انسان کے اندر قدرتی طور پر دیگر تمام مخلوقات سے ممیز کرنے والی چند خصوصیات ہیں جو کائنات میں اس کا مقام نمایاں کرتی ہیں ان میں اخلاق و کردار، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، ہاتھ لگی اشیا کو بنانے یا بگاڑنے کی صلاحیت اور ان سب کے ساتھ قیادت کا جذبہ اور صلاحیت بھی! قیادت کی غرض و غایت دراصل انسانوں کو جوڑے رکھنا، ان کی صحیح رہ نمائی اور ان کے جملہ مسائل کا آسان حل فراہم کرنا ہے؛ اور اس کے ساتھ اخلاقی اقدار اور ان کی پاسداری، انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے اچھے برتاؤ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بہتر انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تربیت کرنے اور اپنے ساتھیوں کی شخصیت کو نکھارنے کا فریضہ انجام دینا بھی ہے۔
دنیا میں انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ جن قوموں نے اپنی اصلاح کی اور دنیا میں اپنا ایک مقام پیدا کیا ان کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں تھی جنھوں نے اپنی قوم کی بہترین تربیت اور رہ نمائی کی اور اسے ترقی اور کام یابی کی راہ پر ڈالا، نیز دیگر اقوام کے مقابلے میں اسے ممتاز مقام پر لا کھڑا کیا۔
انسان جب اس دنیا میں بسایا گیا، اسی وقت اجتماعی تصورِ زندگی اور اسی کے ساتھ قیادت کے تصور کا بھی جنم ہوا۔ پھر جیسے جیسے معاشرے میں تمدن ارتقا پذیر ہوتا گیا، اجتماعیت اور قیادت کے تصورات اور ان کی گیرائی اور گہرائی کا بھی ارتقا ہوتا رہا۔ انسانی معاشرے میں قیادت اور قائد کی ضرورت ہمیشہ ہی رہی ہے؛ کیوں کہ قیادت کہتے ہی ہیں رہبری اور رہ نمائی کو۔ قیادت کی یہ ضرورت تمدنی ترقی کے ساتھ ہی ابھر کر سامنے آتی رہی، نیز اجتماعیت اور معاشرے کے شعور کے ساتھ قیادت کا تصور بھی ارتقا پذیر رہا ہے۔ محض حکم رانی کے لیے ہی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے معاملات کی بہتر انجام دہی کے لیے قائد اور لیڈر کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے۔
اگر اجتماعیت کے پیچھے ایک مقصد ہو تو قیادت کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس اجتماعیت کی منزل کیا ہے اور اسے پانے کے لیے کون سی راہ اپنانی ہوگی، اور اگر راہ دشوار گزار ہے تو اسے کس طرح عبور کرنا ہوگا اور کس طریقے سے منزل تک پہنچا جا سکتا ہے؟ یہ سب کچھ سوچنا، ان پر غور کرنا، اور ان کے بارے میں طے کرنا قیادت ہی کا کام ہے۔
قیادت کی اہمیت واضح ہوجانے کے بعد اس کی اہلیت کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ با شعور، با صلاحیت، دیانت دار اور امانت دار قیادت، اپنے رویے اور کردار میں پختگی اور بلوغت کے ساتھ ساتھ مسائل کے حل کے لیے مستعد رہتی ہے اور ایسی قیادت اجتماعیت کی مضبوطی اور اس کی ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں بھی رہتی ہے۔ اپنی اجتماعیت کے اہداف کے حصول کے لیے بہتر راہ متعین کرکے اس راستے پر اجتماعیت کو آگے بڑھانے اور اس راہ پر کام یابی کے ساتھ لے جانے کا کام صالح قیادت ہی کرسکتی ہے۔
کسی اجتماعیت کا قائد کہیں باہر سے نہیں آتا ہے بلکہ وہ اسی اجتماعیت کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر یہ جانتا ہے کہ اس اِجتماعیت کی منزل کہاں ہے اور اسے سر کرنے کی راہ کدھر سے گزرتی ہے، اس راہ کی رکاوٹیں کیا ہیں،خطرات کیا پیش آسکتے ہیں، وسائل کہاں سے مہیا ہوسکتے ہیں۔
قائد، فکری، علمی، اخلاقی طور پر سب میں بلند ہو اور منزل کے تقاضوں کو خوب سمجھنے والا اور بہترین انتظامی صلاحیت رکھنے والا ہو، تمام افراد کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آنے والا ہو اور اسی لحاظ سے قابلِ اعتماد و احترام ہو، کیوں کہ اطاعت کے لیے اعتماد ضروری ہے۔
اسلامی قیادت
عام قیادت اور اسلامی قیادت میں ایک دوسرے سے کہاں تک مماثلت پائی جاتی ہے اور کن امور و معاملات میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں؟ یہاں یہ واضح رہے کہ حکومتوں کی سربراہی اور تنظیموں کی قیادتوں میں فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح دیگر تنظیموں اور اسلامی تنظیموں کی قیادت میں بھی بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلامی اجتماعیت میں اجتماعیت اور قیادت دونوں ہی اسلامی اقدار کی ترجمانی کرتے ہیں۔۔
اسلامی قیادت کا فریضہ ہر کسی سے نہ ادا ہو سکتا ہے اور نہ ہر کسی کو سونپا جا سکتا ہے۔ نہ خاندان، برادری، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر کسی کے حوالے کیا جاسکتا ہے اور نہ صرف علمی قابلیت کی بنا پر کسی کو یہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ یہ ذمہ داری تو ایمان، علم، عمل، تقویٰ، حکمت، دانائی، بہادری، دیانتداری اور اخلاص و وفاداری کی بنا پر ہی کسی کو سونپی جا سکتی ہے۔ ان امور کے بغیر اسلامی قیادت کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔
اسلامی معاشرے کا تصور بغیر اِجتماعیت کےاور اجتماعیت کا تصور بغیر قائد کے کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اسلامی اجتماعیت تو با مقصد اجتماعیت ہوتی ہے، فرمایا گیا ہے :
تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (آل عمران ١٠٣:٣)
مولانا مودودیؒ اس کی تشریح میں رقم طراز ہیں:
اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہلِ ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو، اسی سے ان کو دل چسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دل چسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رونما ہو جائے گا جو اس سے پہلے انبیا علیہم السلام کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کرکے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کر چکا ہے۔
اسلامی قیادت اپنی اصل کے اعتبار سے صالح ہوتی ہے اور اپنی روح کے اعتبار سے وہ ایک امانت ہے۔ قائد اپنی ذات میں ایک نمونہ ہوتا ہے اور وہ ہر معاملے میں اور ہر مرحلے میں اپنے پیروؤں سے آگے ہی رہتا ہے۔ وہ علم اور بصیرت سے سرفراز، بلند کردار اور عظیم اخلاق کا حامل، اعلی اصولوں کا پابند اور انصاف و مساوات اور امانت و دیانت کا علم بردار ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا سے بڑھ کر اسے کسی چیز سے پیار اور کسی بات کا خوف نہیں ہوتا ہے۔ وہ مسائل کے حل کے سلسلے میں، جدوجهد میں، ایثار و قربانی میں، صبر و قوتِ برداشت میں، مصائب کو انگیز کرنے میں سب سے آگے ہی آگے ہوا کرتا ہے۔
اسلامی قیادت مسلم اجتماعیت کے ذمہ ایک امانت ہے۔ نظامِ اسلامی میں ہر ذمہ داری دراصل امانت ہی ہوتی ہے۔ اس امانت کو اس کے اہل ترین افراد کو سونپنا مسلم اجتماعیت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔ فرمایا گیا:
مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو؛ اللہ تم کو عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ (النساء ٤: ٥٨)
اس کی تشریح میں مولانا مودودی رح فرماتے ہیں،
یعنی تم ان برائیوں سے بچے رہنا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہو گئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے اپنے انحطاط کے زمانے میں امانتیں، یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے رتبے Positions of Trust ایسے لوگوں کو دینے شروع کردیے جو نا اہل، کم ظرف، بد اخلاق، بد دیانت اور بد کار تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں، یعنی جن میں بار امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو۔
حدیث پاک میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ ایک موقع پر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے ایک سوال پر رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
اے ابو ذر! تم کم زور ہو اور یہ ایک امانت ہے اور یقیناً یہ قیامت کے دن ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتی ہے؛ ما سوا اس کے جس نے اس کو ایمان داری کے ساتھ لیا اور اس کا حق ادا کیا۔
دوسرے موقع پر آپؐ نے فرمایا :
یقیناً تم لوگ امارت کی بڑی خواہش کروگے اور قیامت کے دن اس کی بنا پر ندامت ہوگی؛ جان لو کہ یہ امارت ایسی انّا ہے جو دودھ پلاتی ہے تو نعمت ہے اور دودھ چھٹتا ہے تو تکلیف دہ ہوتی ہے۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ :
ہم اس شخص کو ذمے داری نہیں دیتے جو اس کی تمنا اور ارادہ رکھتا ہو۔
ایک دیہاتی کے پوچھنے پر نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
جب امانت کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرو؛ اس نے پوچھا امانت کس طرح ضائع کی جائے گی، تو ارشاد فرمایا، قیادت کی ذمہ داری نا اہل افراد کے سپرد کی جائے گی تو بس قیامت کا انتظار کرو۔
ان آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ بات وضاحت کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ
اسلام میں قیادت کا تصور عام قیادتوں کے تصور سے بالکل جدا گانہ ہے۔ یہاں قیادت ایک بارِ امانت ہے جسے ہر کوئی اٹھا نہیں سکتا ہے۔ یہ امانت ہر کسی کو دی بھی نہیں جاسکتی ہے۔ یہ اسی کا حق ہے جو اس کی اہمیت کا ادراک رکھتا ہو اور اس کو سنبھالنے کا علم اور اس کی صلاحیت رکھتا، اس کے بوجھ سے ڈرتا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہو۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت
جان ایڈئر(John Adair. Born 1934) اپنے وقت کے ’’لیڈرشپ ڈیولپمنٹ‘‘ کے ماہر مانے گئے ہیں، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت پر ایک کتاب لکھی ہے،
(Leadership of Muhammad, First Indian edition 2011)۔ اس میں انھوں نے آپؐ کی سیرت کا تفصیلی مطالعہ کیا اور قیادت کا جائزہ لے کر بتایا کہ آپؐ میں ایک بہترین لیڈر کی جملہ صفات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ انھوں نے ہر طرح کے اوقات میں، غزوات میں، پر امن حالات میں، اپنے صحابہؓ کے ساتھ، ازواج مطہرات کے ساتھ، حضورؐ کے اقوال، افعال اور اپنے پیروؤں کے ساتھ رویے کا احاطہ کیا اور اپنا محققانہ موقف پیش کیا ہے۔
انھوں نے رسول اللہ کے اس معروف قول کو اپنی کتاب کی بنیاد بنایا ہے:
On a journey the leader of a people is their servant
’’سيد القوم في السفر خادمهم‘‘ (دوران سفر سردار اپنی قوم کا خادم ہوتا ہے۔ مشکاۃ)
اس حدیث کا ایک تقاضا تو یہ ہوا کہ ایک دوسری حدیث کے مطابق سفر میں تین آدمی بھی ساتھ ہوں تو ان میں سے ایک کو اپنا سردار بنانا اور اسی کی قیادت میں سفر کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ سفر میں ایسے شخص کو اپنا قائد بنانا چاہیے جو باقی ساتھیوں کی مدد اور خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہو۔
چناں چہ جان ایڈئر نے اس کتاب کے آغاز ہی میں یہ واضح کر دیا کہ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہی اعتقاداً تمام احکامات سے اوپر اور پہلے درجہ میں قابلِ اطاعت ہیں، اور دیگر تمام احکامات ان کے تحت ہی قابلِ اطاعت ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے ہر طرح کے اور ہر سطح کے قائدین کو پہلے درجہ میں اللہ تعالیٰ کا مطیع وفرمانبردار ہونا ضروری ہے؛ اور ساتھ ہی انھیں دیگر مسلمانوں کے لیے ’’رول ماڈل‘‘(Roll Model) بھی بننا چاہیے۔
اسی کے ساتھ مصنف نے یہ قرآنی ہدایت بھی پیش نظر رکھی کہ:
درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ (الأحزاب ٢١:٣٣)
اس آیت کے ضمن میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں :
(جن لوگوں نے) جنگ احزاب کے موقع پر مفاد پرستی و عافیت کوشی سے کام لیا تھا، ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ایمان و اسلام اور إتباع رسول کے مدعی تھے، تم کو دیکھنا چاہیے تھا کہ جس رسول کے پیروؤں میں تم شامل ہوئے ہو اس کا اس موقع پر کیا رویہ تھا؛ اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو، خود آرام طلب ہو، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدم رکھتا ہو، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو، تو پھر اس کے پیروؤں کی طرف سے ان کم زوریوں کا اظہار معقول ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں تو رسول اللہﷺ کا حال یہ تھا کہ ہر مشقت جس کا آپ نے دوسروں سے مطالبہ کیا، اسے برداشت کرنے میں آپ خود سب کے ساتھ شریک تھے، بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپ نے حصہ لیا۔ کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ نے نہ اٹھائی ہو۔ جس مقصدِعظیم کے لیے آپ دوسروں سے قربانیوں کا مطالبہ کررہے تھے اس پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آپ خود اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار تھے۔ اس لیے جو کوئی بھی آپ کے اتباع کا مدعی تھا اسے یہ نمونہ دیکھ کر اس کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔
یہ تو موقع ومحل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم ہے، مگر اس کے الفاظ عام ہیں….. لہذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں آپ کی زندگی کو اپنے لیے نمونے کی زندگی سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالیں۔
اور یہ بھی کہ ایک فوج کا قائد اپنی فوج میں، مثال کے طور پر، توقع رکھتا ہے کہ وہ ہمت وجسارت میں یکتا ہو، اسے خود بڑی جسارت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے؛ اور آپ نے بجا طور پر حنین کے موقع پربڑی جسارت کا مظاہرہ فرمایا تھا؛ اسی طرح ایک عالمی لیڈر کواپنے اندر ایسی صفات کی پرورش کرنی پڑتی ہے جن سے وہ انسانی صفاتِ عالیہ کا نمونہ بن جائے؛ جیسے ہر طرح کی بھلائی، نرم خوئی، انسانیت، صبر، انکساری وغیرہ۔
مقدس بائبل میں ایک استعارہ بہت زیادہ استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرپیغمبر نے اپنے آپ کو گڈریا یا چرواہا کہا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے اپنے لیے بھی اس استعارہ کا استعمال فرمایا ہے؛ ایسا لگتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ استعارہ اس مفہوم میں مستعمل رہا ہے۔
’’لیڈرشپ آف محمد‘‘ کے مصنف نے حضورﷺ سے اس طرح کا ایک مشہور قول نقل کیا ہے:
’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو چرواہا نہیں رہا‘‘ ….اور پھر اس فقرے کی تشریح میں وہ لکھتا ہے:
’’ آج ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جو شخص بھی لیڈرشپ کی ذمہ داری سنبھالتا ہے اسے سہ رخی ذمہ داری نباہنی پڑتی ہے؛ ایک تو اسے جس چیز کے حصول کے لیے متعین کیا گیا ہے اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا، اپنے تمام متبعین کے گروہ کو متحد کرنا اور سنبھالے رکھنا اور پھر ان میں سے ہر فرد کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا۔







