جمہوری نظام حکومت

ایک تجزیہ

محمد مظہر الہدی قادری

دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کوصرف عباداتی نظام عطا نہیں کیا بلکہ اسکے بہت سے شعبے ہیں جن میں ایک شعبہ سیاست کا بھی ہے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین اسلام میں سیاست کی تعلیم نہیں، اس کے متعلق اس میں احکام نہیں حالانکہ ان لوگوں کا یہ گمان فاسد خیال پر مبنی ہے شریعت اسلامیہ میں سیاست سے متعلق کافی قانون اور احکام ، جس میں آفاقیت کی روح موجود ہے ، بیان کی ہیں جس میں حیات انسانی کیلئے مکمل ومفصل قواعد وضوابط موجود ہیں جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی نظام کر ہی نہیں سکتا ہے ۔ آج دنیا کے اندر جو جمہوری نظام حکومت قائم ہے اوراسکو کافی مقبولیت حاصل ہے اوراسکو سب سے اچھا طرزِ حکومت خیال کیاجاتا ہے ، جس میں عوام کی اکثریت کی رائےسے بننا اوربگڑنا شامل ہے ، اس طرزِ حکومت میں انفرادی آزادی اورشخصی مساوات کو اہمیت دی گئی ہے جوغیر عقل اور فساد کا موجب ہے۔

جمہوریت کے تاریخی پس منظر میں یونان اس کا اولین گہوارہ ہے جہاں چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں تھیں جن میں ایتھنز کی شہری ریاست قابل ذکر ہے جہاں عوام کے منتخب کردہ نمائندے حکومت کرتے تھے اس کے تمام شہری ، سماجی اور سیاسی اعتبار سے مساوی حیثیت رکھتے اورانہیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کا پورا پورا احساس تھا اس ریاست کے سب سے بڑے مدبر پیرکلز PERECLESH نےاپنے مقالے میں جمہوریت کی جو تصویر کشی کی ہے اس میں حقیقی جمہوریت کے اساس خدوخال بالکل نمایاں ہیں۔ ’’ ہمارا دستور جمہوری کہلاتا ہے ، حکومت چند لوگوں کے بجائے پوری جماعت کے ہاتھ میں ہے ، ذاتی جھگڑوں میں قانون یکساں سلوک کرتا ہے اورانصاف کرتا ہے اور رائے عامہ زندگی کے ہر شعبے میں ہنر کی قدر کرتی ہے ، کسی فرقے کی ریاست سے نہیں بلکہ کام کی خوبی دیکھ کر ۔ ہم سیاسی زندگی میں ہر ایک کواپنا جوہر دکھانے کا موقع دیتے ہیں اوریہی اصول ہم اپنے روزمرہ کے باہمی تعلقات میں برتتے ہیں، ہمارا ہمسایہ اپنے ذوق کے مطابق خوشی منائے تو ہم اسے نہ تیکھی نظروں سے دیکھتے ہیں نہ برا بھلا کہتے ہیں ہم ہر بری حرکتوںسے پرہیز کرتے ہیں جن سے لوگوں کے دل رکھیں، ملنے ملانے میں بے ریا اوربا مروت ہیںمگر ہم اپنی ریاست کے انتظامی معاملات میں سختی سے قانون کی پیروی کرتے ہیں اوربرسرِ اقتدار کا احترام اورفرماں برداری کرتےہیں ، قانون کی اطاعت کرتے ہیں ، خصوصاً مظلوموں کی حمایت میں بنے قانون کی اور اس اخلاقی معیار کابہت پاس رکھتے ہیں جس کی خلاف ورزی باعث شرم وندامت ہے ۔‘‘ (تاریخ فلسفہ سیاسیات )

اتنی ساری خوبیوں کے باوجود یونان کی جمہوریت ناقص اور آفاقی روح سے یکسر خالی ہے ۔ صرف ریاست کے شہری طبقہ کو اس سے مستفید ہونے کا حق حاصل تھا جوریاست کے حدود میں پیدا ہوئے ہوں اور جوریاست کے پیدائشی باشندے نہیں تھے ان کو اورغلاموں کوکوئی قانونی استحقاق حاصل نہ تھا حالانکہ وہ اکثریت میںتھے ، بہرحال یونان میں جمہوری نظام حکومت اپنی خوبیوں اورخامیوں کے سا تھ ایک طویل عرصےتک حکمرانی کرتی رہی۔یونان کے بعد روم دوسرا ملک تھا جس نے جمہوری روایات کوآگے بڑھایا اورجمہوریت میں دوچیزوں کا اضافہ کیا کہ جمہور کی مرضی ہی تمام سیاسی قوتوں اور فیصلوں کی بنیاد ہے دوسرے تمام انسان مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔جمہوریت کی اصطلاح دویونانی لفظوں سے مرکب ہے ، DEMOSاورCREATEاس کے معنی عوام اورطاقت کے ہیں جمہوری نظام حکومت عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے بالفاظ دیگر عوام ہی فرماں روا ہوتے ہیں ، ابراہم لنکن نے جمہوریت کی سب سے بہتر تعریف کی ہے ۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اورعوام کے فائدے کیلئے،جمہوریت کے بارے میں ارسطو کا خیال ہے کہ ارباب حل وعقد کے منتخب کرنے میں افراد کی ایک کثیر تعداد شریک ہوتی ہے اوران میں غریب بھی ہوتے ہیں برخلاف اس کے مطلق العنان حکومت میں صرف امرا ء ہوتے ہیں او ر یہ تعداد چندافراد تک محدود ہوتی ہے ۔ (ڈیموکریسی اور ڈکٹیٹر شپ)

انگلستان وہ پہلا ملک ہے جہاں جمہوریت کی سب سے پہلی ابتداہوئی ، ۱۶۸۸ء کے انقلاب نے خدائی اختیارات کے مالک بادشاہی پر بندش عائد کی گئی اوررفتہ رفتہ پارلیامنٹ کا اقتدار اعلیٰ بحال ہوا ، پہلی بار آبادی کے ایک بڑے حصے کوحکومت سازی کے حقوق حاصل ہوئے اورعوام کے منتخب نمائندوں کوموروثی شرف وفضیلت کے حامل امراء پر برتری حاصل ہوئی اس انقلاب میں تاجر طبقہ بورثوا بھی شامل تھا کیونکہ انفرادی آزادی کا اصول ان کے لئے بےپناہ کشش کا باعث تھا۔مطلق العنانیت اور اسکی زیادتیوں کا شکار ملک فرانس بھی تھا جوطبقہ امراء کے ہاتھوں پامال ہورہاتھا اورجب بھی جمہوری حقوق کی بازیابی کی کوشش کی گئی تو اسکو طاقت کے بل پر دبادیاگیا ، لیکن بغاوت کی چنگاری دبی نہیں اوریہ آگ برابردلوں میں سلگتی رہی اوربالآخر وہ انقلاب رونما ہوا جوتاریخ کی کتابوں میں انقلاب فرانس کے نام سے موسوم ہے اوراس انقلاب سے فرانس میں ایک نئے باب کا آغاز ہوااور حقوق انسانی کے تصور سے لوگ آشنا ہوئے اورآج بھی تاریخ کے صفحات میں درج ہے ۔ (ڈیموکریسی اور ڈکٹیٹر شپ)

جمہوری حکومت کئی چیزوں سے مل کر بنتا ہے جس میں حاکمیت عوام، مساوات اورانفرادی آزادی شامل ہے ، انہی تین چیزوں سے مل کر جمہوریت کا وجود ہے اگر ایک بھی عنصر غائب ہوجائےتواس کا حسن مجروح ہوگا اوراگرتینوں چیزیں موجود نہ ہوں توپھر وہ ملوکیت یا آمریت ہے ۔

حاکمیت عوام

یہ جمہوریت کا سنگ بنیاد ہے عوام ہی اصل حکمراں ہوتے ہیں اورا س بات کا زیادہ اختیار حاصل ہے کہ جن کوچاہیں اقتدار سونپیں اوراقتدار سے محروم کردیں ان کی مرضی سے حکومت بنے گی اورقانون بنے گا الغرض عوام ہی ملک وحکومت کے سیاہ سفیدکے مالک ہوتے ہیں۔

انفرادی آزادی

یہ جمہوریت کی روح ہے یہاں  ہر شخص کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جومذہب یا عقیدہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے کسی کویہ حق حاصل نہیں کہ و ہ مداخلت کرے بلکہ ہرشخص کواظہار رائے اور اجتماع اورجماعت سازی کی آزادی حاصل ہے بلکہ یہاںتک آزادی حاصل ہے کہ وہ حکومت پر تنقید اوراس کے کارپردازوں کا محاسبہ کرے تاکہ اس کی خرابی دور ہو، ہر مذہبی گروہ کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اصول ونظریات کے مطابق مذہبی رسم ورواج ادا کرے اورملکی قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت اور اپنے تہذیب وکلچر کوفروغ دینے کیلئے کوشش کرے اور اپنی مرضی کے مطابق پیشہ اختیار کرنے ، تجارت کرنے کی آزادی حاصل ہے اور اپنی جائز کمائی سے ذاتی ملکیت بنائے اورحدود قانون کے اندر اس میں اضافہ بھی کرے اورملک کی سلامتی کیلئے خطرہ نہ بنے ورنہ دیگر صورت میں حکومت کومداخلت کرنے کا ختیار حاصل ہوگا۔

مساوات

پیدائشی لحاظ سے اسے کوئی مساوی حقوق حاصل نہیں تھی بلکہ انہیں اشراف اوراجلاف کے خانوں میں تقسیم کردیا گیا تھا، جمہوریت میں اس بات پر کافی زور دیا گیا کہ سماج کے تمام افراد پیدائشی اعتبار سے برابر ہیں اوریہ بات جمہوریت کی روح کے منافی ہے کہ نسل اوررنگ ،ذات پات اور جائے پیدائش کے لحاظ سے امتیاز کیا جائے۔برابری اور مساوات کا واحد مقصد ہر فرد قانون کی نظر میں یکساں ہے ان میں کسی طرح کی تفریق نہیں اوریکساں ترقی کے مواقع حاصل ہیں۔ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق کرے اور ایک بہتر زندگی گزارنے کا موقع ملے اوردوسروں کے ساتھ خود بھی مسرتوں سے بہرہ اندوز ہو۔ جمہوریت میں عوام ہی کوحکمران کا اختیار حاصل ہے لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ ہر شخص حکومت کرے اس کیلئے انتخاب کو ذریعہ بنایاگیا کہ اپنے حق فرماں روائی کوکسی ایک سیاسی جماعت کوسو نپ دیں جوان کی مرضی کے مطابق حکومتی نظم ونسق چلائے۔

جمہو ری نظام حکومت جس میں کچھ خوبیاں ہیں تو خامیوں سے مبرا نہیں ، بہت سے اہل علم نے اسکے بعض اصول کوغلط بتایا ہے اور اس پر تنقید بھی کی ہے ۔ مثلاً ارسطو نے آزادی اورمساوات کے جمہوری تصورات پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علمی اورعقلی سطح پر آسانی کے ساتھ ان دونوں تصورات کی تشریح کی جاسکتی ہے لیکن تجربہ سطح پر ایسا کرنا مشکل ہے آزادی اورمساوات کسی سماج میں کیونکر ممکن ہو؟ آزادی کا تصور نظم وضبط کے تصور سے متصادم ہے ، دوسرے لفظوں میں وہ ایک متعین طرز حیات کی نفی کرتا ہے ، اسی طرح مساوات کا تصور نظم بزرگان ، عمدگی اورخود انصاف کے خلاف ہے ۔ (ڈیموکریسی اورڈکٹیٹر شپ)

تصور مساوات کی وضاحت میں ارسطو نے پیرانڈر (PERANDER)جو امیریشا کا ایک ظالم تھا ، اس کی رائے نقل کی ہے جب تھراسائی بولس نے مشورتاً پوچھا کہ اس کی ریاست میں ممتاز افراد نے جوشورش برپا کررکھی ہے اس سلسلےمیں کیا کرنا چاہئے تواس نے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ اسکے سامنے میدان میںغلے کی جوفصل کھڑی تھی اسکے ان خوشوں کے سر اس نے کاٹ لئے جونمایاں تھے تھرائی بولس  نے سمجھا کہ ان افراد کے سرکاٹ دینا چاہئے ۔ (ڈیموکریسی اور ڈکٹیٹر شپ)

ارسطو اصولی حیثیت سے آزادی کا حامی تھا لیکن مطلق آزادی کے تصور کا مخالف تھا ، اس کے نزدیک آزادی کا مطلب قانون کےاندر آزادی کانام ہے ۔ہندوستان کے پہلے مدبرسیاستداں اوروزیر اعظم جواہر لال نہرو اپنے عہد کی جمہوری حالت پرتبصرہ کرتے ہوئےرقم طراز ہیں ۔ ’’فی الحال جمہوریت کی جوشکل وصورت ہے وہ کچھ زیادہ خوشد آئند نہیں ہے ، سوال ایشیا اورافریقہ کانہیں ہے ۔ ایشیا اور افریقہ کے باہر دوسرے ملکوں میں بھی حالت اچھی نہیں ہے ، درجوں اور شکلوں کا فرق ہوسکتا ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ فطری طور پر ہرشخص کیلئے یہ بات حیرت انگیز ہے ، کہیں ایسا تونہیں کہ اس طریقے ہی میں کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے دوسرے لفظوں میں مقتضیات زمانہ کا ساتھ نہ دے پارہی ہو۔‘‘

تصور آزادی نقص سے خالی نہیں جہاں سیاسی آزادی پرسارا زور صرف کیا جاتا ہے اورمعاشی آزادی سے بڑی حد تک بچا جاتا ہے جس کی وجہ سے سماج کا ایک بڑا طبقہ سیاسی آزادی کے باوجود ترقی اورخوش حالی سے محروم رہتا ہے ، آمریت کی طرح جمہوریت میں سرمایہ ملک کے معدودے چند افراد یا خاندانوں میں محدود رہتی ہے اوریہی لوگ پس پردہ حکومت پر اثر انداز ہوکر اس کی معاشی پالیسی کواپنے حق میں وضع کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، اس کے نتائج سامنے ہیںکہ امراء لوگ پہلے سے اور زیادہ امیر اورغریب طبقہ کی غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ایک جگہ اور جواہر لال نہرو فرماتے ہیں۔’’ لفظ  جمہوریت کےبارے میں گفتگو کرنا کچھ اچھا نہیں ہے ،یا کسی خاص طرزِ حکومت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ سب سے اچھا، ناقابل تغیر اور تنقید سے بالاتر ہے ، کچھ مفید نہیں ہے ، در اصل ہمیں بنیاد کولینا چاہئے ، اس کی بنیاد در اصل افراد اورجماعت دونوں کی ترقی ہے ، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ افراد کوزیادہ اہمیت د ینا چاہئے کیونکہ اسی طریقے سے جماعت خوش حال ہوسکتی ہے کچھ کا خیال ہے کہ جماعت(مراد ریا ست) خوش حال ہوگی توافراد بھی خوش حال ہوںگے ۔ اصل چیز جومقصود ہے وہ لوگوں کی فلاح و بہبود  ہے۔ تاکہ لوگ معاشی آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی آزادی بھی حاصل کریں۔

جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت پر جواہر لال نہرو رقم طراز ہیں ۔ ’’ جمہوری طرزِ زندگی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر شخص کو غوروفکر اوربحث ومناقشہ کی آزادی حاصل ہے، وہ جس خیال کو صحیح سمجھتا ہے اس کو کسی خوف اوراندیشے کے بغیر ظاہر کرسکتا ہے اوراس اظہار کے مواقعے ہر شخص کوحاصل ہوتے ہیں۔‘‘ یہ خیال کسی بھی شک وشبہ  سے بالاترہے کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی ایک بڑی خوبی اور اسکاوصف  ہے ۔ لیکن اگر یہ آزادی قانون کے دائرے میں نہ ہوتو نہایت ناروا اورفتنہ وفساد کا باعث بن جاتی ہے ۔ آج کا فی عرصے سے ہمارے اس ملک میں ہندو فرقہ پرست جماعتوں کواس بات کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ ان لوگوں کا جورویہ اورغیر انسانی سلوک ہے اور ہرطرح کی زہر افشانی کی جاتی رہی ہے وہ آزادی کے غلط استعمال کی ایک واضع مثال ہے ۔

اس اظہار رائے کی آزادی میں مغربی ملکوں کا رویہ بھی، جو جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، غیر جمہوری ہے ، جن کواظہار رائے کی آزادی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ یہ لو گ بھی مسلمانوں کے معاملے میں ، اس آزادی کی آڑ میں غلط استعمال کرتےہیں ، یہاں تک کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اس حد تک پہنچ جاتےہیں کہ وہ بسا اوقات تہذیب وشائستگی کی حدوںسے تجاوز کرکے تذلیل واہانت تک کی حد میں داخل ہوجاتی ہیں۔ ایسے حالات میں جب مسلمانوں کا احتجاج شروع ہوتا ہے تو وہ اپنے کواظہار رائے کی آزادی کا قائل بتاتے ہیں۔برطانوی قانون میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تنقید ممنوع ہے لیکن اسلام کے پیغمبر پر تنقید ہی نہیں بلکہ ان کی اہانت اورتذلیل کی ہر شخص کوآزادی حاصل ہے ، یہ کیسی آزادی ہے اوریہ کیسا انصاف کا پیمانہ ہے ؟جب کوئی شخص ہو لوکاسٹ پرتنقید کرتا ہے اوراس تاریخی واقعہ کوبحث کے زمرے میں لاتا ہے تواس وقت مغرب کا منافقانہ رویہ کھل کر سامنے آتا ہے اورایسے شخص کولعن طعن کیا جاتا ہے اورقید وبند تک کی سزا دی جاتی ہے ، یہ کہاں کی آزادی اظہار رائے ہے۔جبکہ ہولوکاسٹ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ۶۰ لاکھ یہودیوں کوزندہ جلادیا گیا تھا ، کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی واقعہ ہے اورابھی ثبوت کا محتاج ہے ۔ اہل مغرب کے خیال وعمل میں یہ فرق اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ یہ اپنی تمام تر روشن خیالی اوروسیع المشربی کے باوجود اسلام اوراہل اسلام کے بارے میں منفی اورمتعصبانہ اور غیر جمہوری رویہ رکھتا ہے اوراس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔جمہوریت اوراس کے نظام حکومت میں سب سے بڑا نقص اورخرابی یہ ہے کہ اس میں سارے لوگ چاہے علم والے ہوں یا بے علم ہوں، انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اوراس کے نتیجے میں نا اہل افراد بھی محض عیاری یا سرمائے کے بل پر منتخب ہوجاتے ہیں۔جمہوریت میں حکومت سازی کے عمل میں عوام الناس کی شرکت اوران کی فیصلہ کن حیثیت ، سماجی مساوات اورمعاشی و سیاسی آزادی کودیکھ کر بعض اصحاب علم اوردانشوروں کا خیال ہے کہ اسلام کے شورائی نظام اورجمہوری نظام حکومت میں کچھ مطابقت ہے لیکن کئی دوسرے مسلم دانشور اور علماء اسلام جمہوریت کے سخت قانون اوربعض جزوی مشابہتوں کے باوجود اسلام کے نظام شورائی اورجمہوری نظام حکومت میں کوئی مطابقت نہیں دیکھتے اورکہتے ہیں کہ بعض معاملات میں اسلام سے صریحاً متصادم ہے ۔

شاعر مشرق علامہ اقبال اپنی مشہور نظم ’’خضر راہ‘‘  میں جمہوریت کی شدید مخالفت کی ہے اوراس تصور حکومت کی نفی کی ہے   ؎

ہےو ہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیراز نوائے قیصری

دیواستبدادجمہوری قبا میں پائے کوب

توسمجھتا ہے یہ آزاد  ی کی ہے نیلم پری

مجلس آئین واصلاح ورعایات وحقوق

طبِ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

گرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس، الاماں

یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

اس سرابِ رنگ وبو کوگلستاں سمجھا ہے تو

آہ! اے ناداں قفس کوآشیاں سمجھا ہے تو (کلیا ت اقبال

(جاری )

 

جون 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau