اس مضمون کا مقصد اس حساس موضوع کے بارے میں سرپرستوں کو آگہی فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے بچوں میں جسمانی اور جنسی نشوونما کو سمجھ سکیں، بچوں کے تجسس اور غیر صحت مند رویوں کے پیچھے کارفرما نفسیاتی عوامل سے واقف ہوسکیں اور بچوں کی عمر کے مطابق ان کی درست رہ نمائی کر سکیں۔ امید ہے کہ یہ مضمون والدین کی اس میں مدد کرے گا کہ وہ اپنے بچوں کی معصومیت، ایمان، حیا اور جسمانی و جذباتی حفاظت کے لیے ایک محفوظ، بااعتماد اور تربیتی ماحول فراہم کر سکیں۔
اس مضمون میں ہم اس سلسلے کے بعض اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں گے:
پہلا سوال: صحت مند جنسی نشوونما کیا ہے؟
صحت مند جنسی نشوونما بچپن سے جوانی تک جسم، جذبات، حیا، حدود اور ذمہ داری کی تدریجی تربیت کا نام ہے۔ جنسی نشوونما کا مطلب کسی جوان بچے سے ایک ہی سیشن میں مخصوص گفتگو کرکے اپنے فرض کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ بچپن سے جوانی تک مندرجہ ذیل چاروں پیرائے میں اپنے بچوں کی رہ نمائی کرنا ہے۔
(۱) جسمانی آگہی (body awareness)
جسم سے آگہی کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب بچہ اپنے جسم کو پہچاننا شروع کرتا ہے۔ ابتدائی عمر میں اسے اپنے جسم کے اعضا کے درست نام، ان کی اہمیت اور ان کے احترام سے روشناس کرائیں۔ جیسے جیسے بچہ مختلف عمری مراحل میں آگے بڑھتا ہے، والدین کی ذمہ داری بھی بدلتی ہے۔ بچہ کے جسم میں آنے والی قدرتی تبدیلیوں کو نوٹ کریں اور اس کے بارے میں بچوں کو ان کی عمر کے مطابق آگاہ کریں۔
(۲) ذاتی حدود اور حفاظت (body safety & boundaries)
ذاتی حدود (personal boundaries) کی تربیت بچپن ہی سے شروع ہوتی ہے۔ بچوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ ان کے جسم کے کچھ حصے نجی (private) ہیں، جنھیں بلا ضرورت نہ کوئی دوسرا چھو سکتا ہے اور نہ ہی انھیں دوسروں کے سامنے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں، انھیں اپنی پرائیویسی کا احترام کرنا سکھایا جائے؛ مثلاً کپڑے تبدیل کرتے وقت یا غسل خانے میں جاتے ہوئے دروازہ بند کرنا، دوسروں کی پرائیویسی کا بھی خیال رکھنا، وغیرہ۔ یہ تربیت بچوں میں حیا، عزتِ نفس، خود اعتمادی اور جسمانی تحفظ کا شعور پیدا کرتی ہے، جو انھیں زندگی بھر محفوظ فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔
(۳) جذباتی اور اخلاقی نشوونما
جذباتی نشوونما، صحت مند جنسی نشوونما کا ایک لازمی حصہ ہے۔ جیسے جیسے بچے بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں، ان کے جسم کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ وہ کبھی چڑچڑے، کبھی الجھن کا شکار،کبھی شرمندہ، اورکبھی بلا وجہ اداس یا بے چین محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں والدین کا کردار صرف جسمانی تبدیلیوں کی وضاحت کرنا نہیں ہے، بلکہ بچوں کی باتوں (جذبات )کو سننا، انھیں سمجھنا اور ان کے احساسات کو نام دینا بھی ہے۔ جب والدین بچوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کے احساسات فطری ہیں، انھیں سوال کرنے، اپنے خدشات بیان کرنے اور اپنے جسم میں آنے والی تبدیلیوں پر کھل کر بات کرنے کی اجازت دیتے ہیں، تو بچے اس مرحلے سے اعتماد، سکون اور خود کو قبول کرنے کے احساس کے ساتھ گزرتے ہیں۔ والدین کی محبت، وقت اور غیر تنقیدی رویہ ہی وہ محفوظ پناہ گاہ ہے جہاں ایک بچہ جسمانی اور جذباتی طور پر صحت مند بالغ بننے کا سفر طے کرتا ہے۔
(۴) عمر کے مطابق رہ نمائی
والدین کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ ایک ہی وقت میں (جوان ہونے کے بعد) بچوں کو ہر بات بتا دیں، بلکہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے پر انھیں اتنی ہی معلومات دیں جتنی ان کی عمر اور ذہنی پختگی کے مطابق ہو۔ درجہ بہ درجہ یہ تربیت بچوں میں خود آگہی، خوداعتمادی، ذمہ داری اور اپنے جسم و جذبات کے احترام کا شعور پیدا کرتی ہے۔ یہی تدریجی تربیت بچوں کو مستقبل میں ازدواجی تعلقات اور زندگی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
دوسرا سوال: بچوں کو جسمانی حفاظت کیسے سکھائیں؟
جسمانی حفاظت کی تعلیم بچوں کی تربیت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ابتدا ہی سے بچوں کو یہ شعور دیں کہ ان کے جسم کے کچھ حصے نجی ہیں، جنھیں بلا ضرورت کوئی نہیں چھو سکتا اور نہ ہی انھیں دوسروں کے سامنے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بچوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ کسی کے سامنے اپنے کپڑے نہ اتاریں اور نہ تبدیل کریں، بلکہ ہمیشہ کسی محفوظ اور نجی جگہ پر ہی ایسا کریں۔ غسل خانے یا بیت الخلا میں جاتے وقت دروازہ بند کرنا، اپنی اور دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کرنا، اور اپنے جسم کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھنا بھی اسی تربیت کا حصہ ہے۔
اسی طرح بچوں کو یہ اعتماد دینا بھی ضروری ہے کہ اگر کبھی کوئی شخص ان کے جسم کو اس انداز سے چھونے کی کوشش کرے جس سے انھیں بے چینی،خوف، شرمندگی یا الجھن محسوس ہوتو وہ بلا جھجک واضح الفاظ میں ’’نہیں‘‘ کہیں، فوراً وہاں سے ہٹ جائیں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے، جیسے والدین، سرپرست یا استاد کو اس بارے میں ضرور بتائیں۔ بچوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی بات پر اعتماد کیا جائے گا، انھیں ڈانٹا نہیں جائے گا، بلکہ محبت، سنجیدگی اور تحفظ کے ساتھ ان کی مدد کی جائے گی۔
بچوں کو یہ بھی سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انھیں کسی بات کو راز رکھنے کو کہے اور وہ راز انھیں خوف، شرمندگی یا بے چینی میں مبتلا کرے تو وہ ایسا راز فوراً والدین کو بتائیں۔
جب بچے اپنے جسم پر اپنے حق، ذاتی حدود اور محفوظ و غیر محفوظ رویوں میں فرق کرنا سیکھ جاتے ہیں تو وہ نہ صرف خود کو بہتر طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اعتماد، خودداری اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔
تیسرا سوال: جنسی استحصال کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟
جنسی استحصال (child sexual abuse) صرف جسمانی زیادتی کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ عمل جنسی استحصال کے دائرے میں آتا ہے جس میں کسی بچے کو اس کی عمر، سمجھ اور رضامندی سے بالاتر ہو کر اپنی جنسی تسکین یا مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ استحصال صرف ناپسندیدہ لمس تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ بچوں کے سامنے اپنے نجی اعضا ظاہر کرنا، انھیں اپنے نجی اعضا کو چھونے پر مجبور کرنا، جنسی گفتگو کرنا، فحش تصاویر یا ویڈیو دکھانا، یا انھیں تنہائی میں لے جانے کے لیے تحفوں، مٹھائی، چاکلیٹ، کھلونوں یا خصوصی توجہ کا لالچ دینا بھی جنسی استحصال اور اس کی تیاری (grooming) کی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف استحصال کے عمل کو نہ پہچانیں، بلکہ ان ابتدائی رویوں کو بھی سمجھیں جن کے ذریعے استحصال کرنے والا شخص آہستہ آہستہ بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے، اس کی ذاتی حدود کو کم زور کرتا ہے اور اسے خاموش رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بروقت آگہی، بچوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق اور کھلی گفتگو ہی وہ مضبوط حصار ہے جو بچوں کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔جنسی استحصال کی علامات ہمیشہ واضح الفاظ میں سامنے نہیں آتیں۔ اکثر بچے اپنے رویوں، خاموشی، خوف، جسمانی تکلیف یا معمولات میں آنے والی تبدیلیوں کے ذریعے مدد کی پکار دیتے ہیں۔ اس لیے والدین کا اپنے بچوں پر اعتماد اور توجہ کے ساتھ نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ کسی مخصوص انسان کے گھر میں آجانے سے بچوں کے رویے میں اچانک بڑی تبدیلی آتی ہے۔ وہ بے حد خوف زدہ ہوجاتے ہیں یا بے چینی محسوس کرتے ہیں تو ان صورتوں کی وجہ کو جاننے کی کوشش ضرور کریں۔ جب بچہ باہر سے کھیل کر یا کسی محفل سے واپس آئے تو کبھی کبھار اس کے لباس پر نظر ڈالیں کہ کپڑے درست حالت میں ہیں، زپ یا بٹن بند ہیں اور لباس میں کوئی غیر معمولی تبدیلی تو نہیں۔ اسی طرح نہلاتے وقت معمول کے انداز میں اس کے جسم کا جائزہ لیں کہ کہیں کوئی چوٹ، خراش، سوجن یا ایسا نشان تو موجود نہیں جو تشویش کا باعث ہو۔
وقتاً فوقتاً بچوں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے غیر رسمی انداز میں پوچھتے رہیں کہ ’’آج آپ کے ساتھ سب ٹھیک رہا؟ کسی نے آپ کو اس طرح تو نہیں چھوا جس سے آپ کو برا لگا ہو؟‘‘ ایسے سوالات تفتیش کے لیے نہیں، بلکہ بچے کے دل میں یہ اعتماد پیدا کرنے کے لیے ہونے چاہییں کہ وہ ہر بات بلا خوف اپنے والدین سے کہہ سکتا ہے۔ اگر بچہ جسم کے کسی حصے میں درد، تکلیف، جلن یا کسی خوش گوار واقعے کی طرف اشارہ کرے، یا اس کے رویے میں اچانک غیر معمولی تبدیلی نظر آئے، تو اس کی بات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اسے تحمل سے سنیں، اس پر یقین کریں، اور ضرورت محسوس ہو تو بروقت متعلقہ ماہر سے رجوع کریں۔ والدین کی بروقت توجہ، حساس رویہ اور اعتماد پر مبنی تعلق ہی بچوں کے تحفظ کی پہلی اور مضبوط ترین ڈھال ہے۔
اکثر جنسی استحصال اجنبی افراد نہیں بلکہ ایسے لوگ کرتے ہیں جن پر بچے اور والدین اعتماد کرتے ہیں، اسی لیے بچوں کو صرف ’’اجنبی سے بچو‘‘ نہیں بلکہ ’’غلط رویے سے بچو‘‘ سکھانا ضروری ہے۔
چوتھا سوال: بچوں کے جنسی تجسس کو کیسے سمجھیں، اور والدین اس کی مثبت رہ نمائی کیسے کریں؟
سب سے پہلے والدین یہ سمجھ لیں کہ بچوں میں اپنے جسم، بلوغت اور جنس سے متعلق تجسس ایک فطری اور عمر کے مطابق پیدا ہونے والا احساس ہے۔ اس تجسس پر برہم ہونے، شرمندہ کرنے یا سزا دینے کے بجائے حکمت، محبت اور اعتماد کے ساتھ رہ نمائی کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ بچے کے ذہن میں پیدا ہونے والے کسی اہم سوال کو ادھورا نہ چھوڑیں، کیوں کہ ادھورے یا مبہم جوابات بچے کے اندر کش مکش، الجھن اور بے یقینی پیدا کر دیتے ہیں۔ جب بچے کو اپنے سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں ملتے تو وہ خود ہی ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اکثر یہ تلاش اسے انٹرنیٹ، ہم عمر بچوں یا دیگر غیر معتبر ذرائع تک لے جاتی ہے، جہاں اسے غلط معلومات اور غیر صحت مند تصورات مل سکتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سوال کرنے کا حق دیں، ان کے جذبات کو سنیں، اور انھیں اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان کرنے کے مواقع دیں اور انھیں اپنے جذبات کے اظہار کا سلیقہ بھی سکھائیں۔ جب گھر کا ماحول اعتماد اور احترام پر قائم ہوتا ہے تو بچے اپنی الجھنیں سب سے پہلے اپنے والدین کے ساتھ بانٹتے ہیں اور بچے کے لیے والدین سے بہتر محافظ کوئی نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات والدین کی بے توجہی، سختی، مسلسل ڈانٹ، یا اس موضوع پر مکمل خاموشی بھی بچوں کے ذہن میں ایسا تجسس پیدا کر دیتی ہے جو بعد میں شرمندگی، خوف اور احساسِ جرم میں بدل سکتا ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ دبائے گئے سوالات اور جذبات ختم نہیں ہوتے، بلکہ لاشعور میں دب کر کسی نہ کسی صورت اپنا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے فطری تجسس کو دبانے کے بجائے اس کی مثبت رہ نمائی کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔
چوں کہ اس عمر میں بچے کا ذہن اور جسم ابھی ایسے تجربات کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنے اندر اٹھنے والے سوالات کے جواب مختلف جگہوں پر تلاش کرنے لگتا ہے۔ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس چیز کی تلاش میں ہے، لیکن یہی بے سمت کھوج بعض اوقات اسے کہاں سے کہاں لے جا سکتی ہے۔ اس لیے والدین کی بروقت رہ نمائی، اعتماد پر مبنی تعلق اور مسلسل مکالمہ ہی بچوں کے فطری تجسس کو صحت مند سمت دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔
پانچواں سوال: غیر صحت مند جنسی رویے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیر صحت مند جنسی رویے کیا ہیں۔ عمر سے پہلے جنسی معاملات میں غیر معمولی دل چسپی، عمر سے بڑھ کر جنسی معلومات یا ایسے جنسی رویے جو بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے مرحلے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح فحش تصاویر یا ویڈیو کی طرف غیر معمولی رغبت، مشت زنی کی عادت، دوسروں کی جسمانی حدود کی خلاف ورزی، ہم عمر اور ہم جنس دوستوں میں غیر معمولی یا جنسی نوعیت کی دل چسپی ظاہر کرنا بھی ایسے رویوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
ایسے رویے اکثر اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے کئی نفسیاتی پہلو، جذباتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بچوں کا جسم اور جنس سے متعلق تجسس فطری ہے، لیکن اگر والدین اس تجسس کو بروقت اور عمر کے مطابق صحیح رخ نہ دیں تو بچہ اپنے سوالات کے جواب غیر محفوظ ذرائع سے تلاش کرنے لگتا ہے۔
ہر غیر صحت مند جنسی رویے کے پیچھے صرف شہوت یا اخلاقی کم زوری نہیں ہوتی، بلکہ اکثر ایک زخمی دل، ادھورے سوالات، شرمندگی، خوف یا محبت کی محرومی چھپی ہوتی ہے۔ جب بچہ کسی ایسے تجربے سے گزرتا ہے جسے وہ اپنی عمر اور ذہنی پختگی کے باعث سمجھ نہیں پاتا، یا اس کے جسم، جذبات اور تجسس سے متعلق سوالات کو بار بار خاموش کر دیا جاتا ہے، تو یہ سوالات اور احساسات ختم نہیں ہوتے۔ وہ اس کے لاشعور میں دب جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک اندرونی کش مکش کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اور یہ دبے ہوئے جذبات ہمیشہ کسی نہ کسی راستے سے اپنا اظہار کرتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ اظہار بے چینی، غصے، خوف یا احساسِ کمتری کی صورت میں ہوتا ہے، جب کہ بعض بچوں میں یہی الجھن غیر صحت مند جنسی رویوں، فحش مواد کی طرف رغبت، یا اپنے جسم کے بارے میں غیر معمولی تجسس کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے والدین کو صرف رویہ نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس رویے کے پیچھے موجود کیفیات کو دیکھنا چاہیے۔ ہر وہ بچہ جو غلط سمت میں جا رہا ہو، ضروری نہیں کہ وہ صرف گناہ کی طرف مائل ہو؛ ممکن ہے وہ اپنے اندر کے کسی ایسے سوال، خوف یا زخم کا جواب تلاش کر رہا ہو جسے وہ خود بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔
بعض اوقات بچے جنسی لذت کی نہیں، بلکہ محبت، توجہ اور اپنائیت کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اگر بچے کو گھر میں والدین کی محبت، شفقت، جسمانی قربت (جیسے گلے لگانا)، تعریف، حوصلہ افزائی اور جذباتی قبولیت نہ ملے تو اس کے اندر ایک جذباتی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے affection hunger یعنی محبت اور اپنائیت کی بھوک کہا جاتا ہے۔ یہ بھوک بچے کو ہر اس شخص کی طرف مائل کر سکتی ہے جو اسے غیر معمولی توجہ، تعریف یا محبت کا احساس دلائے۔ یہی وجہ ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے افراد اکثر بچوں کی اسی جذباتی محرومی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ پہلے بچے کا اعتماد جیتتے ہیں، اسے خصوصی اہمیت دیتے ہیں، تحفے دیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اس کی ذاتی حدود کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنا نہیں، بلکہ انھیں روزانہ محبت، توجہ، جذباتی تحفظ اور احساسِ قبولیت بھی فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی محبت کی ضرورت غیر محفوظ لوگوں یا غلط تعلقات میں پوری کرنے کی کوشش نہ کریں۔
نو عمری میں جسمانی تبدیلیاں بچوں کے لیے ایک نیا اور بعض اوقات پریشان کن تجربہ ہوتی ہیں۔ اس دوران بعض بچے اپنے قد، وزن، رنگت، جسمانی ساخت یا بلوغت کی رفتار کا دوسروں سے موازنہ کرکے احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اپنے جسم کو اللہ کی نعمت سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس کا احترام کرنے کی ترغیب دیں۔ انھیں یہ احساس دلائیں کہ ہر انسان کی جسمانی نشوونما اپنی رفتار سے ہوتی ہے اور ہر جسم اپنی انفرادی خصوصیات رکھتا ہے۔
اگر اس مرحلے میں بچے کو مناسب رہ نمائی، جذباتی تعاون اور درست معلومات نہ ملیں تو بچے اپنے جسم کو دوسروں سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ اگر وہ اپنے جسم کو قبول نہ کر پائیں یا احساسِ کمتری کا شکار ہو جائیں تو ان کے اندر دوسروں کے جسموں کو دیکھنے اور یہ جاننے کا تجسس پیدا ہو سکتا ہے۔بچے شروع میں ’’جنسی لذت‘‘ کی خاطر دوسروں کے جسم نہیں دیکھتے۔ اکثر وہ ’’جواب‘‘ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں:
- کیا میرا جسم نارمل ہے؟
- لڑکے اور لڑکی کے جسم میں فرق کیا ہے؟
- میرے جسم میں یہ تبدیلی کیوں آ رہی ہے؟
- کیا سب کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟
اگر ان سوالات کے جوابات والدین نہیں دیتے، تو انٹرنیٹ دے دیتا ہے۔ اور انٹرنیٹ تو آگے stimulation بھی فراہم کرتا ہے۔ اور یوں ایک معصوم تجسس غیر محفوظ سمت اختیار کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین بچوں میں اپنے جسم کو قبول کرنے (body acceptance)اور مثبت جسمانی تصور (positive body image)کا شعور پیدا کریں۔
بچوں میں جذبات کو سنبھالنے کی صلاحیت (emotional regulation)بھی پختہ اور متوازن شخصیت اور صحت مند جنسی عادات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچہ اپنے جذبات سے بالکل ہی ناواقف ہوتا ہے، نہ اسے جذبات کے نام معلوم ہوتے ہیں، نہ وہ انھیں پہچان پاتا ہے، نہ ہی اسے ان کا اظہار کرنا آتا ہے۔ بلکہ یہ مہارتیں وہ اپنے والدین سے سیکھتا ہے۔ جب والدین بچے کے غصے، خوف، اداسی، تنہائی یا بے چینی کو سمجھتے ہیں، اس کے جذبات کو نام دیتے ہیں، انھیں قبول کرتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے صحت مند طریقے سکھاتے ہیں تو بچہ آہستہ آہستہ اپنے جذبات کو متوازن انداز میں سنبھالنا سیکھ جاتا ہے۔ لیکن اگر بچے کے جذبات کو مسلسل نظر انداز کیا جائے، اس پر ڈانٹ ڈپٹ کی جائے یا اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کے احساسات کی کوئی اہمیت نہیں، تو وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی بے چینی، تنہائی یا ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے غیر صحت مند راستے اختیار کر سکتا ہے۔ بعض بچوں میں یہی جذباتی بے چینی بعد میں فحش مواد کی لت، مشت زنی یا دیگر غیر مناسب رویوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے، کیوں کہ وہ ان کے ذریعے وقتی سکون یا ذہنی فرار تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جسمانی اور ذاتی حدود کا شعور نہ ہونا بھی بعض اوقات غیر صحت مند جنسی رویوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ان بچوں کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ ان کا جسم ان کی اپنی امانت ہے اور اس لیے وہ دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو ظاہر کرنے میں عار نہیں محسوس کرتے۔ ایسے بچے بعض اوقات غیر ارادی طور پر دوسروں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتے ہیں جیسے بنا اجازت داخل ہونا، داخل ہونے سے قبل اطلاع نہ کرنا، دوسروں کے ذاتی چیزوں کو ڈھونڈنا یا ٹٹولنا جس کی اجازت نہیں ملی ہو جیسے دوسروں کے موبائل میں پرائیویٹ چیٹ پڑھنا، پرائیویٹ فولڈر میں جانا اور اسی طرح خود بھی دوسروں کی نامناسب مداخلت کو معمول اور قابل قبول سمجھنا۔ حدود کی پامالی کرنے کی عادت بے ہودگی اور بے حیائی کو آسان کردیتی ہے۔
کمسنی میں کسی فحش منظر، تصویر یا ویڈیو سے سامنا ہونا بچے کے ذہن میں ایسے سوالات اور تاثرات چھوڑ سکتا ہے جنھیں وہ اپنی عمر اور ذہنی پختگی کے باعث سمجھ نہیں پاتا۔ بعض اوقات والدین کی غیرارادی لاپرواہی، جیسے بچوں کے سامنے نامناسب گفتگو کرنا، موبائل یا انٹرنیٹ تک غیر محدود رسائی دینا، یا گھر میں پرائیویسی کا خیال نہ رکھنا، بچوں کو وقت سے پہلے ایسے تجربات سے آشنا کر دیتی ہے جن کے لیے ان کا ذہن ابھی تیار نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں بچے کے اندر غیر معمولی تجسس، الجھن اور بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر بچے کو والدین کی رہ نمائی، اطمینان بخش گفتگو اور جذباتی تحفظ نہ ملے تو وہ اپنے سوالات کے جواب خود تلاش کرنے لگتا ہے، اور اکثر اس کی یہ کھوج اسے فحش مناظر اور دیگر غیر محفوظ ذرائع تک لے جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ اگر یہی عادت مضبوط ہو جائے تو فحش مناظر بچے کے ذہن میں جسم، محبت، تعلق اور جنس کے بارے میں غیر حقیقی تصورات پیدا کر سکتا ہے۔ بعد کی زندگی میں بعض افراد کے لیے حقیقی اور جائز ازدواجی تعلقات سے وہ اطمینان حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کا ذہن مصنوعی اور غیر حقیقی محرکات کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے والدین کی بروقت رہ نمائی اور بچوں کو عمر سے پہلے ایسے مواد سے محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
چھٹا سوال: اگر بچے میں نامناسب جنسی رویہ دکھائی دے تو والدین کیا کریں؟
(۱) ا گر والدین کو بچے کے رویے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو سب سے پہلے گھبرانے، غصہ کرنے یا بچے کو مجرم سمجھنے کے بجائے اس رویے کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر غیر صحت مند رویے کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے، اس لیے رویے پر حملہ کرنے کے بجائے اس کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔
- بچہ کا طریقہ کیا ہے؟
- بچہ کو کتنے عرصہ سے ایسی لت لگی ہے؟
- بچہ نے کیا سیکھا اور کہاں سے سیکھا؟
- بچہ ایسے کاموں کی طرف تجسس کی وجہ سے کھینچا جاتا ہے یا لطف اندوزی کے لیے؟
- کیا بچہ کو بعد میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے؟
(۲) والدین بچوں کے سوالات، گفتگو اور دل چسپیوں پر نظر رکھیں۔ اگر بچہ جسم، جنس یا تعلقات کے بارے میں غیر معمولی سوالات کر رہا ہے تو فوراً ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ سوالات کہاں سے پیدا ہوئے ہیں۔ مقصد بچے کی تفتیش کرنا نہیں، بلکہ اس کے تجسس اور ذہنی کیفیت کو سمجھنا ہے تاکہ اسے غلط سمت میں بھٹکنے سے بچایا جا سکے۔
(۳) نو عمر بچوں کے روزمرہ معمولات پر بھی محبت بھرے انداز میں نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر بچہ اچانک بہت زیادہ تنہائی پسند ہو جائے، باتھ روم میں غیر معمولی وقت گزارنے لگے، رات گئے تک جاگنے لگے، اپنی اسکرین کے استعمال کو چھپانے لگے، یا اس کے مزاج اور معمولات میں واضح تبدیلی آ جائے تو والدین کو حکمت کے ساتھ اس کی وجہ معلوم کرنی چاہیے۔ یہ علامات ہمیشہ جنسی مسئلے کی نشان دہی نہیں کرتیں، لیکن ضرور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بچے کو والدین کی توجہ اور رہ نمائی کی ضرورت ہے۔
(۴) اگر بچے کے پاس موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ہو تو والدین اس کے ڈیجیٹل ماحول سے باخبر رہیں۔ اسکرین ٹائم کے مناسب اصول بنائیں، انٹرنیٹ کے استعمال پر نگرانی رکھیں، اور وقتاً فوقتاً اس کی سرچ ہسٹری، استعمال ہونے والی ایپس اور آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ یہ نگرانی جاسوسی کے انداز میں نہیں، بلکہ حفاظت اور تربیت کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے۔ بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں کیا جانے والا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے، اس لیے انگلیوں کی ایک معمولی جنبش بھی نیکی یا گناہ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
(۵) اگر والدین کو محسوس ہو کہ بچہ کسی غیر صحت مند جنسی عادت یا رویے میں مبتلا ہو چکا ہے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے بروقت توجہ دلا دی۔ اس کے بعد بچے کی عمر، ذہنی کیفیت اور مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے مناسب حکمتِ عملی اختیار کریں۔ نہ اتنی سختی کریں کہ بچہ باغی ہوجائے یا ہر بات چھپانے لگے، اور نہ اتنی نرمی کہ وہ اپنی عادت کو معمولی سمجھنے لگے۔ بچے سے اعتماد کے ساتھ گفتگو کریں، اس کی بات پوری توجہ سے سنیں، اس کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں، اس کے لیے مثبت مصروفیات، کھیل، ورزش، مطالعہ اور نیک صحبت کا انتظام کریں، اور سب سے بڑھ کر اس کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ اپنی ہر الجھن سب سے پہلے اپنے والدین سے بیان کرنے میں خود کو محفوظ محسوس کرے۔
(۶) اگر والدین کو شبہ ہو کہ بچے کے رویے کے پیچھے جنسی استحصال،گرومنگ، شدید نفسیاتی دباؤ یا کسی گہرے جذباتی مسئلے کا دخل ہے تو معاملے کو نظر انداز کرنے کے بجائے کسی ماہرِ نفسیات یا تربیتی مشیر سے رہ نمائی لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ بروقت مدد بہت سے بڑے مسائل کو جنم لینے سے پہلے روک سکتی ہے۔
ساتواں سوال: اگر بچے کے ساتھ جنسی استحصال ہو چکا ہو تو اس کی بحالی کیسے کریں؟
اگر خدانخواستہ والدین کو معلوم ہو جائے کہ ان کا بچہ جنسی استحصال کا شکار ہوا ہے تو سب سے پہلے اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ اس لمحے بچے کو ایک پرسکون، محفوظ اور اعتماد سے بھرپور والدین کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ غصے، چیخ پکار یا گھبراہٹ کی۔ سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بچے کے ساتھ کیا ہوا، کب ہوا، کس نے کیا، اور بچہ اس بارے میں کیسا محسوس کر رہا ہے۔ اس دوران بچے سے بار بار تفتیش نہ کریں اور نہ ہی اس پر سوالات کی بوچھار کریں، بلکہ اسے اپنی رفتار سے بات کرنے دیں۔
بچے کو یقین دلائیں کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اسے بار بار یہ احساس دلائیں کہ وہ بہادر ہے کہ اس نے والدین پر اعتماد کیا اور سچ بتایا۔ اس کی بات کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں، نہ ہی اسے خاموش رہنے، ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے کی کوشش کریں۔ بچے کی بحالی کا پہلا قدم یہی ہے کہ وہ خود کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور غیر مجرم محسوس کرے۔
اس کے جذبات کو پوری توجہ سے سنیں۔ اگر وہ رونا چاہے تو رونے دیں، اگر خاموش رہنا چاہے تو اسے وقت دیں، اور اگر بار بار ایک ہی بات دہرانا چاہے تو تحمل سے سنتے رہیں۔ بعض اوقات بچے الفاظ میں اپنے احساسات بیان نہیں کر پاتے، بلکہ ان کے رویے، ڈر، غصے یا خاموشی ان کے درد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان رویوں کو بھی محبت اور سمجھ داری کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں۔
بچے کو بھرپور محبت، جسمانی و جذباتی تحفظ اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے میں مدد دیں۔ اس کے روزمرہ معمولات، تعلیم، کھیل اور صحت مند سرگرمیوں کو بتدریج بحال کریں تاکہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ زندگی ابھی بھی محفوظ ہے اور وہ اکیلا نہیں ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچے کی عزتِ نفس اور رازداری کا بھی خیال رکھیں۔ اس واقعے کو غیرضروری طور پر رشتہ داروں، دوستوں یا دوسرے بچوں میں بیان نہ کریں۔ اگر بچے کو ہر جگہ اس واقعے کی یاد دلائی جائے یا لوگ اس سے مختلف رویہ اختیار کریں تو اس کے زخم مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ البتہ اگر قانونی کارروائی یا بچے کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا ضروری ہو تو اس میں تاخیر نہ کریں۔
اگر بچے میں شدید خوف، ڈراؤنے خواب، بے چینی، غصہ، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات، یا رویوں میں نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں، یا والدین خود اس کی مدد کرنے میں دشواری محسوس کریں، تو کسی مستند ماہرِ نفسیات یا بچوں کے ٹراما تھراپسٹ سے بروقت رہ نمائی حاصل کریں۔ مناسب نفسیاتی مدد بچے کو اس صدمے سے نکلنے، خود اعتمادی بحال کرنے اور مستقبل میں صحت مند زندگی گزارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یاد رکھیں، جنسی استحصال ایک بچے کی زندگی کا اختتام نہیں ہے۔ محبت کرنے والے والدین، محفوظ ماحول، بروقت مدد اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا کے ساتھ بہت سے بچے اس صدمے سے نکل کر دوبارہ ایک پُراعتماد، باوقار اور خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔بچے کی بحالی صرف اسی ایک واقعے کو بھلا دینے کا نام نہیں بلکہ اس کے احساسِ تحفظ، اعتماد اور خود اعتمادی کو دوبارہ تعمیر کرنے کا عمل ہے۔
آٹھواں سوال: بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے والدین کیا کریں؟
گھر میں پاکیزہ ماحول فراہم کریں
بچوں کی شخصیت کی تعمیر سب سے پہلے گھر کے ماحول سے ہوتی ہے۔ گھر میں گفتگو، لباس، تفریح، میڈیا کا استعمال اور افرادِ خانہ کا ایک دوسرے سے برتاؤ ایسا ہو کہ بچے پاکیزگی، احترام، حیا اور وقار کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھیں۔ جس گھر کا ماحول پاکیزہ ہوتا ہے وہاں بچے غیر محسوس طریقے سے بہت سی اچھی عادتیں سیکھ لیتے ہیں۔
حجاب، حیا اور ذاتی حدود کا احترام سکھائیں
گھر میں مرد و خواتین کے درمیان شریعت کے مطابق حدود، لباس اور حیا کا اہتمام ہونا چاہیے۔ بچوں کو بھی عمر کے مطابق یہ سکھایا جائے کہ ہر انسان کی ذاتی حدود ہوتے ہیں جن کا احترام کرنا ایمان اور حسنِ اخلاق کا حصہ ہے۔ تاکہ وہ وقار اور عزتِ نفس سیکھیں۔
والدین کی عادات صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ گھر کے ماحول، بچوں کی سوچ، ان کے اخلاق اور رویوں کی تشکیل میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ بچے والدین کی باتوں سے کم اور ان کے طرزِ زندگی سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اس لیے اگر والدین کی شخصیت بھی حیاو پاکیزگی کا آئینہ ہو۔
اگر والدین کسی غیر مناسب عادت میں مبتلا ہوں تو اصلاح کی کوشش کریں
اگر والدین کو (یا کسی ایک کو) فحش تصاویر، ویڈیویا دیگر غیر منافع بخش چیزیں دیکھنے کی عادت ہو تو اسے اس پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ ضرورت ہو تو دینی رہ نمائی، مشاورت یا نفسیاتی مدد حاصل کریں۔ والدین کی اصلاح صرف ان کی اپنی ذات کا فائدہ نہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کی حفاظت بھی ہے۔ یقین جانیں یہ لت بے حد گھناؤنی ہے اور اس کے منفی اثرات، ماحول، رویے اور تربیتی نمونے اگلی نسلوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔
بچوں کے لیے صحت مند اور دل چسپ سرگرمیوں کا انتظام کریں
خالی ذہن بہت جلد غیر ضروری تجسس اور غلط مصروفیات کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ بچوں کو کھیل، مطالعہ، ہنر سیکھنے، ورزش، باغبانی، تخلیقی سرگرمیوں، دینی حلقوں اور سماجی خدمت جیسے مثبت مشاغل میں مصروف رکھیں تاکہ ان کی توانائی تعمیری کاموں میں صرف ہو۔
بچوں کے اندر تخلیقی تجسس (creative curiosity) کو فروغ دیں، انھیں سوال کرنے، نئی چیزیں سیکھنے، مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ جب بچے اپنی توانائی کو علم، تخلیق اور خدمت جیسے مثبت مقاصد میں استعمال کرنا سیکھ لیتے ہیں تو ان کا ذہن غیر ضروری جنسی تجسس، فضول مشاغل اور نقصان دہ عادات کی طرف کم مائل ہوتا ہے۔ تخلیقی صلاحیت دراصل انسان کی اندرونی توانائی کو تعمیری سمت دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔
گھر میں خوشی، محبت اور باہمی تعلق کے مواقع پیدا کریں
گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ جذباتی پناہ گاہ ہونا چاہیے۔ خاندان کے ساتھ کھانا کھانا، مل کر کھیلنا، سیر کرنا، عیدین، چھوٹی بڑی کام یابیوں اور خوشیوں کو مل کر منانا، اور گھر میں محبت بھرا ماحول قائم رکھنا بچوں کو جذباتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جس بچے کا دل گھر سے وابستہ ہو، وہ باہر غیر ضروری تعلقات میں سکون کم تلاش کرتا ہے۔
بچوں کو ذمہ داری سکھائیں
بچوں کو عمر کے مطابق گھر کے کاموں، اپنی پڑھائی، اپنی چیزوں کی دیکھ بھال اور روزمرہ ذمہ داریوں میں شریک کریں۔ ذمہ داری کا احساس ان میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مقصدیت پیدا کرتا ہے، جب کہ بے مقصد زندگی اکثر غیر ضروری تجسس اور غلط عادات کو جگہ دیتی ہے۔
بچوں سے مسلسل گفتگو کرتے رہیں
والدین اور بچوں کے درمیان ایسا تعلق قائم ہونا چاہیے کہ بچہ اپنی خوشی، پریشانی، الجھن اور سوال سب سے پہلے اپنے والدین سے بیان کرے۔ روزانہ چند منٹ کی توجہ، محبت بھری گفتگو اور بغیر تنقید کے بچے کو سننا، اس کی شخصیت اور حفاظت میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔ جب والدین بچے کے دل تک پہنچ جاتے ہیں تو بہت سے خطرات اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
اپنے بچوں کو محبت کا لمس دیں
بچوں کو گلے لگائیں، بوسہ دیں، شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیریں اور انھیں یہ احساس دلائیں کہ وہ غیر مشروط محبت کے مستحق ہیں۔ والدین کا پاکیزہ لمس بچے کے دل میں تحفظ، سکون اور تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جن بچوں کی جذباتی ضروریات گھر میں محبت اور توجہ سے پوری ہوتی ہیں، وہ باہر محبت، قبولیت اور توجہ کی بھیک کم مانگتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ بچوں سے محبت کرتے، انھیں گود میں لیتے، بوسہ دیتے اور شفقت کا اظہار فرماتے تھے۔ والدین کی محبت صرف بچے کے جذبات کو آسودہ نہیں کرتی بلکہ اس کی شخصیت میں اعتماد، خود اعتمادی اور جذباتی توازن بھی پیدا کرتی ہے، جو اسے بہت سی غیر صحت مند وابستگیوں اور رویوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بچوں کو اپنے جسم کو قبول کرنا سکھائیں
بلوغت کے دوران جسم میں آنے والی تبدیلیاں بچوں کے لیے ایک نیا اور حساس تجربہ ہوتی ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اس مرحلے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کریں، انھیں یہ احساس دلائیں کہ ہر انسان کی جسمانی نشوونما اپنی رفتار سے ہوتی ہے اور ہر جسم اپنی انفرادی خوب صورتی اور خصوصیات رکھتا ہے۔ بچوں کے چہرے، قد، وزن، رنگت یا جسمانی ساخت کا کبھی مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی انھیں دوسروں سے موازنہ کریں، کیوں کہ اس سے احساسِ کمتری، شرمندگی اور اپنے جسم سے نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے انھیں اپنے جسم کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور امانت سمجھنے، اس کا احترام کرنے اور اس کی صحت کا خیال رکھنے کی تعلیم دیں۔ جب بچے اپنے جسم کو قبول کرنا سیکھتے ہیں تو ان میں خود اعتمادی، جذباتی توازن اور مثبت شخصیت پروان چڑھتی ہے، جو انھیں غیر ضروری موازنوں اور غیرصحت مند تجسس سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
خلاصہ کلام:
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جنسی ضروریات انسانی زندگی کا ایک فطری اور محدود حصہ ہے، یہ پوری زندگی پر غالب نہیں آتا۔ اسلام نے ان ضروریات کو نہ دبانے کی تعلیم دی ہے اور نہ انھیں انسان کی زندگی کا مرکز بنایا ہے، بلکہ نکاح کے پاکیزہ دائرے میں ان کی متوازن تکمیل کی رہ نمائی کی ہے۔ اس لیے والدین بھی اس پہلو کو زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ نہ سمجھیں، نہ ہی اپنی پوری زندگی بس اسی تسکین اور شوق کے لیے وقف کردیں۔
بحیثیتِ مسلمان ہماری زندگی کا مقصد اس سے کہیں بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی بندگی، آخرت کی تیاری، اقامتِ دین اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسی عظیم ذمہ داریوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو ان اعلیٰ مقاصد کے تناظر میں دیکھتا ہے تو اس کی خواہشات بھی اپنی اصل جگہ پر آ جاتی ہیں۔
اپنی اولاد کی ایسی تربیت کیجیے کہ وہ اپنی جسمانی ضروریات کو بھی اللہ کی دی ہوئی ایک امانت سمجھیں، اپنے جذبات کو حکمت کے ساتھ سنبھالنا سیکھیں، اور اپنی توانائیاں علم، کردار، تخلیق، خدمت اور تعمیرِ امت میں صرف کریں۔ یاد رکھیے، انسان کا مقام اس کی خواہشات سے بلند ہے اور اس کی اصل پہچان اس کا ایمان، کردار اور مقصدِ حیات ہے۔
آخرکار اللہ تعالیٰ ہم سے صرف یہ نہیں پوچھے گا کہ ہم نے اپنی جسمانی خواہشات کو کیسے پورا کیا، بلکہ یہ بھی پوچھے گا کہ ہم نے اپنی صلاحیتیں، اپنی اولاد، اپنا وقت اور اپنی زندگی کس مقصد کے لیے صرف کی۔ اسی شعور کے ساتھ اگر ہم اپنی نسلوں کی تربیت کریں تو ان شاء اللہ ہم انھیں نہ صرف فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں گے، بلکہ انھیں ایک باکردار، متوازن اور امت کے لیے نافع انسان بھی بنا سکیں گے۔
جنسی نشوونما دراصل انسان کی شخصیت کا ایک بنیادی پہلو بھی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو اگر صحیح تربیت پائے تو انسان کے کردار، تخلیقی صلاحیتوں، خود اعتمادی، ازدواجی زندگی اور اللہ سے تعلق کو مضبوط بناتی ہے، اور اگر یہی قوت غلط سمت اختیار کر لے تو انسان کی سوچ، تعلقات، کردار اور صلاحیتوں کو کم زور کر سکتی ہے۔ اس لیے والدین کا فرض صرف بچوں کو گناہ سے روکنا نہیں، بلکہ ان کے دل اور ذہن کو اس قدر ترغیب دینا ہے کہ وہ خود حق اور باطل میں فرق کر سکیں۔






