پالیسی اور عمل میں مطابقت

ابو الکرم عرفان

ماہ نامہ زندگی نو کے اکتوبر ۲۰۱۱ کے شمارے میں جماعت کی پالیسی کے سلسلے میں ایک دوست کے ۹اشکالات پر تبصرہ اور تجزیہ پیش کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے۔ اِس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ صفحۂ قرطاس پر کتنے ہی خوبصورت الفاظ کے ساتھ پالیسی وپروگرام بنالیا جائے اس کی اصل اہمیت عملی دنیا میں یہ ہے کہ کس حد تک آپ نے اس پر عمل درآمد کیااور کیا نتائج حاصل ہوئے۔ عملی تگ ودو مقصد ونصب العین کے حصول میں ممدومعاون ہورہی ہے یا دُور کررہی ہے۔ اگر کسی گوشے سے بے چینی کااظہار ہورہا ہے تو آپ عملی صورت حال بتا کر اس کو دُور کرسکتے ہیں۔ صرف کاغذ پر لکھی ہوئی چیز کی طرف نشاندہی کرکے مطمئن نہیں کرسکتے۔

پالیسی میں کہا گیا کہ اس طرح دعوت کاکام کیاجائے تاکہ برادرانِ وطن شرک والحاد اور دیگر عقائد وافکار ونظریات کے باطل ہونے اور اخلاقی خرابیوں کی مضرت سے بخوبی واقف ہوجائیں۔ کیا واقعی برادرانِ وطن شرک والحاد اور دیگر باطل عقائد سے کما حقہ واقف ہوگئے ہیں۔ اگر واقعی حقیقی واقفیت انھیں حاصل ہوجائے تو داعیانِ حق کو چین سے بیٹھنے کب دیا جائے گا۔ اس وقت مقام چین سے گھر میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔ یہ بات کب پیش کی گئی کہ اس نظام شرک والحاد کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اور توحید قائم کرنا ہے۔ اس آواز کا فطری تقاضا ہے کہ ویسے حالات پیدا ہوں جن سے مکہ میں مسلمان دوچار ہوئے تھے۔ شرک پر مبنی نظام سیاست قائم ہے۔ اس کو چیلنج تو کیا کرتے آج کے مسلمان تو اس کے تحت اپنی سیاست چلانا چاہتے ہیں۔ تحریک نے یہ کہہ کر آغاز کیا تھا کہ ہم کُل اسلام کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں مکمل اسلام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اس اعلان کے تقاضے پورے کیے جارہے ہیں؟

عموماً تحریک کے افراد عام معاشرے کے افراد سے کوئی امتیازی کردار نہیں رکھتے۔ کوئی ایک بستی یا معاشرہ تشکیل نہیںپایا کہ کہہ سکیں کہ یہ نمونے کو پیش کرتا ہے۔ پہلے کیفیت کو ترجیح دی جاتی تھی تو اب کمیت کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو تحریک کے مقصد و نصب العین سے کما حقہ واقف نہیںہیں۔ ان کے معاملات زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہے۔ حسب حال بحال والا معاملہ ہے۔ اجتماعات میں روایتی رنگ درآیا ہے۔ اس کی شرکت ہی معیار ہے۔ دعوت وربط کا دور دراز تک تعلق نہیں ۔ لٹریچر سے بے نیازی کایہ عالم ہے کہ بنیادی لٹریچر سے بھی ناواقفیت ہے۔

کارکن دعوت کے کام سے زیادہ خدمت خلق کے کاموں میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ دعوت کا کام اعتراضات اور سوالات کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے لیے ملاقات ایک درد سر ہے اس لیے خدمت خلق کے کام میں دلچسپی ہے اس سے مشنری کاسا انداز پیدا ہواہے۔ لٹریچر کا تعلق دعوت کے کام سے ہے اور اجتماعی دعوت کی ضرورت ۔ جب دعوت کا کام ہی ٹھپ ہو تو پھر اجتماعیت کی اہمیت کیارہ جاتی ہے۔ سوائے روایت کے۔

خدمت خلق کا کام ایمان کے تقاضے کے طور پر ہوناچاہیے۔اگر ایسی ملت میں جو دعوت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہی ہے اس میں خدمت خلق کے کام کو جاری کیاجائے تو لوگ سہل پسند ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی طرف لپکیں گے اور عملاً یہی ہورہا ہے۔ اس وقت اصل کام دعوت کاہے اس کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانا اور دعوت کے علمی اور عملی تقاضے پورے کرنا فرد اور معاشرے کو تیار کرنا ہے۔ تاکہ مطلوبہ انقلاب کی طرف پیش قدمی کی جاسکے۔

تحریک کے اثرات نصب العین کے سلسلے میں کیا اور کس حد تک ہیں جائزہ لیجیے۔ تحریک کا تعارف کیا اِس حیثیت سے ہے کہ وہ اسلام کی بنیاد پر زندگی میں انقلاب لانا چاہتی ہے۔

معاشرتی مسائل اور دوسرے مسائل کے سلسلے میں عرض کرنا ہے کہ آپ ایک ایک مسئلہ کو الگ نہیں لیں گے بلکہ اسلام کا طریقہ کار یہ ہے کہ فردا ورمعاشرے کو ایمان کے تقاضوں کا شعور حاصل کرنے اور اس کے مطابق اپنے کو بدلنے کا داعیہ پیدا کرنا ہے اور اس کے بعد مسائل کی گتھی سلجھ سکتی ہے۔ مکہ کے ماحول میں یہی کام انجام دیاگیا تھا اور اسی دعوتی کشمکش کے نتیجے میں ایمان میںپختگی اور اس پر عمل کا حوصلہ پیدا ہواور مدینہ میں اس پر عمل آوری ہوئی۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau