سائنس مجرد سائنس ہونے کی حیثیت سے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ تحقیق، اجتہاد اور تلاش و تجسس کی ایک لگن ہے جس کی بدولت انسان کو عالم طبیعی کی بچی ہوئی قوتوں کا حال معلوم ہوتا ہے اور وہ ان سے کام لینے کے ذرائع فراہم کرتا ہے۔ اس علم کی ترقی سے جونئی طاقتیں انسان کو حاصل ہوتی ہیں ، ان کو جب وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرنے لگتا ہے تو یہ تمدن کی ترقی کہلاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں چیزیں بجائے خود انسان کی فلاح کی ضامن نہیں ہیں۔ یہ جس طرح فلاح کی موجب ہو سکتی ہیں اسی طرح تباہی کی موجِب بھی ہو سکتی ہیں۔ ہاتھ سے کام کرنے کے بجائے اگر انسان مشین سے کام کرنے لگا، جانوروں پرسفر کرنے کے بجائے اگر ریل اور موٹر اور بحری و ہوائی جہازوں پر دوڑنے لگا، ڈاک چوکیوں کے بجائے اگر تار برقی اور لاسلکی سے خبررسانی ہونے لگی تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان پہلے سے زیادہ خوشحال ہو گیا۔ ان چیزوں سے جس قدر اس کی خوشحالی بڑھ سکتی ہے اسی قدر اس کی مصیبت اور تباہی بھی بڑھ سکتی ہے ، کیونکہ جسں دورِ تمدن میں انسان کے پاس صرف تیرو شمشیر کے آلات تھے ، اس کے مقابلہ میں وہ تمدن بدرجہا زیادہ مہلک ہو سکتا ہے جس میں اس کے پاس مشین گنیں اور زہریلی گیسیں، ہوائی جہاز اور تحت البحرکشتیاں ہوں۔ ترقی علم وتمدن کے موجبِ فلاح یا موجب ِہلاکت ہونے کا تمام تر انحصار اس تہذیب پر ہے جس کے زیر اثر علوم و فنون اور تمد ن وحضارت کا ارتقا ہوتا ہے۔ ارتقا کار استہ، انسانی مساعی کا مقصد اور حاصل شدہ طاقتوں کا مصرف متعین کرنے والی چیز دراصل تہذیب ہے۔ یہی انسان اور انسان کے باہمی تعلق کی نوعیت طے کرتی ہے ، یہی اجتماعی زندگی کے اصول اور شخصی، قومی اور بین الاقوامی معاملات کے اخلاقی قوانین بناتی ہے اور فی الجملہ یہی چیز انسان کے ذہن کو اس امر کا فیصلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہے کہ علم کی ترقی سے جو طاقتیں اس کو حاصل ہوں انہیں اپنے تمدن میں کس صورت سے داخل کرے ،کس مقصد کے لیے اور کس طرح ان کو استعمال کرے،مختلف استعمالات میں سے کن کو ترک اور کن کو اختیار کرے۔(تنقیحات، صفحہ ۸۰- ۸۱)
صرف تمدنی ترقی انسان کی فلاح کی ضامن نہیں ہے
آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:







