عقیدۂ توحید اور وحدتِ امّت

(11)

احراز الحسن جاوید

زیرِ نظر تصنیف ’’عقیدہ توحید اوروحدتِ امت‘‘ ماہ نامہ زندگی نو ۔ دہلی میں مسلسل قسط وار مارچ ۲۰۱۵ء سے شائع ہوتی رہی اور جنوری ۲۰۱۶ء کواختتام پذیر ہوئی ۔ اسے پڑھنےو الے بیشتر احباب نے اس پر مختلف انداز سے اظہارِ خیال کیا ۔بیشتر حضرات نے اس سلسلے کوپسند کیا اورمیری حوصلہ افزائی کی ۔ یہ سب اللہ کی توفیق اوراس کی عنایت ومہربانی سے انجام پزیر ہوا۔

فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (جاثیہ :۳۶)

’’پس تعریف اللہ ہی کے لئے ہے ۔ جو زمین اور آسمان کا مالک اورسارے جہان کا پروردگار ہے۔‘‘

بعض احباب نے اسے جلد از جلد کتاب کی شکل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ میرا ارادہ بھی یہی تھا کہ ایک بار یہ تحریر لوگوں کی نظروں سے گزرجائے تاکہ اس کے عیوب ومحاسن بھی سامنے آجائیں۔ بعض احبا  ب کو جومعتبر علماء میں شمار ہوتے ہیں اورسرگرمی سے دین کی خدمات میں لگے ہوئے ہیں ۔ انہیں پورا مسودہ دکھایا گیا ۔ ان کے مشوروں کی روشنی میں نظر ثانی اوراضافہ بھی کیا گیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے اورآپ بھی دعا کریں کہ اسے کتابی شکل میں لانے کی جلد از جلد توفیق عطا کرے۔

بعض حضرات نے تصوف سے متعلق میرے خیالات سے اتفاق نہیں کیا اورانہیں میرا تسامح اور غلطی قرار دیا ۔میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نےمجھے اپنا نقطۂ نظر اورموقف وضاحت سے بیان کرنے کا موقع دیا ۔ اس سلسلے میں میں نے اپنی تحریر میں کچھ اضافے کیے ہیں۔ چندباتیں ان کی خدمت میں مزید پیش کررہا ہوں ۔ امید ہےیہ گزارشات ان کے لیے تشفی کا باعث ہوںگی۔ اگر اس کے باوجود اطمینان نہ ہوتو وہ کھل کر تحریری طور پر اظہارِ خیال کریں۔ ان شاء اللہ اس پر غور کیا جائےگا۔

قرآن کا سمجھ کر مطالعہ کرنے والے ہرقاری کویقیناً اس بات کا علم ہوگا کہ اس میں توحید خالص پرسب سے زیادہ زوردیا گیا ہے ۔ پورا قرآن پاک توحید کی صراحتوں ، وضاحتوں اور تفصیلات سے بھرا ہوا ہے ۔ رسالت اورآخرت توحید کی شاخیں ہیں ۔ بنیادی عقیدہ توحید ہی ہے ۔ سارے انبیاء ورسل توحید کے علمبردار بن کر آئے اورانہوں نے صرف ایک اللہ کی اطاعت وپیروی کی طرف لوگوں کوبلایا اور سب سے بڑے ظلم عظیم شرک سے روکا اورشر ک کی بڑے شکل طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرنے کا اعلان کیا ۔ قرآن پاک کا واضح ارشاد ہے :۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل:۳۶)

’’ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اوراس کے ذریعہ سب کوخبردار کردیا کہ ایک اللہ کی بندگی کرو اورطاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘

’’ طاغوت‘‘ لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کوکہا جائے گا جواپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو ۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جوبندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی وخداوندی کا دم بھرے اورخدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ (تلخیص تفہیم القرآن سورہ بقرہ آیت ۲۵۶ صفحہ ۸۵)

انبیاء کرام نے شرک وبدعت کی وہ تمام شکلیں جواپنے اپنے دورمیں پائی جاتی تھیں ان کی پوری پوری نشاندہی کی اورپوری صراحت کے ساتھ لوگوں کو ان کی قباحتیں بتائیں اوراپنے قول وعمل سے توحید پر چلنے کا صحیح طریقہ بتایا جورسالت کا اولین اوربنیادی فریضہ تھا۔ اسے نہ ماننے کے انجام سے ڈرایا اورپورے یقین کے ساتھ انسانوں کوبتایا کہ انہیں آخرت میں دوبارہ پیدا کرکے ان کے تمام کاموں کا پورا پوراحساب لیا جائے گا جس کی تیاری اسی دنیا میں کرلو۔ گویا توحید اصل پیغام ہے ۔ اس پر چلنے کا طریقہ نبوت ورسالت اورانجام آخرت ہے ۔ ان تینوںمیں ایک منطقی ربط ہے جنہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی ایک کا انکار پوری توحید کا انکار ہے ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دور میں عقیدۂ توحید میں بگاڑ آتا رہا ہے ۔ ابلیس  انسان کی توجہ توحید سے ہٹا کراُسے  شرک والحاد اوربدعت وخرافات میں الجھاتا رہا ہے ۔ توحید میں بگاڑ کی مختلف شکلیں رہی ہیں ۔ کھلی کھلی بت پرستی  سے پہلے انسان کے تصور وعقیدہ میں خرابی اوربگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہی وہ مٹی ، پتھر کے بت بناتا ہے یا چاند ، سورج ، جانور اورانسان وغیرہ کی پوجا اورعبادت شروع کرتا ہے  ۔ خود بھی ان کی پرستش کرتا اور دوسروں سے بھی کراتا ہے۔

راقم کے نزدیک موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر عقیدہ توحید کے بگاڑ کے مختلف اسباب میں ایک بڑا سبب صوفیانہ افکار وخیالات ہیں جنہیں تصوف کانام دیا گیا ہے ۔ جس میں قدیم وجدید عوام اورعلماء کثرت سے  مبتلا رہے ہیں۔ تصو ف کو تزکیہ نفس کا تکمیلی ذریعہ بتایا جاتا ہےاوریہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر دین کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ گویا خلفائے راشدین ، صحابہ کرام اورتابعین کے زمانے تک جب تصوف کا نام ونشان بھی نہیں تھا ، دین مکمل نہیں ہوا تھا ۔ مولانا سید ابوالحسن علی  ندویؒ فرماتےہیں کہ ’’تصوف کی اصطلا ح سے ہم دوسری صدی ہجری کے آخر میں روشناس ہوئے ہیں ۔‘‘ (تزکیہ واحسان یا تصوف وسلوک ص ۱۴) تصوف کے سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردیہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ لفظ ’صوفی‘ دوسری صدی ہجری تک استعمال نہیں کیا گیا (عوارف المعارف ص ۲۰۴) بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ تصوف توموجود تھا لیکن اُس کا نام تصوف نہیں ’تزکیہ‘ تھا اور اس کا سلسلہ حضرت علیؓ سے جوڑتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس کا نام تصوف نہیں بلکہ ’’تزکیہ نفس‘‘ اور ’’ا حسا ن ‘  ‘ تھا تواس کانام کیوں بدلا گیا ؟ قرآن وسنت کا مجوزہ نام ترک کرکے اسے ایک اجنبی اصطلاح’ تصوف‘ کا نام کیوں دیا گیا ؟ نام کی تبدیلی کی وجہ سے اس میں اسلام کے علاوہ دیگر فلسفیانہ خیالات وافکار کی آمیز ش ہوتی چلی گئی ۔ اس میں اشراقی افکار داخل کیے گئے (دیکھئے مولانا شبلی کی علم الکلام ۔ الکلام ) اس میں ویدوں کا ترک دنیا کا فلسفہ اور یوگ کے طریقے شامل ہوگئے۔ اس میں یونانی فلسفے نے راہ بنائی ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تصوف کا لفظ یونانی صوفیا سے لیا گیا ہے ۔ جس کے معنی حکمت کے بتائے جاتے ہیں (تزکیہ واحسان یا تصوف وسلوک ص ۱۴) ڈاکٹر عبداللہ فراہی کی تحقیق کے مطابق تصوف کا مولود مسکن کوفہ و بصرہ ہے ۔ امام سیوطی کے نزدیک ابوالہاشم کوفی پہلے شخص ہیں جنہیں صوفی کہا گیا ۔ ان کے معاصر جابر بن حیان کے نام کے ساتھ بھی صوفی کا لفظ جڑا ہوا ہے لیکن اس کا ذکر صوفی کی حیثیت سے اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ کیمیا گرتھا اورشیعہ تھا ۔ ان دونوں کا تعلق کوفہ سے تھا جوشیعیت کا مرکزرہا ہے (تصوف ایک تجریاتی مطالعہ ص ۱۸،۱۹)تصوف کے تمام سلسلوں کے حضرت علی پر ختم ہونے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پر شیعیت کا غالب اثر رہا ہے ۔ اس لیے ’تزکیہ‘ اور’احسان‘ کی اسلامی اصطلاحوں کوچھوڑ کر تصوف کی اصطلاح کورواج دینا ایک بدعت ہی کہا جاسکتا ہے ۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس سلسلے میں لکھتےہیں:۔

’’اگر ہم اس اصطلاح (تصوف ) کوترک کرکے قرآن وحدیث اورعہدِ صحابہ وتابعین کی طرف رجوع کریں اور کتاب وسنت کا اس نقطۂ نظر سے مطالعہ کریں توہمیں نظر آئے گا کہ قرآن دین کے ایک شعبہ اورنبوت کے ایک اہم رکن کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا اوراس کو ’’تزکیہ‘‘ سےتعبیر کرتا ہے اوران چار ارکان میں اس کوشامل کرتا ہے جن کی تکمیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب نبوت سے متعلق اورمقاصد میں شامل تھی ۔‘‘(تزکیہ واحسان یا تصوف سلوک ص ۱۴)

مولانا علی میاںؒ نے بڑا ہی مفید اورسائب مشورہ دیا ہے کہ تصوف کی اصطلاح ترک کرکے قرآ ن وسنت کی دی ہوئی اصطلاح تزکیہ واحسان کو رائج کیا جائے۔ مگر صرف اصطلاح ترک کرنے سے بات نہیں بنے گی ۔ بلکہ تصوف میں دین کے بیشتر پہلوؤں خاص طور پر عقیدہ توحید سے متعلق جوغلو آمیز چیزیں شامل ہیں انہیں بھی نکالنا اورترک کرنا پڑے گا اور نکالنے سے پہلے ان کی پوری جراء ت کےساتھ نشاندہی کرنی پڑے گی تاکہ تمام لوگوں کے علم میں وہ سب چیزیں آجائیں ۔ تصوف کا مزاج اورسرشت  غلوسے مرکب ہے ۔ بغیر غلو کے تصوف کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جولوگ تصوف کواختیارکرتے ہیں ان کے مزاج میں بھی غلو اورانتہا پسندی شامل ہوجاتی ہے ۔ اس لیے تصوف کوخود اپنے تزکیہ کی بھی ضرورت ہے ۔  مو لانا محتر م بھی چونکہ تصوف کے حاملین میں سے ہیں اس لیے ان کی کتاب ’’تزکیہ واحسان یا تصوف و سلوک ‘‘  میں بھی بعضـ عجوبۂ روز گار چیزیں شامل ہوگئی ہیں جوغلو عقیدت کی مثالیں ہیں ۔ جب تک بزرگوں سے متعلق  ایسی  باتیں منسوب نہ کی جائیں اس وقت تک ذوقِ تصوف کی تسکین و تکمیل نہیں ہوتی ۔ پنجاب کے ایک عالم مولانا غلام رسول کے بارے میں کہتے ہیں:۔

’’(ان کی ) محبت میں اثر یہ تھا کہ جوایک مرتبہ پاس بیٹھ جاتا ساری عمر اس کی تہجد کی نماز بھی ناغہ نہ ہوتی چہ جائے کہ فرضِ نماز۔ ہندوؤں میں جہاں وعظ کہہ دیتے سب کے سب مسلمان ہوجاتے ۔ ایک دفعہ استنجے کے ڈھیلے لیے کھڑے تھے۔ کچھ ہندو عورتیں قضائے حاجت کے لیے بستی سے باہر جنگل کوجارہی تھیں ، ڈھیلا زور سے زمین پر پھینکا اورفرمایا الا للہ وہ سب ہند و عورتیں لا الہ الا اللہ ، لا الہ الا اللہ پڑھنے لگیں اور گھر تک پڑھتی گئیں اورمسلمان ہوگئیں۔‘‘ (تزکیہ واحسان یا تصوف وسلوک ص ۱۴۵)

یہ پڑھ کر قاری حیران وپریشان ہوکر سوچتا ہے کہ جب ایک ادنیٰ امتی کےاندر یہ تاثیر اورکمال ہوسکتا ہے توصحابہ اورخلفائے راشدین میں تویہ خوبی بدرجہ اتم ہونی چاہیے ۔ آخر خلفائے راشدین کی حیات میں ایسے کارنامےکیوں نہیں ملتے؟ حضرت عمر فاروقؓ کو ایران وشام وغیرہ فتح کرنے کے لیے مجاہدین کی فوجیں بھیجنی پڑیں۔ آخر انہوں نے الا اللہ کے نعروں سے وہ معرکے کیوں نہیں سر کرلیے؟ حضرت عمر ؓ کا یہودی غلام مدتوں ان کی صحبت میں رہا اورباوجود تلقین وترغیب کے آخرتک ایمان نہیں لایا ۔ ایک خلیفہ راشد کی صحبت اورتلقین میں بھی وہ تاثیر نہیں تھی جومولانا غلام رسول میں تھی کہ ان کے ایک وعظ سے سارے ہندو مسلمان ہو جاتے تھے؟ یہ وہ تصوف ہے جس نے جذبہ جہاد کومجروح کرنے میں بڑا رول ادا کیا ہے ۔ اس تصوف کودیکھ کر علامہ نے کہا تھا   ؎

یاوسعت افلاک میں تکبیر مسلسل

یا خاک کی آغوش میں تسبیح ومناجات

اس تصوف نے وحدت الوجود کوجنم دیا اوروحدت الوجود سے وحدت ادیا ن کا نظریہ منصہ و شہود پر آیا جس نے یہ گیت گایا !

تم رام کہو وہ رحیم کہیں دونوں کی غرض اللہ سےہے

تم دین کہو وہ دھرم کہیں منشا تواسی کی راہ سے ہے

تم عشق کہو وہ پریم کہیں مطلب تواسی کی چاہ سے ہے

وہ یوگی ہوں تم سالک ہومقصد تو دِل آگاہ سے ہے

کیوں لڑتا ہے مورکھ بندے یہ تیری خام خیالی ہے

ہے پیڑ کی جڑ تو ایک وہی ہرمذہب اِک اِک ڈالی ہے

(ماخوذ: دین کا قرآنی تصور۔ مولانا صدر الدین اِصلاحی ص ۲۰۱)

یہ تصور عام ہونے لگا کہ راستے الگ الگ ہیں توکیا منزل توایک ہے ۔ تم کسی بھی راستے پر چلو پہنچو گے اپنی منزل پر ۔ اس تصور نے عقیدہ رسالت پر ضرب لگائی ۔ اسے ذہنوں سے محجوب ومستور کردیا ۔ بحیثیت مجموعی (چند مستشنیات کوچھوڑ کر) صوفیائے کرام کے پروگرام میں غیر مسلمین میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا ۔ ان کا سارا کام مسلمانوں کی اِصلاح وتربیت تھا۔ وہ لوگوں کے قلوب کا مجاہد انہ تزکیہ نہیں بلکہ صوفیانہ تزکیہ کرتےتھے۔ غیر مسلمین میں تبلیغی مساعی کا کوئی منصوبہ ان کے کاموں میں نظر نہیں آتا۔ البتہ ان کے زیر تربیت افراد کے ذریعہ وحدتِ ادیا ن کا فروغ خوب ہوا۔

اس باب میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبۂ تاریخ کے سابق پروفیسر جناب اشتیاق احمد ظلی صاحب کا گراں قدر تحقیقی مقالہ بعنوان ’’برصغیر میں اسلام کی توسیع واشاعت میں صوفیا ء کرام کا حصہ‘‘ ملاحظہ کریں (تحقیقات اسلامی علی گڑھ جولائی ۔ ستمبر ۱۹۸۵ء) موصوف کی نظر تاریخ اورتصوف دونوں پر بڑی گہری ہے ۔ تصوف کے اصل مآخذ سے انہوں نے بیشتر ثبو ت اس بات کے فراہم کیے ہیں کہ صو فیائے کرام نے غیر مسلمین میں تبلیغ اسلام کا کوئی منصوبہ بند کام نہیں کیا ۔ انہوں نے کشف وکرامات کے ذریعہ عقیدت مند توبہت بنائے لیکن اسلام پر جان دینے اورلینے والے مجاہدان کی خانقاہوں سے نہیں نکلے ۔ اس لیے کہ تصوف میں جہاد اورمجاہد کا مفہوم ہی دوسرا ہے ۔ تصوف میں اوراد ووظائف اورذکر وفکر کوجواہمیت حاصل ہے اس کے مقابلے میں جہاد کی کیا قدر ہے ۔ یہ تصوف کے ایک بڑے بزرگ سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی کی ز بان سے سنئے ۔ فرماتے ہیں:۔

’’روایت ہے کہ ایک بندہ صالح نے اپنے بھائی کوخط لکھا جس میں اس کوجہاد میں شرکت کی دعوت دی تھی اس نے اپنے بھائی کولکھا کہ اے بھائی تمام سرحدیں میرے ایک گھر میں جمع ہوگئی ہیں اور مجھ  پر گھر کا دروازہ بند ہوگیا ہے ۔ اس کے بھائی نے جواب میں لکھا ’’اگر تمام لوگ یہی طریقہ اختیار کریں  جوتم نے اختیار کرلیا ہے تومسلمانوں کے تمام کام درہم برہم ہوجائیں اورکفار غالب آجائیں ۔ اس لیے جنگ وجہاد بہت ضروری ہے ۔‘‘

اس کے جواب میں اس کے بھائی نے لکھا ’’ اے برادر عزیز ! اگر تمام لوگ وہ کام کرنے لگیں جس میں میں مصروف ہوں اوروہ ایسے زاویوں (خانقاہوں) میں اپنے مصلوں پر بیٹھ کر ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگائیں تو مسلمان قسطنطنیہ کے قلعہ کومنہدم کردیں۔ (عوارف المعارف ص ۲۴۷)

شیخ سہروردی خانقاہ نشینوں کے فرائض بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:۔

’’خانقاہ نشینوں کے فرائض میں داخل ہے کہ مخلوق سے قطع تعلق کریں اورحق کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں، ترک کسب کرکے مسبب الاسباب کی کفالت پر اکتفا کریں(یعنی ذریعہ معاش تلاش نہ کریں بس لوگوں کے نذرانے اورصدقات کے منتظر رہ کر انہیں پر انحصار کریں) میل جول اورارتباط سے اپنے نفس کوروکیں۔ برے کاموں سے اجتناب کریں اورا دووظائف میں مصروف رہیں۔ نمازوں کا انتظا ر کریں  اور غفلتوں سے خود کومحفوظ رکھیں۔ اگر ان باتوں پر اہل خانقاہ وزاویہ نشین عمل پیرا ہوجائے گا تووہ ایک زبردست مجاہد بن جائے گا ۔‘‘(عوارف المعارف ص ۲۴۸)

صاحب ایمان کون ہے ۔ اس کے بارے میں صاحب ’المعارف‘ کا یہ ارشاد ہے :۔

’’اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جاریہ ہے کہ ایسا صاحب حال جسے ذوق میسر ہے اس کواپنے درجہ سے بلند اوراعلیٰ درجہ کا علم بذریعہ مکاشفہ حاصل ہوتا ہے ۔ چنانچہ وہ اپنے پہلے حال میں توصاحبِ ذوق ہے اور اس حال میں جس کا اس کو کشف ہوا ہے وہ صاحب علم ہوگا اورجب اس سے بلند درجے پر پہنچے گا تووہ صاحبِ ایمان ہوجائےگا ۔‘‘ (عوارف ص ۲۰۷)

اس قول کا اور اوپر کےدو اقوال کا اگر تجزیہ کیا جائے تویہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ جب تک ایک مسلمان تصوف کا ذوق نہ رکھے وہ صاحبِ حال نہیں اورصاحب حال کو جب تک مکاشفہ نہ ہو، وہ نہ صا حبِ علم وایمان ہے اورنہ مجاہد ۔ کیا قرآن وصحیح احادیث   میں اس کے لیے کوئی دلیل یا دلائل ہیں؟ اکابر صوفیا ء کے غلو آمیز اقوال وافعال نے ہی مسلمانوں میں شک کے درآنے کی راہیں ہموار کی ہیں ۔ بزرگوں کو حاجت روا اورباطنی تصرفات کاحامل قرار دے کر ان کی قبروں کوعبادت گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ۔ اس بات کا اعتراف تصوف کے زبردست حامی اورنقیب جناب مولانا محمد منظور نعمانی ؒ بھی کرتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں:۔

’’تصوف کی تاریخ پر جن حضرات کی نظر ہے ان سے یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ مختلف زمانوں میں اس راہ سے کیسی کیسی گمراہیاں امت میں داخل ہوئیں اورآج بھی اپنے کوتصوف کی طرف منسوب کرنے والے حلقوں میں کتنی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے تصورات اوراعمال اسلام اورتوحید کی بہ نسبت کفر اورشرک سے زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ نے جنہیں واقفیت اوربصیرت دی ہے وہ جانتے ہیں کہ خانقاہی حلقوں میں اس قسم کی گمراہیاں زیادہ تر بزرگوں کے ساتھ عقید ت اورخوش اعتقادی میں غلو اور تعظیم میں افراط سے پیدا ہوتی ہیں۔ ‘‘ (تصوف کیا ہے؟ ص ۴۴)

یہ عرض کیا جاچکا ہے کہ تصوف میں غلو اس کا جزو لاینفک ہے ۔ یہ چیز تصوف سے الگ نہیں کی جاسکتی جب تک مکمل طور پر تصوف کا  تزکیہ نہ کردیا جائے ۔  تصوف میں پیر کا مقام ایسا بلند ہے جو پیغمبر کا ہوتا ہے ۔ شیخ مرید کو جسے سالک کہتے ہیں مختلف اشغال ، افعال اوراعمال کی تعلیم دیتا ہے اورمعرفت کی سیڑھیاں طے کرنے کے لیے ’مجاہدہ ‘ کرتے ہوئے بہت سے ’عارفانہ‘ مقامات سے گزر کر مشاہدہ حق تک پہنچتا ہے ۔ مرید اورسالک کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیر اور شیخ سے ہر بات یہاں تک کہ اندرونی جذبات وخواہشات ، واردات قلب اوروہ تمام باتیں جوکسی اور سے نہیں کہہ سکتا وہ بھی شیخ کو بتادے ، اور شیخ کا مقام کیا ہے؟ مرید کو اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہئے اور کس قدر اہتمام کرنا چاہیے ۔  یہ میدانِ تصوف کے ایک بڑے شہسو ار سے سنیے جوسلسلہ نقشبندیہ کے اساطین میں سے ہیں حضرت شیخ  سرہندی مجدد الف ثانی ؒ ۔  فرماتے ہیں:۔

’’جہاں تک ممکن ہوا یسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ اس کا سایہ پیر کے کپڑوں پر یا پیر کے سایہ پر پڑتا ہو ، اور پیر کی جانماز پر پاؤں نہ رکھے اورنہ اس کے وضو خانے میں وضو کرے اوراس کے خاص برتنوں کواپنے استعمال میں نہ لائے اوراس کے سامنے پانی نہ پئے اورنہ کھانا کھائے اورنہ کسی سے بات کرے ۔ بلکہ کسی طرف متوجہ نہ ہو اورپیر کی عدم موجودگی میں اس کی طرف پاؤں نہ کرے جس طرف پیر ہو اورنہ اس کی طرف تھوکے اور جوکچھ پیر سے صادر ہو اسے درست جانے اگرچہ بظاہر درست نظر نہ آئے۔ کیونکہ پیر جوکچھ کرتا ہے الہام اوراذن سے کرتا ہے ۔ لہٰذا ایسی صورت میں اعتراضـ کی گنجائش نہیں ہے ۔‘‘  (مکتوبات امام ربانی  جلد سوم ص ۱۵۹؍۸۴۱)

یہ ہے تصوف میں پیر یا شیخ کا مقام۔ شیخ کی مجلس سے واپسی میں اس کی طرف پیٹھ نہیں کی جاتی بلکہ الٹے پاؤں واپس آتے ہیں ۔ (یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے ۔)

اسلامی مزاج تو یہ چاہے گا کہ کسی کوپیر مان کر اس کی غیر مشروط بندگی کرنے سے بہتر تویہ ہے کہ کسی کوشیخ یا پیر ہی نہ بنایا جائے۔ کیا خلفائے راشدین کا عام صحابہ میں یہی مقام تھا؟ حالانکہ وہ اپنے زمانہ کے تزکیوں اورمربیوں میں سے تھے۔ اللہ نے ہر انسان کوآزاد پید ا کیا ہے ۔ حُریت اس کا فطری وصف ہے ۔ انسان کی حریت کو برقرار رکھنے کے لیے ہی اللہ نے مسلمانوں پر جہاد کوفرض کیا ہے ۔ اسے کسی شخصیت کے حصار میں قید کردینا اس کی فطرت کومجروح کرنا ہے ۔ شیخ کی غیر مشروط اطاعت اوراس کی غلطی کو بھی ’الہام‘ اور’اذن الٰہی‘ کہنا مرید کی آزادی اورفکر وفہم کوبیڑیاں پہنا کر اسے مفلوج کردیتا ہے ۔ یہیں سے شخصیت پرستی جنم لیتی ہے ۔ خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق ؓ نے اس بات کوخوب اچھی طرح سمجھ لیا تھا ۔ اسی لیے انہوں نے اپنے مامورین کوحریت پسند بنایا تھا جوانہیں  ٹوکنے سے نہیں چوکتے تھے ۔ ایک مرتبہ مہر کی مقدار کی تعیین کرنے کے لئے آپ مجمع عام میں تقریر کررہے تھے کہ درمیان تقریر ہی ایک خاتون نے ٹوک دیا اوران کی غلطی بیان کی ۔ حضرت عمر ؓ نے نہ صرف اپنی غلطی تسلیم کی بلکہ اس کے بعد جس بلند ظرفی کا مظاہرہ کیا وہ ہرایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا ’’ ایک عورت عمر سے زیادہ جانتی ہے۔‘‘ (خلفائے راشدین از مولانا معین الدین ندویؒ) لوگوں کی حریت اورآزادانہ فکر وفہم کوپروان چڑھانے کے لیے آپ برسرعام اعلان کرتے تھے کہ اے لوگو! اگر میں بگڑ جاؤں توتم کیا کرو گے؟ ایک نوجوان تلوار کھینچ کر انہیں دکھاتے ہوئے کہتا تھا ۔ اے عمر ! اسے دیکھ رہے ہو ! ہم اس سے تمہیں سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر اس پر الحمدللہ کہتے تھے کہ ایسے لوگ ابھی باقی ہیں جوعمر کوبھی سیدھا کرسکتے ہیں ۔ (الفاروق ۔ علامہ شبلی نعمانی) دنیا نے اس شان کا نظارہ بھی شاید اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ جب آپ بیت المقدس (فلسطین ) میں داخل ہوتے ہیں توآپ کا غلام اونٹ پر بیٹھا ہوتا ہے اور آپ اونٹ کی مہار پکڑے پیدل چل رہے ہوتے ہیں۔ اسلام خدا اوربندے کے درمیان تمام درمیانی واسطوں کوختم کردیتا ہے ۔ علامہ شبلی اس ضمن میں لکھتے ہیں:۔

’’خدا کے تسلیم اوراعتراف کے بعد ایک بڑا مرحلہ یہ تھا کہ بندہ کو خدا سے براہِ راست کیونکر تعلق ہوسکتا ہے ۔ اس ضرورت سے تمام فرقوں نے درمیانی واسطے قائم کررکھے تھے اوراوتاروں ، دیوتاؤں اور پیروں کا سہارا ڈھونڈتے تھے ۔ اسلام نے بتایا کہ خدا اوربندے کے درمیان کوئی واسطہ درمیان نہیں ہے ۔ ہر شخص براہِ راست خدا تک پہنچ سکتا ہے اوراپنی ہر قسم کی حاجتیں اورمرادیں پیش کرسکتا ہے ۔ خدا کا دربار سفارش ، سعیٔ توسط اورشفاعت سے مبرا ہے ۔ وہ ہر شخص کے پاس ہے ، ہر شخص کی آواز سنتا ہے ۔ ہر شخص اس تک پہنچ سکتا ہے ۔‘‘ (الکلام ص ۱۴۲)

شیخ کی مندرجہ شرطوں اور آداب کوبجالانے سے بہتر تویہی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی براہِ راست ہدایت حاصل کرنے کی غرض سے قرآن وحدیث اور سیرتِ پاک اورخلفائے راشدین کی سیرتوں کا مطالعہ کرے ۔ قرآن کی آیات پر غور وفکر کرے اس لیے کہ سب سے بڑا ذکر قرآن پاک ہے ۔ جہاں سمجھ میں نہ آئے جاننے والوں سے پوچھ لے ۔ قرآن پاک کی بہت سی اچھی تفسیریں موجود ہیں اپنی عقل خرد کو کسی تعصب کے بغیر اورکسی کی غلامی سے آزاد رکھ کر تحقیق کرے ۔ اورادو وظائف کے لیے صحیح ترین احادیث میں بہت سے کلمات بتائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں حافظ ابن قیم کی ’’اذکار مسنونہ ‘‘ ایک مفید کتاب ہے ۔ ہر موقع کی دعائیں بتائی گئی ہیں انہیں یاد کرلیا جائے اورپڑھا جائے ۔سب کے حقوق ادا کرے ۔ اخلاص کواپنا شعار بنالے اور رِیا سے بچتا ر ہے ۔ انشاء اللہ اسے آخرت میں کامیابی ملے گی۔

تصوف میں دین کے بیشتر پہلوؤں میں غلو اورانتہا پسند ی سے کام لیاگیا ہے ۔ چند مثالیں اکابر صوفیا ء کی زندگی سے ملاحظہ فرمائیں:۔

زندہ اورصحت مند رہنے کے لیے ضروریات حیات میں کھانا اورغذا بڑی اہمیت رکھتی ہے تاکہ دوڑدھوپ اورمحنت وکوشش کرنے کی قوت بنی رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی قوی مومن کوضعیف مومن  سے افضل قرار دیا ہے۔ لیکن تصوف میں غذا کا استعمال کم سے کم کیاجاتا ہے ۔ تصوف میں داخل ہونے والے سالک کو۵ دن سے پہلے کھانے کی اجازت نہیں۔ اگر اس سے پہلے کوئی کھالے تواسے حلقہ تصوف سے نکال دیا جاتا ہے کہ وہ صوفی بننے کا اہل نہیں ۔ معیاری لوگ پندرہ دن میں صرف ایک بار کھاتے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ مدت کی مثالیں موجود ہیں کوئی چالیس دن کے بعد اورکوئی ساٹھ دن میں ایک بار کھاتا ہے ۔ ابونصر سّراج طوسی جن کی کتاب ’اللمع ‘ تصوف کی مشہور کتاب ہے ۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک بار رمضان میں بغداد آئے ۔ مسجد میں معتکف ہوئے ۔ لوگوں نے بالاتفاق انہیں اپنا امام بنالیا ۔ ماہ مبارک میں پانچ مرتبہ قرآن ختم کیا ۔ روزانہ افطار کے وقت خادم ایک روٹی حجرے میں پہنچا آتاتھا ۔ عید کی نماز پڑھا کر بغداد سے روانہ ہوگئے ۔ خادم نے حجرے میں جاکر دیکھا تو تمام روٹیاں جواس نے پہنچائی تھیں ۔ جوں کی توں رکھی تھیں ۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوںنے اپنی وفات سے پہلے لوگوں سے کہا تھا کہ جس میت کو میرے مزار کے سامنے سے لے کر نکلیں گے اس کی مغفرت ہوجائے گی ۔ چنانچہ دستور یہ رہا ہے کہ ہر جنازہ کوپہلے آپ کے مزار پر لاتے تھے ۔ (تذکرۃ الاولیاء بحوالہ تصوف ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ ص ۱۷۱)

صوفیہ ان چیزوں کوبھی اپنے لیے مضر سمجھتے تھے جن سے ان کی ریاضت ومجاہدہ میں خلل پڑے ۔ اس لیے انہوں نے تجرد کواپنا شعار بنایا تھا ۔ شیخ علی ہجویری فرماتے ہیں کہ طریقت کی بنیاد  تجرد پر رکھی گئی ہے ۔ نکاح کوروحانی زندگی کے لیے خطرناک سمجھا گیا ہے۔ حضرت بختیار کاکیؒ کے متعلق آتا ہے کہ ان کی شادی کے ابتدائی دنوں میں ایک شخص کورسول اللہ ﷺ نے خواب میں حضرت بختیار کاکی کو پیغام پہنچانے کی ہدایت کی کہ جوتحفہ تم مجھے روزانہ بھیجتے تھے وہ تین راتوں سے نہیں ملا ۔ تحفہ یہ تھا کہ حضرت تین ہزار بار درود پڑھ کر سویا کرتے تھے ۔ جس میں ان کی نئی نئی شادی کی وجہ سے رکاوٹ پڑ گئی تھی ۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سننے کے بعد انہوں نے فوراً اپنی بیوی کوطلاق دے دی اوراسے رخصت کردیا ۔ (سیر الاولیاء) ابوسلیمان دارانی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دوستوں میں سے کسی کونہیں دیکھا کہ اس نے نکاح کیا ہو اوراپنے مقام اورمرتبہ پر قائم رہ گیا ہو جواسے نکاح سے پہلے تصوف میں مجاہد ے کے ذریعہ حاصل تھا وہ یہ بھی کہتے تھے کہ جس نے تین چیزیں طلب کیں وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا ۔ جس نے معاش طلب کی یا اس نے نکاح کیا یا حدیث کولکھا۔ (عوارف المعارف )  صوفیاء اس بات پر متفق ہیں کہ اہلِ طریقت میں سب سے افضل اوربہتر مجرد لوگ ہیں ۔ (یہ مثالیں ڈاکٹر عبیداللہ فراہی کی کتاب ’’تصوف ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ سے ماخوذ ہیں ۔)

مذکورہ بالا تمام باتیں تزکیہ نفس کی چیزیں نہیں بلکہ تعذیب نفس کے طریقے ہیں۔ جورہبانیت سے جاکر مل جاتے ہیں ۔ دیگر پہلوؤں سےمتعلق بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔ یہ مشائخ دنیائے تصوف کے بڑے رہنما کہے جاتے ہیں جن کے اقوال و افعال پر تصوف کا بلند وبالا قصر تعمیر کیا گیا ہے ۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صوفیا ء نے حکمت اور دانائی کی باتیں بھی لکھی ہیں ۔ مگروہ ساری باتیں قرآن وسنت پر غور وفکر کے نتیجہ میں سامنے آئی ہیں پھر انہیں تصوف کے نام سے کیوں پکارا جائے؟ اہلِ تصوف کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ تصوف تزکیہ واحسان سے الگ کوئی چیز نہیں ہے اس لیے اسے’ تزکیہ ‘ اور ’احسان ‘ ہی سے موسوم کیا جائے ۔ ان پاکیزہ ناموں کو تصوف کا نام دینا جس سے نہ جانے کتنی خرافات وابستہ ہیں ان مقدس ناموں کا استحصال کرنا ہے ۔

کوئی چیز مکمل طور پر بری اورخراب نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خوبی اورفائدہ ہوتا ہے ۔ جوئے اورشراب جیسی چیزوں میں بھی فائدے ہیں۔خود اللہ تعالیٰ نے بھی اس میں فائدے بتائے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس کا نقصان اس کے فائدوں سے بڑھ کر ہے (بقرہ:۲۱۹)سب کی نظریں   اس سے ہونے والی آمدنی پر لگی ہوتی ہیں کہ ان کا خزانہ بھر تا رہے ۔ چاہے اس سے لوگوں کے اخلاق تباہ وبرباد ہوجائیں  تصوف کا نشہ ایسا ہے جوکبھی اتر تا ہی نہیں ۔ تصوف کی اصطلاح میں اسے ’’سکر‘‘ کہتے ہیں ۔ مولانا تھانوی ؒ اپنی کتاب ’’ شریعت و طر یقت‘ ‘ میں لکھتےہیں کہ راہ طریقت پر چلنے والوں پر ہمیشہ سکر (عالم بے خودی) طاری رہتا ہے ۔ منصور حلاج  جیسے لوگ اس کے نشے میں انا الحق کا نعرہ لگا کر نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں اوراس کے نتیجہ میں پھانسی پر لٹکادئے جاتے ہیں ۔ حضرت با یزید بسطامی سبحانی ما اعظم شانی (میں پاک ہوں میری شان عظیم ہے ) کہہ جاتے ہیں ۔ کوئی یہ کہہ جاتا ہے کہ مافی الجبۃ الا اللہ (میرے جبہ میں سوائے خدا کے اور کوئی نہیں۔ بالفاظ دیگر میں خدا ہوں) ان تمام جملوں کو شطحیات کا نام دے کر مردود قرار دیا جاتا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ انہوںنے ایسا کیوں کہا اورکس سبب سے  ایساہوا ؟ وہ حال ان پر کیوں طاری ہوا جس نے انہیں اس صورت سے دوچار کیا ؟ وہ کیسا نشہ تھا جس نے ان کے زبان سے یہ کفر یہ جملے نکالے ؟ جب اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے تویہ بات سامنے آتی ہے کہ شریعت اسلامی نے جو اعتدال کی راہ بتلائی ہے اوراپنے افکار واعمال میں اعتدال وتوازن کی راہ پر چلنے والوں کو’امت وسط ‘ کاجوخطاب دیا ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے ۔بلکہ اس لفظ ’’وسط‘‘ میں بڑی گہری معنویت ہے اوریہ صفت وخوبی ہے جواس امت کے لوگوں کا طرۂ امتیازبتائی گئی ہے مگراہل تصوف ۔تصوف کے حقائق ومعارف کی گزرگاہوں کی ’’سیر‘‘ کرنے والے اور ’’مشاہدہ حق‘‘ کے ذریعہ ذات الٰہی کودیکھنے والے ’’وسط‘‘ کی دنیا کا سفر نہ کرسکے ۔

افسوس کہ وہ ’’وسط‘‘ کے رموز ومعارف سے نامحرم اوراجنبی ہی رہے ۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ’یُسر‘ کو چھوڑکر تصوف کے دین عُسر میں  پہنچ گئے ۔اعتدال کی راہ ترک کرکے انتہا کی راہ پر گامزن ایک ہی رُخ پر سوچتے ہوئے آگے بڑھتے چلےگئے ۔ استغراق میں وہ اس مقام تک پہنچے جہاں عبد اور معبود دونوں ایک ہوجاتے ہیں اور’’تفریق‘‘ ختم ہوکر ’’جمع الجمع‘‘ کا وجود قائم ہوتا ہے۔ یہ عشق کا وہ مقام ہے جہاں عاشق ومعشوق وصل سے شاد کام ہوتے ہیں ۔ امام غزالی اس کیفیت کو  ’اتحاد‘ سے تعبیر کرتے ہیں اوریہی تصوف کی توحید ہے ۔ اس کووحدۃ الوجود بھی کہہ سکتے ہیں ۔ استغراق کیا ہے؟ آدمی کی قوت متخیلہ۔ اس کی قوت متخیلہ مختلف صورتیں اس کے سامنے پیش کرتی ہے جسے وہ حقائق کا نام دیتا ہے لیکن حقیقتاً وہ انسانی اوہام ہوتے ہیں۔  اس کیفیت کے پیدا ہونے کے بعد آدمی کا تعلق شریعت سے کٹ کر مکمل طور پر طریقت سے جڑجاتا ہے ۔ پھر قرآن وسنت اس کے لئے اجنبی ہوجاتے ہیں ۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے ہم فکر  تلسمانی تویہاں تک کہہ گئے کہ (معاذ اللہ) قرآن پورا کا پورا شرک سے بھرا ہوا ہے ۔ ان کے شاگرد اورمریدان سے ابن عربی کی کتاب  پڑھ رہےتھے درمیان میں مرید نے اشکال ظاہر کیا اور کہا کہ یہ جملے قرآن سے ٹکرا رہے ہیں ۔ اس پر انہوںنے مرید کوڈانٹا اور کہا بار بار قرآن کی بات نہ کرو اور سکون واطمینان سے فصوص الحکم پڑھو (مطالعہ تصوف  )کیا کسی مسلمان کے لیے اس سے بھی بڑا کوئی المیہ ہوسکتا ہے کہ وہ قرآن سے بے نیاز ہوجائے؟

یہ تصوف کی معراج ہے جب قدم شریعت کے جادہ اعتدال سے ہٹتے ہیں توطریقت اس انتہا تک لے آتی ہے جہاں قرآنی توحید اسے شرک اورشرک توحیدنظر آتاہے ۔ اس لیے اس شراب میں نفع کم اور نقصان بہت زیادہ ہے ۔ جسے ترک کرنا ہی بہتر ہے ۔در حقیقت عقیدہ کا معاملہ اورمسئلہ بڑا اہم اورنازک ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کوہر گز معاف نہیں کرے گا ۔ یہ بات قرآن کے ذریعہ اس نے سب کو بتا دی ہے ۔ اگر عقیدہ صحیح نہ ہو، عمل میں اخلاص نہ ہو اوراسے ریا کاری جیسے شرک خفی سے محفوظ نہ  رکھا جائے توایک مومن کابڑے سے بڑا عمل غار ت ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ جہاد جیسا عظیم الشان عمل بھی اس کے منہ پر ماردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس اندیشے سے محفوظ رکھے اورخالص توحید کوسمجھنے اس پر یقین کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عنایت کرے ۔ آمین

آخر میں ان تمام اصحاب کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس تحریر کی تکمیل میں اپنے مخلصانہ مشوروں سےنوازا ۔ میری حوصلہ افزائی کی اور میرے ساتھ تعاون کیا ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر سے نوازے۔

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau