بیان کی صلاحیت

(پہلی قسط)

سید تنویر احمد

اللہ کی عظیم نعمت جو انسان کو مکرم بناتی ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ رحمٰن میں اپنی بے شمار نعمتوں میں سے چند نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ کی نعمتیں اس کی شان اور بزرگی کی علامتیں ہیں ۔ سورہ لقمان میں فرمایا گیا کہ اللہ کی شان بزرگی اور اس کے کلمات کو بیان کرنے کے لیے اگر روئے زمین پر موجود تمام سمندروں کے پانی سے روشنائی بنالی جائے، اور تمام درختوں کی ٹہنیوں سے قلم بنالیے جائیں، تو یہ تمام تر روشنائی اور قلم بھی اس کی تعریف لکھنے میں صرف ہوجائیں گے، لیکن اللہ کی قدرت کا بیان مکمل نہیں ہوسکے گا۔ تمام مخلوقات کے لیے اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت اس کی صفتِ رحمانی ہے۔ مذکورہ سورہ کا آغاز اسی صفت کے تذکرے سے ہوا ہے۔ صفتِ رحمانی کا اظہار خود قرآن بھی ہے۔ پھر انسان کی تخلیق اور اسے بیان کی صلاحیت سے ودیعت کرنا ۔ ان کا ذکر سورہ رحمٰن کی ابتدائی چار آیات میں ہے۔ اس مضمون میں ہم بیان کی صلاحیت، اور اس کے نعمت ہونے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ گفتگو کے آداب کو جانیں گے اور زبان کے بہترین استعمال کے اصولوں کا علم حاصل کریں گے۔

بیان کی صلاحیت

مفسرین کہتے ہیں کہ سورہ رحمٰن میں ‘بیان’ کی صفت کو اللہ کی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ یہاں لفظِ ‘‘کلام’’ استعمال نہیں کیا گیا۔ بیان اور کلام میں بڑا فرق ہے۔ بیان میں صرف زبان کا استعمال نہیں ہوتا، جس طرح کلام میں ہوتا ہے۔ کلام بیان ہی کا ایک حصہ ہے۔ بیان میں انسان کی مختلف صلاحیتوں، قوتوں، نظام اور اعضا کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت ایک شعبہ (faculty) ہے، جس کا تعلق انسان کے عصبی نظام، ذہنی صلاحیت اور قوتِ گویائی سے ہے۔ کسی بات کو بیان کرنے سے پہلے دماغ میں انتہائی پیچیدہ عمل پیش آتا ہے۔ اس عمل میں دماغ کے تینوں حصے—تحت الشعور، لاشعور اور شعور—اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ بیان کا تعلق حال کے احساسات سے بھی ہوتا ہے، ماضی کے واقعات و تجربات سے بھی اور بسا اوقات مستقبل کے اندیشوں سے بھی۔

بیان کا تعلق انسان کے ایک اہم حصے‘دماغ’ سے ہے۔ دماغ کا وزن مردوں میں اوسطاً ۱۳۳۶ گرام ہوتا ہے جب کہ خواتین میں ۱۱۹۸ گرام۔ غالباً انسان کو‘احسنِ تقویم’ کا درجہ دلانے میں اسی عضو کا اہم مقام و مرتبہ ہے۔ کان کی لَو میں، جس کا بظاہر کوئی خاص کام محسوس نہیں ہوتا، ہزاروں باریک نسیں جمع ہیں جن کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے۔ بیان کی صلاحیت، دماغ کے مخصوص حصے مخِ کبیر (cerebrum) میں پروان چڑھتی ہے، اور یہی حصہ زبان کو کنٹرول کرتا ہے۔

نیشنل جیو گرافک کے مطابق دنیا میں سب سے پیچیدہ ڈھانچہ دماغ ہے۔ اسی لیے اس حیرت انگیز تخلیق کے خالق کا کہنا ہے کہ انسان اگر اپنی ساخت (انفس) پر غور کرلے تو وہ معرفت الٰہی کے سرور سے بہرہ ور ہو جائے۔ بیان کا تعلق فکر، پڑھنے، کلام اور قلم سے گہرا ہے۔ ان تمام صفات کا ذکر ہمیں مختلف جہتوں سے قرآن مجید میں ملتا ہے۔

بیان کی صلاحیت انسان کو دیگر حیوانات سے ممتاز کرکے اشرف بناتی ہے۔ اگرچہ دیگر حیوانات بھی اپنی اپنی مخصوص بولی بولتے ہیں یا ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں، لیکن ان کی یہ صلاحیت انسانوں کو عطا کی گئی بیان کی استعداد سے بہت کم ہے۔ اس لیے انسان کو‘حیوان ناطق’ بھی کہا جاتا ہے۔ حیوانات میں بیان کی صلاحیت علم وہبی کے تابع ہوتی ہے، جب کہ انسان کسب کے ذریعہ اس صلاحیت کا ارتقا کرتا ہے۔

بیان کے عجائبات

بیان کی صلاحیت مسلسل تغیر پذیر ہے۔ اس میں ارتقا ہوتا ہے۔ بیان میں ارتقا دراصل علم کا ارتقا ہے۔ قرآن کہتا ہے عَلَّمَ الإِنسَانَ مَالَمْ یعْلم ‘‘ہم نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔’’ (سورہ العلق ۵)

اس آیت کا یہ مطلب بھی ہے کہ منبعِ علم کی جانب سے انسانوں کو ہر لمحہ نیا نیا علم عطا کرنے کا عمل جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہر۱۳ ماہ میں دنیا کی معلومات کی کی کمیت دوگنی ہو رہی ہے۔ یعنی ابتدائے آفرینش سے آج تک حضرت انسان نے جن علوم و فنون سے مجموعی طور پر اکتساب کیا، اس علم کی مقدار ہر 13 ماہ میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ یہ بھی قیاس ہے کہ بہت جلد یہ رفتار بڑھ کر ۱۲ دنوں پر آ جائے گی۔ علم میں اتنا حیرت انگیز اضافہ ‘بیان’ کی صفت ہی کا نتیجہ ہے۔ بیان کا تعلق محض بولی سے ہوتا تو یہ سائنسی، سماجی، نفسیاتی، سیاسی اور معاشی تبدیلیاں رو نما نہ ہوتیں ۔ جانور صرف بولی بولتے ہیں اس لیے ان کا سماج یا جنگل ویسے ارتقا یافتہ نہیں ہیں جیسا کہ انسانی آبادی۔ یہ اللہ کی حکمت ہے۔ ورنہ طوطا بھی انگریزی اور چینی زبان سکھانے کا انسٹی ٹیوٹ کھول لیتا۔ شیر بھی گوشت کو ریفریجریٹر میں رکھنے کا فن سیکھ لیتا۔ مور ڈانس اکیڈمی قائم کر لیتا۔ سانپ دہشت گردوں سے معاہدات کر لیتا۔ عافیت انھیں محدود علم دینے ہی میں ہے۔ بصورت دیگر انسانی زندگی اجیرن ہو جاتی۔

بولیاں (زبانیں) کب بنیں، کیسے بنیں،کتنی بنیں؟ ماہر لسانیات اور ماہر عمرانیات (anthropologists) ابھی ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہیں ۔ زبانوں کی ابتدا میں بڑا اختلاف ہے۔ ۳۰۰۰ ق م سے لے کر ۱۵۰۰ ق م تک کا دور زبانوں کی تشکیل کا دور کہلاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں زبان کی ابتدا کا تصور وہی ہے جو قرآن میں ملتا ہے، یعنی حضرت آدمؑ کو اسما کا علم سکھایا گیا۔ چناں چہ اسلامی نظریے کی رو سے بولی کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا۔ حضرت آدمؑ پہلے رسول بھی تھے اور انسان بھی۔ رسول کا فرض منصبی اللہ کے پیغام کی لوگوں تک ترسیل کرنا ہے۔ یہ ترسیل بولی اور کلام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چناں چہ اس سے آدمؑ کے ذریعے بولی کا وجود میں آنا ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین عمرانیات کے مطابق زبانیں تہذیب و ثقافت کو جنم دیتی ہیں ۔ ماہرین تاریخ اسے تاریخ کو سمجھنے، اسے ریکارڈ کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں ۔ ماہر لسانیات کا کہنا ہے کہ کسی دور میں زبانیں اور بولیاں پوری دنیا میں ۸۰۰۰ کی تعداد میں بولی جاتی تھیں ۔ اب یہ تعداد گھٹ کر ۶۰۰۰ تک آ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گذشتوں دہوں میں چلی گلوبلائزیشن کی ہوا نے تقریباً ۱۸۰۰ زبانوں اور بولیوں کو نابود کر دیا۔ افریقہ میں بولی جانے والی ڈلبو (Dulbu) زبان کے بولنے والے اب محض ۲۰۰ سے کم افراد بچے ہیں ۔ زبانوں کی سیاست بھی ایک دل چسپ اور گہرا موضوع ہے۔

انسان نے اپنی اختراعی صلاحیت سے کمپیوٹر ایجاد کیا۔ کمپیوٹر کی بھی اپنی زبان ہے۔ اس کے حروف تہجی عددی ہوتے ہیں ۔ آج کمپیوٹر بھی محدود‘بیان’ کی صلاحیت سے متصف ہے۔‘مصنوعی ذہانت ’آج کمپیوٹر کی دنیا کا ایسا علم ہے جو خود اپنے بنانے والے کو حیرت زدہ کر رہا ہے۔

وہ کلام جو مختلف آوازوں کی شکل میں ہمارے اطراف فضا میں ہر لحظہ تحلیل ہو رہا ہے وہ دراصل محفوظ ہے۔ اب کو شش کی جارہی ہے کہ صدیوں پہلے ہوئے مکالموں کو دوبارہ آواز دی جائے۔ دنیا کے باقی رہنے تک یہ امر ممکن ہو نہ ہو، لیکن یوم حشر تو برپا ہوکر رہے گا، جہاں یہ سارے ریکارڈ بجائے جائیں گے۔

نا پسندیدہ بیان

بہترین، پسندیدہ اور اللہ کے ہاں مقبول بیان کا تذکرہ کرنے سے پہلے جان لیں کہ کس طرح کے بیان یا کلمات کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔

سورہ ابراہیم میں کلمۂ خبیثہ کا ذکر ہے۔ یہاں کلمہ انھی وسیع تر معنوں میں استعمال ہوا ہے جس کا تذکرہ ابتدا میں آچکا ہے—یعنی فکر، سوچ اور ان کی بنیادوں پر بننے والے تصورات و معتقدات، کلچر، نظام و معاشرہ ہر وہ بیان جو آفاقی سچائی سے ٹکراتا ہو، فطرت کی تردید کرتا ہو، قلبِ سلیم کو نامطمئن کرنے کو باعث ہو—وہ بیان کلمۂ خبیثہ ہے۔ چناں چہ ان صفات کا حامل بیان انسان کی ذات اور انسانی سماج کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایسے بیان اور ایسے بیانیے سے گریز کرنا چاہیے۔

سورہ لقمان میں ہدایت ہے کہ ‘‘لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر’’ یعنی تکبر کے اظہار کے ساتھ گفتگو نہ کر۔ اسی سورہ میں آگے کہا گیا ‘‘اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔’’ بلند اور کرخت آواز سے بات کرنا، چلاکر گفتگو کرنا، چیخ چیخ کر بولنا، اس انداز کی قرآن نے ممانعت کی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نہ بہت زیادہ بلند آواز سے بات کرتے تھے اور نہ ہی اتنی پست کہ سننے والے کو سننے میں مشکل پیش آئے۔ اعتدال کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی کرتے تھے۔ بعض لوگ آدھے ادھورے جملے بولتے ہیں ۔ الفاظ کا کچھ حصہ بولتے ہیں اور کچھ حذف کر جاتے ہیں ۔ یہ پسندیدہ طریقہ نہیں ہے۔

سورہ عَبَس کے آغاز میں ربِّ مخلوقات کہتا ہے: ‘‘ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آ گیا۔’’ ان آیات کو اوپر کی آیات سے جوڑ کر پڑھا جائے تو گفتگو (بیان) کے بہت سے آداب کا علم ہوتا ہے۔ ان آداب میں سے چند یہ ہیں :

1 گفتگو کے دوران الفاظ کے ساتھ لب و لہجہ اور انداز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ الفاظ بہتر ہیں لیکن اسلوب و انداز (body language) خراب ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران پیغام کا صرف ۲۰ فی صد حصہ الفاظ کے ذریعہ ادا ہوتا ہے جب کہ ۸۰ فی صدحصہ بولنے والے کے لہجے، انداز اور تیور پر منحصر ہوتا ہے۔ سورہ عَبَس کی ابتدائی آیات سے بھی یہ ہدایت ملتی ہے۔ سورہ عَبَس میں بے رخی برتنے کا واقعہ یہ اصول بھی ہمیں دیتا ہے کہ اگر ہم کسی سے مخاطب ہوں یا کوئی ہم سے مخاطب ہو تو ہم ہمہ تن گوش رہیں ۔ پوری توجہ کے ساتھ اس کی گفتگو کو سنیں ۔ نظریں ملاکر سنیں ۔ مخاطب کسی سے ہوں اور نظریں کسی اور طرف، یہ انداز کلام کی تاثیر کو کم کردیتا ہے۔ سورہ عَبَس کی ان آیات میں اسی عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ ہمارا عام رویہ کچھ ایسا ہی ہے۔ کسی غیر اہم شخص، بچوں اور کبھی زوجہ سے بات کرتے ہیں تو پوری توجہ سے اور نظریں ملاکر گفتگو نہیں کی جاتی بلکہ کسی کام میں مشغول رہتے ہوئے سننے کا عمل جاری رکھے ہوتے ہیں ۔ یہ رویہ عام ہو گیا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ آج خاندانوں میں اہل خانہ کے مابین ‘بات’ تو ہوتی ہے ‘گفتگو’ نہیں ۔ الفاظ کے مجموعے کی ادائیگی کرلینا گفتگو نہیں کہلاتا۔ جذبات، احساسات، تکلفات، لہجے اور تیور کی ترسیل گفتگو کہلاتی ہے، اور یہی گفتگو نتیجے پیدا کرتی ہے۔

رشتوں، تعلقات اور روابط میں آج کل باڈی لنگویج (اس کا اردو ترجمہ جسمانی زبان، کیا جاتا ہے، تاہم‘جسمانی زبان’ سے وہ مفہوم ادا نہیں ہوتا جو انگریزی اصطلاح باڈی لنگویج سے ہوتا ہے) کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ باڈی لنگویج کا ایک زبردست اظہاریہ مسکراہٹ ہے۔ پیارے رسول ﷺ نے کہا ‘‘مسکراہٹ صدقہ ہے۔’’ مسکراؤ اور نیکی پاؤ۔ یہ اور بات ہے کہ مادہ پرستانہ نظام مسکراہٹ کو بھی فروخت کرتا ہے۔ آج کارپوریٹ ہاؤسوں کے استقبالیہ پر لڑکیوں کو صرف گاہکوں سے مسکراکر بات کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

ہماری روز مرہ کی زندگی میں باڈی لنگویج کے اثرات کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں ۔ ایک مثال دیکھیے۔ بہو میکے سے اپنے گھر آتی ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنا اپنی ساس سے ہوتا ہے تو وہ اسے سلام کرتی ہے۔ سلام کے الفاظ تو بہو نے ادا کیے، تاہم نہ تو وہ ساس کے قریب گئی، نہ اس نے ساس کی طرف دیکھا، اور نہ ساس کی خیریت دریافت کی۔ سلام کے الفاظ کے علاوہ اوپر بیان کیا گیا رویہ باڈی لنگویج سے تعلق رکھتا ہے۔ اس رویے پر غور کریں ۔ کیا اس طرح کے رویے سے ساس اور بہو کے رشتے میں گرماہٹ آئے گی۔ ویسے آج اس رشتے کی گرماہٹ کو بہت کم خاندان قبول کرتے ہیں ۔

ایسا ہی معاملہ بچوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بچے اسکول سے جب گھر واپس لوٹتے ہیں تو آداب کے مطابق گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرتے ہیں ۔ لیکن یہ سلام اکثر رسمی طور پر زبان سے ادا ہو جاتا ہے۔ اس کے جواب میں والدین یا گھر میں موجود دیگر افراد زبان سے جواب تو دے دیتے ہیں لیکن گرم جوشی اور بچوں کے تئیں باڈی لنگویج کا اظہار کم ہی ہوتا ہے۔ ہاں، جب بچے پری اسکول کی ابتدائی کلاسوں میں ہوتے ہیں تو ماں کی جانب سے التفات کا اظہار ہوتا ہے، لیکن بچے جوں جوں بڑے ہونے لگتے ہیں والدین کی باڈی لنگویج کم زور پڑتی جاتی ہے۔ ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر بچوں میں اعتماد کی کیفیت کو بڑھانا ہو تو ان سے صبح و شام کم سے کم تین منٹ نظریں ملا کر باتیں کریں ۔ بات کریں، گفتگو کریں، نہ کہ ڈانٹیں ۔ ہم بچوں سے گفتگو کا مطلب بچوں کو ڈانٹنا سمجھتے ہیں ۔

باڈی لنگویج کی تیسری مثال میں تحریکی زندگی سے پیش کرتا ہوں ۔ ایک مقامی ذمہ دار باڈی لنگویج کے معاملے میں بہت کم زور تھے۔ دفتر میں بیٹھے رہتے تھے۔ اگر کوئی رفیق دفتر میں داخل ہوتا تو اسے دیکھے بغیر سلام کا جواب دے دیتے۔ ایک دفعہ میں بھی اس دفتر میں داخل ہوا۔ سلام کیا۔ آں جناب نے جواب دیا۔ میں کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔ انھیں مطالعے میں غرق دیکھ کر میں بھی اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ دفتر میں ان کے اور میرے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ تقریباً ۱۵ منٹ بعد انھوں نے میری طرف دیکھا اور گویا ہوئے، ‘اوہ، آپ ہیں ۔’

یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ان کا یہ رویہ مطالعے میں انہماک کی بنا پر تھا یا باڈی لنگویج اور آداب گفتگو سے ان کی ناواقفیت کے سبب۔

2 سورہ عَبَس سے ایک اور اہم سبق بیان سے متعلق یہ ملتا ہے کہ ہم گفتگو کے عمل کے دوران کسی کو کم تر نہ سمجھیں یا کسی کو نظر انداز نہ کریں ۔ سورہ عَبَس میں جس واقعے کی جانب اشارہ ہے اس جیسی کیفیت سے ہم اور ہمارے ذمہ داران و قائدین بھی اکثر گزرتے ہیں ۔ اس وقت ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے؟ افراد کو گفتگو کے دوران نظر انداز کرنے کا، انھیں کم تر سمجھنے کا، یا انھیں کم معیاری تصور کرنے کا۔ اس رویے کو نفسیات کی زبان میں افراد کو ڈسکاؤنٹ کرنا (discounting) کہا جاتا ہے۔ ڈسکاؤنٹ کا یہ عمل روابط اور تعلقات کو کم زور اور گفتگو کو بے اثر کر دیتا ہے۔ اس طرح کے بیان سے بات دل میں نہیں اترتی بلکہ ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے۔

ناپسندیدہ گفتگو اور باتوں میں لغو بھی شامل ہیں ۔ سورہ مومنون میں کہا گیا کہ والذین ھم عن اللغو معرضون (جو لغویات سے دور رہتے ہیں )۔ مولانا مودودی لغو کی تفسیر یوں کرتے ہیں : ’’ لغو ہر اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لاحاصل ہو، جن باتوں کا کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو، وہ سب لغویات ہیں ۔‘‘

لغو بات سے پرہیز کرنے کی تفسیر مولانا موصوف یوں کرتے ہیں :

’’مومن ایک سلیم الطبع، پاکیزہ مزاج، خوش ذوق انسان ہوتا ہے۔ بیہودگیوں سے اس کی طبیعت کو کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہوتا۔ وہ مفید باتیں کرسکتا ہے، لیکن فضول گپیں نہیں ہانک سکتا۔ وہ ظرافت اور مزاح اور لطیف مذاق کی حد تک تو جاسکتا ہے مگر ٹھٹھے بازیاں نہیں کرسکتا، گندہ مذاق اور مسخرہ پن برداشت نہیں کرسکتا، تفریحی گفتگوؤں کو اپنا مشغلہ نہیں بناسکتا۔‘‘

جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لا تسمع فیھا لاغیۃ‘‘وہاں تو کوئی لغو بات نہ سنے گا۔’’ یعنی جنتی لغو بات نہیں کریں گے۔ لغو کی تعریف کی روشنی میں جب ہم موجودہ سماج بالخصوص مسلم سماج کا جائزہ لیتے ہیں تو بڑی تشویش ہوتی ہے۔

زبان کے استعمال اور اپنے بیان کو موثر بنانےکے لیے جس گفتگو سے پرہیز کرنا ہے اس کی رہ نمائی سورہ حجرات میں یوں کی گئی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔‘‘

ان آیات میں جس طرز کی گفتگو سے گریزکی ہدایت کی گئی ہے اس میں طعن وتشنیع، برے القاب سے پکارنا او ر مذاق اڑانا شامل ہیں ۔ ان رزیل صفات کی حامل گفتگو کو ماہر نفسیات ایرک برن (Eric Berne) پوشیدہ معاملہ (ulterior transaction) قرار دیتا ہے۔ ایسی گفتگو اور جملے جو ذو معنی ہوں، وہ دل پر ایسے گھاؤ بناتے ہیں جو مدتوں ہرے رہتے ہیں ۔ جس دل پر ایسی چوٹ لگے، وہ اسے بھلائے نہیں بھولتا، بلکہ جلد یا بدیر وہ اس کا بدلہ لینے کی تاک میں رہتا ہے۔ جب تک وہ اس کا مناسب اور بزعم خویش وزنی جواب نہ دے دے، بدلے کی یہ آگ سرد نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ساس اپنی بہو کے بارے میں کہتی ہے: ’’ہاں، وہ تو نواب زادی ہے۔‘‘جب کہ وہ کسی امیر باپ کی بیٹی نہیں ہے۔ ایسے جملوں کو یوں سمجھایا گیا ہے:

الف  ←  ب

)فرد ‘الف ’نے فرد ‘ب’ سے مخاطب ہوکر ایک جملہ کہا۔(

ب ←  الف

) لیکن فر د‘ب ’ نے جوبا ت کہی و ہ د و معنی تھی ۔‘ ب کا مقصد‘الف ’ کوو ہ با ت پہنچانا نہیں تھا جو جملے سےظا ہرہور ہی ہے ، بلکہ ا س کی مرا د با لکل مختلف تھی۔(

اجتماعی زندگی میں بھی اہم ایسی گفتگو کر بیٹھتے ہیں ۔ مثلاً ایک رفیق دوسرے رفیق سے کہتا ہے ‘‘ارے، آپ کو تو امیر مقامی بن جانا چاہیے۔‘‘ یا    ’’ارے، آپ کا یہ مشورہ تو مرکز کو بھیجنے لائق ہے۔ ‘‘ وغیرہ۔ ایسے جملوں سے رابطہ متاثر ہوتا ہے۔

ماہر نفسیات ایرک برن نے گفتگو کے دوران ہونے والی ایک اور کیفیت کا ذکر کیا جسے ’’ضربی گفتگو‘‘(cross transaction) کہا جاتا ہے۔ ایسی گفتگو کا مشاہدہ اکثر ہم اپنے اطراف کے ماحول اور گھروں میں کرتے ہیں ۔ گفتگو کی اس کیفیت میں فرد ’الف ‘ فرد ’ب ‘  کو کچھ کہتا ہے۔ ’ب ‘  ’الف ‘ کی کہی گئی بات کا جواب دینےکے بجائے کوئی دوسری بات کہہ دیتا ہے۔ ’ب ‘  کا یہ جملہ ’الف ‘  کے جملے کو کاٹ دیتا ہے، اس پر ضرب لگاتا ہے، یہ اس کی بات کا سیدھا اور راست جواب نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک دوست نے دوسرے دوست سے پوچھا:’’خیریت ہے؟‘‘ ’ب ‘  نے جواب دیا: ’’کیوں ! آپ کو کیا تکلیف ہے؟‘‘ کراس ٹرانزیکشن کی ایسی کئی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ اس طرح کی گفتگو سے باہمی تعلقات خراب ہوجاتے ہیں، رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، پیغام کی ترسیل بھی نہیں ہوتی۔ اگر گفتگو کے دوران ایسی کیفیت پیدا ہوجائے، تو قرآن مجید نے اس صورت میں ہماری بہترین رہ نمائی فرمائی ہے۔ سورہ فرقان میں کہا گیا ہے:

’’اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام‘‘

مولانا مودودی اس کی تفہیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’  رحمن کے بندوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ گالی کا جواب گالی، اور بہتان سے اور اسی طرح کی بیہودگی کا جواب ویسی ہی بیہودگی سے نہیں دیتے بلکہ ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں کہ اس کو سلام کرکے الگ ہوجاتے ہیں ۔‘‘ اسی طرح کی رہ نمائی سورہ القصص آیت 55 میں بھی ملتی ہے۔

ان آیات مبارکہ میں کراس ٹرانزیکشن،’’ تو تو، میں میں‘‘سے احتراز کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسی گفتگو میں الجھنے کے بجائے سلام کہہ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی جائے یا گفتگو ختم کردی جائے۔ ضربی گفتگو یا کراس ٹرانزیکشن والی گفتگو کا نتیجہ اکثر خوش گوار نہیں نکلتا۔ ماہرین نفسیات بھی ایسی گفتگو سے اجتناب کا مشورہ دیتے ہیں ۔

یہ گفتگو کے چند ناپسندیدہ اقسام تھیں ۔ ان شاءاللہ آئندہ قسط میں گفتگو کے پسندیدہ انداز پر روشنی ڈالی جائے گی۔

مارچ 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau