موجودہ حالات میں دعوتِ دین

اسلام کی دعوت اور پیغامِ حق کو انسانیت تک پہنچانا انبیائے کرام علیہم السلام کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ یہی وہ منصب ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت، فلاح اور نجات کی راہ دکھائی۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد یہ ذمہ داری امتِ مسلمہ کے سپرد کر دی گئی کہ وہ اس مشنِ نبوت کو آگے بڑھائے اور اللہ کے دین کو دنیا کے سامنے واضح کرے۔ اسی بنیادی حقیقت کو قرآن مجید نے اس انداز میں بیان فرمایا:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (المائدۃ: 67)

’’اے پیغمبر! پہنچا دو وہ سب کچھ جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمھارے مقابلے میں) کام یابی کی راہ نہیں دکھاتا۔‘‘

یہ آیت اس امر کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو جو ہدایت عطا فرمائی، اسے بلا کم و کاست پوری انسانیت تک پہنچانا آپؐ کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ یہاں خطاب براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے ہے اور آپؐ کے منصبِ رسالت کی عظمت و ذمہ داری یاد دلائی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد دعوت و تبلیغ کا یہی فریضہ امتِ محمدیہ کے سپرد ہوا۔ امت کا شرف و امتیاز یہی ہے کہ وہ انبیا کے مشن کی وارث ہے۔ جو کام رسول اللہ ﷺاپنی حیاتِ مبارکہ میں انجام دے رہے تھے، اسی مشن کو آپؐ کے بعد امت کو جاری رکھنا ہے۔ قرآن مجید نے انبیائے سابقین کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ (النحل: 36)

’’ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اس کے ذریعے سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘

یہی پیغام تمام انبیا علیہم السلام نے اپنی قوموں کو دیا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر انبیائے کرام کی دعوت کا خلاصہ ان الفاظ میں ذکر فرمایا:

يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ (الاعراف: 59)

’’اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا، ان تک ہدایتِ الٰہی پہنچانا، اور انھیں توحید و بندگی رب کی دعوت دینا مسلمانوں کی سب سے بڑی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

موجودہ حالات اور دعوتِ دین کا تقاضا

اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو خصوصاً ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے دعوتِ دین کا میدان متعدد چیلنجوں سے گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف سماجی و سیاسی دباؤ ہے، دوسری طرف خوف، گرفتاریاں، پابندیاں اور منفی پروپیگنڈا ہے۔ خاص طور پر ’لو جہاد‘، ’لینڈ جہاد‘ اور دیگر عنوانات کے تحت ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جس نے دعوتی سرگرمیوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔

اسی پس منظر میں مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے نام پر مختلف ریاستوں میں انسدادِ تبدیلی مذہب قوانین (Anti-Conversion Laws) نافذ کیے گئے ہیں، اور تقریباً ایک درجن ریاستوں میں اس نوعیت کی قانون سازی ہو چکی ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ فلاں شخص کو دعوتی سرگرمی یا تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

ظاہری اعتبار سے یہ حالات بلاشبہ سخت اور تشویش ناک ہیں۔ انھیں ہرگز آسان یا موافق حالات نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دعوتِ دین کی ذمہ داری صرف موافق حالات ہی میں ادا کی جاتی ہے؟

جب رسول اللہﷺ کو یہ حکم دیا گیا تو اس وقت آپؐ کے پاس نہ کوئی ریاست تھی، نہ کوئی سیاسی قوت، نہ کوئی بڑا منظم گروہ، نہ کوئی سماجی غلبہ۔ آپؐ ایک فرد تھے، اور آپؐ کے سامنے پورا عرب کا مشرک معاشرہ تھا—مشرکین، کفار، قبائلی طاقتیں، اور بعد کے مراحل میں یہود و نصاریٰ بھی۔

دعوت کا آغاز انتہائی محدود وسائل، شدید مخالفت اور نہایت ناموافق حالات میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ دین کا فریضہ حالات کی موافقت پر منحصر نہیں ہے۔ دعوت کی بنیاد طاقت، اکثریت یا سیاسی اقتدار پر نہیں؛ بلکہ حق کے یقین، مقصد کی صداقت اور اللہ پر توکل پر قائم ہوتی ہے۔

جو لوگ دعوتِ دین کا کام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے موجودہ حالات حوصلہ شکن ہونے کے بجائے حقیقت میں آزمائش اور موقع دونوں ہیں۔ ہر مشکل اپنے اندر ایک نئی گنجائش رکھتی ہے، اور ہر چیلنج اپنے ساتھ نئے امکانات بھی لاتا ہے۔

اس لیے دعوت کے میدان میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حالات کتنے موافق ہیں؛ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہم اپنے فرض کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہم اپنے منصبِ امت کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم انبیا کے وارث ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟ دعوت کا راستہ ہمیشہ آزمائشوں سے گزرا ہے، اور جو لوگ اس راہ کو اختیار کرتے ہیں انھیں حالات کے دباؤ سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے فرض کی ادائیگی پر نظر رکھنی چاہیے۔

 موجودہ حالات میں دعوت کے امکانات

موجودہ حالات کا ایک دوسرا اہم پہلو وہ منفی تاثر ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے بارے میں پیدا کیا جا رہا ہے۔ مختلف ذرائع کے ذریعے یہ تصور عام کیا جاتا ہے کہ مسلمان علیحدگی پسند ہیں، قومی دھارے سے کٹے ہوئے ہیں، ملک دشمن ہیں، یا ان کی وفاداریاں مشتبہ ہیں۔ فرقہ پرستی، قوم پرستی اور شکوک و شبہات کا ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس میں مسلمانوں کی ہر اجتماعی اور دعوتی سرگرمی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بلاشبہ یہ صورتِ حال ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ حالات مسلمانوں کو اسلام کی دعوت، اس کی تبلیغ، اس کی تعلیمات کی اشاعت اور اللہ کی مرضی کو بندوں تک پہنچانے سے روک سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ہر چیلنج اپنے اندر ایک موقع بھی رکھتا ہے۔ اگر معاشرہ تعصب، نفرت اور باہمی بداعتمادی کا شکار ہو تو وہیں حق پسندی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر سماج میں ظلم، بے حسی اور مفاد پرستی غالب ہو تو وہیں خدمتِ خلق، انسان دوستی اور خدا ترسی کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس اعتبار سے موجودہ مشکلات محض رکاوٹ نہیں بلکہ دعوتی امکانات بھی پیدا کرتی ہیں۔

دعوتِ دین کے میدان میں کام کرنے والوں کے لیے ایک عظیم حوصلہ افزا حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت بنیادی طور پر خیر کی طالب ہے۔ انسان اپنی فطرت میں عدل چاہتا ہے، ظلم اور استحصال کے خاتمے کا خواہاں ہوتا ہے، پاکیزگی پسند کرتا ہے، اور معاشرے سے فحاشی و منکرات کے خاتمے کی آرزو رکھتا ہے۔ اسی طرح انسان یہ بھی چاہتا ہے کہ معاشرے میں دیانت اور راست بازی ہو، لوگ وعدوں کی پابندی کریں، عدل و احسان کا غلبہ ہو، اخوت و مساوات کو فروغ حاصل ہو، تعاون اور ایثار عام ہو، عصمت و عفت کی حفاظت ہو، شفقت اور رحمت کا ماحول قائم ہو۔

یہ تمام چیزیں انسانی فطرت کی پکار ہیں۔ اور اسلام دراصل انھی فطری تقاضوں کا جواب ہے۔ اسلام انسان کی فطرت سے ہم آہنگ دین ہے؛ وہ انسانی ضمیر کی گہری خواہشات کی تکمیل کا نظام فراہم کرتا ہے۔ چناں چہ اگر انسان اپنی اصل فطرت پر قائم ہو تو وہ اسلام کی دعوت سے قریب تر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو ہندوستان کے باشندوں کی فطرت پر اعتماد رکھنا چاہیے کہ اگر ان تک اسلام کی صحیح تعلیمات حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ پہنچائی جائیں تو ان کے دل اس پیغام کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

داعی کا مطلوب کردار

دعوتی کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض خطابت یا نظری گفتگو تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر معاشرے کے لیے خیر اور رحمت بن کر سامنے آئیں۔ اس تناظر میں یہ حقیقت نہایت اہم ہے کہ داعی کو معاشرے کے کم زور، مظلوم اور محروم طبقات کا سہارا بننا چاہیے۔

اس ضمن میں اہلِ فکر نے بجا طور پر لکھا ہے کہ آج سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ داعی غریب، محتاج، مجبور، کم زور اور مظلوم انسانوں کا کفیل، غم خوار، مددگار اور معاون بن کر سامنے آئے، اور ظلم و استحصال کے خلاف کھڑا ہو۔ اسے ان قوتوں سے برسرِ پیکار ہونا چاہیے جو اپنے مفادات کے لیے انسانوں پر جبر مسلط کرتی ہیں اور انھیں غلام بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔ تاکہ انسان کی آزادی بحال ہو اور ہر فرد کو یہ موقع مل سکے کہ وہ خوف، جبر، فریب اور جہالت سے آزاد ہو کر اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا راستہ خود اختیار کرسکے۔ یہی وہ کردار ہے جو اسلام کے داعی کو معاشرے میں معتبر اور مؤثر بناتا ہے۔

اگرچہ ملک کے حالات میں گرفتاریاں، قانونی پابندیاں، فرقہ واریت، قوم پرستی اور طرح طرح کی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن یہ تمام چیزیں دعوت کے دروازے بند نہیں کرتیں۔ کیوں کہ انسان کی فطرت زندہ ہے، اور جب تک انسانی فطرت زندہ ہے تب تک حق کی دعوت کے لیے زمین باقی ہے۔

اسی حقیقت کو ایک بلیغ شعری تعبیر میں یوں کہا گیا ہے:

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں، لا إلہ إلا اللہ

یعنی حق کا پیغام کسی خاص موسم، ماحول یا سیاسی فضا کا محتاج نہیں۔ حالات موافق ہوں یا ناموافق، دعوت کا کام جاری رہنا چاہیے۔

قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں یہ بھی ایک اہم نکتہ موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺکو حکم دیا گیا:

بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ (المائدۃ: 67)

’’جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دو۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت کا اصل موضوع انسانوں کے خیالات، فلسفے، نظریات یا محض انسانی فکر کی پیداوار نہیں ہے۔ دعوت کا اصل مرکز وہ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ انسانوں کو اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کی ہدایت کی طرف بلانا ہی دعوت کا اصل مفہوم ہے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر فرمایا:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ (النحل: 125)

’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو۔‘‘

لہٰذا دعوت کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو کسی جماعت، شخصیت، فقہی ترجیح یا فکری مکتب کی طرف بلایا جائے؛ بلکہ دعوت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا جائے، اس کے راستے سے روشناس کرایا جائے، اس کے احکام سے واقف کرایا جائے، اور اس منصوبۂ الٰہی سے آگاہ کیا جائے جو اس نے انسان کی دنیا و آخرت کی کام یابی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔

موجودہ حالات اور دعوتِ دین کے امکانات

ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلق سے موجودہ حالات کا جو دوسرا اہم پہلو ہے، وہ منفی تاثر اور تعصب کا ماحول ہے۔ مختلف ذرائع سے یہ تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ مسلمان علاحدگی پسند ہیں، قومی دھارے سے الگ ہیں، ملک دشمن ہیں، یا ان کی وفاداری مشکوک ہے۔ اسی طرح فرقہ پرستی، قوم پرستی، اور مختلف سیاسی و سماجی بیانیے اس فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور مذہبی تبدیلی کے خلاف بنائے گئے قوانین جیسے عنوانات کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں ایسی فضا پیدا کی گئی ہے جس سے مسلمانوں کے دینی و دعوتی کام پر دباؤ محسوس ہوتا ہے۔

یہ صورتِ حال بظاہر ایک بڑا چیلنج معلوم ہوتی ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات اسلام کی دعوت اور اللہ کے دین کی اشاعت کے راستے میں حقیقی رکاوٹ بن سکتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب قرآن کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دعوتِ حق کا آغاز ہی کبھی سازگار حالات میں نہیں ہوا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم دیا:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(المائدہ: 67)

’’اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔‘‘

تو اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ کوئی بڑی جماعت تھی، نہ سیاسی قوت، نہ ظاہری اقتدار، اور نہ ہی سازگار معاشرتی ماحول۔ ایک فردِ واحد کی حیثیت سے آپ نے باطل کے پورے نظام کے سامنے دعوتِ حق پیش کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ دین کا کام حالات کی سازگاری کا محتاج نہیں، بلکہ ایمان، یقین اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔

تعصب کے ماحول میں دعوت کے مواقع

اگرچہ موجودہ حالات میں تعصب، بدگمانی اور پروپیگنڈے کا ماحول پایا جاتا ہے، لیکن اسی ماحول کے اندر دعوتِ دین کے بے شمار مواقع بھی پوشیدہ ہیں۔ آج کے سماج کو حق پسندی کی ضرورت ہے، خدمتِ خلق کی ضرورت ہے، انسان دوستی کی ضرورت ہے، خدا ترسی کی ضرورت ہے، اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ جب معاشرہ ظلم، استحصال، بے انصافی، جھوٹ، نفرت اور اخلاقی انحطاط سے دوچار ہو تو ایسے میں اسلام کی تعلیمات ایک متبادل نظامِ حیات کے طور پر سامنے آتی ہیں۔

چناں چہ ہر مشکل اپنے اندر ایک امکان رکھتی ہے، اور ہر چیلنج اپنے ساتھ ایک موقع بھی لاتا ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ محض رکاوٹوں کو نہ دیکھیں بلکہ ان امکانات کو پہچانیں جو انھی مشکلات کے اندر موجود ہیں۔

دعوتِ دین کے کام میں ایک عظیم حوصلہ افزا حقیقت یہ ہے کہ اسلام انسانی فطرت سے ہم آہنگ دین ہے۔ انسان کی فطرت عدل چاہتی ہے، ظلم سے نفرت کرتی ہے، پاکیزگی پسند کرتی ہے، بے حیائی اور فساد سے گریز چاہتی ہے، سچائی اور دیانت کو پسند کرتی ہے، اور رحم و شفقت، مساوات اور اخوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

یہ تمام قدریں وہی ہیں جن کی تکمیل اسلام کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اسلام انسانی فطرت کا جواب ہے۔ انسان کے دل میں جو خیر کی طلب، عدل کی خواہش اور پاکیزگی کی جستجو موجود ہے، اسلام اس کا مکمل اور عملی نظام پیش کرتا ہے۔

لہٰذا ہندوستان کے مسلمانوں کو یہاں بسنے والے انسانوں کی فطرت پر اعتماد ہونا چاہیے۔ تعصبات وقتی ہو سکتے ہیں، پروپیگنڈا وقتی ہوسکتا ہے، لیکن انسانی فطرت اپنی اصل میں حق کی متلاشی رہتی ہے۔

اسی حقیقت کو ایک صاحبِ علم نے نہایت خوب صورتی سے یوں بیان کیا ہے:

’’آج سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ داعی غریب، محتاج، مجبور، کم زور اور مظلوم انسانوں کا غم خوار بن کر سامنے آئے، ظلم و استحصال کے خلاف کھڑا ہو، اور انسانوں کو ہر قسم کے جبر و استبداد سے آزادی دلانے کے لیے جدوجہد کرے؛ تاکہ انسان اپنی فطری آزادی کے ساتھ اپنے رب کے عطا کردہ راستے کو اختیار کر سکے۔‘‘

دعوتِ دین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ داعی اپنی طرف نہیں بلاتا بلکہ اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ اس کا کام اپنے خیالات، اپنی آراء یا انسانی فلسفوں کی دعوت دینا نہیں بلکہ اللہ کے نازل کردہ پیغام کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ(النحل: 125)

’’اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔‘‘

اس لیے دعوت کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ سے متعارف کرایا جائے، انھیں بتایا جائے کہ اللہ نے انسان کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے، کن اعمال سے وہ خوش ہوتا ہے، کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے، دنیا و آخرت کی کام یابی کا راستہ کیا ہے، اور ناکامی کا سبب کیا ہے۔ یہی دعوت کا حقیقی مفہوم ہے اور یہی امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

دعوت کے ذرائع

دعوت کے طریقوں کو اہلِ علم نے عموماً دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا ہے:

۱۔ قولی دعوت

قولی دعوت سے مراد وہ دعوت ہے جو زبان، تحریر، تقریر، تعلیم، تصنیف، مکالمہ اور ابلاغ کے مختلف ذرائع سے دی جاتی ہے۔ اس میں یہ شامل ہے کہ غیر مسلم برادرانِ وطن تک اسلام کی تعلیمات کو ان کی زبان میں، ان کے فکری پس منظر کو سمجھتے ہوئے پہنچایا جائے۔

اس مقصد کے لیے علمی سطح پر جو کام ضروری ہے وہ یہ ہے کہ:

مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے

ان کے عقائد کو سمجھا جائے

ان کی زبانوں میں معیاری اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے

قرآن و حدیث کے تراجم اور دعوتی مواد کو عام کیا جائے

الحمد للہ، اس میدان میں مختلف دینی اداروں اور تنظیموں نے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، لیکن اس کام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت باقی ہے۔ اسی کے ساتھ انفرادی سطح پر بھی ہر مسلمان کو اپنے مواقع استعمال کرتے ہوئے دعوتی کردار ادا کرنا چاہیے، مثلاً:

برادرانِ وطن سے حسنِ تعلق کے ذریعے

خط و کتابت اور ذاتی رابطوں کے ذریعے

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے

دعوتی پروگراموں، بک اسٹالوں، لائبریریوں، گروپ میٹنگوں اور مکالماتی نشستوں کے ذریعے۔

۲۔ عملی دعوت

دعوت کا دوسرا اور نہایت مؤثر ذریعہ عملی دعوت ہے، یعنی اپنے کردار، معاملات، اخلاق اور طرزِ زندگی سے اسلام کی نمائندگی کرنا۔ یہ دعوت کا وہ پہلو ہے جس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ اگر ایک مسلمان وکیل سچائی اور انصاف کی بنیاد پر مقدمہ لڑتا ہے، جھوٹے مقدمات سے انکار کرتا ہے، اور عدل کو ترجیح دیتا ہے—تو یہ عملی دعوت ہے۔ اگر ایک مسلمان تاجر تجارت میں جھوٹ، دھوکہ اور خیانت سے بچتا ہے، دیانت و امانت کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اور واضح کرتا ہے کہ یہ اس کے دین کی تعلیم ہے—تو یہ عملی دعوت ہے۔

اگر ایک مسلمان ڈاکٹر، استاد، سرکاری افسر، مزدور، یا تاجر اپنے پیشے میں اعلیٰ اخلاق، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ خاموش زبان میں اسلام کی دعوت دے رہا ہوتا ہے۔ ایسی دعوت کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی، کیوں کہ یہ زبان سے زیادہ کردار کے ذریعے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

دعوت کے راستے میں یہ خوف کہ لوگ ناراض ہوں گے، مخالفت بڑھے گی، یا مشکلات پیدا ہوں گی—یہ داعی کے لیے مانع نہیں بننا چاہیے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا:

وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(المائدہ: 67)

’’اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔‘‘

یہ آیت بتاتی ہے کہ حفاظت دعوت چھوڑنے میں نہیں، بلکہ دعوت کے فریضے کو ادا کرنے میں ہے۔ جو قوم اللہ کے دین کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرتی ہے، اللہ اس کی حفاظت کے اسباب پیدا فرماتا ہے۔

کردار کے ذریعے اسلام کی نمائندگی

دعوتِ دین کا ایک نہایت مؤثر اور ہمہ گیر پہلو عملی دعوت ہے، یعنی اپنے کردار، معاملات، اخلاق اور روزمرہ رویوں کے ذریعے اسلام کی ترجمانی کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے عام افراد کے لیے اسلام کا سب سے پہلا تعارف اکثر مسلمانوں کے کردار ہی سے ہوتا ہے۔ اگر ایک مسلمان سبزی فروش کے متعلق غیر مسلم معاشرے میں یہ تاثر قائم ہو جائے کہ اس کے پاس صاف ستھری، پاکیزہ اور معیاری اشیا دستیاب ہیں، وہ مناسب قیمت لیتا ہے، جھوٹ اور دھوکے سے بچتا ہے، اور لین دین میں دیانت کا مظاہرہ کرتا ہے—تو یہ محض تجارت نہیں بلکہ اسلام کی عملی دعوت ہے۔

اسی طرح ایک رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور، کنڈکٹر، دکاندار، ملازم، استاد، صحافی، کسان یا مزدورہر شخص اپنے اپنے دائرۂ کار میں اسلام کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ وہ اپنے طرزِ گفتگو، معاملہ فہمی، دیانت، نرمی، حسنِ سلوک اور احساسِ ذمہ داری کے ذریعے یہ واضح کر سکتا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کس نوعیت کا انسان بنانا چاہتا ہے۔

یہ تصور درست نہیں کہ دعوت صرف خطابت، درس، تقریر یا بڑے اجتماعات کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ علمی و قولی دعوت اپنی جگہ نہایت اہم ہے، لیکن عملی دعوت کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے، کیوں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ہر وقت ممکن ہے۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت اور اپنے موقع کے مطابق دعوت کا ذریعہ بننا چاہیے۔

روزمرہ زندگی کے بے شمار مواقع ایسے ہیں جہاں مسلمان کے اخلاقی رویے دعوت کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر سفر کے دوران کوئی مسلمان اپنی نشست کسی ضرورت مند، بزرگ، عورت یا بچے کو پیش کرتا ہے؛ اگر وہ پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھتا ہے؛ اگر وہ عوامی مقامات پر لوگوں کی سہولت کا ذریعہ بنتا ہے؛ اگر ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرتا ہے تو یہ سب اعمال دعوت کے عملی مظاہر ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے حسنِ اخلاق، بچوں سے محبت، بڑوں کے احترام، پڑوسیوں کے حقوق، اور عام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی جو تعلیم دی ہے، اس کا عملی اظہار دراصل دعوتِ اسلام ہی کی ایک صورت ہے۔ جب مسلمان ان تعلیمات کو اپنے رویوں میں ظاہر کرتا ہے تو وہ خاموش زبان میں اسلام کا تعارف کرا رہا ہوتا ہے۔

مثلاً اگر ریلوے اسٹیشن پر کوئی ضرورت مند پانی تلاش کر رہا ہو اور ایک مسلمان خوش دلی سے اسے صاف پانی فراہم کرے، اگر کوئی مسافر پریشان حال ہو اور مسلمان اس کی مدد کرے؛ اگر کوئی بیمار یا ضعیف شخص مدد کا محتاج ہو اور مسلمان اس کے کام آئےتو یہ سب اسلام کے اس اخلاقی نظام کا مظہر ہے جو انسان دوستی، خدمتِ خلق اور خیر خواہی پر قائم ہے۔

یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عملی دعوت کا مطلب مصنوعی یا نمائشی اخلاق اختیار کرنا نہیں، بلکہ اسلام کو اپنے مزاج اور شخصیت کا حصہ بنا لینا ہے۔ مسلمان کا حسنِ سلوک محض دعوتی حکمتِ عملی نہ ہو بلکہ اس کے ایمان اور بندگی کا تقاضا ہو۔ وہ خدمت کرے تو اس لیے کہ یہ اس کے رب کا حکم ہے، وہ دیانت اختیار کرے تو اس لیے کہ یہ اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے، اور وہ خیر خواہی کرے تو اس لیے کہ یہی اسلام کا مطلوبہ کردار ہے۔

جب یہ اخلاقی رویے مسلمان کی شناخت بن جائیں، تو اس کا ہر شعبۂ زندگی دعوت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ خواہ وہ کسان ہو یا تاجر، صحافی ہو یا استاد، ملازم ہو یا صنعت کارجس میدان میں بھی وہ موجود ہو، وہ اپنے کردار سے اسلام کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

ہندوستان کے موجودہ حالات کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ بظاہر یہ حالات مشکلات، اعتراضات، تنقید اور مخالفت سے بھرپور ہیں، لیکن یہی حالات دعوت کے لیے غیر معمولی مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آج ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں اسلام اور مسلمانوں کا ذکر مسلسل ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی، اسلامی تعلیمات، شریعت، معاشرت اور تہذیب موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔

اگرچہ اس بحث کا بڑا حصہ اعتراضات، شبہات یا پروپیگنڈے پر مشتمل ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام آج ایک زندہ موضوع بن چکا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں، گفتگو کر رہے ہیں، جاننا چاہتے ہیں، اور اسلام کے بارے میں تجسس رکھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال دراصل ایک عظیم دعوتی موقع ہے۔ کیوں کہ جب کوئی چیز سماجی و فکری بحث کا موضوع بن جائے تو وہ عوامی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دفاعی نفسیات، خوف وہراس یا عافیت پسندی کے تحت خاموش ہونے کے بجائے اس موقع کو حکمت، علم، اخلاق اور حسنِ کردار کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کریں۔

موجودہ سخت حالات کو محض مصیبت سمجھنا درست نہیں۔ یہ حالات اپنی سختی کے باوجود دعوت کے لیے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ان حالات کو مایوسی کے بجائے بصیرت کے ساتھ دیکھیں، اور انھیں دعوت، اصلاح اور اسلام کے صحیح تعارف کے مواقع میں تبدیل کریں۔

برادرانِ وطن سے تعلقات

موجودہ حالات کا ایک رخ مشکلات، تعصبات اور رکاوٹوں سے عبارت ہے، لیکن ان ہی حالات کا دوسرا رخ مواقع، امکانات اور دعوتی مواقع کی ایک وسیع دنیا پر مشتمل ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ برادرانِ وطن سے تعلقات کو اپنی دعوتی حکمتِ عملی کی بنیادی ترجیح بنائے۔

اکثر یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے غیر مسلم برادرانِ وطن سے روابط کم ہیں یا تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے دعوت کا کام مشکل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کون ایسا مسلمان ہے جس کا غیر مسلموں سے کوئی تعلق نہ ہو؟ ہر مسلمان اپنے روزمرہ کے معمولات میں غیر مسلم معاشرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے—وہ انھی بازاروں میں خرید و فروخت کرتا ہے، انھی اداروں میں تعلیم حاصل کرتا یا تعلیم دیتا ہے، انھی دفاتر میں کام کرتا ہے، انھی ذرائعِ نقل و حمل میں سفر کرتا ہے، انھی محلوں اور شہروں میں رہتا ہے، اور اسی سماجی ماحول میں زندگی گزارتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ روابط کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ان روابط کو دعوت کے لیے استعمال نہ کرنا ہے۔ تعلقات موجود ہیں، روابط موجود ہیں، مواقع موجود ہیں؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان تعلقات کو شعوری طور پر دعوتِ دین کا ذریعہ بنایا جائے۔

بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ دعوت کے لیے مطلوبہ صلاحیتیں ان کے اندر موجود نہیں ہیں۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے کہ دعوت کے بعض پہلو علمی و فکری تیاری کے محتاج ہوتے ہیں، لیکن دعوت کے بہت سے میدان ایسے ہیں جہاں کسی غیر معمولی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔

سچ بولنے کے لیے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں، محبت و ہمدردی کے اظہار کے لیے کسی خاص تربیت کی حاجت نہیں، صفائی و پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے کسی علمی سند کی ضرورت نہیں، مسجد، مدرسہ، ہسپتال، کلینک اور اداروں کو منظم، پاکیزہ اور خوش نما رکھنے کے لیے کسی غیر معمولی تخصص کی ضرورت نہیں۔ یہ تمام امور دعوت کے عملی مظاہر ہیں اور ہر مسلمان انھیں اختیار کر سکتا ہے۔

جہاں تک زبان کا تعلق ہے تو موجودہ ہندوستانی ماحول میں زبان بھی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں رہی۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی اکثریت مقامی زبانوں سے واقف ہے اور غیر مسلم برادرانِ وطن کے ساتھ بآسانی گفتگو کر سکتی ہے۔ لہٰذا اجنبیت اور فاصلے کی جو دیواریں قائم ہیں، انھیں شعوری کوشش سے گرانا ہوگا۔

اعتماد سازی: دعوت کی ناگزیر شرط

دعوت کے میدان میں ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اخلاق، رویے اور سماجی کردار کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا وجود معاشرے کے لیے خیر، محبت، ہمدردی اور بھلائی کا ذریعہ ہے۔ موجودہ دور میں مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے یہ خوف پیدا کیا جاتا ہے کہ مسلمان اگر ترقی کر گئے تو دوسروں کے حقوق سلب کر لیں گے، یا ان کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے۔

اس تاثر کو مسلمانوں کو اپنے عمل سے زائل کرنا ہوگا۔ انھیں واضح کرنا ہوگا کہ ان کا مقصد کسی کا اقتدار چھیننا نہیں، نہ وہ دنیاوی غلبے کے طالب ہیں؛ بلکہ ان کی خواہش یہ ہے کہ معاشرے میں عدل، انصاف، محبت، انسانیت، اخلاق اور خیر کا غلبہ ہو۔ اقتدارِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ کا ہے، مسلمان کا اصل مقصد اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ خیر کے غلبے کی جدوجہد ہے۔ یہ اعتماد اس وقت پیدا ہوگا جب غیر مسلم معاشرہ یہ محسوس کرے کہ مسلمان ان کے حقیقی خیر خواہ ہیں، ان کی بھلائی کے لیے سنجیدہ ہیں، اور سماج کی تعمیر و اصلاح کے لیے مخلصانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

دعوتِ دین کی کام یابی کے لیے صرف مواقع کافی نہیں، بلکہ داعی کی علمی و اخلاقی تیاری بھی ناگزیر ہے۔ جو شخص اللہ کی طرف بلانے کا بیڑا اٹھاتا ہے، اسے خود اللہ کے دین، اس کے احکام، اس کے راستے اور اس کے مطلوبہ کردار سے بخوبی واقف ہونا چاہیے۔ اگر داعی خود اس حقیقت سے ناآشنا ہو جس کی دعوت دے رہا ہے، تو اس کی دعوت مؤثر نہیں ہو سکتی۔

انبیا علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اسی استقامت کی مثال ہیں کہ شدید ترین آزمائشوں کے باوجود وہ حق کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

امت کا اصل سرمایہ

یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ دعوت کے میدان میں امت کا اصل سرمایہ اس کی عمارتیں، اس کی تعداد، اس کے ادارے یا اس کے وسائل نہیں ہیں۔ امت کا اصل سرمایہ وہ رائے ہے جو معاشرہ اس کے بارے میں قائم کرتا ہے۔

اگر معاشرہ مسلمانوں کو محبت بانٹنے والے، خدمت کرنے والے، انسانیت نواز، خیر خواہ، انصاف پسند اور ہمدرد لوگ سمجھے، تو یہی امت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، اور یہی دعوت کا دروازہ کھولتا ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں کی اجتماعی تصویر اس کے برعکس بن جائے تو دعوت کے دروازے خود بخود بند ہونے لگتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ امت اس پہلو کو اپنی دعوتی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ بنائے اور یہ کوشش کرے کہ ملک کے باشندے اس نتیجے پر پہنچیں کہ اگر کوئی طبقہ ان کی بھلائی، خیر خواہی اور حقیقی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ مخلص ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان رکھنے والے لوگ ہیں۔

موجودہ حالات میں، بلکہ ہر دور میں، امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ خود اپنی اصلاح کرے۔ دعوت کے لیے علمی و اخلاقی تیاری کرے۔ برادرانِ وطن سے محبت، خدمت اور حسنِ تعلق کے رشتے قائم کرے۔ قول، قلم، کردار اور اجتماعی جدوجہد، غرض ہر ذریعے سے دعوتِ دین کا فریضہ انجام دے۔ یہی دنیا میں امت کی کام یابی کی ضمانت ہے اور یہی آخرت کی فلاح کا راستہ ہے۔

مسلمانوں کے سامنے بے شمار داخلی و خارجی مسائل ہو سکتے ہیں، لیکن ان مسائل میں الجھ کر وہ دعوت کے اپنے بنیادی فریضے سے سبک دوش نہیں ہو سکتے۔ امت کے اندر یہ شعور پیدا ہونا چاہیے کہ دعوت ہی اس کی اصل ذمہ داری، اصل شناخت اور اصل کام یابی کا راستہ ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

موجودہ حالات میں دعوتِ دین

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223