مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ

نظم وضبط، اصول اور ڈسپلن کی اعلیٰ مثال

محمد جاوید اقبال

مولاناسید ابو الاعلی مودودیؒ ایک عظیم الشان مفسر قرآن، مصنف، مقرر، داعی الی اللہ اور ایک عالمی اسلامی تحریک کے بانی تھے۔ انھوں نے اپنی 76 سالہ زندگی میں اتنے بڑے کام انجام دیے کہ دیکھ کر عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ انھوں نے جتنی کتابیں لکھی ہیں ان سب کا مطالعہ کرنا بھی ایک کار دشوار ہے۔

اپنی منظم و مر بوط اور منضبط زندگی ہی کی بدولت اتنے سارے کام وہ انجام دے سکے۔ مولانا مودودی اپنے معمولات کے نہایت سخت پابند تھے۔ انھوں نے اپنے لیے کچھ اصول و ضوابط طے کر لیے تھے جس پر وہ سختی سے عمل پیرا تھے۔ مولانا مرحوم اپنے اوقات کا بڑا جچا تلا استعمال کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو اس حدیث کے سانچے میں ڈھال لیا تھا جو حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:

’’حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں یہ بات بھی درج ہے کہ عقل مند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اوقات کو تقسیم کرے۔ کچھ اوقات اپنے رب سے مناجات کے لیے مخصوص کرے، کچھ اوقات اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کے لیے رکھ چھوڑے اور کچھ اوقات اپنے رب کی تخلیق اور کاریگری پر غور و خوض کرنے کے لیے خاص کر لے۔ اور کچھ اوقات اپنے خورد و نوش کے لیے فارغ کرے۔ اسی طرح عقل مند انسان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صرف تین چیزوں کے لیے سفر کرے: آخرت کے حصول کے لیے، معاش کی تلاش میں یا ایسی لذت کے حصول کے لیے جو حرام نہ ہو۔ اور عقلمند کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ زمانہ شناس ہو، اپنی اصلاح حال کے لیے ہمیشہ متوجہ رہے، نیز اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔‘‘

مولانا مودودی نے اپنی زندگی کو مذکورہ بالا اصولوں کا پابند کر لیا تھا۔ چناں چہ جب وہ دہلی میں مقیم تھے اور الجمعیة اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے تھے اس وقت انھوں نے پروفیسر خورشید احمد کے والد کوان کے خط کے جواب میں لکھا:

’’ہمارا دفتر کوچہ چیلان میں نہیں بلکہ چتلی قبر ( علاقہ کا نام ) پر ہے۔ مکان پر میں صبح آٹھ بجے تک، اور رات کو آٹھ بجے کے بعد ملتا ہوں۔ یا بالفاظ دیگر رات کو آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک گھر پر رہتا ہوں، تاہم اگر ایک دن پہلے آپ اپنے Official visit کی اطلاع دیں تو ممکن ہے کہ میں اپنے پروگرام میں گھنٹہ دو گھنٹے کی ترمیم کرلوں۔‘‘

مولانا کے اس مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے معمولات مقرر کر رکھے تھے اور ان پر سختی سے عمل پیرا تھے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس وقت مولانا کی عمر صرف ۲۴ سال تھی، جس میں بہت زیادہ سنجیدگی اور پختگی نہیں ہوتی۔

یہی زمانہ تھا جب مولانا مودودی مشہور عالم دین مولا نا عبدالسلام نیازی مرحوم، کے گھر عربی پڑھنے جایا کرتے تھے۔ مولا نا عبدالسلام نیازی مولانا مودودی کو فجر سے پہلے بلاتے تھے۔ وہ اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور وقت پر پہنچ جاتے تھے۔

مولانا مودودی کے چھوٹے بیٹے سید خالد فاروق مودودی لکھتے ہیں:

’’ہمارے والد صاحب کا سارا وقت یا تو جماعتی اور تنظیمی نشستوں میں صرف ہوتا تھا یا پھر وہ لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ ایک کمرا، جو ان کا دفتر تھا، ڈرائنگ روم اور بیڈ روم بھی تھا۔ اور وہی ان کی لائبریری بھی تھی۔ وہ سارا وقت وہیں گزارتے۔ کھانا کھانے کے لیے وہ گھر کے اندر آ جاتے۔ وہ کہا کرتے تھے: ‘‘ میں فارغ نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘ ان کے کھانے کے اوقات بھی مقرر تھے۔ صبح ناشتے کے بعد ہی لکھنے بیٹھ جاتے۔ دو پہر کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کرتے۔ عصر کے وقت ایک کپ چائے پیتے اور پھر عصری مجالس کا سلسلہ شروع ہو جاتا جو مغرب تک چلتا۔ مغرب کی نماز، رفقا کے ساتھ لان میں پڑھتے تھے۔عشاء کے بعد کھانا کھا کر سو جاتے۔ یہ آخری زمانہ میں ان کا معمول تھا، ورنہ پہلے زمانے میں وہ رات رات بھر لکھتے پڑھتے رہتے تھے۔‘‘

رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ لان میں ٹہلتے تھے۔ ٹہلنے کا وقت بھی متعین تھا جہاں وہ چکر لگاتے اور چکّر گن کر لگاتے۔ آخری عمر میں ٹہلنے کا وقت بہت کم کر دیا تھا۔ مولانا مودودی نے اپنے ایک مکتوب میں جو انھوں نے چودھری نیاز علی خاں صاحب کو ۲۶ جولائی ۱۹۳۷ء کولکھا، اس میں تحریر فرمایا:

’’میں نے اپنی زندگی کے لیے چند اصول ایک خاص نصب العین کے تحت مقرر کر لیے اور خدا کے فضل سے، میرے اندر اتنی استقامت موجود ہے کہ میں سخت سے سخت مشکل حالات میں بھی اپنے نصب العین سے ہٹنا اور اپنے اصولوں میں ترمیم کرنا گوارا نہیں کرتا۔ اس وقت میں جن مشکلات میں مبتلا ہوں وہ تمام تر میری اپنی عائد کی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے ہیں ورنہ یہ طوفان و مصائب آج دور ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنے اوپر جو پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کسی سے اپنی ذات کے لیے کوئی مالی مدد نہ لوں گا۔ دوسری قومی اور مذہبی خدمت کے سلسلے میں کوئی معاوضہ لینے کا خیال بھی نہ کروں گا اور تیسری یہ کہ ایسی منفعت کی لالچ میں اپنے آپ کو گرفتار نہ ہونے دوں گا جو مجھ کو دین و ملت کے مفاد کے لیے اپنی صوابدید کے مطابق آزادانہ کام کر نے سے روکتی ہو۔‘‘

مولانا مودودی کو شاہی مسجد لاہور کی امامت کی پیش کش کی گئی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔اس سلسلے میں انھوں نے لکھا: شاہی مسجد کی امامت، میرے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے، اس سے بہتر کام کرنے کا موقع اور کیا ہوسکتا ہے؟ مگر معاوضہ لے کر امامت کرنا میرے نزدیک ناجائز نہیں تو سخت مکروہ ضرور ہے۔

مولانا مودودی کے اس نظم وضبط کا مطلب کام کو بہتر اور مقرر مدت میں کرنے کا تھا۔ مولا نا عادات کے غلام نہ تھے بلکہ عادتیں ان کی غلام تھیں۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ مولانا کو پان کھانے کی عادت تھی، چناں چہ وہ پان کی ڈبیہ اور بٹوہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ پان وہ خود بناتے۔ جب جب جیل جانے کا موقع آتا، گھر سے خوب اچھی طرح کلی کر کے نکلتے تو پوری مدتِ اسیری اس طرح گزار دیتے گویا پان کو کبھی منہ لگایا ہی نہ تھا۔

مولانا مودودی باہر سے آئے ہوئے خطوط کا انتہائی پابندی سے جواب دیتے تھے۔ جب مصروفیت زیادہ بڑھی تو مولا نا غلام علی ملک مرحوم جواب لکھتے اور مولانا کو دکھا دیتے۔ چناں چہ رسائل ومسائل کے کئی حصے اور خطوطِ مودودی کے عنوان سے کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

مولا نا خواجہ اقبال احمد ندوی اپنی کتاب ’مولانا مودودی کی رفاقت میں‘ میں لکھتے ہیں: جب ترجمان القرآن کا دفتر لاہور میں تھا تب ایک دفعہ کاغذ نایاب ہو گیا۔مولانا خودتانگے میں بیٹھ کر لاہور شہر میں گھومے اور جب کاغذ نہ ملا تو ماہنامہ ترجمان القرآن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ موصوف نے مجھ سے کہا کہ خریداروں کو لکھ دیا جائے کہ کاغذ کی نافراہمی کی وجہ سے رسالہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا جارہا ہے۔ لہذا جو خریدار اپنی رقم لینا چاہیں وہ دفتر کولکھ دیں۔ ان کی بقایا رقم بھیج دی جائے گی اور جو خریدار صبر کرنا چاہیں وہ انتظار کریں جیسے ہی کاغذ دستیاب ہونا شروع ہو جائےگا، پر چہ ان کو ملنا شروع ہو جائےگا۔ اس واقعہ سے مولا نا مرحوم کی اصول پسندی اور شفافیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَ كَثِّرْ أَمْثَالَهُ.

مشمولہ: شمارہ اکتوبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau