ایک رکشے والا

ایک روز مجھے شہر کے باہری علاقے میں ایک صاحب سے ملاقات کے لیے جانا پڑا۔ میں نے یہ خیال کرکے کہ کہیں واپسی میں وہاں کوئی رکشہ نہ ملے، رکشے والے سے آمدورفت کا معاملہ کرلیا اور اس میں بیٹھ کر منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں اس رکشے والے کے حالات بھی معلوم کرتا رہا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے، کتنے بچے ہیں اور وہ کیا کیا کرتے ہیں وغیرہ۔ میں نے مختصراً اپنا تعارف بھی کرایا۔ اس طرح لمبا راستہ بھی آسانی کے ساتھ طے ہوگیا اور اس سے ایک طرح کی انسیت بھی ہوگئی۔

منزل پر پہنچے کے بعد میں نے رکشے والے کو باہر چھوڑ دیا اور گھر میں داخل ہوگیا۔ صاحبِ خانہ نے میری تواضع کے لیے چائے وغیرہ پیش کی۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’میرا ایک ساتھی بھی باہر موجود ہے، اسے بھی اس تواضع میں شریک کرلیں۔‘‘ ان صاحب نے فوراً تعجب سے کہا کہ ’’آپ کا ساتھی کہاں ہے؟ اسے آپ اندر کیوں نہیں لائے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’وہ ساتھی باہر اپنے رکشے کی نگرانی کررہا ہے۔‘‘ وہ میری بات سمجھ گئے۔ چنانچہ انھوں نے اس رکشے والے کے لیے باہر ہی چائے وغیرہ بھجوادی۔ اس رکشے والے نے سمجھا کہ یہ میرے لیے آیا ہے۔ اس نے میزبان سے کہا کہ صاحب تو اندر ہی گئے ہیں۔ اس پر میزبان نے اس سے کہا کہ یہ آپ کے لیے ہے۔ یہ سن کر پہلے تو وہ جھجکا، لیکن میزبان کے اصرار پر اس نے چائے ناشتہ کرلیا۔

کچھ دیر کے بعد میں طے شدہ معاملے کے تحت اسی رکشے سے واپس لوٹا۔ واپسی میں میں نے محسوس کیا کہ وہ رکشے والا ہمارے سلوک سے کافی متاثر ہے۔ میں نے دیکھا کہ راستے کے اتار چڑھاؤ پر وہ اب کافی شفقت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مجھے جھٹکے محسوس نہ ہوں۔ اگر کسی چڑھائی پر میں نے رکشے سے اترنے کی کوشش کی تو اس نے منع کردیا اور رکشے میں بیٹھے رہنے پر اصرار کیا۔ بہرحال اپنی منزل پر پہنچ کر میں نے طے شدہ پیسے رکشے والے کو پیش کیے۔ اس نے نہایت ادب اور عاجزی کے ساتھ پیسے لینے سے انکار کردیا۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ بھائی میں تو طے شدہ پیسے آپ کو دے رہا ہوں اگر کم ہوں تو اور دے دیتا ہوں۔ اس پر وہ بڑی احسان مندی کے انداز میں کہنے لگا:’’صاحب! آپ نے تو ہمیں بہت کچھ دے دیا ہے۔ ہمیں تو لوگ دھتکارتے ہیں، نیچ اور جانور سمجھتے ہیں۔ ذرا سی بات پر ہمیں گالی دینا اور مارنا پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ آپ نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اس سے مجھے بہت کچھ مل گیا ہے۔ میں آپ سے پیسے نہیں لے سکتا!‘‘

بات صاف تھی کہ وہ پیسے لینے سے انکار کیوں کررہا ہے۔ میں نے کہا کہ بھائی! ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تو ہمارا فرض تھا۔ آپ میرے ساتھ تھے اور اللہ کی کتاب قرآن مجید نے ہم مسلمانوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ اپنے ساتھی کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور اس کا حق اسے دو، چاہے اس کا ساتھ وقتی اور تھوڑی دیر کا ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے ہم نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا ہے اور نہ آپ کی اجرت سے اس کا کچھ لینا دینا ہے۔

یہ بات سن کر وہ غیر مسلم رکشے والا بڑی حیرت سے بولا:’’قرآن میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے! تب تو قرآن کی باتوں پر سارے انسانوں کو چلنا چاہیے۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے اسے بتایا کہ بھائی قرآن مجید سارے انسانوں کے خالق، مالک اور پروردگار کی جانب سے سارے ہی انسانوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے پیسے زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیے اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔

میں سوچنے لگا کہ قرآن مجید کی جن تعلیمات کو ہم معمولی سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتے، ان کے اندر اتنی حکمت اور اس قدر تاثیر موجود ہے۔ واقعی قرآن خدا کا کلام ہے۔

قرآن نے بنی نوع انساں کو قابل احترام اور لائق تکریم قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک فرد ہمارے احترام اور ہماری توجہ کا حق دار ہے۔ خاص طور سے وہ لوگ زیادہ توجہ کے مستحق ہیں جو سماج کے پچھڑے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو محنت مزدوری کرتے ہیں۔ جنھیں عام طور پر لوگ کسی عزت کے قابل نہیں سمجھتے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا اسوہ یہ ہے کہ آپ نے ایسے لوگوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ انھیں اپنے پاس بٹھایا اور اپنے ساتھ کھانے پینے میں شریک کیا۔ ہم اللہ کے پیارے نبی کے پیارے اسوے پر چلیں گے تو اللہ کے محبوب بھی بنیں گے اور بندوں کی محبت بھی پائیں گے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

ایک رکشے والا

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223