچا نہیں پائے گی۔

جانتے ہو اس کے بعد کیا ہوا؟

جاہ جلال والا سنگ دل بادشاہ، کم زور و ناتواں قاضی کے سامنے جھک گیا، طاقت حق کے سامنے سرنگوں ہوگئی، اپنے وقت کا عظیم سلطان شریعت کے سامنے لا جواب ہوگیا، کیوں کہ اس کے سامنے اب قاضی نہیں بلکہ وہ عظمت بول رہی تھی جس سے عظیم تر کا زمانے نے مشاہدہ نہیں کیا، وہ اسلام کی عظمت ہے۔

ایک بے انتہا سخت گیر سلطان نے ایک حق گو عالم کی بات مان لی۔ وہ عالم جسے اللہ کے علاوہ کسی اور کی پروا نہ تھی۔ سلطان نے ان سارے لوگوں کو معاف کردیا۔

مفتی صاحب کچھ دیر اور بادشاہ کے پاس بیٹھے رہے۔ سلطان ان کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے ادب و احترام سے ان سے باتیں کرتا رہا۔

جب قاضی صاحب جانے کے لیے کھڑے ہوئے، تو سلطان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:  اب تک میں نے جو کچھ آپ سے کہا وہ آپ کی اخروی عاقبت کے حوالے سے کہا، اب آپ سے ایک بات آپ کے حسنِ اخلاق کے حوالے سے کہنی ہے۔

سلطان نے پوچھا:  بتائیں، وہ کیا بات ہے؟

قاضی صاحب:  یہ ڈیڑھ سو افراد جنھیں آپ نے سزائے قتل سے معافی دی ہے، یہ سب دربار سلطانی کے خدام تھے، کیا سلطنت کے شایان شان ہوگا کہ اب یہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں؟

بادشاہ:  بالکل نہیں

قاضی صاحب:  تب انھیں ان کے مناصب پر بحال کردیجیے۔

سلطان:  مناسب ہے، لیکن انھیں اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کی سزا ضرور دوں گا۔

قاضی صاحب:  یہ جائز ہے، کیوں کہ شریعت کی رو سے قصور وار کو تعزیری سزائیں دینا سلطان کی صواب دید پر ہوتا ہے۔ پھر سلام عرض کیا اور دربار سے چلے گئے۔

یہ بے باک، حق کے پاسباں، مفتی علاء الدین احمد بن علی الجمالی تھے، آپ سلطان بایزید، سلطان سلیم اور اس کے بیٹے سلیمان قانونی کے دور میں ۲۶ سال تک شیخ الاسلام کے منصب پر فائز رہے اور افتاء و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ آپ نے دمشق میں بڑی خانقاہ تعمیر کی جس کے احاطے میں مسجد، مدرسہ، بازار وغیرہ تھے۔

آپ ایک باعمل عالم دین تھے، اپنا پورا وقت تلاوت، عبادت، درس وتدریس اور فتاوے میں گزارتے۔ باوجود تمام مصروفیات کے آپ پانچوں وقت نماز باجماعت ادا کرتے۔ آپ بہت سخی، با اخلاق، بارعب، حق گو، منکسر المزاج، نرم زبان تھے۔ کبھی کسی کی برائی نہیں کرتے، زباں پر کبھی کوئی فحش لفظ نہ آتا، عبادت کا نور پیشانی سے عیاں ہوتا۔ آپ کو تنہائی پسند تھی، اسی لیے اپنی آرام گاہ الگ تھلگ کر رکھی تھی۔ جس کی کھڑکی راستے کی طرف کھلتی، وہیں سے آپ ایک ٹوکری رسی میں باندھ کر باہر لٹکا دیتے، جس کسی کو کوئی سوال پوچھنا ہوتا وہ لکھ کر اسی ٹوکری میں ڈال دیتا اور رسی کو ہلاتا۔ قاضی صاحب رسی کھینچ لیتے اور اس کے سوال کا تفصیلی جواب دلائل کے ساتھ دیتے۔ یہاں تک کہ آپ کا لقب زنبیلی(ٹوکری والے) مشہور ہوگیا۔

اللہ تعالی نے آپ کی شخصیت کا سلطان سلیم کے دل پر ایسا رعب ڈالا تھا کہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرتا، اور آپ کے مطالبے رد نہیں کرتا، کیوں کہ اسے احساس تھا کہ جیسے اس کے طبیب کی ذمہ داری اس کے جسم کی حفاظت ہے، اسی طرح عالم دین کی ذمہ داری اس کی عاقبت کی حفاظت ہے۔ وہ اس کی اصلاح کرکے اور حق کی تلقین کرکے اس ذمے داری کو ادا کرتا ہے۔

یوں تو دونوں کے درمیان پیش آنے والے بہت سے واقعات ہیں، لیکن ہم یہاں ان میں سے ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

سلطان سلیم ادرنہ جارہا تھا، اسے رخصت کرنے اور کچھ دور ساتھ چلنے کی نیت سے مفتی صاحب اس کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ لشکر کے ساتھ رسی سے بندھے چار سو قیدی بھی ہیں، جنھیں سپاہی مارتے ہوئے ہانکتے لے جارہے ہیں۔ آپ نے ان کی بابت دریافت کیا، جواب ملا کہ ان لوگوں نے سلطان کی حکم عدولی کی ہے، اس لیے سلطان نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے، مفتی صاحب سلطان سے ملاقات کے لیے آگے بڑھے۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، مفتی صاحب نے لشکر کے سامنے اس سے کہا:  ان لوگوں کا قتل آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔

سلطان نے کہا:  اے بزرگ، آپ کب حکومتی معاملات میں مداخلت بند کریں گے؟ اپنی حد میں رہیں، اور اپنے فرائض پر توجہ دیں، کیا آپ کے پاس کوئی مفید مشغلہ باقی نہیں رہا؟

مفتی صاحب نے جواب دیا:  یہی میری ذمہ داری ہے اور یہی میرا کام ہے۔ اگر آپ سنیں گے تو نجات پائیں گے، ورنہ آپ کی ملاقات اس بادشاہ سے ہونی طے ہے، جو آپ سے زیادہ ان پر اور آپ پر قادر ہے۔ مفتی صاحب برابر اس کے ساتھ چلتے رہے اور اپنی بات دہراتے رہے۔

سلطان کا چہرہ غصے سے سرخ ہوچکا تھا، لگتا تھا کہیں خون کا فوارا نہ پھوٹ پڑے۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھوڑی دیر خاموش رہا۔ اتنا غضب ناک کسی نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، لوگ خوف سے سہمے ہوئے تھے، خاموشی ایسی کہ اگر سوئی بھی گرتی تو اس کی آواز سنائی پڑتی۔ لیکن پھر جلد ہی سلطان اس کیفیت سے باہر نکل آیا اور ان میں سے ہر ایک کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ہماری عظمت کی نگہبان تھیں یہ تاریخ ساز شخصیتیں۔ یہ وہ علما تھے جنھوں نے علم اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے حاصل کیا تھا اور ان کا ایمان ان کے ہر قول و عمل میں جلوہ گر تھا، ان کا پیشہ، ان کی سرگرمی، غرض ان کی ہر ادا میں ایمان کی تازگی نمایاں ہوتی۔ معاش کی تگ و دو میں وہ عام لوگوں کے درمیان ہوں یا بادشاہوں کے دربار میں کسی منصب کی ذمہ داری ادا کررہے ہوں، ہر حال میں ان کا دل اپنے رب کو یاد کرتا، ان کا ہر کام، اللہ کے لیے ہوتا، اسی کی ذات ان کی کاوشوں کا مطمح نظر ہوتی، اللہ کی نعمتوں کے بالمقابل دنیا اور دنیا کی دولت ان کی نگاہ میں بالکل بے حیثیت ہوتی۔ اسی لیے ان کے دل نہ شراب وکباب کے رسیا ہوتے، نہ شہوت نفس کی رغبتوں میں گھرے ہوتے اور نہ ہی مناصب کی چاہت ان کے دلوں میں ڈیرہ ڈال پاتی۔

ان کے دل میں کسی ظالم کا خوف اور کسی بادشاہ کا ڈر جگہ نہیں پاتا، کیوں کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے ہمیشہ آباد ہوتے۔ اسی لیے وہ اللہ کو ہمیشہ اپنے پاس پاتے، اس ایمان کے ساتھ کہ وہی تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، ظالموں کو کسی بھی پل اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

اگر کوئی زمانہ ایسے بے باک علما سے خالی ہوتا تووہ وہی زمانہ ہوتا جس کا نقشہ ابھی ہم نے کھینچا ہے۔ لیکن اس دور ستم میں بھی ایسے عظیم لوگ موجود رہے۔ یہ پیارے نبی ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور آپ کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:  قیامت قائم ہونے تک میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ ان کے مخالفین ان کا کچھ بگاڑ نہیں پائیں گے۔

جنوری 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau