نوجوان نسل کو والدین کی ضرورت

ام مسفرہ

ہوتا یہ ہے کہ بچپن اور لڑکپن میں تو بہت سے والدین بچوں کی تربیت کے تحت کسی قدر سنجیدہ ہوتے ہیں لیکن بچے جب بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں تو بیشتر والدین اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اب وہ اپنی تمام تر تربیتی ذمہ داریوں سے فارغ ہوگئے اور ان کے بالغ بچے اپنی زندگی اپنے بل بوتے پر گزارنے کے قابل ہوگئے۔ جب کہ سچی بات یہ ہے کہ اولاد کے بالغ ہوجانے پر والدین کی ذمہ داریاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی ہیں۔ والدین کا رول بچوں کی عمر کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی بچوں کے نجی کام خود کرنا اور کبھی انھیں اپنے کام خود کرنے کی تعلیم دینا، ایک طرف ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھنا، دوسری طرف تعلیمی سرگرمیوں، کھیل کود، کام یابیوں اور ناکامیوں میں شامل ہونا، کبھی دوست بننا اور کبھی ناصح بننا، الغرض والدین کو ان کے عہدے سے ریٹائرمنٹ یا سبکدوشی نہیں ملتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بچے ان سے مشقت، شفقت، مشاورت چاہتے ہیں اور یہ سلسلہ عمر کے اخیر تک چلتا رہتا ہے۔

جب نومولود بچہ والدین کے آغوش میں آتا ہے تب ان کی آنکھیں انیک خوابوں سے جگمگاتی ہیں اور جب وہی بچہ نوجوانی کی دہلیز پر کھڑا نظر آتا ہے تو والدین کی آنکھیں اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنا چاہتی ہیں۔ بچپن میں پودے کی جیسی پرداخت ہوتی ہے، توانا ہوکر درخت اتنا ہی ثمرات سے لدا ہوتا ہے یا خالی رہ جاتا ہے۔ اب مالی کا نفع نقصان سمیٹنے کا وقت آیا چاہتا ہے۔ والدین کی توقعات اور اولاد کی لاپروای اس دور کو کشمکش سے بھرپور کردیتی ہے۔ یہ دور خاندانی نظام کی بقا و سلامتی اور اس کے استحکام و مضبوطی کے سلسلے میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے۔ اس دور میں والدین کو اپنا رول بڑی حکمت اور چستی سے نبھانا ہے۔ آئیے ہم ‌جانیں کہ نوجوان نسل کے والدین کو کیا مسائل درپیش ہیں اور کس طرح وہ انھیں حل کریں۔

اس حوالے سے درج ذیل تین سوالات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:

نوجوانی کی ابتدائی عمر کیا ہے؟

نوجوانی کا تقاضا کیا ہے؟

نوجوانی کی اہمیت کیا ہے؟

نوجوانی کی عمر

مشہور محقق اور ماہر نفسیات اریکسن (1902-1994)نے 20ویں صدی (کے آخر ) میں انسانی زندگی کے اپنی عمر کے آٹھ پڑاؤ سے گزرنے کی تھیوری پیش کی۔ اس تحقیق میں نمایاں نکتہ یہ ہے کہ عمر کا ہر دور، چاہے وہ منفی ہو یا مثبت، وہ اگلے دور کو متاثر کرتا ہے۔ یہ تحقیق واضح طور پر انسانی زندگی کو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک مختلف مراحل میں تقسیم کرتی ہے۔ اس مقبول ترین اسٹڈی کے مطابق نوجوانی کا مرحلہ 18 برس سے شروع ہوتا ہے۔ پچھلے وقتوں میں 20 -21 سال کی عمر کو نوجوانی کی ابتدا کہا جاتا تھا۔ لیکن‌ اب کئی ملکوں نے 18 سال کی عمر کو ہی بالغ ہونے کی عمر مانا ہے۔ جب کہ ڈبلیو ایچ او کے تحت 19 سال سے یہ دور شروع ہوتا ہے۔

نوجوانی کا تقاضا

بظاہر جسمانی تبدیلیوں کی بنا پر جوان نظر آنے والا بالغ بچہ ذہنی طور پر بھی پختہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بھرپور جسمانی توانائی اور عقلی قابلیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کام یابی سے ہم کنار ہونا چاہتا ہے۔ اس عمر میں جسم و ذہن پختگی کو پہنچتے ہیں، کیوں کہ زندگی اپنی تمام تر ذمہ داریوں اور واقعات و حقائق کے ساتھ سامنے آنا چاہتی ہے۔

نوجوانی کی اہمیت

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار وہاں کی آبادی میں نوجوان نسل کا تناسب زیادہ ہونے پر ہوتا ہے۔ ان میں جوش، جذبہ اور امنگ ہوتی ہے۔ جسمانی طور پر یہ صحتمند اور طاقتور ہوتے ہیں اور ذہنی طور سے فکر و شعور سے آراستہ ہوتے ہیں۔ یہی نسل قوم و ملت میں انقلاب لاتی ہے، عظیم کارناموں اور نتیجہ خیز کارکردگی سے خیر کا باعث بنتی ہے۔ چناں چہ یہ نسل سماجی و معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

نوجوان اولاد سے جڑے چند مسائل

 نوجوان بچوں کی تربیت میں کمی رہ جانا

کبھی والدین کو اپنے جوان بچوں کی کم زوریاں دیکھ کر یکایک خیال آتا ہے کہ انھیں اپنے بچوں کو بہت کچھ سکھانا چاہیے تھا ان سے کوتاہی ہوئ اور اسی دوران بچے بڑے ہوگئے۔ وہ تربیت کے تحت اپنی کوتاہی کو محسوس کرتے ہیں اور ارادہ کرتے ہیں آج سے ہم تربیت کا عمل شروع کریں گے۔ چناں چہ بچپن اور نو عمری کے ادوار میں جو توجہ مطلوب تھی وہ اب جوان اولاد کو دی جانے لگتی ہے۔ نوجوان کو کم سن بچہ سمجھ کر کھانا کھانے کے طور طریقے سکھائے جاتے ہیں، حفظان صحت کے اصول یاد دلائے جاتے ہیں، کبھی ان کے سونے کے وقت پر ڈانٹ پڑتی ہے اور کبھی ان کے روٹین کو، ان کے کپڑوں کو یا ان کی عبادت کے طریقے کو لے کر انھیں نشانہ تنقید بنایا جاتا ہے۔ الغرض ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں ایک بالغ نوجوان کے ساتھ چھوٹے بچوں جیسا سلوک کیا جانے لگتا ہے۔ اس کا اصل محرک والدین کے ذہن میں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ روزانہ، کسی طرح اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں‌۔ کبھی اگر انھیں اپنے بچے کی کسی غلطی سے دوسرے لوگوں کے سامنے پشیمانی ہوتی ہے، تو وہ ان لوگوں کے سامنے ہی اپنے بچوں کو تنبیہ کرکے اپنی تربیتی فکر مندی کا فوری ثبوت دیتے ہیں۔

اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

جِم برنس، والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات اور خاندانی نظام کی اصلاح کے لیے کوششیں کرنے والا ایک معروف نام ہے۔ ان کا تعلق امریکہ سے ہے اور یہ ہر سال دنیا بھر کے کئی سارے خاندانوں سے گفتگو کرتے ہیں اس طرح ان کے پاس والدین اور بچوں کے تعلقات کو لے کر تجربات، مشاہدات اور تحقیق کا وسیع میدان ہے۔ 2019 میں شائع ہونے والی ان کی کتاب Doing Life With Your Adult Children بہت پسند کی گئی جس میں یہ بات واضح طور پر پیش کی گئی کہ نوجوان بچے تنقید سے دل برداشتہ ہوکر والدین سے بد دل ہوتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور پھر اپنے معاملات میں والدین کی مداخلت ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح والدین اور نوجوانوں کی درمیان کشیدگی کی ایک وجہ ہے بار بار کی جانے والی تنقید، چاہے وہ تنقید برائے اصلاح ہی کیوں نہ ہو۔

اس کا تدارک کیسے کریں؟

مذکورہ بالا کتاب میں جو نسخے بتائے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اپنے رویوں میں لازمًا نرمی لائیں اور ان کی اصلاح کرنے کے لیے سخت الفاظ اور طریقوں سے گریز کریں۔ مصنف نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ والدین تو والدین ہیں وہ اپنے بچے کی بھلائی چاہتے ہیں اس لیے ان کی طرف سے روک ٹوک کا کام کبھی ختم نہیں ہوسکتا ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن والدین اور بچوں کا رشتہ اسی وقت صحتمند ہوسکتا ہے جب والدین جو اولاد کو بچپن میں کنٹرول کرنے کے عادی رہے، بچوں کی عمر کے ساتھ اپنے آپ کو بدلیں اور ان کے دوست اور گائیڈ بن جائیں۔ وہ بچوں کی شخصیت اور اسے درپیش ماحول کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کریں۔

قرآن کریم میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے روپ میں نوجوان اولاد کے والدین کو ایک ماڈل ملتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی عمر (کنویں میں پھینک دیے جانے کے وقت) تقریباً سترہ برس رہی ہوگی اور جن بھائیوں نے یہ سازش رچی تھی وہ اور زیادہ عمر والے نوجوان رہے ہوں گے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے ان نوجوان لڑکوں پر لعن طعن نہیں فرمایا اور نہ ہی کوئی سخت اقدام کیا۔

جب وہ بھائی یوسف علیہ السلام کے چھوٹے بھائی کو لے کر مصر جانے لگے تب یعقوب علیہ السلام نے ان پر بھروسا کو لے کر اندیشہ کا اظہار تو کیا لیکن بعد میں انھیں مشفقانہ مشورہ دیتے ہوئے گویا ہوئے: (ترجمہ)

میرے بچو! مصر کے دارالحکومت میں ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچاسکتا، حکم اس کے سوا کسی کا نہیں چلتا اسی پر میں نے بھروسا کیا جسے کرنا وہ وہ اللہ پر بھروسا کرے۔(سوره یوسف: 67)

یعقوب علیہ السلام اپنے تمام ہی بیٹوں کے لیے فکرمند نظر آتے ہیں اور ان کا شفقت سے لبریز انداز قابل توجہ ہے “یـٰبَنِىَّ” اے میرے بچو۔ مزید برآں، ایک والد کا نظر بد کو لے کر رہ نمائی کرنا پھر اللہ پر توکل کی تلقین کرنا نوجوان اولاد کے والدین کے لیے بڑا سبق رکھتا ہے۔ اولاد کی بے راہ روی کی کیسی ہی تشویش ناک صورت حال ہو والدین کو ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عفو و درگزر کا سلوک ہو اور اولاد کو اصلاح کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ مثلاً سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی یا منشیات کی عادت والدین کو معلوم ہوجائے، ان حالات میں چیخ پکار کرنے کے بجائے اولاد کو نرمی اور حکمت کے ساتھ ان کے اضرار سے آگاہ کیا جائے، انھیں بری باتوں سے روکا ضرور جائے، ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارتے ہوئے انھیں اچھے کاموں میں مصروف رکھا جائے، انھیں نیک صحبت فراہم کی جائے اور ایک طویل عرصے تک ہر ممکن کوشش ہو کہ اولاد اور والدین کا باہمی تعلق بنا رہے اور ان کی موثر نصیحتیں انھیں ملتی رہے۔

سیرت میں ایسے کئی مواقع ملت ہیں جہاں نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کی تربیت مثبت انداز میں فرمائی۔ معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی میں نے «یرحمك الله» کہ دیا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ مجھ سے کوئی بڑی غلطی ہوگئی ہے، میں نے پوچھا: تم لوگ میری طرف کن انکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ تو وہ لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے، میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے خاموش کرنا چاہتے ہیں، تو میں خاموش ہوگیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ سے اچھا معلم میں نے نہ آپ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد کبھی دیکھا۔ خدا کی قسم نہ آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ سخت سست کہا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: “نماز میں کسی طرح کی بات نہیں کی جاتی ہے۔ نماز تو صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت سے عبارت ہے۔”

نوجوان اولاد سے گفتگو کرتے ہوئے نرم لہجے میں دو ٹوک بات ہو۔ لمبی نصیحت نہ ہو، کیوں کہ طویل گفتگو توجہ مرکوز نہیں رہنے دیتی اور اکتاہٹ پیدا کرتی ہے جب کہ چھوٹی اور واضح یاددہانی عقل میں جلدی سماتی ہے۔ سب کے سامنے نوجوان اولاد کو ڈانٹا نہ جائے اور جب ٹوکنا ضروری ہوجائے تب بھی ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ والدین کو کسی وقت اگر یہ اندیشہ ہو کہ نوجوان اولاد کی اصلاح و تربیت ان کے لیے مشکل ہورہی ہے تو انھیں کسی نیک مشیر یا بہتر کاؤنسلر کا تعاون حاصل کرنا چاہیے۔

اولاد اور والدین کے درمیان گفتگو نہ ہوپانا

نوعمری اور بلوغت کے دور میں بچے اپنے احساسات کی ترجمانی کھل کر نہیں کرپاتے، وہ اپنے متعلق الجھن میں یا تذبذب میں مبتلا رہتے ہیں، ایسی حالت میں والدین کی طرف سے حکیمانہ پہل نہ ہوئی تو دونوں کے رشتوں میں دراڑ پڑتی ہے جو بعد میں چوڑی ہوکر خلیج بن جاتی ہے اور اس طرح نہ بچے اپنے آپ کو بیان کرنا سیکھ پاتے ہیں نہ ہی والدین ان سے اطمینان بخش گفتگو کرپاتے ہیں۔ اسطرح کمیونیکیشن گیپ کی ابتدا ہوتی ہے۔ یعنی گفتگو کرنے والوں میں تبادلہ خیال کی راہیں بند ہوجاتی ہیں۔ والدین اور بچے آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام ہوں، اس کے اور بھی کچھ اسباب ہیں۔

دونوں کی گفتگو اس لیے بھی متاثر ہوتی ہے کہ جب اولاد نوجوان ہوجائیں تو والدین کے پاس الفاظ اور جملوں کا فقدان ہونے لگتا ہے۔ انھیں سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ان سے کیا کہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ کیا وہ ہماری بات سمجھ پائیں گے؟ والدین اپنی نوجوان اولاد کے سامنے خود کو مضبوط اور پراعتماد محسوس نہیں کرتے۔ دونوں کے درمیان گفتگو یا گفتگو کی مدت اس لیے بھی کم ہوتی ہے کیوں کہ شکایتوں اور تنقیدوں کے سوا دل چسپی کا کوئی اور موضوع ہوتا نہیں ہے۔ مصروفیات بھی ایک بڑا سبب ہے جو والدین اور نوجوان اولاد کے درمیان گفتگو کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس کا نتیجہ

والدین اور نوجوان بچوں میں جب ڈھنگ سے بات چیت نہیں ہوتی تو:

وہ تنہائی محسوس کرتے ہیں۔

فیصلے لینے میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔

ان کے لیے احساسات کا اظہار اور بیان مشکل ہوجاتا ہے۔

وہ گفتگو کے آداب بھی نہیں سیکھ پاتے۔

وہ اعتماد کھو دیتے ہیں۔

ان کے بہت سے مسائل حل نہیں ہوپاتے اور وہ مسائل زندگی بھر کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

والدین اور اولاد کے درمیان دوریاں بڑھتی ہی رہتی ہیں۔

یہ ناچاقی اولاد کو نفسیاتی امراض میں مبتلا کرتی ہے۔

تدارک کیسے کریں؟

انسان حیوان ناطق ہے جسے گفتگو کے ذریعے اپنے جذبات اور احساسات کی ترسیل کرنی آتی ہے۔ گفتگو کا یہ عمل انسان کو ذہنی، نفسانی اور روحانی پہلو سے مضبوط کرتا ہے۔ روحانی تقویت رب کے حضور ذکر و مناجات سے ملتی ہے۔ رب کے ساتھ کلام کرنے کی بہترین شکل نماز ہے۔ ذہنی تقویت اور نفسیاتی ضروریات کی تکمیل کے لیے اظہار خیال، انسانوں سے گفتگو کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے محققین اور ماہرین نفسیات نے والدین اور اولاد کے درمیان خوشگوار اور صحتمند تعلقات کے لیے “گفتگو”گو ہی بہترین وسیلہ مانا ہے۔ خوشی کا موقع ہو یا دکھ کا مقام ہو، ناراضی ہو یا پر مسرت فضا ہو والدین کو پہل کرنی چاہیے۔ سپاٹ چہرے اور خشک لب و لہجہ کے ساتھ بات کرنا پرلطف عمل نہیں تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ مسلمان والدین یاد کریں کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا پرتپاک استقبال کرتے، ان کی آمد پر کھڑے ہوجاتے، خود سلام کرتے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور ان سے گرمجوشی سے گفتگو کرتے۔ ان سنہری نقوش کی پیروی کرتے ہوئے والدین کو ایسا کردار پیش کرنا ہوگا کہ بچے خود اپنے مسائل، تلخ و شیریں تجربات، ہار جیت کے قصے لے کر والدین کے پاس پہنچیں اور والدین کو اپنا رازدار بنانے میں انھیں تردد یا خوف نہ ہو۔

نوجوان اولاد کے تئیں غفلت

بلوغت کو پہنچنے کے بعد والدین اپنی اولاد کو ان کی زندگی کے حوالے کردیتے ہیں گویا اس سے آگے نہ ان کا کوئی فرض ہے نہ ان کی کوئی گرفت ہوگی۔ جب کہ نوجوانی عمر کا وہ نازک دور ہے جہاں سب سے زیادہ بھٹکنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ شروع سے نیک تربیت ہوئی ہو تب بھی رہبری اور رہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کی یہ سوچ کہ جوان ہونے کے بعد اصلاح نہیں ہوسکتی، ان کی اپنی غفلت اور ذمے داری سے فرار کی علامت ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے ایسی تحقیقات بھی پیش ہوئیں جن کا لب لباب یہ رہا کہ بچوں کو ان کے کاموں کے ساتھ ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ پراعتماد بن سکیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ والدین بچوں کی اخلاقی تربیت سے بے فکر ہوجائیں اور ان پر یہ ذمے داری ڈال دیں کہ وہ خود اپنے طور سے اعلی کردار کا نمونہ پیش کریں۔ مغربی ممالک اور یورپ میں نوجوان نسل کو خودمختار کرنے کے لیے انھیں قانونی طور ایسی رعایت مل جاتی ہے جن کی وجہ سے اقدار کی بری طرح پامالی ہوتی ہے اور والدین بھی اپنے آپ کو جدیدیت پسند اور ترقی یافتہ ظاہر کرنے کے لیے نوجوان اولاد کو ایسی ایسی چھوٹ دیتے ہیں جن سے ان کے اخلاقی پستی میں گرجانے کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں بھی یہ لہر اٹھی ہے۔ مختلف ویب سیریز، شارٹ فلموں، ریلس متعدد ناول اور دیگر تحریری شکلوں کے ذریعے یہ رائے بنائی جارہی ہے کہ والدین اپنی نوجوان اولاد پر ان کے پاٹنر، جنسی رویے، کپڑوں، غذائیت نیز ان کے ذوق و شوق اور تعلیم و مستقبل کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

اس کا نتیجہ

نوجوان بچوں کو والدین کی طرف سے ملنے والی ہدایات، نصیحتیں، تنبیہات اور توجہ اگر ملنا بند ہوجائے تو ان کی زندگی اندھیرے میں ڈوبتی چلی جائے گی اور اس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی زندگیاں ایک ہی ڈگر پر چلتی ہیں، تاہم کسی ایک کی خطا کا اثر دونوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے اور کسی ایک کی کام یابی دونوں کے لیے خوش آئند ہوتی ہے۔

تدارک کیسے ہو

نوح علیہ السلام اپنے نافرمان بیٹے کو اس وقت تک دعوت دیتے رہے جب کہ وہ کشتی میں سوار ہوچکے تھے، یہاں تک کہ وہ ان کے سامنے ہی ہلاک ہوا۔ یہاں نوجوان بچوں کے والدین کے لیے سبق ہے کہ اپنی اولاد کے معاملے میں ہار مت مانیے جب تک ہوسکے انھیں حق اور باطل، صحیح اور غلط، حیا اور فحاشی، حلال اور حرام کی تمیز بتاتے رہیے۔ ان کے لیے دعائیں کریں کہ وہ باطل کے راستہ سے دور رہیں، برائیوں کے دلدل سے ان کی حفاظت ہوتی رہے اور وہ نیک کام کے پابند ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں قرآن مجید میں کئی مقامات پر ذکر ہوئی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے روپ میں قرآن ایک ایسا کردار پیش کرتا ہے جو اپنے خاندان میں دعوت و اصلاح کے کاموں کو بخوبی نبھاتا ہے، اولاد اور آنے والی نسلوں کے تئیں ان کی متانت ان کی دعاؤں سے جھلکتی ہے جو والدین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ جیسے:

رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِیمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّیتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ

اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (کچھ ایسے لوگ اٹھا جو کہ کام‌کریں) اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما! ( سوره ابراهیم،40)

یہ بڑی پیاری دعا ہے جس میں پہلے خود اپنے لیے اقامتِ نماز کی دعا کی ہے پھر اپنی اولاد کے لیے۔ گویا والدین کو نیک راستہ پر ڈٹے رہنا ہے اور بچوں کو بھی اس کی تقویت دینی ہے۔ جتنی استقامت والدین میں ہوگی ان کی نسلیں بھی اتنی ہی متقی ہوگی۔

منصوبہ سازی کا فقدان

بچپن میں بچوں کی صلاحیت اور دل چسپی معلوم ہوئی، آگے بڑھے تو نو عمری میں منزل کو جانے والی راہ بتائی گئی، اب جوانی میں منزل تک پہنچنا ہے اور یہ بچوں کی زندگی میں سب سے بڑے اور اہم‌ فیصلے کا وقت ہوتا ہے۔ جسے کیرئیر پلاننگ یا پیشہ وارانہ منصوبہ بندی کہتے ہیں۔ اس منصوبہ بندی کے تحت جو فیصلہ ہوتا ہے نوجوان بچے اسی کے مطابق طے شدہ میدان میں تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنا معاشی مستقبل بناتے ہیں۔

یہاں والدین سے کچھ غلطیاں ہوجاتی ہیں :

ایک غلطی:  والدین اپنے بچوں کے ایسے فیصلوں میں شریک نہیں ہوتے اور بچوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مشاورت کرکے اپنا فیصلہ خود کریں۔

یہ رویہ درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود بیش بہا معلومات اور بہت سے دوستوں اور اساتذہ سے مشورہ کرنے کے بعد بھی والدین کے رول کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ والدین کو ان کی فیلڈ سے واقفیت ہو یا نہ ہو، انھیں اپنے بچوں کی باتوں کو توجہ سے سننا چاہیے اور اگر وہ مشورہ دینے کی پوزیشن میں خود کو نہ پاتے ہوں تب بھی ان کی گرمجوشی اور مکمل شمولیت کا اظہار تو ہونا ہی چاہیے۔

دوسری غلطی:  بعض والدین جنھیں لگتا ہے کہ نوجوان اولاد میں بہت جوش و خروش ہے اب بس انھیں ٹریگر کی ضرورت ہے، وہ انھیں چیلنج دینے لگتے ہیں “یہ کام تم سے نہ ہوگا” ،“کبھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے”“، “تم اس قابل نہیں ہو” اس طرح وہ ان کے جذبات کو بھڑکانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ ردعمل میں منزل کی طرف دوڑ لگادے۔

یہ رویہ بھی صھت مند نہیں ہے۔ منفی جملے اور رویے کسی بھی عمر کے انسان کے لیے تکلیف دہ ہیں اور یہ کبھی کبھی ذہن کو متحرک کرنے کے بجائے جامد کردیتے ہیں۔ ایسے جملے دل کو مجروح کرتے ہیں اور بسا اوقات دلوں میں دوریاں پیدا کرتے ہیں۔

تیسری غلطی:کچھ والدین یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی اولاد کا رجحان، دل چسپی اور صلاحیت کس طرح کی ہے۔ وہ بس اپنے خواب ان پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ وہ اولاد کے کیریئر کا فیصلہ معاشرے میں عزت کی خاطر یا خود اپنے ادھورے سپنوں کو پورا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

یہ بیمار رویہ ہے۔ بچوں کی زندگی کے تعلق سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ان سے بات کرنا ضروری ہے۔ ان کی پسند اور دل چسپی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ لینا چاہیے۔ بچہ ذہین ہوگا تو اس آزمائش سے جبرًا گزر ہی جائے گا لیکن اسے اپنی کام یابی سے سچی خوشی نہیں ملے گی۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ والدین کا تجویز کردہ کیرئیر آپشن بچے کی طبیعت کے برخلاف ہوتا ہے، ایسی صورت میں کئی مرتبہ کوشش کرنے کے بعد بھی اسے ناکامی ملتی ہے‌ اور وہ خود کو قربانی کا بکرا سمجھتا اور اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔

کیرئیر پلاننگ کے لیے چند ضروری باتیں

بچے کا ذہن ایسا بنائیں کہ وہ حلال حرام کی تمیز کرے اور کبھی کسی ایسے آپشن کو اختیار نہ کرے جس کی دین میں ممانعت ہو۔

بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھائیں کہ اس کی پیشہ ورانہ قابلیتوں سے انسانیت اور ملت کو فائدہ ہو۔

بچے کو یہ بات گھول کر پلادیں کہ اصل کام یابی اخرت کی ہے، دنیا کی کام یابی بھی دراصل اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے دنیا کے ساتھ آخرت سنور جائے۔

اس کا خیال رکھیں کہ بچہ تعلیمی سرگرمیوں اور کیرئیر بنانے میں اتنا مصروف نہ ہوجائے کہ عبادات اور فرائض میں غفلت ہو۔

نوجوان اولاد کے نکاح میں تاخیر

بہت سے والدین بچوں کے روزگار اور کیرئیرکے تعلق سے ایسے خواب دیکھتے ہیں جن کی تعبیر تلاش کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ اس دوران وہ بچوں کے نکاح سے بالکل غافل رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک بچہ برسر روزگار نہ ہوجائے اس کی شادی نہیں ہونی چاہیے۔

اس کا نتیجہ

صحیح عمر میں شادی نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی متعدد پریشانیاںسر ابھارتی ہیں جو کارکردگی پر بھی بہت خراب اثر ڈالتی ہیں۔

تدارک کیسے کریں؟

نوجوان اولاد کی صحیح عمر میں شادی کرانا والدین کا فریضہ ہے۔ آج جس طرح ہر آن فتنوں نے نوجوانوں کو گھیر رکھا ہے، ان کی ایمان کی حفاظت اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لیے نکاح کی بڑی اہمیت ہے۔ نکاح کی تقریب سادہ ہو اور زندگی کا لائف اسٹائل کم خرچ ہو تو تعلیم کے دوران بھی شادی کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ والدین کو آگے بڑھ کر ان دونوں پہلوؤں سے بچوں کا ذہن بنانا چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

اسی طرح اگر والدین اپنے بچوں کی ازدواجی زندگی کے ابتدائی عرصے میں معاشی تعاون کرتے ہیں تو یہ یقیناً ان کے لیے ثواب جاریہ ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح انھوں نے بے راہ روی سے اپنے بچوں کی حفاظت فرمائی اور انھیں حلال طریقے مہیا کیے اور ایک مسلم خاندان کو آگے بڑھانے میں امداد فراہم کی۔

 اولاد کی اولاد کواپنی اولاد سمجھیں

جنریشن گیپ کا مسئلہ اس وقت عروج پر ہوتا ہے جب نوجوان بچوں کے ذریعے ایک اور نسل خاندان میں شامل ہوتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں نئے والدین کے لیے ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ادا کرنا دشوار عمل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکمت و دانائی اور شفقت و محبت کا مظاہرہ بزرگ والدین کی طرف سے ہونا چاہیے۔ ان کے پاس تجربہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کے بچوں کے بچے بھی ان کے حسن سلوک، محبت و شفقت کے مستحق ہوتے ہیں۔ یاد کریں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے نواسوں سے محبت کرتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور نظر بد سے بچانے کے لیے ان پر دم کرتے اور ان کے حق میں دعائیں کرتے۔

حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ ماجدہ کی ایک پیاری سی دعا قرآن میں مذکور ہے۔

اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

“میں اسے (مریم علیہا السلام) اور اس کی نسل کو شیطان مردود کے شر سے بچانے کے لیے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔”(سوره ال عمران، 36)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں (اولاد اور آئندہ نسلوں کے لیے) قرآن میں مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ جیسے:

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ

“اے ہمارے رب،ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت اٹھا جو تیری فرماں بردار ہو۔”(سوره البقره، 128)

غرض خاندان میں والدین کا رول بڑا ہی اہم‌ رول ہے۔ اور جب والدین کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوجائے تو وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا سکتے ہی۔

والدین کی کبھی نہ ختم ہونے والی ذمہ داری کبھی محنت چاہتی ہے اور کبھی حکمت چاہتی ہے۔ یہ جتن بھری بھی ہے اور تفریح سے بھرپور بھی۔ والدین کو اس کا احساس ہمیشہ رہنا چاہیے کہ ان کا مرتبہ کتنا اونچا ہے اور نئی نسل کی تربیت و رہ نمائی میں ان کا رول کتنا بڑا ہے۔

جون 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau