پچھلے مضمون میں الحادِ جدیدکے حوالے سے وجودِ باری کے سوال پر تفصیلی تنقید پیش کی گئی تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ جدید ملاحدہ کا یہ کہنا کہ کائنات کی تخلیق کے لیے اور اس کو سمجھنے کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے، ایک بودا دعوی ہے۔
اب اس مضمون میں ایمرجنس (فجائیت ) کی دلیل کا جائزہ لیا جائے گا۔
عام طور پر مذہبی افراد کے ذریعے وجودِ باری کی ضرورت کی جو سب سے مضبوط دلیل پیش کی جاتی ہے وہ کائنات میں موجود نظم و ضبط، ہم آہنگی، کائنات کی غیر معمولی وسعت، کائنات میں مسلم اور مربوط قوانین کا ہونا اور انسان کے اندر اعلی شعور کی صلاحیتیں اور خیر و شر کے متعلق حساسیت کا پایا جانا جیسے نکات پر مبنی ہوتی ہے۔
جدید ملاحدہ اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اس کا جواب فجائیت (emergence)کے حوالے سے دیا جاسکتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مادے کی پیچیدگی جب خاص سطح تک پہنچ جاتی ہے، تو اس سے انفرادی اجزا کے خواص کے علی الرغم بالکل نئے اور چونکا دینے والے خواص پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن ایک گیس ہے، اور آکسیجن بھی ایک گیس ہے۔ لیکن دونوں کے ملنے سے ایک مائع یعنی پانی بنتا ہے۔ اسی طرح پارہ ایک خاص درجہ حرارت پر بالکل مختلف صفات کے ساتھ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے دو عصبے (نیورون)اپنی ابتدائی حالتوں میں بالکل جدا قسم کی خاصیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن جب انھی دونوں نیورون کے سرے (synapse)ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں تو اس اتصال (firing)کے نتیجے میں بالکل الگ قسم کی خصوصیات جنم لیتی ہیں۔
جدید ملاحدہ کے ذریعے پیش کیا جانے والا ’’فجائیت (emergence)‘‘ کا یہ استدلال اکثر ایک طاقت ور توضیحی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھایا جاسکے کہ پیچیدہ مظاہر کس طرح سادہ مادی عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ فجائیت کا استدلال اپنے بنیادی مفہوم میں، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب مادہ ایک مناسب درجے کی تنظیم تک پہنچ جاتا ہے-خصوصاً انسانی دماغ جیسے نظاموں میں- تو شعور، ارادیت (intentionality)، اور حتیٰ کہ اخلاقی آگہی جیسی نئی خصوصیات ’’ظاہر‘‘ ہوجاتی ہیں، اور اس کے لیے کسی غیر مادی وضاحت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اس طرح یہ استدلال الحادی فکری سانچوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ روایتی طور پر مابعد الطبیعی یا الٰہیاتی دائرے سے متعلق امور کی وضاحت ایک خالص طبعی وجودیت (ontology)کے اندر کر سکیں۔
اس استدلال کا مرکزی نکتہ طبیعیت پسندی (physicalism) سے وابستہ ہے۔ آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ طبیعیت پسندی دراصل اپنے اندر یہ مفہوم رکھتاہے کہ بالآخر حقیقت بنیادی طور پر مادی اشیا پر مشتمل ہے اور طبیعی قوانین کے تحت چلتی ہے۔ اس تناظر میں فجائیت ایک تصوری پُل کے طور پر کام کرتا ہے جو خرد سطح (ایٹم، نیورون، حیاتی کیمیائی تعاملات) اور کلاں سطح (خیالات، جذبات، اخلاقی فیصلے) کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ یہ نقطہ نظر ملحدین کو اس بات کے لیے فکری غذا فراہم کرتا ہے کہ اعلی ادراکی شعوری صلاحیتیں، انسان اور کائنات کے وہ مظاہر جو آج موجود سائنس کے تجرباتی ڈھانچوں کے ذریعے ثابت نہیں کیے جاسکتے ہوں وہ فجائیت کے استدلال کے ذریعے ثابت کیے جاسکتے ہیں۔ یعنی اگرچہ کہ اعلی سطح کے مظاہر اپنے جوہری مشتملات سے بہت مختلف نظر آتے ہوں لیکن وہ بالآخر بنیادی مادی عمل سے ہی قائم و دائم ہیں اور بنیادی طبعی اصولوں کے ہی تحت آتے ہیں۔
فجائیت کے استدلال کی کشش اس کی اس ظاہری ہم آہنگی میں ہے جو سائنسی ترقی، خصوصاً نیورو سائنس، ارتقائی حیاتیات اور پیچیدگی کے نظریے کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا کہ یہ دلیل ارتقائی حیاتیاتی شعور اور اعلی ادراکی شعور کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ بطور خاص ارتقائی نفسیات اور نیورو سائنس میں ہو رہی حیران کن تبدیلیوں کی تشریح فجائیت کے فلسفے سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فجائیت کا استدلال یہ ماننے کو ممکن بناتا ہے کہ پیچیدہ خاصے اور رویے نسبتاً سادہ اصولوں سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کو بھی ممکن بناتا ہے کہ انسانی تجربے کی وسعت کو بیان کرنے کے لیے کسی بیرونی یا ماورائی اصول کی ضرورت نہیں۔ اس طرح فجائیت وسیع تر سائنسی نقطۂ نظر کی ایک فطری توسیع بن جاتا ہے اور ایک متحدہ توضیحی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
مزید یہ کہ فجائیت کا استدلال اکثر مذہبی یا ثنوی (dualistic)حقیقت کے تصورات کے خلاف جدلیاتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہ شعور اور اخلاق خالص مادی حالات سے پیدا ہو سکتے ہیں، جدید ملاحدہ روح، الٰہی ماخذ، یا معروضی اخلاقی نظام جیسے تصورات کی ضرورت کو کم زور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس معنی میں فجائیت محض ایک توصیفی دعوی نہیں بلکہ ایک مابعد الطبیعی اور نظریاتی آلہ بھی ہے جو ایک لادین، خود کفیل کائنات کے دفاع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ استدلال بظاہر بہت پرکشش محسوس ہوتا ہے اور سائنسی ترقیات کے ساتھ ہم آہنگ بھی دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت یہ کئی اہم مفہومی ابہامات اور فلسفیانہ مفروضات پر قائم ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’فجائیت‘‘ سے مراد آخر ہے کیا؟ کیا یہ صرف ہماری علمی کم زوری (epistemic complexity) کو ظاہر کرتا ہے – یعنی ہم ابھی کسی چیز کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے – یا یہ واقعی ایک نئی وجودی حقیقت (ontological reality) کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اپنی نوعیت میں بالکل مختلف اور نا قابلِ تقلیل (irreducible)ہے؟ یہی ابہام اس نظریے کو کم زور بنا دیتا ہے، کیوں کہ جب تک اس کی نوعیت واضح نہ ہو، اس کا دعویٰ بھی غیر متعین رہتا ہے۔
اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے جو اوپر بھی بیان کی گئی ہے۔ پانی کی یہ خصوصیت کہ اس کے دونوں اجزا ہائڈروجن اور آکسیجن (H₂O) اپنی انفرادی ترکیب میں خود ’’روانی‘‘ نہیں رکھتے، لیکن جب وہ ایک خاص ترتیب میں جمع ہوتے ہیں تو روانی ’’ظاہر‘‘ ہوجاتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی کوئی نئی وجودی حقیقت ہے یا صرف ہماری سمجھ کی سطح کا مسئلہ ہے؟ سائنس بتاتی ہے کہ یہ خصوصیت دراصل انھی سالماتی حرکات اور تعاملات سے مکمل طور پر بیان کی جا سکتی ہے۔ یعنی یہاں فجائیت صرف ایک وضاحتی آسانی ہے، حقیقت میں کوئی نیا وجودی درجۂ حقیقت نہیں۔
لیکن جب یہی منطق شعور پر لاگو کی جاتی ہے تو مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کیا شعور بھی صرف عصبوں کی پیچیدہ ترتیب کا نتیجہ ہے یا یہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی حقیقت ہے؟ اگر ہم کہیں کہ یہ صرف پیچیدگی کا نتیجہ ہے، تو پھر ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ مادی اور غیر شعوری اجزا سے ’’احساس‘‘ اور ’’تجربہ‘‘ کیسے پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اگر ہم کہیں کہ یہ واقعی ایک نئی حقیقت ہے، تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ مادی نظام سے کچھ ایسا پیدا ہوا جو اس سے بنیادی طور پر مختلف ہے – جو خود طبیعیت پسندی کے اصول کو چیلنج کرتا ہے۔
اسی طرح ایک اور مثال کمپیوٹر کی ہے۔ کمپیوٹر میں اربوں ٹرانزسٹر ہوتے ہیں جو صرف 0 اور 1 پر کام کرتے ہیں، لیکن انھی سے پیچیدہ سافٹ ویئر، تصاویر اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے نظام بنتے ہیں۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب ’’فجائی‘‘ ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سب انھی بنیادی اصولوں کی ترتیب اور پروگرامنگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ کوئی نئی وجودی حقیقت۔ کمپیوٹر خود شعور یا تجربہ پیدا نہیں کرتا، چاہے وہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو جائے۔
لہٰذا مسئلہ یہ ہے کہ فجائیت کا تصور اکثر دو مختلف چیزوں کو خلط ملط کر دیتا ہے:
(۱) ہماری علمی حد (ہم ابھی نہیں سمجھتے)، اور
(۲) واقعی نئی قسم کی حقیقت کا وجود۔
جب تک یہ فرق واضح نہ کیا جائے، فجائیت ایک حقیقی وضاحت کے بجائے صرف ایک نیا نام بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مشکل مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے ایک نیا نام دے دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفی اس پر گہری تنقید کرتے ہیں کہ آیا فجائیت واقعی کسی چیز کی وضاحت کرتی ہے، یا صرف ہمارے عدمِ فہم کو ایک خوب صورت اصطلاح میں چھپا دیتی ہے۔ [1]
نظریۂ فجائیت کی توضیحات کے ناکافی ہونے کے مرکز میں وہ مسئلہ ہے جسے ڈیوڈ چامرز (David Chalmers)نے مشہور طور پر شعور کا مشکل مسئلہ (hard problem of consciousness ) کہا ہے۔ شعور کا مشکل مسئلہ اس دشواری کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم کیوں اور کیسے یہ وضاحت کریں کہ دماغ میں ہونے والے طبیعی اعمال (physical processes ) ذاتی تجربے (subjective experience ) کو جنم دیتے ہیں – یعنی یہ کہ ایک باشعور وجود ہونے کا ’’کچھ محسوس کرنا‘‘ (what it is like ) کیوں ہوتا ہے۔ یہ اُن مسائل سے مختلف ہے جنھیں شعور کے آسان مسائل (easy problems of consciousness) کہا جاتا ہے، جن میں ادراکی افعال (cognitive functions، یادداشت، توجہ (attention ) اور رویے(behavior) کو عصبی نظام (neural mechanisms ) کے حوالے سے بیان کرنا شامل ہے۔ انھیں ’’آسان‘‘ اس لیے نہیں کہا جاتا ہے کہ یہ معمولی ہیں، بلکہ اس لیے کہ اصولی طور پر انھیں معیاری سائنسی فریم ورک (standard scientific frameworks ) کے اندر حل کیا جا سکتا ہے۔
فجائیت (emrgentism)کا بیانیہ خصوصاً اپنی کم زور صورت میں ان آسان مسائل کو عصبی ارتباطات (neural correlates ) اور حسابی ساختوں (computational architectures ) کے ذریعے بیان بھی کر دیتا ہے اور بڑی حد تک ان کی تشریح و توضیح کر دیتا ہے۔ تاہم وہ ذاتی تجربے کی کیفیات (qualia) کی وضاحت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
انسانی شعور کی بحث میں ایک نہایت اہم تصور Qualia کا ہے۔ اس سے مراد وہ باطنی اور ذاتی احساسات ہیں جنھیں انسان اندر سے محسوس کرتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا صرف ہونا اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ وہ چیز انسان کو کیسی محسوس ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر جب ہم سرخ رنگ دیکھتے ہیں تو سائنسی اعتبار سے آنکھ میں روشنی داخل ہوتی ہے، دماغ کے نیورون متحرک ہوتے ہیں اور مختلف برقی سگنل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام مادی اور حیاتیاتی عمل کے باوجود ایک سوال باقی رہتا ہے: آخر “سرخی” محسوس ہونا کیا ہے؟ دماغ میں تو صرف سگنل چل رہے ہوتے ہیں، مگر انسان کے اندر ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے وہ “لال رنگ” کے تجربے کے طور پر جانتا ہے۔ یہی داخلی احساس Qualia کہلاتا ہے۔
اسی طرح جب کوئی شخص چاکلیٹ کھاتا ہے تو زبان پر موجود ریسپٹراور مختلف حساس نسوں کا جال دماغ تک پیغام پہنچاتا ہے، مگر چاکلیٹ کے ذائقے کی اصل لذت صرف کیمیکل فارمولوں سے بیان نہیں کی جا سکتی۔ وہ مٹھاس، وہ لطف، اور ذائقے کی جو اندرونی کیفیت انسان محسوس کرتا ہے، وہی Qualia ہے۔
درد کی مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ اگر کوئی شخص آگ کو چھو لے تو ریسپٹرز کے ذریعے دماغ تک سگنل پہنچتے ہیں جو کہ برقیوں کی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے، مگر درد صرف برقی رو کا نام نہیں۔ اصل چیز وہ تکلیف ہے جسے انسان اندر سے محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “درد” محض جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری تجربہ بھی ہے۔
بارش کے بعد مٹی کی خوشبو کو لیجیے۔ سائنسی اعتبار سے کچھ کیمیائی مادے ناک تک پہنچتے ہیں، لیکن انسان صرف خوشبو ہی نہیں محسوس کرتا بلکہ ایک عجیب سا سکون، تازگی اور کبھی پرانی یادوں کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ یہی داخلی تجربہ Qualia کی ایک خوب صورت مثال ہے۔
موسیقی سننے میں بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ موسیقی صرف آواز کی لہریں ہیں، مگر جب کوئی خوب صورت نعت، قوالی یا درد بھرا گیت سنا جاتا ہے تو دل پر ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ انسان جذباتی ہو جاتا ہے، کبھی سکون محسوس کرتا ہے اور کبھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یہ احساسات صرف آواز کی لہروں سے زیادہ گہری حقیقت رکھتے ہیں۔
امتحان سے پہلے گھبراہٹ بھی اسی کی مثال ہے۔ جسم میں ہارمونز پیدا ہوتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، مگر اصل چیز وہ بے چینی اور خوف ہے جسے انسان اپنے باطن میں محسوس کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ Qualia کی بحث فلسفۂ شعور میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے، کیوں کہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا انسانی شعور کو مکمل طور پر صرف مادّی قوانین سے سمجھا جا سکتا ہے یا انسان کے تجربے میں کوئی ایسی جہت بھی موجود ہے جو محض فزکس اور کیمسٹری سے ماورا ہے۔ یہاں مرکزی مسئلہ وہ ہے جسے فلسفی توضیحی خلا (explanatory gap ) کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جدید ملاحدہ کا یہ دعوی کہ شعور عصبی پیچیدگی (neural complexity ) سے ’’ظاہر ہوتا ہے‘‘ اس خلا کو پُر نہیں کرتا؛ یہ صرف اسے دوبارہ بیان (redescribes) کرتا ہے۔ یہ اقدام توضیحی (explanatory ) ہونے کے بجائے صرف تسمیاتی رہتا ہے اور اکثر ایک قطعی خطا (category error) پر مشتمل ہوتا ہے، یعنی یہ غلطی کہ ذاتی مظاہر کو اس طرح بیان کیا جائے جیسے انھیں خالص معروضی اصطلاحات میں مکمل طور پر سمجھایا جا سکتا ہو۔ لہٰذا، جب تک فجائیت کو ایک مضبوط وجودی معنی (strong ontological sense) میں نہ لیا جائے، یہ شعور کے معیاری فرق (qualitative discontinuity ) کی وضاحت کرنے میں ناکام رہتی ہے؛ اور اگر مضبوط فجائیت کو اختیار کیا جائے، تو یہ خود فلسفہ طبیعی کے بنیادی اصولوں سے ٹکرا جاتی ہے۔
یہ مسئلہ اُس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا فجائیت پذیر خصوصیات (emergent properties) واقعی دنیا میں کوئی اثر ڈالنے کی طاقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ جدید فزیکلسٹ (physicalist) نظریہ عموماً ’’ ’’طبیعیت کی علتی بندش‘‘ (causal closure of the physical) کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ہر طبیعی واقعہ کی ایک مکمل طبیعی وجہ ہوتی ہے اور اسے کسی غیر طبیعی علت کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اگر شعور کو ایک فجائیت پذیر حقیقت (emergent reality) مان لیا جائے، تو پھر دو ہی امکانات باقی رہ جاتے ہیں۔
پہلا امکان یہ ہے کہ یہ فجائیت پذیر خصوصیات علتی اعتبار سے موثر (causally efficacious) ہوں، یعنی ہمارے خیالات، ارادے اور شعور دماغ کے مادی عمل پر اثر ڈال سکیں۔ اس صورت میں ہمیں ’’ نچوار علت‘‘ (downward causation) کو تسلیم کرنا پڑے گا، یعنی اعلیٰ سطح کی چیزیں (جیسے ذہنی کیفیات) نچلی سطح (جیسے نیورونوں کی حرکت) کو متاثر کرتی ہیں۔ لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جسے ’’زائد تخمین ‘‘(overdetermination) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی واقعہ کے لیے دو مکمل علتیں موجود ہو جائیں—ایک طبیعی (مثلاً دماغی کیمیا) اور ایک غیر طبیعی (مثلاً ارادہ)۔ اس سے علت کا نظام غیر ضروری اور غیر مربوط (incoherent) ہو جاتا ہے، کیوں کہ اگر ایک علت کافی ہے تو دوسری کی کیا ضرورت؟
دوسرا امکان یہ ہے کہ فجائیت پذیر خصوصیات کا کوئی اثر ہی نہ ہو، یعنی وہ صرف ضمنی پیداوار (byproduct) ہوں۔ اس کو تبع مظہریت (epiphenomenalism)کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق شعور، خیالات اور احساسات صرف دماغی عمل کا سایہ ہیں، لیکن خود کسی چیز کو متاثر نہیں کرتے۔ یہ بات یکسر خلافِ عقل محسوس ہوتی ہے، کیوں کہ ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے خیالات اور ارادے ہمارے اعمال کو متاثر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر ہمارے عقائد (beliefs) خود کسی اثر کے حامل نہیں، تو پھر فجائیت پسندی پر یقین بھی بے بنیاد ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ بھی کسی مؤثر سبب کے بغیر پیدا ہوئی ہوگی۔ اس طرح عقل اور استدلال کی بنیاد ہی کم زور پڑ جاتی ہے۔
یوں فجائیت پسند ایک سخت مخمصے میں پھنس جاتا ہے: یا تو وہ علتی بندش (causal closure) کے اصول کو توڑے، یا پھر ایسے نظریے کو قبول کرے جس میں شعور اور عقل کی کوئی حقیقی وضاحت باقی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر فرض کریں ایک شخص نے پانی پینے کا ارادہ کیا اور گلاس اٹھا لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ گلاس اٹھانے کی اصل علت کیا ہے؟
اگر ہم کہیں کہ صرف دماغ کے عصبوں کی حرکت اس کا سبب ہے، تو ارادے (intention) کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
اور اگر ہم کہیں کہ ارادہ بھی ایک حقیقی سبب ہے، تو پھر ایک ہی عمل (گلاس اٹھانا) کی دو مکمل علتیں ہوگئیں – دماغی عمل اور ذہنی ارادہ – جو زائد تخمین کا مسئلہ پیدا کرتی ہیں۔ حالاں کہ بعض فلسفی اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ زائد تخمین نہیں ہے۔ لیکن بہرحال بہت سے عیسائی مفکرین اس دلیل کو پیش کرتے ہیں۔
فجائیت کے فلسفے کی ایک خامی اور بھی ہے جسے درج ذیل مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
فرض کریں آپ کو درد محسوس ہوتا ہے اور آپ ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔ اگر تبع مظہریت درست ہو، تو درد کا احساس خود کوئی کردار ادا نہیں کرتا، بلکہ صرف اعصابی نظام یہ کام کر رہا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ہمیں درد کا شعور کیوں دیا گیا اگر وہ کسی عمل کو متاثر ہی نہیں کرتا؟ حالاں کہ اس مثال پر بعض فلسفی یہ اعتراض وارد کرتے ہیں کہ فجائیت کے مسئلے کو دو ہی راستوں تک محدود کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ فجائیت کے فلسفے پر نسبتًا سیکولر لیکن عقل کو اپیل کرنے والی تنقید اوپر پیش کر دی گئی ہے، اب ہم نیچے اسلامی روایت سے فجائیت کے فلسفے پر مختصرًا اور آسان تنقید پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسلامی مابعد الطبیعیات (metaphysics) میں شعور کو کسی مادی پیچیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اصلی (fundamental) حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ قران نے انسان کو یاد دلایا ہے اور اس پر واضح کیا ہے کہ اسے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اسے اختیار اور ذمہ داری دی گئی ہے اور اسے سمع، بصر اور فواد کی صلاحیت دی گئی ہے۔
اس پر اچھائی اور برائی کی تمیز کو الہام کر دیا گیا ہے۔ غرض فجائیت کے فلسفے اور اسلامی روایات اور مابعد الطبیعیات میں سب سے پہلا بنیادی فرق یہ ہے کہ شعور اللہ کی عنایت کردہ ایک خصوصیت ہے وہ بے جان مادے کی پیچیدگی سے وجود میں آنے والی شے نہیں ہے۔ قدیم فلسفی ابنِ سینا کے نزدیک نفس (soul) ایک غیر مادی جوہر ہے، اور ملا صدرا کے نزدیک شعور وجود کی شدت (gradation of being)کا مظہر ہے۔ اگر فجائیت پسندی شعور کو ثانوی (derivative) بنا دیتی ہے، تو اسلامی فکر اسے وجودیاتی طور پر اصلی (ontologically primary) قرار دیتی ہے۔ اسی طرح فجائیت پسندی جس طبیعی علت ’’causal closure of the physical‘‘ کے اصول پر قائم ہے، اسلامی تصورِ کائنات اس کو بنیادی طور پر رد کرتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں کائنات ایک بند میکانیکی نظام نہیں بلکہ ایک کھلا نظام (open system) ہے جو مسلسل ارادۂ الٰہی کے تحت کام کرتا ہے، جیسا کہ سورہ رحمٰن میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ہر آن اس کی ایک نئی شان ہے۔ لہٰذا معلتی بندش ایک محض مابعد الطبیعیاتی مفروضہ ہے جب کہ اسلامی تصورحیات میں علت (causation) خود تابع (dependent)ہے اور اصل فاعل (ultimate cause) اللہ ہے، اللہ تعالی نے قرآن میں بار بار کہا کہ سیاہ رات میں چٹان پر چلنے والی کوئی چیونٹی ایسی نہیں ہے جس کی وہ خبر نہ رکھتا ہو اور وہ اپنی مخلوق میں جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے اور سارے کائنات کو سنبھالنے والا وہ ہے اور وہ کام اس پر کچھ بھاری نہیں ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ وہ سوتا ہے۔ اس تصور کو مان لینے کے بعد سیکولر دلائل یا کرسچن تصور حیات کے ذریعے دیے گئے دلائل اور فجائیت پسندی کا پورا مخمصہ یعنی بندش اور تبع مظہریت کے درمیان کشمکش اسلامی تناظر میں سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ فجائیت پسندی شعور کو ایک ضمنی پیداوار یا ثانوی مظہر کے طور پر دیکھتی ہے، جب کہ اسلامی فلسفہ شعور کو ادراکِ حقیقت کا ذریعہ بلکہ بعض اوقات حقیقت کے ظہور (manifestation) کا مقام سمجھتا ہے۔ ملا صدرا کے مطابق ’’علم اور وجود ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں‘‘، اس لیے اگر شعور کو محض ایک ضمنی پیداوار مان لیا جائے تو طلبِ حقیقت کی کوئی وجودیاتی بنیاد باقی نہیں رہتی، جب کہ اسلامی فکر میں علم کا تعلق حقیقتِ وجود سے براہِ راست ہے۔ اسی تسلسل میں فجائیت پسندی کے اندر ذہن اور جسم کے تعلق کو سمجھانے کے لیے نچوار علت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، مگر اسلامی فلسفہ، اس کو اس طرح حل کرتا ہے کہ روح اور جسم دماغ اور عقل شعور اور احساس اور الگ الگ وجودیاتی منطقے بلکہ ایک ہی وجود کے مختلف درجات ہیں۔ جس طرح روشنی کی شدت کے مختلف مراتب ہوتے ہیں، مدھم روشنی اور تیز روشنی اسی طرح مادہ کم درجے کا وجود ہے اور شعور زیادہ درجے کا وجود ہے۔ لہٰذا یہاں نچوار علت کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا کیوں کہ سب ایک ہی وجودی تسلسل (continuum) میں شامل ہیں۔ اگر فجائیت پسند تبع مظہریت کی طرف مائل ہو کر یہ کہے کہ شعور کا کوئی علتی کردار نہیں، تو اسلامی فکر یہاں یہ واضح کرتی ہے کہ اگر عقل اور شعور غیر مؤثر ہوں تو پھر وحی کو سمجھنا، اخلاقی ذمہ داری اور حساب و کتاب سب منہدم ہو جاتے ہیں، کیوں کہ اسلام میں عقل حجت ہے اور شعور ذمہ داری کی بنیاد ہے، اس لیے تبع مظہریت نہ صرف فلسفیانہ بلکہ دینی سطح پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔ مزید برآں فجائیت ایک علمی بحران کو بھی جنم دیتی ہے، کیوں کہ اگر شعور محض بقا کی خاطر ہونے والی دماغی سرگرمی ہے تو ہمارے عقائد کی سچائی کی کیا ضمانت ہے، جب کہ اسلامی ایپسٹمولوجی اس کے برعکس علم کو محض دماغی عمل تک محدود نہیں کرتی بلکہ عقل، وحی اور حسی تجربہ کے امتزاج کے طور پر دیکھتی ہے۔ فجائیت پسندی علم کو خالص حیاتیاتی بنا کر حقیقت کی بنیاد کو کم زور کر دیتی ہے۔ اس فرق کو ایک مثال سے بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ فجائیت پسندانہ نقطۂ نظر میں کمپیوٹر کی پیچیدہ پروگرامنگ سے اے آئی پیدا ہو سکتی ہے جو شعور جیسا رویہ دکھائے اور دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ پیچیدگی سے شعور پیدا ہو جاتاہے، جب کہ اسلامی نقطۂ نظر میں انسان کا شعور محض پیچیدگی نہیں بلکہ ایک ’’امانت‘‘ ہے جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے، جیسا کہ قرآنی تصور میں بیان ہوا ہے کہ ’’ہم نے انسان میں اپنی روح پھونکی‘‘، اس طرح فرق واضح ہو جاتا ہے کہ فجائیت پسندی میں شعور پیچیدگی کا نتیجہ ہے جب کہ اسلام میں شعور، الہی فیضان اور ایک وجودیاتی حقیقت ہے۔ آخر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ بحث محض ایک سائنسی یا فلسفیانہ اختلاف نہیں بلکہ دو مکمل کائناتی تصورات کا تصادم ہے، جہاں فجائیت پسندی یا طبیعیت پسندی حقیقت کو مادے تک محدود کر کے شعور کو اس کی ضمنی پیداوار قرار دیتی ہے اور کائنات کو ایک بند نظام کے طور پر دیکھتی ہے، جب کہ اسلامی مابعد الطبیعیات حقیقت کو وجود کے مختلف درجات میں سمجھتے ہوئے شعور کو ایک بنیادی حقیقت اور کائنات کو ایک کھلے، مقصدی اور الٰہی نظام کے طور پر پیش کرتی ہے، اور اسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فجائیت پسندی شعور کی وضاحت کرنے کی کوشش میں اسے کم کر دیتی ہے، جب کہ اسلامی فلسفہ شعور کو بلند کرتا ہے اور اسے حقیقت کے مرکز میں رکھتا ہے۔
چناں چہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے وجود کی نفی کے لیے اور خدا کے اثبات میں دی جانے والی سب سے مضبوط دلیل یعنی کائنات کے نظم اور پیچیدگی اور شعور کے حوالے سے شعور کو رد کرنے کے لیے فجائیت کا فلسفہ بس ایک لفاظی پر مبنی اور خوب صورت الفاظ میں پرویا ہوا کھوکھلا جواب ہے۔







