قتلِ خطا کے بعض احکام

مولانا محمد سلیمان قاسمی

’ کسی مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے، جس مومن نے خطا سے کسی مومن کو قتل کردیا، تو اس پر لازم ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور اس کا خوں بہا، اُس کے وارثوں کو ادا کرے۔ الاّیہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر مقتول مومن تمھاری دشمن قوم میں سے ہو، تو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے اور اگر وہ ایسی قوم میں سے ہو جس سے تمھارے درمیان معاہدہ ہو تو اس کا خوں بہا اس کے وارثوں کو دینا ہے اور ایک مومن غلام کوآزاد کرنا ہے۔ جو شخص غلام نہ پائے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ یہ اللہ کی جانب سے توبہ کے طورپر ہے اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔ جو شخص کسی مومن کو عملا قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کاغضب ہوگا، اللہ کی لعنت ہوگی، اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھاہے: ‘اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو جانچ پڑتال کرلیا کرو اور مت کہو ہر اُس شخص کے لیے جو تم کو سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہے، تم دنیوی زندگی کے اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سا مال غنیمت ہے، تم اِس سے پہلے اِسی طرح تھے، تو اللہ نے تم پر، احسان کیا تو جانچ پڑتال کرلیاکرو، یقینا اللہ اس سے باخبر ہے، جو کچھ تم کرتے ہو، برابر نہیں ہیں بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے، اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے جو لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ذریعے جہاد کرنے والے ہیں، ان کو اللہ نے ایک درجہ فضیلت دی ہے ،بیٹھنے والوں پر۔ اور ہر ایک کے لیے اچھا وعدہ ہے اللہ نے فضیلت دی ہے مجاہدین کو بیٹھنے والوں پر، بڑے اجر کی، درجات عظیم اپنی جانب سے اور مغفرت و رحمت۔ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘﴿النساء:١۳﴾

اسلام کی سچائی اور حقانیت کا ایک ثبوت، اس کی جامعیت ہے۔ دوسرا ثبوت اس کی تعلیم میں توازن اور اعتدال ہے۔ تیسرا ثبوات اُس کا عدل و انصاف ہے، چوتھا ثبوت اس کی مساوات اور برابری ہے، پانچواں ثبوت انسانی حقوق کی پاسداری اور علمبرداری ہے۔ اُس کی جامعیت کا حال یہ ہے کہ اس میں اللہ کے حقوق ہیں، بندوں کے حقوق ہیں اور بندوں میں وہ بندے بھی شامل ہیں جو ایمان نہ لائے ہوں، جنھوںنے اسلام قبول نہ کیا ہو، مشرک ہوں یا ملحد ہوں۔بندوں میں ماں باپ کے حقوق ہیں، اگر ماں باپ ایمان نہ لائے ہوں تب بھی ان کے حقوق ادا کرنا ہوں گے۔ بندوں میں رشتے داروں کے حقوق ہیں چاہے وہ ایمان نہ لائے ہوں، تب بھی ان کے حقوق ادا کرنے ہوںگے۔ پڑوسیوں کے حقوق ہیں چاہے کافر پڑوسی ہوں ، یتیموں کے حقوق ہیں، غریبوں اور مسکینوں کے حقوق ہیں، کمزوروں اور محتاجوں کے حقوق ہیں، بیوائوں اور ناداروں کے حقوق ہیں چاہے وہ ایمان نہ لائے ہوں، اسلام کی تعلیم ہے کہ اپنے برادرانِ وطن اور خواہران وطن کے حقوق ادا کرو، چاہے وہ ایمان نہ لاے ہوے ہوں۔ ہر طبقے کے لوگوں کے حقوق ادا کرو، چاہے وہ غیرمسلم ہوں۔ جو لوگ کسی مصیبت کا شکار ہوں، ان کو مصیبت سے بچانے کی فکر کرو، چاہے وہ کافر ہی ہوں۔ اگر وہ بھوکے ہوں تو کھانا کھلائو، اگر پیاسے ہوں تو پانی فراہم کرو، ننگے بدن ہوںتو لباس فراہم کرو، بیمار ہوں تو علاج کا انتظام کرو، ناخواندہ ہوں تو تعلیم کاانتظام کرو۔ غرضے کہ ہر پہلو سے ان کو سہارا دو۔یہ نہ دیکھو کہ کون مسلم ہے اور کون غیرمسلم۔ سب اللہ کے بندے ہیں اور سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اس لیے سب بھائی بھائی اور بہنیں بہنیں ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اور اسلامی حکومت میں ہر ایک کی جان،مال،عزت و آبرو محفوظ ہے۔ اسلامی قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ وہاں مسلم و غیرمسلم کی کوئی قید نہیں۔

جس طرح انسان کو کسی انسان کا قتل بغیر خطا ، بغیر قصور قتل کرنا، انسانیت کے خلاف ہے اسی طرح کسی مسلمان کا مسلمان کو کسی خطا و قصور کے بغیرقتل کرنا، انسانیت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی قصوروار ہے تو عدالت کے ذریعے سے سزا دلوانے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ پبلک کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کا حق کسی ملک یا اسٹیٹ میں نہیں ہوتا، اسی طرح اسلامی اسٹیٹ میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہوتا۔ اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کو بغیر قصور اور بغیر خطا قتل کردیا تو چونکہ یہ حرکت ایک بھیانک چوک اور بھاری غلطی ہے اس لیے اس کے تدارک کے طورپر ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اور اس کے وارثوں کو ‘خوں بہا‘‘ دینا ہوگا۔ البتہ مقتول کے وارث اگر خوں بہا معاف کردیں تو دوسری بات ہے۔ اگر مومن مقتول دشمن قبیلے یا دشمن بستی کا رہنے والا تھا تو صرف غلام آزاد کرنا ہوگا۔ دشمنوں کو خوں بہا دے کر انھیں تقویت نہیں پہنچائی جائے گی۔ اگر مومن مقتول کسی ایسی بستی یا قوم قبیلے یا ایسے ملک کا باشندہ تھا جس سے معاہدہ تھا، جس کے اور دارالاسلام کے درمیان معاہدہ تھا تو اس کو خون بہا بھی ادا کیاجائے گا اور ایک مومن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا اور اگر غلام میسر نہ ہوتو دوماہ کے لگاتار روزے رکھنا ہوں گے۔ اگر دشمنوں کی طرف سے ان کی فوج میں مسلمان بھرتی ہوکر آئیں تو ان کو جوابی کارروائی میں قتل کرنا بالکل درست اور جائزہوگا۔

انسانی جان کی قیمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دوہزار بکریاں مقرر فرمائی تھیں، یہ اس کاایک معیار اور پیمانہ ہے۔ ہر دور میں، ان جانوروں کی قیمت بڑھتی رہتی ہے اس لیے کسی ملک کے سکّے میں یا سونا، چاندی یا نوٹوں کی شکل میں ادائی درست ہوگی۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معیار بہرحال باقی رہے گا۔ جان بوجھ کر قصورو ارادے کے ساتھ کسی مسلمان کو قتل کرنا اللہ کی نگاہ میں بھیانک جرم ہے۔ قرآن نے اس کی سزا جو بیان کی ہے وہ درج ذیل ہے: ۱-مسلمان کا قاتل جہنم میں جائے گا، ۲-وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا، ۳-اُس پر اللہ کاغضب ہوگا، ۴-اُس پر اللہ کی لعنت ہوگی، ۵-اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اقامتِ دین ، شہادت حق، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اقامت صلوٰۃ،ایتائ زکوٰۃ کا نظم قائم کرنا، بندوں کو بندوں کی غلامی سے اور غیراللہ کی عبادت سے محفوظ کرنا اور اللہ کی اطاعت اور مرضی کا نظام برپا کرنا، اللہ کی اطاعت کے برخلاف اطاعتوں سے نکالنے کی جدوجہد کرنا امت مسلمہ کے اہداف، مقاصد اور اغراض۔ ‘امت مسلمہ’ کو اپنے اہداف کا شعور پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں فی ظلال القرآن﴿سید قطب شہید﴾، تفہیم القرآن﴿سیدابوالاعلیٰ مودودی﴾ اور معروف ومنکر ﴿سیدجلال الدین انصرعمری﴾ سے استفادہ نہایت مفید رہے گا۔

جولائی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau