دار القضاء: اہمیت و ضرورت

محمد رضی الاسلام ندوی

اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا نام اسلام ہے۔کائنات کی تمام اشیاء، مثلاً سورج، چاند، ستارے، سیارے، حیوانات، نباتات، زمین، پہاڑ، دریاوغیرہ، اس کے احکام کی پابند ہیں اور اس کے طبیعی قوانین میں جکڑی ہوئی ہیں،جن سے وہ سر مو برابر بھی انحراف نہیں کر سکتیں۔انسانوں سے بھی مطلوب ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال اور سرگرمیوں میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو پیش نظر رکھیں اور اس کے بتائے ہوئے حدود سے تجاوز نہ کریں۔لیکن کائنات کی دیگر اشیاء کے برخلاف ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی گئی ہے۔ان کے سامنے حق و باطل اور صحیح و غلط دونوں کو کھول کھول کر بیان کر دیاگیا ہے۔یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اللہ کا پسندیدہ طریقۂ زندگی کیا ہے،جسے اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے والے اس کے اجر و انعام کے مستحق ہوں گے اور جس سے اعراض کرنے اور اس پر عمل نہ کرنے والے اس کی سزا اورعذاب سے دوچار ہوں گے۔ لیکن انسانوں کو ان کا پابند نہیں کیا گیا ہے،بلکہ آزادی دی گئی ہے کہ چاہیں تو اسے اختیار کریں اور چاہیں تو اس کے علاوہ دوسرے نام نہاد طریقوں پر چلتے رہیں۔قرآن نے اس حقیقت کو بہت واشگاف انداز میں بیان کیا ہے:

أَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّہِ یَبْغُونَ وَلَہُ أَسْلَمَ مَن فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالأَرْضِ طَوْعاً وَکَرْہاً وَإِلَیْہِ یُرْجَعُونَ (آل عمران:۸۳)

’’اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟حالاں کہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ کی ہی تابعِ فرمان (مسلم) ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔‘‘

پوری زندگی اسلام کے مطابق گزاری جائے

مسلمان ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پوری زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کی رضا ملحوظ رکھے۔وہ دیکھے کہ اللہ نے کن کاموں کا حکم دیا ہے،جن پر اگر عمل کیا جائے تو اس کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے اور کن کاموں سے روکا ہے،جن سے اگر اجتناب نہ کیا جائے تو اس کا غضب بھڑکتا ہے ۔ قرآن کریم میں اہلِ ایمان سے بار بار اسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ  ۔ (آل عمران:۱۰۲)

’’اے لوگو ،جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

ان سے پہلے متعدد ایسی قومیں گزری ہیں جنھوں نے اللہ کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔چنانچہ اس کی جو تعلیمات ان کی خواہشات کے مطابق ہوتی تھیں ان پر عمل کرتے تھے اور جو تعلیمات ان کی خواہشات  سے ٹکراتی تھیں انھیں چھوڑدیتے تھے۔قرآن کریم میں ان کی مذمّت کی گئی ہے (البقرۃ:۸۵)اور اہلِ ایمان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ ان کی روش سے باز رہیںاور پورے اسلام پر عمل کریں :

یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ       (البقرۃ:۲۰۸)

’’اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

اس آیت میں لفظ’ سِلم‘ اسلام کے معنٰی میں ہے۔ اہل ِایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ پورے طور پر دائرہ اسلام میں آجائیں ۔اسلام میں عقائدوایمانیات بھی ہیں اور  عبادات بھی۔معاملات بھی ہیں اور دوسرے انسانوں کے حقوق بھی۔اہل ایمان سے دین کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ جس طرح حقوق اللہ کی ادائیگی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں  اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی حسّاس ہوں۔اللہ تعالیٰ نے دوسرے انسانوں کے جو حقوق ان پر عائد کیے ہیں انھیں پوری خوش دلی سے ادا کریں ،ان کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں،ان پر ظلم و زیادتی نہ کریں،بلکہ ان کے ساتھ احسان اور ایثار کا معاملہ کریں۔

اسی آیت میں آگے اہلِ ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں، اس لیے کہ وہ انھیں گم راہ کرنا اور راہِ حق سے بھٹکانا چاہتا ہے۔اس کی خواہش  رہتی ہے کہ اہلِ ایمان اتحادو اتفاق ،محبت و مودّت اور اخوّت و بھائی چارگی کے ساتھ نہ رہیں،بلکہ ان کے درمیان خوب اختلافات ابھریں،وہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کریں ،ایک دوسرے کے حقوق غصب کریں اور ان کی آپسی بغض و عداوت اور نفرت میں اضافہ ہو۔

اللہ اور رسول کی طرف رجوع ایمان کا تقاضا

اہلِ ایمان سے دین کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی بے چوں وچرا اطاعت کریں اور اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو تو وہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات، یعنی قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں۔یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللہ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلاً    (النساء:۵۹)

’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو!اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحبِ امر ہوں ،پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میںنزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو،اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔‘‘

اگر اہل ِایمان اپنے اختلافی معاملات میں قرآن و سنت کوحَکَم نہیں بنائیں گے،بلکہ انھیں اپنی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں گے، یا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین سے مدد لیں گے تو ان کا ایمان معتبر نہیں ۔اس لیے کہ ایمان کا تو اولین مطالبہ ہی یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیا جائے اور ان کی جانب سے جو فیصلہ سامنے آئے اسے بہ سروچشم قبول کر لیا جائے اور اس کے بارے میں دل میںذرا سی بھی تنگی نہ محسوس کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے:

فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَٰ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُواْ فِیْ أَنفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُواْ تَسْلِیْماً  (النساء:۶۵)

’’اے محمد! تمہارے رب کی قسم، یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میںیہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ۔پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربہ سر تسلیم کر لیں ۔‘‘

اہلِ ایمان کی طرف سے سمع و طاعت کی روش کو قرآن ان کی اخروی فلاح کی ضمانت قرار دیتا ہے:

إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَن یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَخْشَ اللَّہَ وَیَتَّقْہِ فَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْفَائِزُونَ۔  (النور:۵۱،۵۲)

’’ ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ رسولﷺ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور کام یاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔‘‘

احکامِ الٰہی سے روٗگردانی ایمان کے منافی

دوسری طرف جو لوگ ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں، لیکن اپنے باہمی اختلافات کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی روشنی میں حل کرنے کے بجائے دوسروں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں،ان کی سخت الفاظ میں مذمّت کی گئی ہے اور ان کے عمل کو باغیانہ اور ظالمانہ قرار دیا گیا ہے۔گزشتہ قوموں میں سے یہودونصاریٰ نے یہی روش اپنا لی تھی۔ان کے درمیان انبیاء بھیجے گئے اور اللہ کی کتاب نازل کی گئی،انھیں حکم دیا گیا کہ وہ اس سے رہ نمائی حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنے معاملات میں فیصلہ کریں ،لیکن انھوں نے اس سے گریز کیا اور حقیر دنیاوی مفادات کے لیے اسے پسِ پشت ڈال دیا۔اس پر انھیں سخت وعید سنائی گئی اور ان کے اس رویے کو کفر،ظلم اور فسق سے تعبیر کیا گیا :

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللہُ   أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُونَ۔  (المائدۃ:۴۴)

’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللہُ  فَأُوْلٰـئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُون (المائدۃ:۴۵)

’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللہُ  فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُونَ (المائدۃ:۴۷)

’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔‘‘

جو لوگ یہ منافقانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں ان کی اللہ تعالیٰ سرزنش کرتا ہے اور ان کے قول و عمل میں تضاد واضح کرتے ہوئے انھیں راہِ ہدایت سے بھٹکا ہوا قرار دیتا ہے۔ وہ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتاہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیْدُونَ أَن یَتَحَاکَمُواْ إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن یَکْفُرُواْ بِہِ وَیُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْداً   ۔  (النساء:۶۰)

’’اے نبی! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی  گئی تھیں، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالاں کہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انھیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔‘‘

اس آیت میں ’طاغوت‘ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ اللہ کے اقتدار اعلیٰ  کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔

نظامِ قضاء کی اہمیت

اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان نظامِ قضاء کا قائم ہونا دینی واجبات میں سے ہے۔قضاء کی تعریف فقہاء نے یہ کی ہے:’’قضاء یہ ہے کہ لوگوں کے باہمی تنازعات میں حق کے ساتھ اور اللہ کے نازل کیے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔‘‘

(بدائع الصنائع للکاسانی:۹؍۴۷۸)

قضاء کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مشہور فقیہ امام سر خسیؒ نے لکھا ہے:

’’قضاء بالحق ایمان باللہ کے بعد اہم ترین فریضہ اور عظیم ترین عبادت ہے۔۔۔ قضاء کی یہ عظمت اور شرف اس لیے ہے کہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنا عدل کا اظہار ہے اور عدل پرہی آسمان و زمین قائم ہیں۔ قضاء ہی کے ذریعہ ظلم کا ازالہ ہوتا ہے، مظلوم کے ساتھ انصاف ہوتا ہے اور مستحق کو اس کا حق ملتا ہے۔ اس میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے اور ان ہی مقاصد کے لیے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں۔‘‘(المبسوط)

قضاء کی تاریخ پر اجمالی نظر

قضاء کی اہمیت کو اسلام کی پوری تاریخ میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔نبی کریمﷺ مختلف معاملات میں صحابۂ کرام کے درمیان اٹھنے والے تنازعات کو سنتے تھے اور ان میں فیصلہ فرماتے تھے۔حدیث و سیرت کی کتابوں میں ایسے سیکڑوں نبوی فیصلے منقول ہیں(ملاحظہ کیجیے علامہ ابن القیمؒ کی’ زاد المعاد‘ جلد سوم کے آخری صفحات اور جلد چہارم مکمل)۔مثال کے طور پر حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کی شہادت کے بعد ان کی لڑکی کی پرورش کے معاملے میں حضرت علیؓ،حضرت جعفرؓاور حضرت زید بن حارثہؓ کے درمیان نزاع ہوئی۔یہ مقدمہ آپ ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے تینوں کے دعوے سنے  اور حضرت جعفرؓ کے حق میں یہ فرماتے ہوئے فیصلہ دیا کہ’’ خالہ ماں کے درجے میں ہے۔‘‘حضرت براء بن عازبؓ اور بعض انصار کے درمیان جانوروں کے چرنے کے معاملے میں تنازعہ اٹھا۔ اس میں آپؐ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ’’ دن میں مالکانِ اراضی اپنی کاشت کی حفاظت کریں اور رات کو مویشیوں کے مالکان انھیں باندھ کر رکھیں ۔‘‘ حضرت زبیر بن العوامؓ اور ایک انصاری کے درمیان کھیت سینچنے کے معاملے میں تنازعہ ہوا۔اس میں آپؐ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ’’ زبیرؓ پہلے اپنے کھیت کو سینچ لیں، بعد میں انصاری کے کھیت میں پانی جانے دیں۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں مختلف مقامات پر متعدد صحابہ کو قضاء کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔مثلاًحضرت عتاب بن اسیدؓ کومکہ کاوالی اور قاضی مقرر فرمایا، حضرت معاذ بن جبلؓ،حضرت علی بن ابی طالبؓاور حضرت دحیہ کلبی ؓکو یمن کے الگ الگ حصوں میں قضاء کی ذمہ داری عطا کی۔ آپؐ کے بعد خلفائے راشدین خود بھی لوگوں کے نزاعات کا فیصلہ کرتے تھے اور انھوں نے مختلف صحابۂ کرام کو بھی اس کا ذمہ دار بنایا تھا۔چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق ؓکے عہد میں حضرت عمر بن الخطاب ؓ قضاء کا کام انجام دیا کرتے تھے اور حضرت ابوبکر ؓنے حضرت انس بن مالکؓ کو بحرین کا قاضی ،حضرت عمر بن الخطابؓ نے حضرت ابو موسی اشعریؓ کو بصرہ کا اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو کوفہ کا قاضی،حضرت عثمان بن عفانؓ نے حضرت شریح  ؒکو کوفہ کا قاضی اور حضرت علی بن ابی طالبؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا تھا۔

خلافتِ اموی اور خلافتِ عباسی کے زمانے میں بھی قضاء کا محاکمہ قائم رہا اور قاضیوں کا تقرر ہوتا رہا۔ امام ابو یوسفؒ خلافتِ عباسی کے زمانے کے قاضی القضاۃ ہیں ۔ انھوں نے پوری مسلم مملکت میں شعبۂ قضاء کو پھیلا دیا۔مصر،اندلس،صقلیہ اورتیونس وغیرہ میں بھی مسلم حکم رانی کے تمام ادوار میں نظام ِقضاء قائم رہا اور بڑے بڑے علماء نے مسندِ قضاء کو زینت بخشی۔خلافت ِعثمانیہ کے آخری دور تک نظامِ قضاء قائم تھااور قاضی حضرات شریعت کے مطابق لوگوں کے نزاعی معاملات میں فیصلے کرتے تھے۔

ہندوستان میں نظام ِقضاء

ہندوستان میں جب سے مسلمانوں نے قدم رکھا وہ قضاء شرعی کا نظام قائم کرنے سے غافل نہیں رہے۔ابتداء میں جب وہ یہاں تاجروں کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے جنوبی اور مغربی ساحلی علاقوں میں اپنی نو آبادیاں قائم کیں تو اس وقت اگر چہ وہ اقلیت میں تھے، لیکن انھوں نے اپنی بستیوں میں نظام قضاء قائم کیا اور اس وقت کے ہندو راجاؤں نے مذہبی رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمان قاضیوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا۔ پھر جب مسلم سلاطین نے سرزمین ِہند کو فتح کیا تو انھوں نے اپنے زیر اقتدار علاقوں میں اسلام کا نظامِ عدل نافذ کیا۔ اس طرح مسلمانوں کے پورے دورِ اقتدار میں  ہندوستان پر اسلامی قانون کی بالا دستی رہی۔ عہدِ سلطنت اور عہدِ مغلیہ میں محکمہ قضاء اپنی آن بان کے ساتھ قائم تھا۔ان ادوار میں بڑے نام ور قاضی گزرے ہیں۔مغل حکمراں اورنگ زیب عالم گیرؒ کے بعد اگرچہ سلطنت ِمغلیہ پر زوال کے بادل منڈلانے لگے تھے، لیکن نظام ِقضاء قائم رہا۔بڑے بڑے علماء اس سے وابستہ تھے۔اس سے علم کی روشنی بھی پھیلی اور یہاں کے عوام کو عدل و انصاف بھی ملا۔آخر کار مغل حکم رانوں نے جب اپنے اختیارات ایسٹ انڈیا کمپنی کو منتقل کیے تو اس سے ہونے والے معاہدہ میں محکمۂ قضاء کو باقی رکھنے کی شرط موجود تھی۔چنانچہ اس دور میں بھی قاضی کے مشورے کے بغیر کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔لیکن انگریزوں نے آہستہ آہستہ محکمۂ قضاء کو ختم کردیا اور مسلمانوں کے معاشرتی معاملات کو عام عدالتوں کے حوالے کردیا۔

سب سے پہلے انگریزوںنے ۱۸۶۲ء میں اسلامی تعزیرات کو منسوخ کرکے تعزیرات ِہند کو نافذ کیا،پھر ۱۸۶۴ء سے مسلمان قاضیوں کی تقرری پر روک لگا دی۔اس سے قبل ہر علاقے میں حکومت کی طرف سے مسلمان قاضی مقرر کیے جاتے تھے،جو مسلمانوں کے عائلی تنازعات میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ اسلامی نظام ِقضاء کے خاتمے کے بعد وہ مجبور ہوئے کہ نکاح،طلاق،وراثت وغیرہ سے متعلق تنازعات غیر مسلم ججوں کی عدالتوں میں لے جائیں۔۱۸۷۲ء میں اسلامی قانونِ شہادت کو بھی ختم کردیا گیا۔اس طرح اسلامی قوانین پر ایک ایک کرکے پابندی عائد کردی گئی اور پورے عدالتی نظام کو غیر اسلامی بنیادوں پر استوار کیا گیا۔دوسری طرف مسلمانوں نے اسلامی قوانین کی بحالی کی جدّوجہد جاری رکھی۔ بالآخر۱۹۳۷ء میں مرکزی مجلس ِقانون ساز کے مسلم اراکین کی کوششوں سے شریعت ایکٹ منظور ہوا،جس کا خلاصہ یہ ہے:

’’وراثت،نکاح،فسخِ نکاح،طلاق،ایلاء،ظہار، لعان، خلع، نفقہ، مہر، ثبوتِ نسب، امانت، جائیداد،حقِ شفعہ، ہبہ اور اوقاف کے معاملات میں مسلما ن لازمی طور پر مسلم پرسنل لا کے تابع ہوں گے۔وصیت اور تبنّیت کے معاملات میں مسلم پرسنل لا کا اطلاق اختیاری ہوگا۔‘‘

شریعت ایکٹ کی منظوری سے مسلمانوں کے عائلی قوانین کو کسی قدر تحفظ حاصل ہوا،لیکن ان قوانین کے نفاذ کے لیے مسلمان قاضی کو ضروری نہیں سمجھا گیا،بلکہ  غیر مسلم جج کو بھی ان کی تعبیر و تشریح کا حق دے دیا گیا۔

آزادی کے بعد

ملک کو انگریزوں کے تسلّط سے آزاد کرانے کی جدوجہد شروع ہوئی تو مسلمانوں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس زمانے میں کانگریس آزادی کی جدوجہد کرنے والی سب سے بڑی جماعت تھی،جس میں بہت سے علماء اور مسلم رہ نما بھی شامل تھے۔کانگریس نے اپنے متعدد سالانہ اجلاسوں کی قراردادوں میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے مسئلے کو شامل کیااور مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی کہ آزادی کے بعدمسلم پرسنل لا کا تحفظ کیا جائے گا اور اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔لیکن آزادی کے بعد جب آئین مرتب ہوا تو اس میں اقلیتوں کے پرسنل لا کے تحفظ سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں شامل کیا گیا،بلکہ’ رہ نما اصول‘ کے حصے میں یہ دفعہ شامل کی گئی کہ حالات سازگار ہونے پر حکومت یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے کیے کوشش کرے گی۔

موجودہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت نازک ہیں۔ایک طرف ملکی عدلیہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً حکومت سے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور حکومت بھی اس سلسلہ میں اپنا عندیہ ظاہر کرتی ہے،تو دوسری طرف ہندو فرقہ پرست تنظیمیں مسلم خواتین کی مظلومیت کی داستانیں گھڑ کر مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔ایک طبقہ نام نہاد ترقی پسند مسلمانوں کا ہے، جو اسلام کے عائلی قوانین میں ترمیم اور اصلاح کی بات کرتا ہے اور نکاح،طلاق اور وراثت کے اسلامی قوانین کی نئے حالات کے لحاظ سے اپنی تعبیر و تشریح کی پُرزور وکالت کرتا ہے۔ حالاںکہ یہ وہ احکام ہیں جن کا قیاس و اجتہاد سے تعلق نہیں ہے،بلکہ وہ قرآن و سنت میں منصوص ہیںاور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

مسلمانوں کی ذمہ داریاں

ان نازک حالات میں مسلمانوں اور خاص طور پر ان کے سنجیدہ ،باشعوراور دینی حمیت رکھنے والے افراد کی ذ مہ داری ہے کہ وہ ا سلام دشمن سازشوں کو ناکام بنانے کی بھر پور جدو جہد کریں اور ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ مسلمان اپنی زندگی کے تمام میدانوں میں اور خاص طور پر عائلی زندگی میں اسلامی تعلیمات و احکام پر عمل کرسکیں۔اس کے لیے انھیں دو کام کرنے ہوں گے:

اول یہ کہ مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لیے بھر پور جدوجہد کی جائے ۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سماج کا ایک بڑاحصہ اسلام کی بنیادی معاشرتی تعلیمات سے ناواقف ہے۔ خاندان کے افراد، بیوی ،شوہر، اولاد،والدین اور دیگر رشتہ دارصحیح طریقے سے ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے،جس کی بنا پر ان کے درمیان تلخیاں پیدا ہوتی ہیںاور تنازعات سرابھارتے ہیں،معاملہ عدالتی چارہ جوئی تک جا پہنچتا ہے اور ملکی عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہوتے ہیں۔

ہندو سماج کے اثرات غیر شعوری طور پر مسلم سماج پر پڑے ہیں اور بہت سی جاہلانہ رسمیں، مثلاًجہیز،تلک،بارات وغیرہ راہ پا گئی ہیں۔ ان رسموں نے مسلم سماج کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ان کی وجہ سے اسلام کے عائلی نظام کے تانے بانے بکھر کر رہ گئے ہیں۔ضرورت ہے کہ مسلم عوام کو اسلام کے بنیادی معاشرتی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور عائلی زندگی کے متعلق صحیح اسلامی احکام ان کے سامنے پیش کیے جائیں۔

دوم یہ کہ ہر شہر اور ہر علاقے میں دار القضاء،شرعی پنچایتیں اور تصفیہ کمیٹیاں قائم کی جائیں،تاکہ اگر مسلمانوں کے درمیان عائلی اور دیگر معاملات میں تنازعات ابھریں تو وہ انھیں ملکی عدالتوں میں لے جانے کے بجائے اسلامی عدالتوں میں لے جائیں اور وہاں سے جو فیصلے ہوں انھیں بہ خوشی قبول کریں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ اور جماعت اسلامی ہندکی کوششیں

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک نمائندہ ادارہ ہے۔ اس نے اپنے کاموں میں دارالقضاء کے قیام کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اس سلسلے میں اپنے مختلف اجلاسوں میں قراردادیں منظور کی ہیں ۔اجلاسِ مونگیر۲۰۰۳ء کی قرار داد میں کہا گیا ہے :

’’مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں ،ان پر واجب ہے کہ اپنے باہمی نزاعات میں  اللہ اور رسول کے حکم کی طرف رجوع کریںاور شرعی طریقے پر اپنے مسائل کو سلجھائیں۔ اسی لیے اپنے باہمی معاملات کو حل کرنے کے لیے نظام ِقضاء کا قیام مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اسلامی شریعت کے تحفظ کی مثبت اور عملی کوشش بھی ہے۔‘‘

مسلم پرسنل لا بورڈ عملی طور پر بھی اس کے لیے کوشاں ہے اور اس کی دارالقضاءکمیٹی‘ کی جانب سے مختلف شہروں میں دار القضاء قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جماعت اسلامی ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کی اس جدّ و جہد میں برابر کی شریک ہے ۔ امیرِ جماعت مولانا سید جلال الدین عمری بورڈ کے نائب صدر ہیں اور جماعت کے بعض دیگر اکابر اس کی مجلس منتظمہ و مجلس عاملہ کے ارکان ہیں۔بورڈ کے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے جماعت اپنے دائرے میں سرگرم عمل ہے۔

باہمی تنازعات کو قانونِ الٰہی کی روشنی میں حل کرنے کا مطالبہ تمام مسلمانوں سے ہے،خواہ وہ مسلم ممالک میں آباد ہوں یا غیر مسلم ممالک میں،یا سیکولر اور جمہوری ممالک میں،اسی طرح خواہ وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں ۔ان پر لازم ہے کہ وہ نظامِ قضاء قائم کریں، شرعی پنچایتیں اور تصفیہ کمیٹی بنائیں ،اپنے تنازعات کو ان اداروں میں لے جائیں اور وہاں سے جو فیصلہ ہو اسے بہ سروچشم قبول کریں ۔

دسمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau