اِنفاق یاسود خوری

عبد العزیز

ارشاد ربانی ہے:

’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کیلئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت ہے۔ اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کیلئے دل کے پورے ثبات و قرار کیساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہوجائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوارہی اس کیلئے کافی ہوجائے۔ تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہو، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آکر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو۔

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کیلئے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے تو تم ہر گز اسے لینا گوارا نہ کروگے اِلّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم تکلف برت جاؤ۔ تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔ ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں، جو دانشمند ہیں۔

تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو، اللہ کو اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر اپنے صدقات علانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوںکودو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ تمہاری بہت سی برائیاں اس طرز عمل سے محو ہوجاتی ہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اس کی خبر ہے۔

لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے۔ آخر تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کروگے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائیگا اور تمہاری حق تلفی ہر گز نہ ہوگی۔

خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کیلئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان کی خودداری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔

جو لوگ اپنے مال شب و روز کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کیلئے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔ مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کردیاہو۔ اور اس حالت میںان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں : ’تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے‘‘ ، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کیلئے وہ سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے ، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو ونما دیتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔ ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کیلئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ تمہارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو، اور جو صدقہ کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کیطرف واپس ہوگے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہوگا۔ ‘‘(ترجمہ: سورۃ البقرہ:261-281)

اخلاص اور دکھاوے کی خیرات کا فرق

انفاق فی سبیل اللہ یعنی زکوٰۃ، خیرات اور صدقات کی برکت اور عظمت کی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کے زبردست فائدے ذکر کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جو نام ونمود یا کھاوے اور شیخی بگھارنے کیلئے خرچ کرتے ہیں ان کی تباہی و بربادی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی تخم ریزی کرتے ہیں کہ نہ شاخ و تنا ہوتا ہے نہ پھل پھول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اخلاص سے خرچ کرنے والوں کی مثال دی جو دل کولگتی ہے اور جو اخلاص کے بجائے دکھاوے کیلئے کرتے ہیں ان کی بھی حسرت یاب مثال دی ہے،دل دہلادینے والی بات کہی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ کے اپنے الفاظ میں اسی بات کی ملاحظہ فرمائیں:

’’دکھاوے کی خیرات بھی اکارت جاتی ہے اور یہ برائی پچھلی برائی سے بھی سخت ہے کیونکہ جو شخص نیکی کو نیکی کیلئے نہیں بلکہ نام و نمود کیلئے کرتا ہے اور خدا کی جگہ انسانوں کی نگاہوں میں بڑائی چاہتا ہے وہ یقینا خدا پر سچا ایمان نہیں رکھتا۔

جولوگ دکھاوے کیلئے نیکی کرتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے، جیسے پہاڑ کی ایک چٹان، جس پر مٹی کی ایک تہہ جم گئی ہو۔ ایسی جگہ پر کتنی ہی بارش ہو لیکن کبھی سرسبز نہ ہوگی۔ کیونکہ اس میں پانی سے فائدہ اٹھانے کی استعداد ہی نہیں ہے۔ پانی جب برسیگا۔ تو دھل دھلاکر صاف چٹان نکل آئے گا۔

برخلاف اس کے جولوگ اخلاص کے ساتھ خیرات کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بلند اور موزوں مقام پر باغ ہو۔ جب بارش ہوگی تو اس کی شادابی دوگنی ہوجائے گی۔ اگر زور سے پانی نہ برسے تو ہلکی ہلکی بوندیں بھی اسے شاداب کردیں گی کیونکہ اس میں سرسبزی و شادابی کی استعداد موجود ہے۔

اس تمثیل میں خیرات کو بارش سے اور زمین کو دل سے تشبیہہ دی گئی ہے، اگر زمین ٹھیک ہے یعنی دل میں اخلاص ہے، تو جس قدر بھی عمل خیر کیا جائیگا برکت اور پھل لائیگا۔ اگر زمین درست نہیں ہے یعنی اخلاص نہیں ہے، تو پھر کتنی ہی دکھاوے کی خیر خیرات کی جائے سب رائیگاں جائے گی۔

اگر دل میں اخلاص ہے تو تھوڑی خیرات بھی برکت و فلاح کا موجب ہوسکتی ہے۔ جس طرح بارش کی چند ہلکی بوندیں بھی ایک باغ کو شاداب کرسکتی ہے۔

عالم مادی اور عالم معنوی دونوں کے احکام وقوانین یکساں ہیں۔ جوبوؤگے اور جس طرح بوؤگے ویسا ہی اور اسی طرح کا پھل بھی پاؤگے۔

تم میںکون ہے جو یہ بات پسند کریگا کہ اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کردے اور سمجھے اس کی پیداوار بڑھاپے میں کام آئے گی لیکن جب بڑھاپا آئے تو دیکھے کہ سارا باغ جل کر ویران ہوگیا ہے؟ یہی حال اس انسان کا ہے جو ساری عمر دکھاوے کی نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے عاقبت میںکام آئیں گی۔ لیکن جب عاقبت کا دن آئے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ساری محنت رائیگاں گئی اور اس کی کوئی تخم ریزی بھی پھل نہ لاسکی۔ ‘‘

سود خوروں کیخلاف اللہ و رسولؐ کا اعلان جنگ؟

صدقات کی برکات اور اس کی آفات کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سود جیسی لعنت کونہ صرف حرام کیا ہے بلکہ جو لوگ اس سے باز نہ آئیں ان سے اللہ و رسولؐ کی جنگ کا اعلان کرتا ہے۔ اس اعلان سے ثابت ہوتا ہے کہ سود خوری سے اللہ اور رسول ؐ کو کتنی بڑی دشمنی ہے اور اس سے لگاؤ رکھنے والوں کو اللہ اپنا کتنا بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ سود کی اس لعنت اور سوسائٹی میں اسکے برے اثرات پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل بحث کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’اصل میں لفظ ’’رِبٰوا‘‘ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی عربی میں زیادہ اور اضافے کے ہیں۔ اصطلاحًا اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کیلئے استعمال کرتے تھے جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے۔ اسی کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت سودی معاملات کی اور شکلیں رائج تھیں اور جنہیں اہل عرب ’’رِبٰوا‘‘کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے وہ یہ تھیں کہ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا اور ادائے قیمت کیلئے ایک مدت مقرر کردیتا۔ اگر وہ مدت گزرجاتی اور قیمت ادا نہ ہوتی تو پھر وہ مزید مہلت دیتا اور قیمت میں اضافہ کردیتا۔ یا مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے اور اس سے طے کرلیتا ہےکہ اتنی مدت میں اتنی رقم اصل سے زائد ادا کرنی ہوگی۔ یا مثلاً قرض خواہ اور قرض دار کے درمیان ایک خاص مدت کیلئے ایک شرح طے ہوجاتی تھی اور اگر اس مدت میں اصل رقم مع اضافہ کے ادا نہ ہوتی، تو مزید مہلت پہلے سے زائد شرح پر دی جاتی تھی۔ اسی نوعیت کے معاملات کا حکم یہاں بیان کیا جارہا ہے۔

اہل عرب دیوانے آدمی کو’’مجنون‘‘ (یعنی آسیب زدہ) کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے، اور جب کسی شخص کے متعلق یہ کہنا ہوتا کہ وہ پاگل ہوگیا ہے، تو یوں کہتے کہ اسے جن لگ گیا ہے۔ اسی محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے قرآن سود خوار کو اس شخص سے تشبیہ دیتا ہے جو مخبوط الحواس ہوگیا ہو۔ یعنی جس طرح وہ شخص عقل سے خارج ہوکر غیر معتدل حرکات کرنے لگتا ہے، اسی طرح سود خوار بھی روپے کے پیچھے دیوانہ ہوجاتا ہے اور اپنی خود غرضی کے جنون میں کچھ پروا نہیں کرتا کہ اس کی سود خواری سے کس کس طرح انسانی محبت، اخوت اور ہمدردی کی جڑیں کٹ رہی ہیں، اجتماعی فلاح و بہبود پر کس قدر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے، اور کتنے لوگوں کی بدحالی سے وہ اپنی خوشحالی کا سامان کررہا ہے۔ یہ اس کی دیوانگی کا حال اس دنیا میں ہے۔ اور چونکہ آخرت میں انسان اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت پر اس نے دنیا میں جان دی ہے، اس لئے سود خوار آدمی قیامت کے روز ایک باؤلے، مخبوط الحواس انسان کی صورت میں اٹھے گا۔

یعنی ان کے نظریے کی خرابی یہ ہے کہ تجارت میں اصل لاگت پر جو منافع لیا جاتا ہے اس کی نوعیت اور سود کی نوعیت کا فرق وہ نہیں سمجھتے، اور دونوں کو ایک ہی قسم کی چیز سمجھ کریوں استدلال کرتے ہیں کہ جب تجارت میں لگے ہوئے روپے کا منافع جائز ہے، تو قرض پر دیے ہوئے روپے کا منافع کیوں ناجائز ہو۔ اسی طرح کے دلائل موجودہ زمانے کے سود خوار بھی سود کے حق میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جس روپے سے خود فائدہ اٹھا سکتا تھا، اسے وہ قرض پر دوسرے شخص کے حوالہ کرتا ہے۔ وہ دوسرا شخص بھی بہر حال اس سے فائدہ ہی اٹھاتا ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ قرض دینے والے کے روپے سے جو فائدہ قرض لینے والا اٹھارہا ہے، اس میں سے ایک حصہ وہ قرض دینے والے کو نہ ادا کرے؟ مگر یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ دنیا میں جتنے کاروبار ہیں، خواہ وہ تجارت کے ہوں یا صنعت و حرفت کے یازراعت کے، اور خواہ انہیں آدمی صرف اپنی محنت سے کرتا ہو یا اپنے سرمایے اور محنت و ہردوسے، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جسمیں آدمی نقصان کا خطرہ (Risk) مول نہ لیتا ہو اور جس میں آدمی کیلئے لازماً ایک مقرر منافع کی ضمانت ہو۔ پھر آخر پوری کاروباری دنیا میں ایک قرض دینے والا سرمایہ دار ہی ایسا کیوں ہو جو نقصان کے خطرے سے بچ کر ایک مقرر اور لازمی منافع کاحقدار قرار پائے؟ غیر نفع بخش اغراض کیلئے قرض لینے والے کا معاملہ تھوڑی دیر کیلئے چھوڑ دیجئے، اور شرح کی کمی بیشی کے مسئلے سے بھی قطع نظر کرلیجئے۔ معاملہ اسی قرض کا سہی جو نفع بخش کاموں میں لگانے کیلئے لیا جائے، اور شرح بھی تھوڑی ہی سہی۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ ایک کاروبار میں اپنا وقت، اپنی محنت، اپنی قابلیت اور اپنا سرمایہ رات دن کھپا رہے ہیں، اور جن کی سعی و کوشش کے بل پر ہی اس کاروبار کا بار آور ہونا موقوف ہے، ان کیلئے تو ایک مقرر منافع کی ضمانت نہ ہو، بلکہ نقصان کا سارا خطرہ بالکل انہی کے سر ہو، مگر جس نے صرف اپنا روپیہ انہیں قرض دے دیا ہو وہ بے خطر ایک طے شدہ منافع وصول کرتا چلا جائے! یہ آخر کس عقل، کس منطق، کس اصول انصاف اور کس اصول معاشیات کی رو سے درست ہے؟ اور یہ کس بنا پر صحیح ہے کہ ایک شخص ایک کارخانے کو بیس سال کیلئے ایک رقم قرض دے اور آج ہی یہ طے تیار کرتا ہے اس کے متعلق کسی کو بھی نہیں معلوم کہ مارکٹ میں اس کی قیمتوں کے اندر آئندہ بیس سال میں کتنا اتار چڑھاؤ ہوگا، اور یہ کس طرح درست ہے کہ ایک قوم کے سارے ہی طبقے ایک لڑائی میں خطرات اور نقصانات اور قربانیاں برداشت کریں ، مگر ساری قوم کے اندر سے صرف ایک قرض دینے والا سرمایہ دار ہی ایساہوجو اپنے دیے ہوئے جنگی قرض پر اپنی ہی قوم سے لڑائی کے ایک صدی بعد تک سود وصول کرتا رہے؟

تجارت اور سود کا اصولی فرق

تجارت اور سود کا اصولی فرق جس کی بنا پر دونوں کی معاشی اور اخلاقی حیثیت ایک نہیں ہوسکتی، یہ ہے:

(۱)          تجارت میں بائع اور مشتری کے درمیان منافع کا مساویانہ تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ مشتری اس چیز سے نفع اٹھاتا ہے جو اس نے بائع سے خریدی ہے اور بائع اپنی اس محنت، ذہانت، اور وقت کی اجرت لیتا ہے، جس کو اس نے مشتری کیلئے وہ چیز مہیا کرنے میں صرف کیا ہے۔ بخلاف اس کے سودی لین دین میںمنافع کا تبادلہ برابری کیساتھ نہیں ہوتا۔ سود لینے والا تو مال کی ایک مقرر مقدار لے لیتا ہے، جو اس کیلئے بالیقین نفع بخش ہے لیکن اس کے مقابلے میں سود دینے والے کو صرف مہلت ملتی ہے جس کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں۔ اگر اس نے سرمایہ اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے کیلئے لیا ہے تب تو ظاہر ہے کہ مہلت اس کیلئے قطعی نافع نہیں ہے۔ اور اگر وہ تجارت یا زراعت یا صنعت و حرفت میں لگانے کیلئے سرمایہ لیتا ہے تب بھی مہلت میں جس طرح اس کیلئے نفع کا امکان ہے اسی طرح نقصان کا بھی امکان ہے۔ پس سود کا معاملہ یا تو ایک فریق کے فائدے اور دوسرے کے نقصان پر ہوتا ہے، یا ایک کے یقینی اور متعین فائدے اور دوسرے کے غیر یقینی اور غیر متعین فائدے پر۔

(۲)         تجارت میں بائع مشتری سے خواہ کتنا ہی زائد منافع لے، بہر حال وہ جو کچھ لیتا ہے، ایک ہی بار لیتا ہے۔ لیکن سود کے معاملے میں مال دینے والا اپنے مال پر مسلسل منافع وصول کرتا رہتا ہے اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کا منافع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مدیون نے اس کے مال سے خواہ کتنا ہی فائدہ حاصل کیا ہو، بہر طور اس کا فائدہ ایک خاص حد تک ہی ہوگا۔ مگر دائن اس فائدے کے بدلے میں جو نفع اٹھاتا ہے، اس کیلئے کوئی حد نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مدیون کی پوری کمائی، اس کے تمام وسائل معیشت، حتی کہ اس کے تن کے کپڑے اور گھر کے برتن تک ہضم کرلے اور پھر بھی اس کا مطالبہ باقی رہ جائے۔

(۳)         تجارت میں شے اور اس کی قیمت کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ہی معاملہ ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد مشتری کو کوئی چیز بائع کو واپس دینی نہیں ہوتی۔ مکان یا زمین یا سامان کے کرایے میں اصل شئے ، جس کے استعمال کا معاوضہ دیا جاتا ہے، صرف نہیں ہوتی، بلکہ برقرار رہتی ہے اور بجنسہٖ مالک جائداد کو واپس دے د ی جاتی ہے۔ لیکن سود کے معاملہ میں قرض دار اور سرمایہ کو صرف کرچکتا ہے اور پھر اس کو وہ صرف شدہ مال دوبارہ پیدا کرکے اضافہ کیساتھ واپس دینا ہوتا ہے۔

(۴)         تجارت اور صنعت و حرفت اورزراعت میں انسان محنت، ذہانت اور وقت صرف کرکے اس کا فائدہ لیتا ہے۔ مگر سودی کاروبار میں وہ محض اپنا ضرورت سے زائد مال دے کر بلا کسی محنت و مشقت کے دوسروں کی کمائی میں شریکِ غائب بن جاتا ہے۔ اس کی حیثیت اصطلاحی ’’شریک‘‘ کی نہیں ہوتی جو نفع اورنقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے اور نفع میں جس کی شرکت نفع کے تناسب سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے جو بلا لحاظ نفع و نقصان اور بلا لحاظ تناسب نفع اپنے طے شدہ منافع کا دعویدار ہوتا ہے۔

ان وجوہ سے تجارت کی معاشی حیثیت اور سود کی معاشی حیثیت میں اتنا عظیم الشان فرق ہوجاتا ہے کہ تجارت انسانی تمدن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے اور اس کے برعکس سود اس کی تخریب کرنے کا موجب بنتا ہے۔ پھر اخلاقی حیثیت سے یہ سود کی عین فطرت ہے کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی، شقاوت، بے رحمی اور زر پرستی کی صفات پیدا کرتا ہے، اور ہمدردی و امداد و باہمی کی روح فنا کردیتا ہے۔ اس بنا پر سود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے نوع انسانی کیلئے تباہ کن ہے۔

یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ اس نے کھا لیا، اسے اللہ معاف کردے گا، بلکہ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’جو کھا چکا سو کھا چکا‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو کھا چکا، اسے معاف کردیا گیا، بلکہ اس سے محض قانونی رعایت مراد ہے۔ یعنی جوسود پہلے کھایا جاچکا ہے، اسے واپس دینے کا قانوناً مطالبہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اگر اس کا مطالبہ کیا جائے تو مقدمات کا ایک لامتنا ہی سلسلہ شروع ہوجائے جو کہیں جاکر ختم نہ ہو۔ مگر اخلاقی حیثیت سے اس مال کی نجاست بد ستور باقی رہے گی جو کسی شخص نے سودی کاروبارسے سمیٹا ہو۔ اگر وہ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والا ہوگا اور اس کا معاشی و اخلاقی نقطۂ نظر واقعی اسلام قبول کرنے سے تبدیل ہوچکا ہوگا تو وہ خود اپنی اس دولت کو، جو حرام ذرائع سے آئی تھی، اپنی ذات پر خرچ کرنے سے پرہیز کرے گا اور کوشش کرے گا کہ جہاں تک ان حق داروں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے، جن کا مال اس کے پاس ہے، اس حد تک ان کا مال انہیں واپس کردیا جائے، اور جس حصہ مال کے مستحقین کی تحقیق نہ ہوسکے، اسے اجتماعی فلاح و بہبود پر صرف کیا جائے۔ یہی عمل اسے خدا کی سزا سے بچا سکے گا۔ رہا وہ شخص جو پہلے کمائے ہوئے مال سے بد ستور لطف اٹھاتا رہے تو بعید نہیں کہ وہ اپنی اس حرام خوری کی سزا پاکر رہے۔

فروری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau