ایک دن میرے ایک انجینئر دوست ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی عام طور پر علمی اور دعوتی موضوع پر ہی گفتگو ہوتی۔ اس مُلاقات میں انھوں نے بڑا ہی حیرت انگیز واقعہ سنایا۔ یہ واقعہ خود ان کے ساتھ پیش آیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنے کسی عزیز کی عیادت کے لیے ایک سرکاری اسپتال میں گئے، جہاں وہ عزیز زیرِ علاج تھے۔ سہ پہر کا وقت تھا، وہ وارڈ کا پتہ معلوم کرنے کے لیے کسی شخص کو تلاش کرنے لگے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص برآمدے کی سیڑھی پر اپنے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھا ہے۔ انجینئر صاحب نے اس سے پتہ معلوم کرنے کے لیے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس شخص نے فوراً اپنا سر گھٹنوں سے اٹھایا اور انجینئر صاحب کی طرف دیکھا۔ انجینئر صاحب نے دیکھا کہ وہ شخص رورہا ہے اور اس کی آنکھیں روتے روتے سرخ ہوگئی ہیں۔ یہ دیکھ کر انھوں نے اس کو اپنے ہاتھ سے سہارا دے کر کھڑا کیا اور اس کے رونے کی وجہ معلوم کی۔ اس شخص نے اپنی پیٹھ کے پیچھے برآمدے کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا اور روتے ہوئے بتایا کہ یہ میری ماں کی میت ہے۔ آج صبح ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں جو یہاں سے 30-35کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ مجھے اپنی ماں کی میت کو لے کر اپنے گاؤں جانا ہے لیکن کوئی بھی گاڑی والا کرائے کی پوری رقم ایڈوانس لیے بغیر میت کو گاؤں لے جانے کے لیے تیار نہیں ہے اور میرے پاس ان کو دینے کے لیے اتنے پیسے نہیں ہیں۔ میں نے گاڑی والوں سے کہا کہ بقیہ رقم گاؤں پہنچنے پر ادا کر دی جائے گی مگر اس کے لیے وہ آمادہ نہیں ہوئے اور پوری رقم ایڈوانس لینے پر مصر ہیں۔ انجینئر صاحب نے دیکھا کہ واقعی سفید چادر میں لپٹی ہوئی ایک میت برآمدے کے گوشے میں زمین پر رکھی ہوئی ہے۔ انجینئر صاحب نے وہ کاغذات بھی دیکھے جو اسپتال کی طرف سے اس کی ماں کے انتقال کے سلسلے میں اسے ملے تھے۔ انجینئرصاحب اس کی پریشانی سن کر خود بھی پریشان ہو گئے اور اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر گاڑی والوں کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ میت کو گاؤں تک پہنچا دیں اور اپنا کرایہ گاؤں پہنچ کر حاصل کرلیں۔ گاڑی والوں نے انھیں بتایا کہ ہم پورا کرایہ ایڈوانس لیے بغیر نہیں جاسکتے کیوں کہ ہمارے مالکوں کی یہی ہدایت ہے۔ انجینئرصاحب نے ان سے کہا کہ یہ تو بڑی بے رحمی کی بات ہے۔ اس پروہ بولے کہ جناب ہمارے ساتھ اکثر و بیشتریہ بات پیش آتی رہی ہے کہ لوگ ہماری گاڑی میں میت کو لے جاتے ہیں اور اپنے گھر پہنچ کر ہمارا پورا کرایہ ادا نہیں کرتے اور کبھی تو ہمیں خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ہے۔ چونکہ وہاں رونے دھونے اور غم کا ماحول ہوتا ہے اس لیے ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ اسی وجہ سے ہمارے مالکوں نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ ہم پورا کرایہ ایڈوانس وصول کرنے کے بعد ہی میت کو لے جائیں۔
انجینئرصاحب پوری صورت حال سمجھ گئے اور انھوں نے گاڑی والے کو پورا کرایہ اپنے پاس سے ادا کردیا، ساتھ ہی اس شخص کی ماں کی میت کو سہارا دے کر گاڑی میں رکھوایا۔ وہ شخص انجینئر صاحب کے اس تعاون اور ہمدردی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور ان کے قدموں پر گرپڑا۔ انجینئرصاحب نے اسے تسلی دیتے ہوئے سینے سے لگایا اور گاڑی میں بیٹھا کر اپنے سامنے ہی گاڑی کو روانہ کیا۔ وہ شخص جاتے وقت اپنے اس محسن کو ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہا اور چند ہی لمحوں میں گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔
اس واقعہ کو کافی دن گزر گئے۔ انجینئر صاحب ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کہاوت کے مطابق اس واقعہ کو روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والی ایک بات کی طرح بھول گئے۔
ایک روز انجینئرصاحب مغرب کے بعد اپنے آفس میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھے کہ ایک ہٹا کٹا جوان ان کے آفس میں داخل ہوا۔ اس نے سر پر پگڑی باندھ رکھی تھی اور اس کا ایک حصہ اپنے منھ پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ اس کا چہرہ صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی دیہاتی ہو۔ انجینئرصاحب کسی فائل کے مطالعے میں مصروف تھے۔ اس شخص نے انجینئرصاحب کا نام لے کر دریافت کیا کہ مجھے ان سے ملنا ہے۔
انجینئرصاحب نے سراٹھایا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے کہ میرا ہی نام انجینئرفلاں ہے۔ تشریف لائیے! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ چونکہ واقعہ بہت پرانا ہوچکا تھا اس لیے انجینئرصاحب اس شخص کو بالکل بھی نہیں پہچان سکے۔ اس شخص نے جب انجینئر صاحب کا چہرہ دیکھا تو وہ اپنے محسن کو فوراً پہچان گیا اور مزید اطمینان کے لیے ان کو ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگا۔ انجینئرصاحب کو اس بات سے حیرت بھی ہوئی اور تشویش بھی۔ انھوں نے اس شخص سے پھر پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کیا کام ہے؟ انجینئرصاحب کے دوبارہ یہ کہتے ہی اس شخص نے ان کی آواز کو بھی پہچان لیا اور اسے یقین ہو گیا کہ یہ وہی ’دیوتا‘ ہے جس نے مجھ پر کئی سال قبل ایک بہت بڑا احسان کیا تھا اور جسے میں بھلا نہیں سکا ہوں۔ بلکہ اس سے ملاقات کے لیے بے قرار ہوں۔ وہ شخص بے ساختہ طور پر انجینئر صاحب کے قدموں میں گر پڑا اور گڑ گڑا کر اِن الفاظ میں معافی مانگنے لگا کہ میں بہت ہی گندا، پاپی اور احسان فراموش انسان ہوں۔ مجھ جیسے گندے جانور کو بھگوان کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ انجینئرصاحب آپ مجھے معاف کردیجیے آج میں بہت بڑا پاپ کرنے جا رہا تھا۔ انجینئرصاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ یہ کون شخص ہے اور مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اسے اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر اپنے ساتھ فرش پر بیٹھایا اور دریافت کیا کہ بات کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔ صاف صاف بتائیں آپ کون ہیں اور مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اس شخص نے اپنے سر پر بندھا کپڑا اتارا اورانجینئر صاحب کے قدموں میں رکھ دیا اور روتے ہوئے کہنے لگا کہ دراصل میں آپ کی جان لینے آیا تھا۔ مجھے آپ کے ایک دشمن نے آپ کو قتل کرنے کے عوض بڑی رقم کی سپاری دی تھی اور اسی پاپ کو انجام دینے کے لیے میں یہاں آیا تھا لیکن بھگوان نے مجھے اس پاپ سے بچا لیا۔ میں نے جب آپ کی شکل دیکھی تو میں نے آپ کو پہچان لیا کہ آپ تو وہی دیوتا ہیں جنھوں نے کئی سال قبل میری ماں کی میت کو گھر تک پہچانے کا انتظام کر کے میرے اوپر احسانِ عظیم کیا تھا۔ یہ کہہ کروہ شخص پھر انجینئر صاحب کے پیر پکڑ کر معافی مانگنے لگا۔ انجینئرصاحب کو بھی وہ واقعہ یاد آگیا اور انھوں نے بھی اس شخص کو پہچان لیا۔ پھر اسے تسلی دیتے ہوئے اس سے کہا کہ وہ اس پر رنجیدہ نہ ہو اور اس کا دل بہلانے کے لیے اس کی اور اس کے گھر والوں کی خیریت معلوم کرنے لگے۔ دورانِ گفتگو اس شخص نے بتایا کہ وہ غلط لوگوں کی صحبت میں پڑگیا اور کریمنل کاموں میں ملوث ہوگیا۔ پیسے لے کر لوگوں کے تنازعات کو نپٹانے لگا۔ سپاری لے کر لوگوں کو راستے سے ہٹانے لگا۔ اسی طرح کے دیگر کاموں میں ملوث ہو گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ میں آپ کو ہمیشہ یاد کر تا رہتا ہوں۔ میرے پاس آپ کا نام اور پتہ نہیں تھا اس لیے میں آپ سے ملاقات نہ کر سکا اور آج ملاقات ہوئی تو ایسے موڑ پر۔ اگر بھگوان نے میری مدد نہ کی ہوتی تو آج مجھ سے اتنا بڑا پاپ ہوتا کہ جس کی وجہ سے ایشور مجھے کبھی معاف نہ کرتا اور میں کوڑھی بن کر تڑپ تڑپ کر مرتا۔ اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگا اور معافی مانگنے لگا۔ انجینئرصاحب نے اسے پھر تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ اور انھوں نے اس کو نصیحت کی کہ تم نے جولائن اختیار کی ہے اسے فوراً چھوڑ دو کیونکہ اس راستے کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ اپنے بچوں کے پیٹ میں حلال روزی ڈالو حرام نہیں۔ انجینئرصاحب نے اس کی چائے ناشتے سے تواضع کی اور اسے خدا اور آخرت کے بارے میں بھی مختصراً بتایا۔ اس نے انجینئر صاحب سے وعدہ کیا کہ اب وہ اس راستے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گا اور محنت و مشقت کر کے حلال طریقے سے اپنے بیوی بچوں کو پالے گا۔ انجینئرصاحب نے خدا اور آخرت سے متعلق ہندی زبان میں چند کتابیں اسے پڑھنے کے لیے دیں اور بڑی محبت سے اسے رخصت کیا۔
اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ بلا لحاظ مذہب و ملت، کسی ضرورت مند اور پریشان شخص کی مدد کرنا، کسی کے کام آنا، برے وقت میں کسی کا ساتھ دینا، کسی کے آنسو پوچھنا، کسی کا کوئی مسئلہ حل کرنا یا کرانا، وہ کام ہیں جن سے اللہ راضی ہوتا ہے۔
اللہ کے یہاں نیکی اور بھلائی کا بدلہ ہمیشہ اچھا ملا کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں اور آخرت میں تو اِن شاء اللہ اچھا بدلہ ضرور ملے گا۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے:
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(اچھے کام کا بدلہ اچھا ہی ملا کرتا ہے۔)







