افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

(عبد القیوم صاحب مرحوم کی یاد میں)

ڈاکٹر حسن رضا

عبد القیوم صاحب مرحوم کی صحبت جن لوگوں نے اٹھائی ہے یا ان کے ساتھ بے تکلفی کے چند دن گزارے ہیں ،وہ کبھی اُن کو بھول نہیں سکتے۔ مرحوم کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی مٹھاس بلکہ چاشنی تھی، جو شیریں زبانی ، کشادہ دلی،جذبۂ دروں ، حس مزاح اور حفظِ مراتب کی ادا شناسی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لیے تہذیبی شعور کا چائو بھی ضروری ہے ورنہ مزاح پھکڑ پن بن جاتا ہے اور شخصیت مجروح ہو جاتی ہے۔عبد القیوم صاحب مرحوم ایک پر وقار اور دعوت و تحریک کی اسپرٹ سے سرشار شخصیت کے مالک تھے۔ توانا ،گٹھا ہوااور طویل القامت جسم۔قد و قامت کے حساب سے موزوں چہرہ جس سے مردانہ جمال نمایاں تھا۔ عزم و حوصلے سے پُر آنکھیں، جتنا بڑا دل ، اُتنا ہی کشادہ سینہ۔خش خشی داڑھی ، اونچی وضع دار ٹوپی،چہرے پر مزاح کی ہلکی لکیریں، جو قصہ کہانی بیان کرتے وقت پورے چہرے پر پھیل جاتیں اور کبھی سکڑ کر متانت و سنجید گی میں بدل جاتیں۔شروانی زیب تن کرتے تو شانِ قیادت نکھر جاتی۔عام لباس اور وضع قطع میں بھی اُن کی شخصیت پھیکی نہیں پڑتی تھی۔مرکز میں جب تک بھائی عبد القیوم مرحوم بحیثیت سکریٹری رہے۔ عام ملنے جلنے والوں سے پورے رکھ رکھاؤ اور مشرقی تہذیب و آداب کے ساتھ ملتے تھے۔ اس پر اُن کی خاندانی زندگی کے اثرات بھی تھے۔ جالنہ میں ان کا خاندانی تعلق بزرگوں کے سلسلے سے رہا ہے۔ وہ جس گھرانے کے چشم و چراغ تھے، اس خاندان کی مذہبی اور تعلیمی خدمات مراٹھواڑے میں نمایاں رہی ہیں۔انسانی شخصیت پر گھر ،خاندان کے ابتدائی اثرات بڑے مستحکم ہوتے ہیں۔ عبد القیوم بھائی مرحوم کے رویے میں حفظ مراتب کا جو لحاظ تھا ،وہ اسی خاندانی اثر سے پیدا ہوا تھا۔ انتظامی ذمہ داریوںکے سلسلے میں بد انتظامی سے تنگ آجاتے تو مزاح کی ساری لکیریں اچانک غائب ہو جاتیں۔ اوراُن پر جلالی رنگ طاری ہو جاتا۔لیکن جلد ہی مزاح کی غائب لکیریں آنکھوں سے جھانکتی ہوئی ہونٹوں تک آجاتیںتب کہتے کہ ارے بھائی کتنی دیر سے کہہ رہا ہوں یہ لوگ سنتے ہی نہیں ہیں۔ پھر ان کا اصل جمالی رنگ اُبھر جاتا۔مرکز کے قیام کے دوران میں نے ان کے اندر کئی بار دھوپ چھائوں دیکھا۔ جو شخص انتظامی ذمہ داریوں پر رہتا ہے اور مختلف سطح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، اس کے لیے سدا بہار رہنا مشکل ہو جاتاہے اور نرم گرم ہونا اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔

عام طور سے عبد القیوم صاحب مرحوم ملنے جلنے کے ابتدائی مرحلے میںایک پر تکلف سلیقہ مندی اور لحاظ رکھتے تھے۔ جب تھوڑی بے تکلفی ہو جاتی تو اپنائیت،تعلق کی حلاوت ، مزاح کی چاشنی سب شروع ہو جاتی۔اور جب زیادہ قربت ہو جاتی،تو پھر قصے ،کہانیاں ،لطیفے،پسندیدہ اشعار، آپ بیتی اور جگ بیتی ،سب کا لطف ملنا شرو ع ہو جاتا۔اور یہی چیز اُن کو بہت سارے تحریکی ذمہ داروں سے ممتاز کرتی تھی۔ بعض لو گوں سے ملئے تو شروع سے آخر تک بلکہ زندگی بھر بس چار مصرعے کی رباعی معلوم ہوتے ہیں۔ نہ گھٹتے ہیں اور نہ بڑھتے ہیں۔ نہ تعلقات میں کچھ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔نہ پژمردگی، نہ سر سبز و شادابی، بس پلاسٹک کےپیکر معلوم ہوتے ہیں۔ ہنستے اور مسکراتے بھی ہیں تو بس وہی کاروباری مسکراہٹ،جس پر کبھی کبھی مصنوعی ہونے کا گمان گزرتاہے۔ بعض زاہدِ خشک قسم کے لو گ بس ثواب کے لیے مسکراتے ہیں ، گویا ان کو آپ سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ کیااُن کو معلوم نہیں ہے کہ خدا کے بندوں سے مل کر خوش ہونا اور مسکرانا ، باعث ثواب ہے۔ عبدالقیو م بھائی مرحوم ایسے زاہد خشک لوگوں میں نہیں تھے۔وہ زندہ دل قسم کے انسان تھے۔ اُن کے ساتھ ہر موسم میں رہنے کا الگ مزہ تھا۔سفر کیجیے تو کوئی تھکاوٹ نہیں ، دستر خوان پر ساتھ کھانا کھائیے تو سیر ہو کر اُٹھیے اور کھانے کا مزہ بھی دو بالا۔ اُن کے ساتھ اجتماع میں کام کیجیے تو جم کر کام کیجیے۔’مہم جو ٗآدمی تھے، بڑی سے بڑی مہم میں لگا دیجیے،پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے ۔ خیال ہوتا ہے کہ اورنگ زیب کے عہد میں ہوتے تو دکن کی مہم میں اس کے دست راست ہوتے بلکہ سپہ سالار ہوتے۔ مہم جوئی کے دوران بھی ان کے اندر خشکی یا جھنجھلاہٹ طاری نہیں ہوتی تھی بلکہ موقع و محل کے حساب سے لطیفے اور قصے بھی چلتے رہتے تھے۔ عمر اور تعلقات کا خیال کرکے کہانی اور واقعات کا انتخاب کرنے میں اُن کو خاص مہارت تھی۔ اُن کی طبیعت میں جو شگفتگی، شخصیت میںجو عملیت تھی، کسی مہم میں لگ جانے کا جو حوصلہ تھا اور کام میں لگ جانے کے بعد جو دھن سوار ہو جاتی تھی،یہ ساری صفات اگر ایک آدمی کے حصے میں آجاتی ہیں تو وہ بہت قیمتی آدمی ہو جاتا ہے۔

اُن کے اندرمزاح میںجدت طرازی کی خاص صلاحیت تھی اور بات سے بات پیدا کرنے کا ایک خاص ملکہ تھا۔وہ قہقہے کے قائل نہیں تھے۔ صرف زیر لب مسکراتے تھے۔ لیکن جب ان کی محفل جمتی تو قہقہہ زار ہوجاتی۔ قہقہے کی بات آئی تو ٹی۔ کے ۔ عبد اللہ صاحب کی طرف ذہن جاتا ہے۔ وہ ہمارے درمیان قہقہے کے معاملے میںنمایاں آدمی ہیں اور ان کی محفل میں قہقہوں کی گونج حد ادب سے پار تک سنائی دیتی ہے۔ لیکن اُن کے مزاحیہ فقروں اور جملوں میںذہانت کی چمک ہوتی ہے۔عبد القیوم صاحب مرحوم کے یہاں حسن بیان کا آرٹ تھا۔پر اُن کی ظرافت اور تفریح میں تحریکی حرارت کا سامان ضرور ہوتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ممبئی میں ہم لوگ جماعت کی پالیسی کی ترتیب اور منصوبہ سازی کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عبد الحق انصاری مرحوم ، ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی،ٹی۔ کے ۔ عبد اللہ ، مولانا جلال الدین عمری وغیرہ سب لو گ اس میں شریک تھے۔ میں بھی شریک مجلس تھا۔ عبدالقیوم بھائی مرحوم ملاقات کے لیے تشریف لائے تو ایک وقفے میں لطیفہ سنایا۔جس میں تین کردار تھے، ایک حجام ،دوسرافلسفی اور تیسراگنجا۔ان تینوں کو رات میں باری باری سے جاگنا تھا۔ بیچ رات میںجب حجام کے جاگنے کی باری آئی تو اُس نے بیٹھے بیٹھے اپنا اُسترا نکالااور سوئے ہوئے ساتھی فلسفی کے سر کو مونڈ دیا۔جب حجام کے سونے کی باری آئی تو اس نے حسب پروگرام فلسفی کو اُٹھا دیا اور خود سو رہا۔فلسفی تھوڑی دیر ہی جاگاتھا کہ اچانک اس کا ہاتھ اپنے سر پر گیا اور اس نے اپنے سر کو گنجا پایا۔بہت جھنجھلایا کہ کمبخت اس حجام نے مجھے اُٹھانے کے بجائے میرے ساتھی گنجے کو اُٹھا دیا۔ اس لطیفے کو انھوں نے اس انداز میںبیان کیا کہ فلسفی کا پورا لطیفہ ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم پر چسپاں ہو رہا تھا۔یا درہے کہ وہ فلسفہ کے استاد رہ چکے تھے۔ اس لطیفے پر ڈاکٹر صاحب مرحوم اس قدر کھل کھلا کر ہنسے کہ پو ری محفل لوٹ پوٹ ہو گئی ۔ اس میں ایک لطیف طنز بھی تھاکہ ایسا نہ ہو کہ جماعت کی نئی پالیسی پروگرام بنانے کے نام پر بہت ساری پرانی پالیسیوں اور پروگراموں پر استرا پھیر دیا جائے۔ ڈاکٹر عبد الحق صاحب تازہ تازہ سعودی عرب سے آئے تھے اور جماعت کے کاموں میں جدت لانے کے لیے بہت سی تجویزیں پیش کر رہے تھے۔

عبدالقیوم صاحب کے لطیفے کا شانِ نزول بہت غضب کا ہوتاتھا۔ جس سے ان کی ظرافت بڑی بلیغ ہو جاتی تھی اور آدمی گھنٹوں مزے لیتاتھا۔ان کے لطیفے کو جو چیز دو آتشہ کر تی تھی اس میں پہلاان کا انداز بیان یعنی ’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ‘‘ اور دوسرا لطیفے کا شانِ نزول ہوتا تھا۔ لطیفے اور کہانیوں سے لطف اور مزہ تو بہت سارے لوگ اُٹھاتے ہیںلیکن اس کے ذریعے بصیرت کا سامان پیدا کرنا بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔اور یہی چیز عبد القیوم مرحوم کے لطیفوں میں ایک نئی روح پھونک دیتی تھی۔اکثر وہ چند لطیفوں کواُلٹ پلٹ کر مختلف موقعوں پر بیان کرتے رہتے تھے۔ لیکن اُن میں کوئی باسی پن نہیں ہوتاتھابلکہ ہر بار ایک نئی تازگی اور نئی بصیرت حاصل ہوتی تھی۔ اور اس سے ان کی حاضر دماغی اور فکر مندی کا بھی اندازہ ہوتا تھا۔ بات کی تہہ اور حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر کسی فرد میں یہ خوبی پیدانہیں ہو سکتی۔لطیفوں کے ذریعے یہ معنی آفرینی بہت مشکل کام ہے اور مضمون آفرینی سے زیادہ مشکل ہے۔ یوں بھی معنی آفرینی مضمون آفرینی سے زیادہ مشکل ہے۔ آپ کو بہت ساری کہانیاں ،قصے ، داستان یاد ہوں، تو ان کو جوڑ کر اپنے تخیل کی مدد سے مضمون آفرینی کر سکتے ہیں۔ لیکن معنی آفرینی کے لیے سوزِ دماغ اور ساز دل دونوںکا تال میل چاہیے۔ جن لوگوں نے دل دماغ دونوںکو کسی نصب العین کے لیے وقف کر دیا ہو، وہی یہ کرشمہ دکھا سکتے ہیں۔ سردار جی والے لطیفے کو توانھوں نے کئی بار اور کس کس طرح سے بیان کیا ہے ، سننے والے جانتے ہیں۔ایک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنا اگر شاعر کا کمال ہے تو کہانیوں ،لطیفوں اور چٹکلوں کو حسب ِ حال بنا کر اس کو نئے نئے معنی اور رنگ برنگ کے مفہوم کے ساتھ پیش کرنا عبد القیوم بھائی کا کمال تھا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لو گوں نے اپنی پوری شخصیت کو تحریک کے حوالے کر دیا تھا اور یہی اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا، اس لیے اُن کی تنقیدی بصیرت ہو یا تخلیقی شعور،سب اسی کام کے لیے وقف تھے۔ اللہ تعالی نے جسم و جان ، قوت و توانائی،عقل، ہوش،صبر و راحت ،جو کچھ دیا تھا ،سب انھوں نے تحریک اسلامی کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔ پُر مزاح شخصیت کے ساتھ ایک خوبی خود بخود پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ خوبصورتی و بد صورتی ، خلوص و ریا کاری ، بلند ی و پستی ،سب سے عہدہ برآہونے کاسلیقہ سیکھ لیتاہے اور اس کی وجہ سے اس کے ملنے جلنے والوں کا حلقہ وسیع ہو جاتاہے۔جہاں سارے پند ونصائح بے کا ر ہو جاتے ہیں،وہاں وہ اپنی طنز و ظرافت کے ذریعے کچھ نہ کچھ راستہ نکال لیتاہے۔ یہ کام عبد القیوم بھائی ہر جگہ کرتے رہتے تھے چنانچہ ان کا حلقہ بھی وسیع تھا۔

ان سے میری پہلی ملاقات اورنگ آباد میں ایس آئی او کے آل انڈیا اجتماع میں ہوئی تھی جس میں اسلام کا روحانی نظام کے عنوان پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا۔عبدالقیوم مرحوم اس اجتماع میں مطبخ کے انچارج تھے۔ پہلے یہ عام رواج تھا کہ طلبا کے اجتماعات کا انتظام و انصرام مقامی و حلقے کی جماعت کے ذمہ داران اور رفقا کرتے تھے اور طلبا کو اجتماع سے استفادہ کے لیے یک سو کر دیا جاتاتھا ،بہر حال مطبخ انچارج کے بارے میں میرا تصوریہ ہے کہ جو لوگ ذرا سخت مزاج واقع ہوئے ہیں، اُن کو یہ ذمہ داری دی جاتی ہے تاکہ کھانے پینے کی چیزوں پر پورا کنٹرول رہے۔ اس لیے میں انچارج مطبخ کو داروغۂ مطبخ کہتاہوں۔وہاں عبد القیوم بھائی مرحوم پر نظر پڑی تو مجھے لگا کہ ان کو داروغہ مطبخ کہنا ان کے شایان شان نہیںہے بلکہ سپرٹنڈنٹ مطبخ کہنا چاہئے۔ لیکن ایک دو وقت کے کھانے کے بعد انھوں نے میرے ساتھ ایسی خصوصی شفقت کا اظہار کیا کہ مجھے بھی ان سے ایک خاص لگاؤ ہو گیا، جو آخر دم تک رہا۔ اجتماع کے ہنگامے میں گرم گرم چپاتی کا اہتمام ، اپنے ہاتھوں سے سبزی ،ترکاری پیش کرنااور اکثر اصرار کرکے مطبخ میں کھلانا ابھی تک مجھے یاد ہے۔ اس وقت تحریکی بزرگوں میں نوجوانوں سے ایک خصوصی شفقت اور لگاؤ ایک عام بات تھی۔ اب البتہ اس سلسلے میںادھر کچھ گرم جوشی کی کمی کی شکایتیں ہونے لگی ہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ بسااوقاتبزرگوں کے دل اپنے ہم سفر تحریکی نو جوانوں کے لیے سخت گیر کیوں ہوتے جا رہے ہیں اور خدا واسطے کی محبت کی آنچ دھیمی کیوں ہونے لگی ہے۔ دوسری طرف نوجوانوں کی آنکھیں بھی کانچ کی پتلیوں جیسی ہوتی جا رہی ہیں۔اُن میں نہ محبت کے تارے جھلملاتے ہیں نہ احترام کے موتی ابلتے ہیں۔یہ مسئلہ محض تنظیمی اور اجتماعی نہیں بلکہ دینی ہے کیوں کہ دین داری کی دو اہم علامتیں ہیں؛پہلی شعور سے متعلق یعنی فکر آخرت اور دوسری جذبات کی ترجمان یعنی اپنے اسلاف سے محبت ، جس کا آخری سِرا عشق رسول سے ملتا ہے۔ اس پہلو سے اس رشتے کو سرسری نہیں سمجھناچاہیے۔اس حدیث کو اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے جس میںآپ نے فرمایا کہ ’’ جو بڑوں کا احترام نہ کرے اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرے ،وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘اس میں نہ جوش خطابت ہے اور نہ یہ مبالغے کا کلام ہے بلکہ ایمانی رشتے کی سچی بصیرت اس میں پنہاں ہے۔

اس لیے ہمیں دو انسانوں کے نظام تعلق کی روح کوصحیح طور پر سمجھنا چاہیے اس کو نہ سمجھنے کی بناپرسے اکثر آپسی رشتے میکانیکی بن جاتے ہیں اور تنظیمی ضابطوں کی خانہ پری کی حد تک رہ جاتے ہیں اور اس میں ذاتی تعلق کی حلاوت شامل نہیں ہوتی۔ انسان کی جذباتی ساخت کو اگر آپ غور سے دیکھیں تو پائیںگے کہ ہر انسان کی ذات بڑی حد تک (Inter personal relation)شخصی رشتو ں کے کیف و کم کا آئینہ خانہ ہوتی ہے۔ کسی بھی رشتے میںشعور اور جذبہ دونوں شامل ہو ں تو ان میںروحانی اور قلبی رابطہ قائم ہوجاتاہے۔ اس کو ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگردو افراد تعلق کے حقیقی مطالبے کو شعور اور جذبے کی سطح کے پورا کریں تو یہ رشتہ اللہ کے لیے محبت میںبدل جاتاہے۔شعور تعلق رشتے کی اصل پونجی ہے۔جس سے اُن کے درمیان جذباتی سطح پر بنک اکاؤنٹ Emotional Bank Account خود بہ خود کھل جاتا ہے اور کمی وبیشی Debit اور Credit کا عمل بھی شعوری اور غیر شعوری دونوں سطح پر جاری رہتا ہے۔بہر حال اس کے لیے عاجزی ، خاکساری اور فروتنی پہلی شرط ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دو مغرور اور متکبر آدمیوں میںکبھی سچا رشتہ قائم نہیں ہوتا ۔ دونوں اپنی انا کے گنبدمیں اسیر ہوتے ہیں ۔ دوسری چیزرشتے اور تعلق کی معرفت ہے جس کا ایک پہلو حفظِ مراتب کا خیال ہے ۔تیسری چیز ایثار و قربانی ہے بلکہ اظہار تعلق کی جتنی ادائیں ہیں،سب اس میں شامل ہیں۔ جب یہ تینوں باتیں دوانسانوں میں پائی جائیں توان کے رشتے کوعام رشتوں سے زیادہ با معنی بنا دیتی ہیں۔ ہمارے یہاں شعور تعلق تو ایک حد تک پایا جاتاہے لیکن جذبۂ تعلق کے فروغ کے آداب ہم نہیں سیکھ پاتے۔ عبد القیوم بھائی کے اندر یہ صلاحیت خدا داد تھی جس سے اپنائیت کا جذبہ خود بہ خود پر وان چڑھنے لگتا تھا۔یہی خوبی گلبرگہ کے محمود خان صاحب مرحوم میں بھی میں نے دیکھی۔دونوں شخصیتیں قد وقامت اور وجاہت میں ایک جیسی تھیں۔ دونوں کے اندر مہمان نوازی ، دل نوازی اور حفظ مراتب کا شعور پایا جاتا تھا۔ہاں عبد القیوم بھائی کے یہاں مزاح کا عنصر زیادہ تھااور محمود خان صاحب مرحوم کے اندر سنجید گی تھی لیکن خشکی نہیں تھی۔ دونوں کی خصوصی صحبت اور محبت سے استفادے کا مجھے موقع ملا۔

ایک دفعہ گلبرگہ محمود خان مرحوم کے یہاں حاضری ہوئی تو انھوں نے جیسی مہمان نوازی کی وہ بھولنے والی چیز نہیں۔اس کے علاوہ میری عزت افزائی کے طور پر تحفہ تحائف کے ساتھ ایک شال بھی دیا بلکہ انھوں نے اسے باضابطہ مجھے اوڑھایا اور اس طرح اپنے خصوصی تعلق کا اظہار کیا۔ابتدائی دور کی تحریکی شخصیتیوں میں ایک فطری معصومیت تھی، پیچیدگی اور تہہ داری نہیں تھی اور وہ اپنے آپ کو ستر پردوں میںچھپا کر نہیںرکھتے تھے۔ ان کے یہاں خلو ت اور جلوت کا فرق نہیں تھا۔ ہم لوگ 1966-67 کے آس پاس تحریک میں داخل ہوئے ہیں۔ اس لیے پہلی صف کے تمام بزر گوں کو دیکھا ہے۔ان کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی جن کے اوپر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا  ؎

نگہہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُر سوز

یہی ہے رختِ سفرمیر کارواں کے لیے

یاد آتا ہے کہ عبد القیوم بھائی مرحوم سنہ ۲۰۰۰ء میں جھارکھنڈ تشریف لائے تھے۔اور ہم لوگ جھار کھنڈ کی تعمیر نو کے نام سے ایک مہم چلا رہے تھے۔اس میں انھوں نے مرکز کی نمائندگی کی ذمہ داری بڑی حسن و خوبی سے انجام دی تھی۔عمائدین شہر سے خطاب کا ایک خصوصی اجلاس بھی تھا۔جس میں انھوں نے بڑے پر وقار ڈھنگ سے اور ذمہ دارانہ احتیاط کے ساتھ خطاب فرمایاجس سے تمام لوگ بے حد متاثر ہوئے ۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ قیوم بھائی تلوار کی دھار پر بھی گفتگو کر سکتے ہیں۔انھوں نے اپنی باتیں بڑے نپے تلے ، واضح اور دو ٹو ک انداز میں رکھیں۔مقرر تو تھے ہی ، تقریر اچھی کرتے تھے۔اپنی باتوں کو سلیقے سے رکھتے تھے۔ ہاں عبدالعزیز صاحب حیدرآباد کی طرح کا جوش ِ خطابت ان کے اندر نہ تھا لیکن ان کی تقریر سے لوگ متاثر ہوتے تھے۔ بعض لو گ اپنی تقریر سے مرعوب کرتے ہیں، عبد القیوم صاحب مرعوب نہیں کرتے تھے۔ یہ مجھے پہلے سے معلوم تھا لیکن اس سفر میں مجھے خاص طور پر اس کا احساس ہوا۔ ہنگامی پروگراموں میں نرم گرم واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔ مزاجوں کا ٹکراؤبھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی نزاعی صورت حال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں مرکزی ذمہ داروں کے لیے نزاکت بھی پیدا ہوجاتی ہے ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ تمام معاملات کو انھوں نے بڑے اعتماد سے حل کیا اور کسی نزاعی معاملے کو بھی جس میں اکثر ذمہ دار خاموش رہنا پسند کرتے ہیں ، انھوں نے بہت صاف صاف طریقے سے سلجھایا اور ایسی نرمی اور گداز کے ساتھ فیصلہ سنایا کہ نہ کسی کی لذت نفس کا سامان ہوا اور نہ کسی کی عزت نفس پر آنچ آئی۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ عبد القیوم صاحب ایک جرات مند اور بیباک انسان تھے۔ اس لیے ہر محفل میں وہ اپنی باتیں صاف صاف رکھتے تھے۔نمائندگان کی مجلس ہو یا شوریٰ کا اجلا س ہو، ان میں بھی بھرپورحصہ لیتے تھے۔ تحریک کی تاریخ اور اس کے دستوری مسائل پر جب گفتگو ہوتی تھی تو مرحوم پورے اعتماد اور خلوص سے اظہار خیال بھی کرتے تھے۔ لیکن اندازہ ہوتا تھا کہ بسااوقات ان کا ذہن دستوری نزاکت اور باریکی کو ماہرانہ گرفت میں نہیں لا پاتا تھا۔ دستور کی زبان سمجھنے کے لیے بہرحال قانونی ذہن کی پختگی چاہیے ، وہ ان میں نہیں محسوس ہوتی تھی۔قانونی زبان اور دستور کی سمجھ کے معاملے میں میں نے دو بزرگوں کو غیر معمولی طورپر ذہین پایا ہے۔ایک مولانا ابواللیث صاحب مرحوم اور دوسرے مولانا شفیع مونس صاحب مرحوم۔ ادب،صحافت، حکایت، قانون ، تحقیقی مقالہ ، تخلیقی کاوش واصلاح مضمون ؛ سب کے زبان و بیا ن اور اسلوب کے فرق کو کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ عبد القیوم بھائی مرحوم معقولات کے آدمی نہیں تھے۔ان کا اصل سرمایہ منقولات تک تھا۔معقولات سے ہماری مراد ہے دین کی حقانیت پرعقلی دلائل سے حجت قائم کرنا ، جو فلسفہ اور علم کلام کا موضوع ہے اس کی مہارت کا ہمارے یہاں فقدان ہے۔ اسی لیے بعض فلسفہ زدہ اور آزاد فکرقسم کے نوجوان اپنی ذہنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہیں تو ہم اکثران کی بے اطمینانی کو دور کرنے کا سامان نہیں کر پاتے ۔

عبد القیوم بھائی مرحوم نے جماعت کی تاریخ پر بھی کام کیا ہے۔اُن کی تحریر کا مسودہ محفوظ ہوگا۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ کتابی شکل میں آئے۔ہمارے یہاں حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے والے بہت لوگ ہیں لیکن اکثر میں تاریخی شعو رکی کمی ہوتیہے۔ شفیع مونس صاحب مرحوم ، جو ہماری اگلی صف کے بزرگ تھے،اُن کا ذہن بڑا منطقی اور قانونی تھا اور جماعت کی تاریخ کے ایک ایک واقعے کے وہ عینی شاہد بھی تھے، لیکن انھوں نے جماعت کی جو مختصر تاریخ لکھی ہے، اس کے اسلوب میں بھی تاریخی شعور کی کمزوری جھلکتی ہے ۔ اس کو آپ مختصرروداد کہہ سکتے ہیں۔ عبد القیوم صاحب مرحوم کی ایسی علمی تربیت تونہیں ہو سکی تھی کہ وہ اس بر صغیر کی تحریک اسلامی کی تاریخ رقم کرتے،ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ انھوں نے جو کچھ لکھا ہے اس سے ایک دوسری مختصر روداد ضرور تیار کی جاسکتی ہے ،جو بہر حال ایک مفید کتاب ہوگی۔اصل میں عبدالقیوم بھائی میدان کارِزار کے آدمی تھے۔ اللہ نے ان کو ہمت وجرات ،جذبہ و حوصلہ دیا تھااور ان کا کمال یہی تھا۔ جو صلاحیت اور حالات ان کو میسر ہوئے تھے انھوں نے ان تمام نعمتوں کا پورا حق اللہ کی راہ میںادا کیا ۔ اور جس اخلاص سے ادا کیا ہے، اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ اس کا اجر وہ اپنے رب کے حضور پائیں گے۔

خیال آتاہے کہ زندگی کے آخری پڑاؤ میں شاید ان کی نشاط انگیزی ماند پڑ رہی تھی۔تحریکی ذمے داریوں کے مختلف مناصب سے رٹائر ہونے کے بعدآخری مرحلے میں ان کے عطر فروشی کے کاروبارکی خبرمجھے ملی ۔ سن کر ان کی خود داری اور جُرأت کی داد تو ضرور دی لیکن بہت قلق ہوا ۔ ڈر لگتا ہے کہ ایک طرف پھر حقیقت پسندانہ آئیڈیلزم دوسری طرف قدر ناشناسی اوربے روح ضابطہ بندی کہیں ہمارے لیے آئندہ نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ اس میں قصور کسی ایک فردکا نہیں ہم سب کے لیے قابل غور سوال ہے۔ اُن سے میری آخری ملاقات گذشتہ اجلاس مجلس نمائندگان۲۰۱۳ء میں جاتے ہوئے ہوئی تھی،اس وقت وہ کچھ تھکے تھکے اور بجھے بجھے سے تھے۔ لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلد ہم لوگوں سے جدا ہو جائیں گے۔ اب وہ شاید خود بھی لطیفے سناتے ہوئے تھک چکے تھے ۔آج مجھ سے کوئی پوچھے کہ تم نے ایسی کتنی شخصیتوں کو دیکھا ہے جن کا تعلق تحریکِ اسلامی سے ایسی فنائیت کا ہو کہ اس نے شہادت کی سطح پر زندگی گزاری ہو تو میں اس کے جواب میں جن چند لوگوں کا نام لوں گا، ان میں ایک نام عبدالقیوم صاحب (جالنہ،مہاراشٹر)کا بھی ضرور ہوگا۔

ستمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau