کشمیر میں طلوعِ اسلام

فردوس نذیر بٹ

مورخین کی ایک جماعت کے مطابق کشمیر میں دعوت دین کا آغاز عہد نبوی میں اس وقت ہوگیا جب آپ کے کچھ صحابہؓ  یہاںتبلیغ کی غرض سے آئے اور یہاں کے حاکم وینادت ﴿Venadutt﴾ سے ملاقات کرکے اس کے سامنے اسلام کو متعارف کرایا۔ پھر کچھ عرصے قیام کے بعدچین کا سفرکیا اور ریشمی شاہ راہ﴿ Silk Route﴾کے ذریعے واپس عرب روانہ ہوگئے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب جنوبی ہند کالیکوٹ کے حاکم Cheruman Perumal نے رسول اﷲ ﷺ  کی زیارت کے لیے مدینۃ کا سفر کیا اور آپ کی سیرت وکردار سے متأثر ہوکرقبول اسلام کا اعلان کیا۔ کچھ مؤرخین کے مطابق کہ محمد بن قاسم نے جب ۷۱۱ھ   میں سند ہ پر حملہ کیا اوریہاں کے حاکم راجا داہر کو قتل کردیا تو کچھ عرصے اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا۔ چنانچہ اسی عرصے میں یہاں دعوت دین کا آغاز کیا اور کئی مساجداور عبادت گاہیں بھی تعمیر کروائیں،بعد میں اس کی فوج کے ایک شامی سپہ سالا ر ھمام بن سمعۃ نے یہیں سے کشمیر کا رخ کیا اور وہاں کے حاکم سے ملاقات کی ۔ اس نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور تحفے کے طور پر ایک بڑی جاگیر عطاکی۔ اس پر انھوں نے کئی مساجد تعمیر کیں۔ یہیں سے کشمیر کے مسلم معاشرے کی داغ بیل پڑی۔ مشہور کشمیری مورخ کلہن نے اپنی تاریخ راج ترنگنی Rajatringni میں اس بات کا اعتراف کیاہے کہ گیارہویںصدی کے کشمیری راجا Harshadeva نے اپنے دربار میں بہت سے عرب مسلمانوں کو بطوردرباری اور فوجی متعین کیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کشمیر میں اسلام اور مسلمانوںکا ظہور بہت پہلے میں ہوچکاہے۔

اکثر مؤرخین کے مطابق کشمیر میں اسلام کی آمد چودھویںصدی کے اوائل میں اس وقت سے شروع ہوئی جب و سط ایشیا، ایران اورافغانستان سے وارد ہونے والے مسلم مہاجرین، علما، صوفیا نے یہاں سکونت اختیار کرکے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا ۔ اس سے قبل یہاں ہندومت ،بدھ مت ،اورشیومت ،بحیثیت مذاہب رائج تھے۔ اس خطّے میں دعوت دین کی نشر واشاعت کا سہرا سیدشرف الدین عبد الرحمان کے سربندھتا ہے ۔ وہ ایک تقویٰ شعار،عبادت گزار اور خدا ترس عالم دین تھے ۔ مؤرخین کے مطابق وہ ترکستان کے رہنے والے تھے، جواس وقت منگولوں کے زیر اثر تھا۔ منگولوں کے ظلم وبربریت کے خوف سے ترک وطن کرکے کشمیر واردہوئے اور سری نگر میںمقیم ہوگئے اور یہاں تبلیغِ دین کاآغاز کیا۔ مشہور انگریزی مؤرخ Lawrence کے مطابق یہ وہ زمانہ تھا جب کشمیری معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار تھا۔ لوگ منشیات، شراب نوشی اور قماربازی کے عادی تھے ، کشمیر میں ترویج اسلام اور اشاعتِ دین کاسلسلہ اس وقت سے شروع ہوا جب یہاں کے حاکم رینچن شاہ Renzu Shah Rinchanنے ۱۳۲۴ھ میں عبد الرحمان بلبل شاہ کے ہاتھ پراپنے قبول اسلام کا اعلان کیا، وہ ایک لداخی شہزادہ تھا، جو ۱۳۲۰ھ میں اپنے باپ کی موت کے بعد کشمیر کے تخت پر قبضہ آور ہوا۔ مسلمان ہونے سے پہلے وہ بدھ مت کا پیروکار تھا۔ رینچن شاہ قبول اسلام کے بعد سلطان صدر الدین کے نام سے موسوم ہوا۔اس کا قبول اس  لام کشمیرکی مذھبی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ اس کے قبول اسلام کے باعث اس کی اکثررعیت کا قبول اسلام ہے جن میں اس کے افراد خانہ اور اس کے برادرِنسبتی راون چندرخاص طورسے قابل ذکر ہیں ۔ علاوہ ازیں بودھوں کی ایک بڑی اکثریت جنھوں نے اس واقعے کے بعد برہمنیت کے مذہبی جبراور ذات پا ت کے طوق وسلاسل سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس نئے مذہب کو سینے سے لگایا۔ سلطان رینچن نے بعد میں بلبل شاہ صاحب کے لیے سرینگر میں ایک خانقاہ تعمیر کروائی اورمسلمانوں کے لیے ایک مسجدکا سنگ بنیاد رکھاجوکہ کشمیر کی سب سے اولین مسجد شمارکی جاتی ہے اور بلبل لنکر کے نام سے مشہورہے ۔ یہ نواکدل سری نگر میں واقع ہے۔

ظہور اسلام کی یہ نوخیز کلی جو بلبل شاہ صاحب کی کدوکاوش سے پروان چڑھی تھی اس وقت اپنے جوبن پر آکر کھل اٹھی، جب میرسید علی ہمدانی نے یہاں دعوت دین کا کام شروع کیا۔ وہ ایک بلندپایہ فقیہ، دینی علوم کے ماہر، قرآن کریم کے حافظ ، بلند سیرت وکردار کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مصنف اور قلم کاربھی تھے۔ وہ ایران کے شہر ہمدان کے رہنے والے تھے اور علی ثانی کے نام سے مشہورتھے۔ وہ۱۳۷۲م/ ۷۷۴ھ میں ہمدان سے سات سو افراد پر مشتمل سادات کی جماعت کے ساتھ ہجرت کرکے کشمیر چلے آئے اور یہاں سکونت اختیار کرکے دعوت وتبلیغ کے کام میں لگ گئے۔ اس ہجرت کی ایک بڑی وجہ ترک حکمران تیمورلنگ کا وسط ایشیا پر قبضہ اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ سیاسی بحران اور عدم استقرارتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کشمیرپر سلطان شہاب الدین کی حکومت تھی۔ ان کے دور حکومت میں انھوں نے یہاں چار ماہ تک قیام کیا۔ اس کے بعد مکہ تشریف لے گئے اور ۷۸۱ ھ  میں وہاں سے لوٹ کر دوبارہ وادی تشریف فرما ہوئے۔ یہ سلطان قطب الدین کا دورحکومت تھا، اس مرتبہ انھوں نے یہاں لگ بھگ ڈھائی سال تک قیام کیا۔ اس کے بعد ۷۸۳ھ  میں ترکستان روانہ ہوئے، تیسری مرتبہ ۷۷۵ھ  میں کشمیر کا ارادہ کیا، آپ کا خیال تھا کہ اس دفعہ زیادہ عرصے تک کشمیرمیں قیام کریں گے لیکن طبیعت کی خرابی کے سبب مجبور ہوکر انھوں نے ختلان﴿ ترکستان﴾ کا ارادہ کیا، جہاں ۷۸۶ھ  میں وفات ہوئی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ وادی میں اپنے قیام کے دوران سید علی ہمدانی اور ان کے مصاحبین کو سیاسی سرپرستی حاصل رہی جس کی بدولت انھیں یہاں وسیع پیمانے پر دعوت دین کے مواقع میسر آئے۔ یہا ں تک کہ شاہی حلقوں تک دعوت وتبلیغ کی رسائی ہوئی۔ قیام کی اس مدت میں تقریبا ۳۷۰۰۰ ہزار لوگ ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور کثیر تعدادمیں ان کی دعوت سے لوگ اسلام کے روحانی پیغام سے متعارف ہوئے۔ سید علی ہمدانی نے لوگوں کی کردارسازی اور تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ خالص دینی تہذیب وثقافت کو بھی فروغ دیا ۔ ان کی ہدایت پر یہاں کے حکمران سلطان قطب الدین نے غیر اسلامی لباس ترک کرکے اسلامی لباس اختیارکیا، اس کے نتیجے میں باقی مسلم رعایا نے بھی اسلامی طرز زندگی اور وضع قطع کے مطابق بتدریج اپنے آپ کوڈھالا۔ سلطان نے اس کے علاوہ کئی دینی مدارس بھی قائم کیے جہاں پر قرآن ، حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ان مدارس نے اسلامی تعلیمات اورمسلم تہذیب وثقافت کی تعمیم میں اہم ترین رول ادا کیا۔ سید علی ہمدانی نے جہاں ایک طرف تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعہ کشمیری عوام میں دعوت دین کی ترویج کا تقریری کام انجام دیا، وہیں اس کام کے لیے تحریری صورت میں متعدد کتابیں بھی تصنیف فرمائیں،جن میں ”ذخیرۃ الملوک” اور ” اوراد فتحیۃ ” خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

شاہ ہمدانی کے دعوت دین کی نسبت سے کشمیر میں قیام کا ایک بڑا اثر یہ پڑا کہ یہاں ایرانی علوم وفنون کی ترویج شروع ہوئی۔ ان کے مصاحبین میں کئی ایسے لوگ بھی شامل تھے جو طرح طرح کی صنعت وحرفت کے ماہر تھے جن میں قالین سازی ،شال بافی، خطاطی اور بنائی وغیرہ شامل ہیں۔ان لوگوں نے یہاں دعوتی مشن کی آبیاری کے ساتھ ساتھ ان فنون کی ترویج میں اپنا کلیدی رول ادا کیا۔ علامہ اقبالؒ  کے مطابق شاہ ہمدانی اور سادات عجم نے اپنی سکونت سے وادی کشمیرکو ایران صغریٰ میں تبدیل کردیا۔

میر سیدعلی ہمدانی کے بعدیہاں بڑے پیمانے پر خدمت دین کا کام ان کے فرزند ارجمندمیر محمدہمدانی نے انجام دیا۔ انھوں نے ۱۳۹۴م/ ۷۹۶ھ   میں تین سو افراد کی معیت میں وادی کا سفر کیا۔ اس وقت ان کی عمرفقط۲۲بائیس سال تھی ۔مؤرخین کے مطابق اس سفر کے لیے انھیں ان کے والد نے وصیت کے طورپر دو تحریریں ارسال کی تھیں۔ نو عمری کے باوجود میر محمدعلم وحکمت ،تقوی اورجذبہ ایمانی سے لبریزتھے ۔ انھوں نے اپنے دعوتی مشن کے ذریعے ان منکرات، خرافات اور بدعات کے استیصال کی کوشش کی جو نووارد کشمیری مسلمانوں کے اندر اپنے آبا کی تقلید کے نتیجے میں سرایت کرچکی تھیں۔ ان کی دعوت کی ایک بڑی کامیابی سلطان سکندرکے وزیر اعلی اور سپہ سالار سُہہ بھٹ کا قبول اسلام ہے، جس کا انھوں نے سیف الدین نام رکھا۔ اس کاقبول اسلام بعد میں اس کے کئی ہم وطنوں کے قبول اسلام کا سبب بنا۔ میر ہمدانی کے دینی جذبے سے متأثر ہوکر حاکم وقت سلطان سکندر نے انھیںاپنا بھرپور تعاون دیا اورخود بھی ان کے ساتھ دعوت دین کے عملی میدان میں اترپڑا۔ یہاں تک کہ کچھ متعصب لوگوں نے انھیں بت شکن کا لقب دیا۔ سلطان نے اس کے علاوہ محمد ہمدانی کے لیے سری نگر میں اس جگہ ایک خانقاہ تعمیر کروائی جہاں وادی میں اپنی آمد کے موقعے پر ان کے والد علی ہمدانین نے قیام کیاتھا ۔ یہ جگہ آج خانقاہ معلی کے نام سے مشہور ہے اور کشمیرکی قدیم اور وسیع ترین عبادت گاہ شمار کی جاتی ہے۔

مشہور مؤرخ جون راج سلطان سکندر رقمطراز ہیں: بادشاہ مسلمانوں کا مشتاق تھا۔ بہت سے مسلمان باقی حکمرانوں کو چھوڑ کر اس بادشاہ کی پناہ میں آگئے جو سخاوت کے لیے مشہورتھا۔جس طرح تاروں کے درمیان ایک روشن چاند ہوتاہے اسی طرح میر محمد ہمدانی مسلمانوں کے درمیان تھے۔اگرچہ وہ لڑکے تھے مگر اپنے علم کی بنا پر وہ ان کے سردار بن گئے۔”  ﴿راج ترنگی أز جون راج: ص/ ۶۵﴾

کاروان ملت کے ان عظیم داعیوں نے جہاں ایک طرف پیام حق کی شمعیں فروزاں کیں، وہیں دوسر ی طر ف صوفیاء حضرات نے اس مہم کے لیے اپنے لیل ونہار وقف کردیے جن میں بابا زین الدینؒ  ،سید محمد حصاریؒ ، شیخ حمزہ مخدومیؒ ، سید أحمد کرمانی ؒ  اوربالخصوص شیخ نور الدین ریشی ؒ کی مثالی شخصیت قابل ذکر ہے۔ وہ ضلع کلگام کے گاوں کیموہ میں۱۳۷۷م / ۷۷۹کو پیدا ہوئے جو سری نگر سے تقریبا ۶۰کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ نے ابتدائی زندگی ترک دنیا اور گوشہ نشینی کی حالت میں گزاری مگر بہت جلد اس سے کنارہ کش ہوکر میدان عمل میں کود پڑے۔ دعوت دین کے لیے کشمیر کے طول وعرض میں پہنچے اوراس راہ میں عظیم ترین مشقتوںاور تکالیف کا تحمل کیا ۔کشمیری عوام میں اپنی غیر معمولی مقبولیت ، انسان دوستی اورعلم وعمل کے باعث وہ علمدارکشمیر کے نام سے مشہور ہوئے۔

شیخ نور الدین داعی، مفکراورعالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے۔ اپنی شاعری کو انھو ں نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا وسیلہ بنایا۔یہ شاعری حکمت اور دانائی سے لبریز ہے اور توحید، رسالت، فکرآخرت،حشر ونشراور دنیا کی بے ثباتی جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔اپنی شاعری کے ذریعے شیخ نے کشمیر ی عوام کو قول وفعل میں شریعت محمدی پابندی کی ترغیب دی،اور تہذیب نفس، تعمیرحیات اور تجدید فکر پر ابھارا۔چنانچہ رجوع الی اﷲ کی دعوت دیتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

” خداکی ذات ہی ذات باقی رہنے والی ہے، اسی سے اپنی توقعات اور امیدیں وابستہ رکھنا، وہی تمھاری ساری پریشانیوں کا حل اورعلتوں کا مداوا ہے،اے میری جان اپنے جوہر کو پہچان! ”

میدان حشر کی تصویر کشی کرکے فرماتے ہیں:

”روز محشر میں تمھارا کیا حال ہوگا جب خاص وعام کے ہوش باختہ ہوجائیں گے؟ اس دن باپ بھی اپنے بیٹے کو  پہچاننے سے انکار کردے گا ، صابرین کا صبر جواب دے گا اور وہ بھی اضطراب کا شکار ہوجائیں گے”

قرآن کریم کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

” اس کفروشرک کے طوفان میں کون ہے جو علم اوردین کا چراغ روشن کرے، معروف کاعلم دے اور منکرات سے لوگوں کو بازرکھے اور الف ، لام ، میم یعنی قرآن مقدس کا علم عام کرے،کیونکہ علم کا منبع قرآن کریم ہی ہے”

وادی کی اس سرزمین میں مبلغین کرام اور داعیان عظام کی دعوتی کاوشیں اسی طرح سرگرم عمل رہیں یہاں تک کہ ۰۸ فیصد مقامی آبادی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی۔ ۶۸۵۱ئ میں مغلوں نے یہاں کی زمام حکومت سنبھالی، ان کے دور حکومت میں اسلام کو کافی پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ یہی وہ دور تھا جب کشتوار جموں کے راجا جے سنگ نے سید فریدالدین بغدادی کے ہاتھ پر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔وہ راجپوت خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے قبول اسلام نے اس کے کئی ہم وطنوںکو قبول اسلام کی طرف راغب کیا۔ بعدمیںبھی اسلام لانے کا سلسلہ بتدریج جاری رہا، مگر بدقسمتی سے یہ عمل اس وقت جمود کا شکار ہوا جب ۱۸۱۹؁ء    میں سکھ کشمیر کے تخت پر قابض ہوگئے اور اپنے سیاسی اقتدار سے لوگوںکا استحصال شروع کردیا۔

سکھوں کے زوال کے بعد ۱۸۴۶؁ء میں جموں کے ڈوگرا خاندان نے کشمیرپر قبضہ جمالیا۔ وہ دورِحکومت کشمیرکی تاریخ کا بدترین دورتصورکیاجاتاہے۔یہ وہی دور تھا جب یہاں غلامی اور بیگارکا نظام رائج ہوا اورحقوق انسانی کی بڑے پیمانے پر پامالی ہوئی۔ مذہب اس زمانے میں سیاسی جبر کا شکار رہا اور اشاعت مذہب ناقابل معانی جرم قرارپایاجو کہ اپنے داعی ومدعودونوں کے لیے سزا کا موجب ٹھہرایاگیا۔ظلم واستبدداد کا یہ دور بھی آخر ایک صدی کے اندرڈوگرا حکومت کے سقوط کے ساتھ سرنگوں ہوکر رہ گیااور بہت جلددعاۃ کی بے لوث کا وشوں سے کشمیر کے گھر گھر میں اسلام کی شمع فروزاںہوئی۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau