باہمی تعلقات کی استواری

محمد شعیب ندوی

اسلام ایک اجتماعیت پسند دین ہے اور اہل ایمان کے اتحاد و اتفاق کومطلوب قرار دیتا ہے۔ محض خارجی اتحاد کی نہیں، حقیقی اتحاد کی بنا انسانی قلوب میں رکھتاہے ان کو ایک اخوت اور برادری میں جو ڑ دیتا ہے۔اسلام نے اجتماعیت کی بنیاد ایمان ،اور ایثار پر رکھی ہے ان بنیادوں پر معاشرہ استوار کر تا ہے ۔ معاشرہ میں باہمی تعلقات کی خوشگواری کے لئے اسلامی معاشرہ کے خصائص اور اصول و ضوابط کی جانب توجہ ضر وری ہے ۔

اسلامی تصور سماج

انسان اور حیوان میں فرق یہ ہے کہ حیوان ، انسانی عقل و شعور سے محرو م ہوتا ہے ۔اس کے بالمقابل انسان شعور و و جدان کی دولت سے مالا مال ہے عقل و دانشمندی انسان کا طرہ امتیاز ہے ،خاص طور پر مسلمان کی شخصیت میں یہ امتیاز و تفوق دوبالا ہوجاتاہےیہ حقیقت ہے کہ سماج و معاشرہ انسان کی ضرورت ہے۔اسلام میں انسان کی حیثیت بیان کی گئی ہے کہ وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اللہ کا عبد ہے جس کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون(الذریات :۵۶) ’’ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘  ۔اسلامی تعلیمات میں عبادت انسان کا بنیادی عمل ہے ۔ سماج اس کی کارکردگی کا میدان ہے ۔عصر حاضر  میں مذہب کو ترقی کی راہ میں حائل سمجھا جاتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ہوس کا غلبہ ہوگیا ہے عصرِ حاضر کے برعکس ا سلامی نظریہ حیات خدا کی رضا کے لئے نیکی کی تلقین کرتا ہے۔ دوسرے معاشروں خدا سے تعلق ، اسلامی سماج کو ممتاز بناتا ہے۔ نیکی کا واضح تصور قرآن یوں بیان کرتاہے ۔ لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب و لکن البر من آمن باللہ و الیوم الآخر و الملآئکۃ و الکتاب و النبیین  الخ (البقرۃ :۱۷۷)’’نیکی یہ نہیں کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف ،بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخرت کو اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتہ داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر ، مد دکے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اورغٖلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ۔اِن نیکیوں میں اللہ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق شامل ہیں، جن کی ادائیگی، سماج کو صالح بنیادوں پر تسلیم کرتی ہے۔

اسلامی معاشرہ کی خصوصیات

اسلامی معاشرہ کی اہم خصوصیات عقائد ،عبادات ،معاملات ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ کسی کے سلسلے میںغفلت ہوئی تو معاشرہ متاثر ہو گا ، دنیا و آخرت کی فلاح سے محروم ہو نے کا اندیشہ ہے ۔ اسلامی عقائد توحید و رسالت اور آخرت پر مشتمل ہیں۔ ان کے متعلق قرآن و احادیث میں تفہیم کی گئی ہے ، اللہ اور بندے کا تعلق ، معاشرہ کی بنیادی اساس ہے۔ معاشرہ کا امتیاز یہ ہے کہ وحدت رب اور تکریم انسانیت کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے ۔

وحدت بنی آدم

اسلام کی نگاہ میں نوع انسانی کی اصل ایک ہی ہے، ان کا طریق پیدائش اور مادہء تخلیق بھی ایک ہے، اسلام میں عصبیت اوراونچ نیچ کے لئے کوئی گنجائش نہیں اسلام کا یہ امتیازی و صف ہے رنگ و نسل ،زبان ، وطن و قومیت کا تعصب عالمگیر فساد کا موجب ہے جس کا مشاہدہ آج دنیا کر رہی ہے ۔ ان حقائق کو حضو ر اکرم ﷺ نے اپنے خطبات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا اس کی عملی شکل مدینہ منورہ میں خوشگوار اسلامی معاشرہ کی تشکیل و تاسیس کی شکل میںپیش کی ۔ جس کا معاندین اسلام بھی اعتراف کرتے ہیں ۔فتح مکہ کے موقع پر طواف کعبہ کے بعد آپ ﷺ نے تقریر فرمائی اس میں فرمایا :’’  شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سے جاہلیت کا عیب اور اس کا تکبر دو ر کر دیا ۔لوگو ،تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ایک ،نیک اور پرہیزگار ،جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے ۔ دوسرا فاجر اور شقی ،جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے ،سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا ‘‘۔

حجۃ الوداع کے موقع پر خاندانی و آبائی تفاخر و امتیاز کی بیخ کنی کرتے ہوئے فرمایا:   ’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے ۔لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنا چھوڑیں ورنہ وہ اللہ کی نگاہ میں ایک حقیر کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوںگے ‘‘۔

اسلام نے آبائی و خاندانی اور رنگ و نسل کے امتیازات کے طلسم کو توڑا اور انسانیت کو یہ بتایا کہ تم ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کئے گئے ہو ،تمہارا قبائل و اقوام میں تقسیم ہونا ایک فطری امر تھا اس کا مقصد تمہارے درمیان باہمی تعارف اور باہمی تعاون کی فطری صورت قائم کرنا ہے تاکہ ایک خاندان ،ایک قوم اور ایک برادری کے لوگ مل کر مشترک معاشرت کی بنا ڈالیں اور زندگی کے معاملات اور دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہوں۔ لیکن صد افسوس اس فطری تنظیم کومعزز و محترم ہونے کا معیار بنا لیا ،جس کے نتیجہ میں نفرت و عداوت ،ظلم و تعدی ایک دوسرے کے حقوق پر دست درازی کا سلسلہ جار ی ہے ، حاملین اسلام کو ان جاہلانہ حدود و قیو د کو توڑنا ضروری ہے اللہ کے نزدیک اچھے اور برے کامعیار تقوی ہے ،جو اللہ سے زیادہ تقوی اختیار کرنے والا ہو گا وہ زیادہ شریف و معزز ہوگا ، ارشاد ربانی ہے: يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ (الحجرات:۱۳)’’لوگو ، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پر ہیزگار ہے ‘‘۔

وحدت رب

اسلام اپنے متبعین کو وحدت رب کا تصور دیتا ہے جو تمام اوصاف جلال وجمال سے متصف ہے ۔ یہودی و نصاری ، مشرکین و مجوسی اس وحدت رب کے تصور کو بھول گئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی عبادت کے ساتھ شرک کی آمیزش کر رکھی تھی ۔اسلام انسانی معاشرے کووحدت رب کی مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے ۔اللہ کو خالق و مالک ،مدبر و منتظم ،مالک و حاکم قرار دیتا ہے ، بہت سی آیتوںمیں وحدت کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ قرآن کی پہلی سورت کا آغازاس سے ہوتا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الفاتحۃ :۱) ’’ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام کا ئنات کا رب ہے ‘‘(الفاتحہ :۱) دوسری جگہ ہے کہ اِنَّ اِلٰہَكُمْ لَوَاحِدٌ۝۴ۭ

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ (الصافات :۵۔۴)’’تمہارا معبود بس ایک ہی ہے وہ جو زمین و آسمانوں کا اور ان تمام چیزوں کامالک ہے جو زمین اور آسمانوں میں ہیں اور سارے مشرقوںکا مالک ‘‘ قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ الخ(الاخلاص:۱)’’ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے ‘‘۔

تکریم انسانیت

اللہ تعالی نے انسان کو محترم بنایا ہے ،شکل و صورت کے اعتبار سے کامل پیداکیا ہے ،دینی اور دنیوی امور میں نفع و نقصان کے امتیاز کا ملکہ اس کے اندر ودیعت فرمایا ہے، اس کو عزت و بزرگی ،تعظیم و تکریم عطا کی ہے ،انسانوںکوبہت سی مخلوقات پر فضیلت و برتری بخشی ہے۔

ارشاد ربانی ہے :

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (الاسراء :۷۰)

’’ہم نے آد م کی اولاد کو عزت بخشی اور اس کو خشکی اور تری میںسواری عطا کی ،اور پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا ،اور اپنی بہت سی مخلوقات پر اس کو فضیلت دی ، پوری فضیلت ‘‘۔

اسلام پر امن اور باعزت زندگی کو انسان کا پیدائشی حق قرار دیتاہے ،اس معزز زندگی کے لئے اسلام نے حقوق و تحفظات کا نظم کیا ہے۔ اسلام انسان کی عزت و آبرو ،مال و جائداد کو محترم قرار دیتا ہے ۔  قتل  ناحق کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتاہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا (المائدہ :۳۲)

’’  جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوںکو قتل کر دیا اور جس نے کسی کوزندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوںکو زندگی بخش دی‘‘۔

معاشرہ کی حفاظت و صیانت کی خاطر سخت قوانین بنائے چنانچہ قصاص کے نظام میں ہی انسانوںکی زندگی کی بقا و سلامتی ہے ارشادہے کہ:وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ (البقرۃ :۱۷۹)

چوری پر قطع ید کے حکم سے قدغن لگائی:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا(المائدۃ :۳۸)

’’زنا انسانی نسل کو تباہ کرنے والا اور معاشرہ میں انتشار و فساد کا موجب ہوتا ہے اس کے قریب جانے سے منع کر دیا ،وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً۝۰ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا (الاسراء :۳۲) ’’زنا کے قریب نہ پھٹکو ،وہ بہت برافعل ہے اور بڑاہی برا راستہ ہے ‘‘۔

اس کے علاوہ معاشرہ کی تباہی و بربادی کاسبب بننے والے اسباب و وسائل کی اسلام نے بیخ کنی کی  ہے،مذموم صفات ، غیبت ،بہتان ، چغل خوری ،بغیر تحقیق کے خبر پر اعتماد ، تعصب و عناد سے روکا۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ۔۔۔لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا۔۔ الخ(الحجرات :۱۲)

’’اے ایمان والو:بہت گمان سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمان گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے ‘‘۔

دوسری جگہ فرمایا:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا (الحجرات:۶)

’’اے مسلمانو :اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ،ایسا نہ ہو کہ نادانی میںکسی قوم کو ایذاپہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ‘‘۔

اسلامی معاشرہ کی قدریں

اسلامی معاشرہ کی اصل ،وحدت رب اور وحدت مقصدزندگی ہے، اسلام رحمت و شفقت پر مبنی معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ اسلام اچھے اخلاق سے مزین اور مذمو م صفات سے پاک معاشرہ کا وجود چاہتاہے ۔ باہمی تعلقات قائم رکھنے کے لئے مزید آداب بیان کئے ہیں  ضابطے متعین کیے ہیں جو ایک ایک حق کو ادا کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ ایمان والوں کی اہم صفت خیر خواہی ہے ۔

خیر خواہی

خیر خواہی دین کا امتیازی وصف ہے اس کے معنی نصیحت کے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ تعلق میں کھوٹ نہ ہو ، آدمی اپنے بھائی کی بھلائی کی فکر غالب رہے حدیث میں جن کے سا تھ خیر خواہی مطلوب ہے ان میں عامۃ المسلمین کا بھی تذکر ہ ہے اگر آدمی کی سیرت میںیہ وصف پیداہوجائے اور جو وہ اپنے نفس کے لئے پسند کرتاہے وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کرے تو معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بنے گا اور مفاسد کا شائبہ بھی نہ رہے گا باہمی تعلقات میں خوشگواری خود بخود پیداہوجائے گی ۔اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق شمار کرائے ۔

ایثار

مؤمن کی صفات میں سے ایک اہم صفت ایثار ہے وہ اپنے بھائی کی بھلائی کی فکر کرتا ہے ۔ اس کو اپنی ذات پر ترجیح دیتا ہے ۔ لوگوں کی ضروریات کو مقدم رکھتا ہے دوسروں کو آرام پہنچاتا ہے۔ یہ ایثار کے مراحل و مدارج ہیں ۔ سب سے پہلے ایثار ضروریات کے دائرہ میں ہونا چاہئے اس کے بعد آرام و آسایش کا نمبر آتاہے انسان مختلف المزاج ہوتے ہیں اگر وہ اپنے ذوق پر اڑجائے ترجیح او ر ایثار کا معاملہ نہ کرے تو معاشرہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اگر ایثارسے کام لیاجائے تو پھر معاشرہ میں مخلصانہ تعلقات وجود میں آئیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں میں ایثار کی مثالیں ملتی ہیں حضرت ابو طلحہ ؓ کی مہمان نوازی ،انصا رکا مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک اور میدان جہاد میں صحابہ کا ایک دوسرے کو پانی پینے میں ترجیح دینا  ایثار کی مثالیں ہیں ۔

عدل

باہمی تعلقات کی استواری ،رشتوں میں استحکام اور معاملات میں صفائی کے لئے عدل ضروری ہے ۔  اقامت دین سے عدل کا قیام مطلوب ہے عدل اسلام کی خصوصیت ہے اسلام نے تاکید کے ساتھ عدل  کا حکم دیا۔ عدل کا مفہوم ہے کہ لوگوںکے درمیان حقوق میںدرست توازن و تناسب قائم ہو ہرایک کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے ۔اگر معاملات و حقوق اسی طرز پر طے ہوں جو شریعت کی منشا ہے تو معاشرہ کی اجتماعیت اوراس کا اتحاد قائم و دائم رہے گا ۔معاشرہ میں امن و امان ، سکون و اطمینان ہو گا عدل کا دامن چھوڑ ا گیا تو انجا م خطرناک ہوگا ۔ظلم و تعدی ،اور حقوق کی پامالی عام ہو جائے گی جس کی مثال آج کا معاشرہ ہے غرض معاشرہ میں عدل قائم کر نا ضروری ہے اور اس کے لئے معاشرہ کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اس کی ابتدا خود اپنی ذات سے کرے ۔ عدل کے بعد احسان بھی مطلوب ہے ۔

احسان

باہمی تعلقات میں احسا ن بڑی اہمیت رکھتا ہے ،اس کی اہمیت و افادیت کےمتعلق علامہ مودودی ؒ کا ایک اقتباس نقل کیا جاتاہے ــ’’عدل اگر تعلقات کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور کمال ہے ،عدل اگرتعلقات کو ناگواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں شیرینیاں اور خوشگواریاں پیدا کر تاہے ۔ کوئی تعلق صرف اس بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا کہ ہر فریق ناپ تول کر کے دیکھتارہے اور اپنے واجب الوصول حقوق میں کسی طرح کی کمی گوارانہ کرے ایسے ایک کھرے تعلق میں کش مکش تو نہ ہوگی مگر محبت ،شکر گزاری اور عالی ظرفی اور ایثار اور اخلاق و خیر خواہی کی نعمتوں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی ہیں ۔یہ نعمتیں احسان سے حاصل ہوںگی جس سے مراد ہے نیک برتاؤ ،فیا ضانہ معاملہ ،ہمدردانہ رویہ ،رواداری ،خوش خلقی درگزر ،باہمی مراعات ،ایک دوسرے کا پاس و لحاظ ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہو جانا ۔‘‘اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ ’’ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں اور جو مجھ کو (حق سے )محروم کرے میں اسے (اس کا حق )دوں اور جو میرے اوپر ظلم کرے میں اس کو معاف کر دوں‘‘۔

عفو

عفو کے معنی معاف کرنا ،در گزر کرنا ،چشم پوشی برتنا ہے اس کا تقاضا ہے غصہ کا ضبط کرنا ،صبر و تحمل ، بردباری وغیرہ جب انسان معاشرہ میں مل جل کر رہتا ہے ، تو لوگوں کی جانب سے اس کو تکلیفیں پہنچتی ہیں ،کبھی اس کو مالی نقصان ہوتا ہے ، کبھی صبر کی آزمائش ہوتی ہے ، غرض طرح طرح کی اذیتوں کا سامنا ہوتا ہے ، ایسی صورت میں انسان کو صبر و تحمل کی ضرورت پڑتی ہے ، عفو و درگزر کا معاملہ کرنا ضروری ہوتاہے اس کی  جانب شریعت نے خاص توجہ دی ہے۔ آپ ﷺنے صبر کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’وہ مؤمن جو لوگوں کی تکلیفوں و اذیتوں کو برداشت کرتاہو تو اس شخص سے بہتر ہے جو گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہا ہو‘‘ ۔انتقام پرقدرت کے باوجود معاف کرنا پسندیدہ ہے۔ تعاون ، ہمدردی و غمگساری کو چھوڑنا معاشرہ کی تباہی کا موجب ہے ۔یہ ایک فطری امر ہے کہ جب ا نسان ناحق اپنے حقوق پر دست درازی دیکھتا ہے تو غصہ آتا ہے اور غصہ دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے اللہ کے رسول ﷺ نے پہلے ہی متنبہ کردیا ۔فرمایا کہ ’’کہ بلا شبہ غصہ ایمان کو اس طرح خراب کر ڈالتا ہے جس طرح ایلوہ شہد کو ، عفو و کرم کی صفت کا پیدا کرنا بڑے عزم و حوصلہ کا کا م ہے۔ جب عفو کی صفت پیدا ہوجا تی ہے تو تعلقات میں بلندی و بالیدگی اور پاکیزگی پیدا کر دیتی ہے۔

اعتماد

بے اعتمادی اختلاف پیدا کر تی ہے ہر فرد دوسرے کو شک و تذبذب کی نگاہ سے دیکھتاہے ، جس سے کشیدگی عام ہو جاتی ہے ، معاشرہ انتشا و خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے اس کا امن وامان اضطراب میں تبدیل ہو جا تا ہے باہمی تعلقات کے استحکام کے لئے فرد کا دوسرے پراعتماد کرنا اور اس کی قدر و قیمت کا احساس کر نا ضروری ہے ۔ ان ضوابط کی روشنی میں معاشرہ زندگی بسر کرے اور اسلامی تعلیمات کا پاس و لحاظ رکھے تو معاشرہ میں خوشگواری عام ہوگی اس میں تحمل و بردباری، ایثار و محبت، خیر خواہی اور تعاون ،اور مرحمت و مؤاسات کا دور دورہ ہوگا اور معاشرہ سراپا خیر و برکت ہوگا ، اس کے اثرات و نتائج پورے انسانی سماج پر پڑیں گے ۔مسلمانوں کی عملی زندگی پر نگاہ رکھنے والا انسان حق کے قریب آئے گا ۔

 

جولائی 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau