علامہ ابن خلدون کا نظریہ تعلیم

محمد مجیب الدین

علامہ ابن خلدون کا اصل نام عبدالرحمن اورلقب ولی الدین تھا۔ان کا شمار ایک بڑے عالمِ دین، مورخ، سائنس داں، سیاست داں، قانون داں، ماہرِعمرانیات، ماہرِمعاشیات اور ایک عظیم فلسفی کے علاوہ بہترین معلم کی حیثیت سے بھی ہو تا ہے۔ ان کی وفات کے ۵۰۶ سال بعد بھی ان کے افکار و نظریات سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔آج بھی ابن خلدون کی تار یخی،عمرانیاتی ،فلسفیانہ ،سائنسی اور تعلیمی تشریحات کو اہل علم قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ابن خلدون ۲۷/مئی١۳۳۲ مطابق یکم رمضان المبارک ۷۳۲ہجری کو تیونس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد تھا۔ ان کاتعلق عرب کے ایک قبیلے کندۃ سے ہے،وہ ابھی سترہ برس کے تھے کہ ١۳۴۹میں والد کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔انھوںنے تیونس کے معروف اساتذہ سے نحو،لغت ، فقہ ، حدیث ، اور شعرو شاعری کی تعلیم حاصل کی۔١۳۴۷ میں تیونس پر شاہ ابو الحسن نے قبضہ کرلیا ۔شاہ ابو الحسن علم اور علمائ کی بڑی قدرکرتاتھا۔ اس نے دربار میں علمائ کے لیے عہدے بھی فراہم کیے تھے ،شاہ ابو الحسن کے درباری علمائ سے ابن خلدون نے منطق،قانونِ شریعت اور علومِ عربیہ حاصل کیے۔ ابن خلدون نے مصر کی مشہور جامعات جامعہ ازہر اور جامعہ المحیتہ میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔ان جامعات میںابن خلدون کا امتیازی مقام تھا۔پھر ابن خلدون کو قاہرہ کا قاضی القضاۃ مقرر کردیا گیا۔

ابن خلدون کا انتقال ۱۶/مارچ ۱۴۰۶ مطابق ۲۶/رمضان المبارک۸۰۸ہجری کو ہوا۔انھوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود بھی اپنے علمی اور تحقیقی سفر کو عمربھر جاری رکھا ،ان کو نئے مقامات کا سفر کرنے اور وہاں کے حالات معلوم کرنے کا بہت شوق تھا۔انھوں نے اپنی سوانح حیات میں جن جن مقامات کا انھوں نے سفر کیا ہے تفصیل سے وہاں کے جغرافیائی حالات موسم کی خصوصیات،زراعت ،مٹی کی اقسام، پہاڑ، درخت ،زمین کی خصوصیات، دریا، تمدن، زبان، طرزِ زندگی،لباس، اس مقام کی تاریخ،سفر کے حالات،دوران سفر کے مسائل،اور خاص کر معاشرتی مسائل پر بڑی بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔ ابن خلدون کی خود نوشت سوانح حیات دنیا کی بہت زیادہ طویل سوانح حیات تصور کی جاتی ہے ۔ ابن خلدون کے ہم عصر سوانح نگاروں نے ابن خلدون کی سوانح نگاری کو بہت سراہاہے اور اس کو ایک مثالی سوانح حیات قرار دیا ہے۔ ابن خلدون کی ایک جامع تصنیف ‘ کتاب العبر’١۳۷۷ میں منظر عا م پر آئی، جس نے ابن خلدون کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ ‘ کتاب العبر’ میں ابن خلدون نے سیاسیات،عمرانیات ،جغرافیہ ،تعلیم ،اور ثقافت پر گہری روشنی ڈالی ہے۔ ابن خلدون نے اس کتاب میں معاشرتی مسائل کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کو ترجمے کے بعد مقدمہ ابن خلدون کے نام سے شائع کیا گیاہے۔ مقدمہ ابن خلدون میں ابن خلدون نے نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کو بنیادبناکر ان گروہی تعلقات کا تجزیہ کرنے کی پہلی کوشش کی ہے، جو انسان کی سیاسی اور سماجی تنظیم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ابن خلدون کے فلسفے کے مطابق انسانی معاشرہ عروج و زوال کے ایک مستقل اور متواتر عمل سے گزرتا رہتا ہے اور اپنی پیش رونسلوں کے ثقافتی حالات کو برقرار کھتے ہوئے ایک تسلسل کے ساتھ رفتہ رفتہ آگے بڑتارہتا ہے۔

ابن خلدون نے اس وقت کے نظام تعلیم سے انحراف کرتے ہوئے ایک جامع اور منفرد نظریہ تعلیم وضع کیا تھا۔ابن خلدون نے علم نجوم اورکیمیائ کی سخت مخالفت کی۔ نجوم کو علم تصور کرنے سے انکار کیاہے۔ابن خلدون نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اس نے فلسفے کی ایک نئی شاخ کی بنیاد ڈالی ہے، جس کا گمان بھی ارسطو کے خیال میں نہ تھا۔ ابن خلدون کے اسی دعوے کی تائید کرتے ہوئے پروفیسر سایمنڈ نے ابن خلدون کو بابائے عمرانیات قرار دیا ہے۔ پر وفیسر سایمنڈ کے مطابق ‘علم عمرانیات کا وجود گوئٹے سے پہلے موجود تھا۔ اس کو ابن خلدون نے متعارف کرایا۔ ان کے خیال کے مطابق ابن خلدون ہی بابائے عمرانیات ہے’۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ابن خلدون نے گوئٹے سے کئی سو سال پہلے ہی عمرانیات کا تصور پیش کردیاتھا۔ابن خلدون نے عمرانیات کی کئی شاخوں کا ذکر اپنی کتاب ‘کتا ب العبر’ میں کیا ہے، جو معاشرتی مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں ابن خلدون نے عمرانیات کی چند اہم شاخوں مثلاََ دیہی وشہری عمرانیات،تعلیمی عمرانیات،صنعتی عمرانیات،خاندانی عمرانیات، نفسیاتی عمرانیات،مذہی عمرانیات،نسلی عمرانیات اور دیگر اہم عمرانیات کی شاخوں کا ذکر کیا ہے۔ ابن خلدون کو بابائے اسلوبِ تاریخ بھی تصور کیا جاتا ہے۔فلسفہ تاریخ کی وضاحت کرتے ہوئے ابن خلدون نے کہا ہے کہ تاریخ معاشرہ کا مجموعہ مادی کااحاطہ کرتے ہوئے تمدن اور لوگوں کی زندگی کے معاملات کہ لوگ کس طرح محنت کرتے ہیں اور الگ الگ سرداروں کے ماتحت بڑی بڑی جماعتوں میں مربوط ہوجاتے ہیں اور کس طرح انھیں زندگی میںاتنی فرصت ملتی ہے کہ اعلیٰ علوم و فنون کی طرف توجہ کریں اور کس طرح ایک بے ساختہ زندگی سے رفتہ رفتہ ایک شائستہ ثقافت بن جاتی ہے، کا مطالعہ کرتی ہے۔ ابن خلدون نے معاشرتی مسائل کو قلمبندکرتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے بھی کوشش کی ہے۔ ابن خلدون کی شخصیت کے کئی رخ ہیں جن میں سے تعلیم کا رخ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ابن خلدون نے کئی جامعات میں ایک کامیاب معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ درس و تدریس ابن خلدون کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ ابن خلدون نے تعلیم کے متعلق اپنے خیالات و نظریات کو اپنی تصنیف ‘ کتاب العبر’ میں تحریر کیاہے۔ابن خلدون کے نظریہ تعلیم کو تعلیمی حلقوں میںبہت اہمیت حاصل ہے۔ ابن خلدون کے مطابق طلبا کو معلومات یا تعلیم ان کی قابلیت اور قوتِ جذب کے مطابق دی جائے اورجس طرح طلبا میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے، اسی مناسبت سے انھیں سمجھاناچاہیے۔طلباء  کی تعلیم کے لیے خاص کر ابتدائی تعلیم دھیمے انداز میں دی جائے پھر معلومات میں آہستہ آہستہ اضافہ کرتے ہوئے طلبا کو اعلیٰ تعلیم ان کی ذاتی قابلیت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے دی جائے۔ ابن خلدون نے بتلایا کہ تدریس میں طلبا کو ایک عنوان کی تکمیل کے بعد دوسری فراہم کرنی چاہیے۔تعلیم آسان سے مشکل کی جانب جائے جس کو طلبا آسانی سے سمجھ سکیں۔جس سے معلومات طلباء کے ذہن میں دیر تک محفوظ رہ سکتی ہے۔طلباءکی ذہانت، دلچسپی، عمر، اور ماحول کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعلیم فراہم کی جائے۔تعلیم کی ابتدائی سطح پر بنیادی معلومات اور سائنس کو سکھایاجائے اور طلباء فراہم کردہ معلومات کو جب ذہن نشین کرلیں یا سیکھ لیں تب ہی ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مزید معلومات فراہم کریں۔ اگر طلباء  اکتاہٹ محسوس کرنے لگیںتو فوراََ معلم درس بند کردے ۔معلم اپنے طریقہ تدریس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرے ،دوران تدریس ایک مکمل عنوان کی تدریس انجام دے نہ کہ ایک عنوان کو پڑھاتے پڑھاتے دوسرے عنوان کا آغاز کردے اور نہ طلباء  کی عدم دلچسپی پر درس جاری رکھے۔ایک ہی عنوان کی تدریس سے طلباء  میں پائی جانے والی فطری صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابن خلدون نے ایک عنوان کو تین بار پڑھانے کی تاکید کی ہے۔پہلے مرحلے میں عنوان سے متعلق اہم اہم معلومات آسان اور عام فہم انداز میں سمجھائے دوسرے مرحلے میں درس میں پائی جانے والی کمی، پیچیدہ و مشکل تصور کو سمجھاتے ہوئے درس کی تکمیل کرے پھر تیسرے مرحلے میں درس کی مکمل طور پر شروع سے آخر تک تکمیل کرے ۔جس سے طلبا کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ اکتساب دیرپا ہوگا اور تفہیم میں طلبا کو سہولت ہو گی۔جب تین بار درس آسانی سے مشکل کی طرف جائے گا تب طلبا اچھی طرح اس کو سمجھ سکیں گے۔ ابن خلدون کے مطابق یہی طریقہ تدریس صحیح اور عین فطرت کے مطابق ہے۔ ابن خلدون نے ان اہم نکات پر بڑی بصیرت افروز نگاہ ڈالی ہے۔

معلم دوران تدریس ا یسے خیالات و تصورات طلباء  کے سامنے پیش کرتا ہے جو طلبا کے لیے نئے اور مشکل ہو تے ہیں جس کو طلباء  آسانی سے سمجھنے سے قاصر ہو تے ہیںاور طلبا انھیں آسانی سے نہیں یاد کرپاتے ہیں۔ طلبا کو کوئی نئی چیز یاد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو انھیںیاد کرنے میںبہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرطلبا کا دماغ ان معلومات کو قبول نہیں کررہاہے،تو ایسے وقت طلبا میں سستی پیداہوجاتی ہے اور عمل ِاکتساب سست ہوجاتا چلاجایاہے۔ اگر معلومات ذہن میں جبراََ محفوظ کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو معلومات زیادہ دیرتک محفوظ نہیں رہتی،اور غیر معیاری و غیر مناسب طریقہ تدریس کی وجہ سے بھی اس طرح کے مسائل پیداہوتے ہیں ۔معلم کو چاہیے کہ وہ طلباء  کو ان کی مرضی کے مطابق تعلیم دیں۔ ٹھونس کر بھرنے کی کوشش نہ کریں، ابن خلدون کے مطابق کسی ایک کتاب کی تدریس و تعلیم کو پہلے مکمل کرلیا جائے پھر دوسری کتاب کو پڑھایا جائے تاکہ عمل ِاکتساب میں تسلسل برقرار رہے جس سے طلباء  کو معلومات ذہن نشین کرنے میں آسانی ہو۔ایک ساتھ کئی مضامیں کا کچھ کچھ حصہ پڑھانے سے طلباء  کو اکتساب میں دشواری ہوتی ہے۔صرف ایک کتاب، ایک مضمون ،یا ایک عنوان کی تکمیل کی جائے اور اس کی تکمیل کے بعد اعادہ بھی کیاجائے تاکہ سبق اچھی طرح سے ذہن نشین ہوجائے۔ایک مضمون ،یا ایک عنوان کوتکمیل تک پڑھانے سے عنوان میں پائے جانے والے اجزا کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، ابن خلدون نے بغیر کسی چیز کو سمجھے رٹنے کی بھی سخت مخالفت کی ہے۔ ابن خلدون کے مطابق دومضامین کو ایک ساتھ نہ پڑھایا جائے۔کسی ایک مضمون ،یا ایک عنوان کو بغیر اِضافہ کے دوہرانے سے طلبا میں اکتساب سے عدم دلچسپی پیداہو جاتی ہے اور تدریس اتنی طویل مدتی بھی نہ ہو کہ طلبا اکتاہٹ محسوس کریں۔جس سے طلبا اور معلم دونوں کا وقت ذائع ہو جاتا ہے ۔

بچوں پر سختی کرنا ان کے لیے نقصان دہ ہوتاہے، خاص کر کم عمر بچوں کے لیے دورانِ تدریس کی جانے والی سختی سے ان کی شخصیت پر بہت مضر اثرات مرتب ہو تے ہیں، جس کی وجہ سے طلبا میں بے پروائی اور جارحانہ روش پیداہوجاتی ہے۔ طلبا کی نفسیات پر اس کے برے اثرات مرتب ہو تے ہیں،طلبا میں شوق ِتعلیم میں کمی واقع ہوجاتی ہے، وہ مایوسی کاشکار ہوجاتے ہیں اور گھبراہٹ ان پر طاری ہو جاتی ہے ،جس کی وجہ سے وہ تعلیم سے دور رہناپسند کرنے لگتے ہیں۔

طلبا بہت سی چیزیں نقل یا کسی کی صحبت سے سیکھتے ہیں،اس لیے ابن خلدون نے اہل علم کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ یہ بھی ایک طریقہ تعلیم ہے جس سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے ۔جن علما کو کسی فن ،یا کسی علم میں کمال حاصل ہوتا ہے ان کی صحبت میں رہنے سے طلبا بھی اس فن و علم کے ماہر بن جاتے ہیں ۔ تجربہ کار علما کے ساتھ سفر کے دوران ہرسامنے آنے والی شے کے متعلق علما سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہے اور فطری حالات و قدرت کو سمجھاجاسکتا ہے۔ ابن خلدون نے سائنسی اور عملی تعلیم پر بہت زور دیا ہے۔ ان کے مطابق سائنس کے سیکھنے کے لیے مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔سانئس کی تدریس میں اصول و ضوابط بہت اہمیت کے حامل ہو تے ہیں ۔

ابن خلدون نے انسانی زندگی میں تعلیم کو سب سے اعلیٰ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان اور دیگر مخلوق میں فرق صرف ’قوتِ خیال‘کا ہے۔

جولائی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau