روحِ جہاد کی نفی

ذکی الرحمن غازی فلاحی

بعض کوتاہ فہم، غالب مغربی تہذیب وثقافت سے مرعوب ہیں۔ ان کے خیال میں اسلامی جہاد صِرف انہی مواقع پر مشروع ہوتا ہے جب حملہ آور دشمن کے مقابلے میں دار الاسلام کے دفاع کی ضرورت پیش آجائے۔بعض مفکرین روحِ جہاد،مغزِ جہاد اور حقیقتِ جہاد جیسے عنوانوں سے دن رات یہی ثابت کرنے میں جُٹے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک، امریکہ اور یورپ چاہے کھلے عام مسلّمہ بین الاقوامی اصولوں کو پامال کریں، کسی بھی ملک کے خلاف یک طرفہ جنگ شروع کر دیں،اپنی بالادستی اور مفاد کے تحفظ کےلیے پورے خطوں کو عدمِ استحکام اور بحرانی حالات کی دلدل میں ڈال دیں، ان کےنیازمند مفکروں کی زبان سےان زیادتیوں کی مذمت کا ایک لفظ نہ نکلے گا اور نہ اس موضوع پر ان کی کوئی تحریر سامنے آئے گی۔ ان کا سارا زور صرف اس امرپر صرف ہوگا کہ مسلمان اقدامی جہاد سے توبہ کرلیں، باقی ساری دنیا اقدامی جنگ کرتی ہے تو کرے۔

مغربی استادوں کے مسلم شاگردوں نے جہاد کے سلسلے میں خامہ فرسائی کی ہے۔ انہوں نے کوشش کی ہے کہ جہاد کے احکام کی تاویل کرکے انہیں مغرب کے لیے قابل قبول بنا لیا جائے۔ زیادہ زور اس نکتے پر دیا ہے کہ جہادہمیشہ دفاعی ہوتا ہے،اقدامی نہیں ہوتا۔ اس جدید تصورِ جہاد کی صریحاً ترد ید کرنے والی قرآن وسنت کی نصوص کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کے جہاد کی ایسی کمزور تاویلیں پیش کی گئی ہیں کہ ایک بچہ بھی انہیں درست ما ننے سے انکار کر دے۔

لغوی تحقیق

اس سلسلے می ںلمبی چوڑی بحث سے قبل، ایک اہم پہلو پر غور کرنا چاہیے۔ بالفرض کسی نے جہادِ اقدامی سے متعلق تمام صحیح حدیثوں کو -(جو بلا مبالغہ سیکڑوں ہیں۔) جھوٹی کہہ کر رد کردیا۔ پھر قرآنِ کریم میں وارد جہاد سے متعلق تمام آیتوں کی یہ تاویل بھی کردی کہ ان سے مراد صرف دفاعی جہاد ہے، تب بھی ہم اس حقیقت کو کیسے فراموش کریں کہ مجاہدین کو غازی، اور ان کے اقدامات کو غزوے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اب غور کیجیے کہ کیا کسی لغت، ڈکشنری یا عہد جاہلیت کے شعر میںغازی اورغزوہ سے مراد دفاعی جہاد ہے؟اس آیتِ کریمہ کا مفہوم کیا ہے؟:یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَانِہِمْ إِذَا ضَرَبُواْ فِیْ الأَرْضِ أَوْ کَانُواْ غُزًّی لَّوْ کَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ (آلِ عمران، ۱۵۶) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز واقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا غزوے میں شریک ہوتے ہیں(اور وہاں کسی حادثے سے دوچار ہو جاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔‘‘

یہاں قرآن بتا رہا ہے کہ اہلِ ایمان جنگ کے لیے باہر نکلے ہوئے تھے،اپنے گھروں اور بستیوں میں بیٹھ کر دفاع نہیں کر رہے تھے۔ اسی لیے تو منافقین نے کہا تھا کہ ’’لو کانوا عندنا‘‘ یعنی وہ یہیں گھروں میں بیٹھ رہتے تو بچ جاتے۔ہم غزوہ یا جہادِ اقدامی کا صریح تذکرہ کرنے والی اس آیت کی کیا تفسیر کریں گے؟ پھر صحیح بخاریؒ وصحیح مسلمؒ اور دیگر جملہ کتبِ حدیث میں وارد غزوات سے متعلق حدیثوں کا مفہوم کیا ہوگا؟

ایمان کی علامت

صحیح بخاریؒ میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ (جنگ کی صورت میں) نبیﷺ جب ہمیں لے کر کسی قوم پر حملہ آور ہوتے تو صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے۔اگر صبح کے وقت اذان سنائی دیتی تو اس بستی پر حملے سے رک جاتے اور اگر اذان سنائی نہ دیتی تو حملہ کر دیتے۔ (صحیح بخاریؒ:۱۰) کیا اسے دفاعی جہاد کہا جائے گا؟ صحیحین میں جہاد کی فضیلت اور غازی کو اسلحۂ جنگ فراہم کرنے کی فضیلت اور اجر وثواب بیان ہوا ہے ۔اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے کہ جو مرجائے اور کبھی جہاد میں شریک نہ ہو اور نہ اس کی تمنا کرے،وہ نفاق کی موت مرا۔(صحیح مسلمؒ:۱۹۱۰،عن ابی ہریرہؓ)حضرت زیدؓ بن خالد روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو اللہ کے راستے میں کسی غازی کو سامان فراہم کرے تو گویا اس نے خود بھی جہاد کیا، اور جو اللہ کے راستے میں جانے والے کسی غازی کی خیر کے ساتھ (ا س کے بال بچوں کی نگہ داشت میں)نیابت کرے تو اس نے بھی جہاد کیا۔‘‘(صحیح بخاریؒ:۲۸۴۳۔سنن نسائیؒ:۳۱۸۰۔ سنن ابن ماجہؒ:۲۷۵۹)بہت سی حدیثوں میں ان رشتے دار عورتوں کے یہاں جانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ جن کے شوہر جہاد کے لیے باہر گئے ہوئے ہوں۔ (سنن ترمذیؒ:۱۱۷۲ ،عن جابرؓ) سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جہاد اقدامی تھا ہی نہیں تو یہ ہدایت کیوں ؟

سورۂ توبہ کی اس آیت پر غور کریں:وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّواْ وَّأَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً أَلاَّ یَجِدُواْ مَا یُنفِقُون (توبہ،۹۲) ’’اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر سکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریکِ جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔‘‘کیا اللہ کے رسولﷺ نے لمبے سفر کرکے دفاعی جہاد کیا تھا؟ کہ زادِ سفر اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے کچھ صحابۂ کرامؓ جنگ میں شرکت سے معذور تھے؟یا پھر یہ جہادِ اقدامی تھا جس میں یہ خبر آنے پر کہ رومیوں نے جنگی تیاریاں شروع کر دی ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر جنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ آیتِ کریمہ بہ اتفاقِ مفسرین غزوۂ تبوک کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔

اقدام اور دفاع

قرآن نے خود اقدامی ودفاعی جہاد کی تقسیم کی ہے۔ ارشادِ باری ہے:وَقِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَوِ ادْفَعُواْ(آلِ عمران، ۱۶۷) ’’وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آئو اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم دفاع ہی کرو۔‘‘اگر دفاع کرنا ہی کُل جہاد ہے تو یہاں دفاع کا الگ تذکرہ کیا معنی رکھتا ہے؟

علامہ ابن القیمؒ نے قیمتی بات کہی ہے کہ ’’جہادِ دفاع تو ہر ایک شخص کر سکتا ہے۔صرف بزدل اور لائقِ مذمت شخص ہی شرعاً یا عقلاً اس سے گریز کرنا چاہے گا۔ رہا جہادِ طلب جو خالصتاً اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے تو اسے اہلِ ایمان کے سر گرم گر وہ اور سابقین وسادات ہی کرسکتے ہیں۔‘‘      (الفروسیۃ، ابن القیم، تحقیق: زائد النشیری:ص۱۲۴)

ماضی میں مسلمان اس محرومی کا غم کھاتے تھے کہ ہمیں شرعی جہاد میں شرکت کا شرف نہیں ملا جسے سچے اہلِ ایمان کررہے تھے اور جسے اللہ کے رسولﷺ ، صحابۂ کرامؓ اور ان کے متبعین نے کیا ۔مگر اللہ کے عفو وکرم کی امید بہر حال رہتی تھی کیونکہ اس نے ایک آخری گنجائش چھوڑ رکھی تھی جو اس محرومی میں سہارا اور مداوا بن جاتی تھی۔ وہ بات یہ تھی کہ مسلمان دل میں شہادت کی تمنا اور جہاد کا شوق رکھتے تھے اور ربِ کریم کے تعلق سے یہ حسنِ ظن رکھتے تھے کہ اس نیت اور شوق کی وجہ سے وہ نفاق کی موت سے محفوظ فرمائے گا اور اجرِ شہادت سے نوازے گا۔ صحیح مسلمؒ میں حضرت ابوہریرہؓ سے یہ ارشادِ نبوی نقل ہوا ہے کہ ’’جو مر جائے اور اس نے جہاد نہ کیا اور نہ دل سے اس بارے میں گفتگو کی تو وہ نفاق کے ایک حصے پر مرا۔‘‘ (صحیح مسلمؒ:۱۹۱۰)

اللہ سے تعلق

اب یہ شقاوت اور بدبختی ہے کہ ہماری صفوں سے ایسے نام نہاد مفکرین اورمجتہدین سامنے آرہے ہیںجو اللہ کے ساتھ ہمارے اس آخری تعلق کو بھی منقطع کرنا چاہتے ہیں اور بلا دلیل کہہ رہے ہیں کہ ’’نادانو!دل میں اقدامی جنگ یا جہادِ کا خیال لانا بھی گناہ ہے،اس سے بچو، کیونکہ اسلام میں طلبی واقدامی جہاد سرے سے ہے ہی نہیں،یہ تو سب ملائوں کی پھیلائی غلط فہمی ہے۔‘‘ یہ اللہ کے ساتھ ہمارے آخر ی قلبی رابطہ سے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اب نہ ہم عملاً جہاد کریں اور نہ دل میں جہاد کا خیال یا امنگ لائیں۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

یہ بات اہم نہیں کہ ہم آج جہادِ طلب کے دینی شعار پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ظاہر ہے جہادِ طلب کی انجام دہی کے لیے تیاری ، نظمِ جماعت اور مسلم ریاست کی شرط ہے۔ وہ آج یہاں موجود نہیں۔ اس لیے عملاً ہم جہاد نہیں کرسکتے۔ شرعاً اس کی گنجائش نہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شریعت کے جملہ احکام کے لیے اصول موجود ہے کہ انسان شریعت پر عمل کا اپنی استطاعت کے مطابق ہی مکلف ہے،یہ اصول جہادکے لیے بھی استعمال ہوگا۔پھر بھی جہاد کا انکار کرنے والوں اور مخلصین کے درمیان فرق یہ ہے کہ جہاد کے قائلین شرعی تصورات ومفاہیم کی حفاظت کر رہے ہیں،حتی المقدور شریعت کے نظریاتی فہم کو خالص رکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس آج فکرِ جدید کے نام پر دین میں تحریف کا دروازہ بعض نادانوں نے کھول دیا ہے، ا س سیلاب کےآگےیہ اللہ کے بندے سینہ سپر ہیں۔ مغربی سیاسی دبائو میں آج بعض مسلمان ملکوں کی حکومتیں بھی اُن غلط فکری رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں جو امریکی مطالبات سے ہم آہنگ ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے ایسے بندے دنیا میں موجود ہیں جو کسی غلط دبائو کو نہیں مانتے،اور ایک اللہ سے مغفرت کی آس لگائے ہوئے ہیں۔

جنوری 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau