فلسطین پر مکالمہ

ڈاکٹر سلمان مکرم

فلسطین پر مکالمہ (On Palestine) یہ کتاب فرینک باراٹ نے مرتب کی ہے۔ اس کتاب میں دو بڑے مغربی مفکرین نوم چومسکی اور ایلان پاپے نے مسئلہ فلسطین پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب دونوں مفکرین کے مکالموں پر مشتمل ہے اور اس کتاب میں مسئلہ فلسطین کو گہرائی سے سمجھنے اور ممکنہ حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سب سے پہلے کتاب اس بات پر زور دیتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف بڑھنے کے لیے اس مسئلہ پر نئے علم، نئی لغت اور نیا بیانیہ ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کی ضرورت کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب میں وہ بیان کرتے ہیں کہ پرانے بیانیے میں کئی خلا موجود ہیں۔ پرانے بیانیے کو وہ امن کا بیانیہ (Peace Orthodoxy) سے موسوم کرتے ہیں ۔

اس کی تفصیلات میں دو ریاستی حل (Two State Solution) امن کا قیام (Peace Process) دو قوموں کا ایک خطہ (a land for two people) اسرائیل فلسطین قضیہ (The Israel- Palestine Conflict) مذاکرات (Negotiations) وغیرہ اصطلاحات کی بھرمار نظر آتی ہے۔

کتاب ان خلاؤں کی نشان دہی بھی کرتی ہے جن کو پُر کرنے میں پرانا بیانیہ ناکام نظر آتا ہے۔ وہ خلا کیا ہیں؟ ذیل میں اختصار کے ساتھ ذکر کیے جاتے ہیں۔

پہلا خلا یہ ہے کہ رائے عامہ ڈرامائی انداز میں فلسطین کے حق میں ہونے کے باوجود حکومتی پالیسیوں پر کوئی مثبت تبدیلی لانے میں کام یاب نہیں ہوسکی ہے۔ اعیان سلطنت اور پالیسی ساز عمائدین اسرائیل کے جبر کے حق میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ مظلوم فلسطینی جبر کی چکی میں پستے نظر آتے ہیں۔

دوسرا خلا یہ ہے کہ اسرائیلی ریاست کے ظالمانہ اور جابرانہ تسلط کی تصویر طشت از بام ہونے کے باوجود اسرائیلی ریاست کو یہودیوں کی فلاحی ریاست اور نسبتًا خوشحال اور پرامن ریاست ہونے کی حیثیت سے نمایاں کرکے پیش کیا جاتا ہے- ایسی ترقی یافتہ ریاست جس نے فلسطینی قضیے کو حل کرلیا ہو اور جو اب مغرب کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حماس اور حزب اللہ سے برسرپیکار ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کی جنگ کے بوگس خطرات سے نمٹ رہا ہے۔ یہ تصویر اسرائیل کو مغرب کے وفادار شریک کے طور پر پیش کرتی ہے اور امریکہ اور مغرب سے اپنی ظالمانہ سرگرمیوں اور فوجی ضرورتوں کے لیے مالی تعاون کی راہ ہم وار کرتی ہے ۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی تو عرب اسرائیل میں قابض شہری ہیں جہاں اصل شہریوں کی زمینیں ہڑپ کرنا اور انھیں بنیادی حقوق سے محروم کرنا جبری و نسلی قوانین کے تحت جائز کرلیا گیا ہے۔ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی حراست اور ان کی زمینوں پر قبضہ معمول کا حصہ ہے۔ غزہ کی حصار بندی اور نسل کشی اور پورے علاقے کو جیل خانہ بنادینا جگ ظاہر ہے۔ اسرائیل کی اس ظالمانہ تصویر کو بڑی طاقتیں یکسر فراموش کیے ہوئے ہیں ۔

تیسرا خلا یہ نظر آتا ہے کہ اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات پر تو تنقید کی جاتی ہے لیکن اسرائیل کے ظالمانہ صیہونی نظریے اور طرز حکومت پر تنقید سننے میں نہیں آتی۔ حالاں کہ یہ ظالمانہ نظریہ اور طرز حکومت ہی ایسے ظالمانہ اقدامات کو جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر سال 2008 میں غزہ میں اسرائیلی قتل عام کی شدید مذمت کی گئی، لیکن صیہونی ظالمانہ نظریے اور صیہونی طرز حکومت کو جو کہ اصل وجہ ہے، ہدف تنقید نہیں بنایا گیا۔

چوتھا خلا یہ ہے کہ فلسطین کی کہانی شروع سے آج تک صرف غاصبانہ تسلط کی کہانی ہے۔ لیکن دنیا اس کو کئی مسائل کے مرکب اور پیچیدہ مسئلہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ بات باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کو نہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی کہانی کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویسے ہی جابرانہ تسلط کی کہانی ہے جسے ماضی میں مغرب کئی ملکوں میں دہرا چکا ہے اور آخر کار ہزیمت اٹھا چکا ہے- صیہونی تسلط اس مغربی تسلط سے کچھ مختلف نہیں ہے لیکن اسرائیل اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کو انتہائی پیچیدہ مسئلہ بناکر پیش کرنے میں کام یاب نظر آتا ہے جس کے خلاف زبان کھولنا یا تو یہودی نفرت (Anti Semite ) سمجھا جاتا ہے یا صورت حال سے لاعلمی گردانا جاتا ہے ۔

کتاب کے مطابق پرانا بیانیہ Peace Orthodoxy نہ صرف یہ کہ تاریخی حقائق سے صرف نظر کرتا ہے بلکہ حقیقت حال کی صحیح ترجمانی سے بھی قاصر ہے اور اسی لیے اس بیانیے کی بنیاد پر مسقبل میں کسی مستحکم حل تک پہنچنا محال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پرانا بیانیہ صرف صورت حال status quo کو برقرار رکھنے کے لیے جواز فراہم کرتا ہے جو سراسر اسرائیل کے غاصبانہ عزائم کو جاری رکھنے کے لیے امریکی سیاستدانوں کا تراشیدہ حربہ ہے۔

نئے بیانیے کی مدد سے یہ کوشش کی گئی ہے کہ مندرجہ بالا خلاؤں کو پر کیا جائے, تاریخی حقائق کو سامنے لایا جائے, حال کی حقیقتوں کو دیکھا جاسکے اور مستقبل میں ممکنہ حل کی نشان دہی کی جائے۔

نئے بیانیہ کو ماضی, حال اور مستقبل کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔

ماضی:  صیہونی نظریہ

صیہونی نظریہ یا صیہونیت ( Zionism ) جس کی بنیاد پر اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہے اصلًا ایک استعماری و استبدادی نظریہ ہے۔”صیہونیت = استعمار” اس مساوات کو سمجھنا حقیقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مساوات کی بنیاد پر اسرائیل کی جبری و استعماری پالیسیوں کو اسرائیل کے اندر بھی سمجھا جاسکتا (جو رویہ کہ اسرائیلی ریاست اپنے شہریوں، عرب یہودیوں اور خصوصًا عرب مسلمانوں پر روا رکھتی ہے) اور مغربی کنارے میں جس قسم کے استعماری اقدامات کیے جارہے ہیں اس کی بھی وضاحت کرتی ہے ۔

ہبرو زبان میں فعل le۔hitnahel  یا  le۔hityashev  اور اسم hitanchalut اور hitayasvut جو اصطلاحات کہ صیہونی تحریک اور پھر اسرائیلی ریاست سن 1882 سے استعمال کرتی رہی ہے، جس کا مطلب فلسطینی زمین پر جبری قبضہ ہے- اس استعماری اور نوآبادیاتی فکر میں یہ چیز اصول کی حیثیت سے موجود ہے کہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی زمین ہتھیانا اور کم سے کم فلسطینیوں کی آبادیوں کو باقی رکھنا۔

استعماری نظریہ کے اس تجزیہ سے قضیہ فلسطین پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اسرائیلی ریاست اسی طرح غاصبانہ ریاست کے طور پر سامنے آتی ہے جس طرح ماضی میں جنوبی افریقہ غاصبانہ ریاست تھی جہاں بیرونی غاصبوں نے اصلی باشندوں پر ہر ظلم روا رکھا تھا۔ اس طرح مسئلہ فلسطین کو ایک پیچیدہ مسئلے کے طور پر پیش کرنے کی اسرائیلی پروپیگنڈہ کوششوں کی قلعی کھل جاتی ہے جو اسرائیلی ریاست اپنے استعماری عزائم اور جبری تسلط کو چھپانے کے لیے کرتی ہے۔

اگر اس بیانیہ کو پرزور طریقے سے پیش کیا جائے تو کوئی انصاف پسند نفس اسرائیل کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ ایک ظالمانہ ریاست ہے جو مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ چاہے وہ اسرائیل کے اندر ہوں یا باہر ظلم و ناانصافی کو روا رکھتی ہے۔ قتل عام، نسل کشی، جبری قبضہ، بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا اور جلا وطنی جیسے جرائم انجام دیتی آرہی ہے۔

حال: اسرائیل نسل پرست ریاست

حالیہ دنوں میں اہل علم کے درمیان اور لٹریچر میں اسرائیلی نسل پرست ریاست کو ماضی کی جنوبی افریقہ کی نسل پرست ریاست کے ماڈل سے سمجھنے کی کوششیں سامنے آرہی ہیں۔

انصاف پسند اہل علم جن میں اروی ڈیوس Urvi Davis کا نام سرفہرست ہے جنھوں نے پہلی مرتبہ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی ریاست کے طرز حکومت، پالسیوں اور اقدامات کو نسل پرست ریاست کے طور پر بیان کیا ہے۔ امریکی صدر جمی کارٹر Jimmy Carter نے بھی بارہا اسرائیل کے لیے نسل پرست ریاست کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرست ریاست اور اسرائیلی نسل پرست ریاست کے تقابلی مطالعہ نے اہل علم کو اس نتیجہ پر پہنچایا ہے کہ کئی پہلؤوں سے اسرائیلی نسل پرست ریاست افریقی نسل پرست ریاست سے بدتر ہے۔ خصوصًا اس معنی میں کہ اسرائیلی ریاست اپنے شہریوں کو نسل کی بنیاد پر بانٹتی ہے اور نسل پر مبنی تفریق کو قانونی حیثیت دیتی ہے اور اس کی بنیاد پر اپنے شہریوں کو بانٹنے اور بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے قوانین اپنی پارلیمنٹ Knesset سے پاس کرتی ہے –

یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں انصاف پسند برادری اسرائیلی ریاست کی نسل پرستی کےخلاف ایک ہفتہ منارہی ہیں جس کی ابتدا کینیڈا سے ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کا موقف علمی دنیا میں تیزی سے کم زور ہورہا ہے۔ بعید نہیں کہ علمی دنیا سے شروع ہوئی یہ تحریک جلد ہی عالمی میڈیا پر اپنے اثرات مرتب کرے گی اور اس کے چلتے پالیسی ساز اداروں اور حکومتوں کے لیے اسرائیل کے ساتھ غیر مشروط طریقے سے کھڑا ہونا ناممکن ہوجائے گا اور اسرائیلی ریاست کو اپنے جرائم کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اس بیانیے سے یہ سوچ بھی بنی ہے کہ 1948 کا نکبہ صرف ایک سانحہ نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے ہول ناک جرائم کی عظیم گواہی ہے۔ اسرائیل اس کی تلافی کس طرح کرے اس پر بھی گفتگو کی جارہی ہے۔ خصوصًا اس بات پر کہ 1948 میں اسرائیل نے فلسطین کی آدھی آبادی یعنی سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کیا، پانچ سو گاؤں برباد کیے اور ایک درجن شہروں کو تاراج کیا، مغربی کنارے اور غزہ میں لاکھوں انسانوں کو قید کردیا۔ عرب یہودیوں پر اپنی عربی شناخت سے دست برداری اور اپنی عربی شناخت سے نفرت کا ثبوت دینا لازمی کیا۔ اسی طرح اس میں اپنے عرب مسلمان شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری بنائے رکھنا اور شہری حقوق سے انھیں محروم کرنا بھی شامل ہے۔ اسرائیلی ریاست ان سب جرائم کی “تلافی” کس طرح کرے یہ بھی بہت اہم بحث Idea of Reparation چل پڑی ہے۔

“دو ریاستی حل” کا پرانا بیانیہ ان سب مسائل سے نہ صرف یہ کہ نمٹنے سے قاصر ہے بلکہ یہ مسائل اس کے مشمولات ہی میں شامل نہیں ہیں۔

مستقبل: اسرائیلی نوآبادیات کا خاتمہ اور حکومت کی تبدیلی

پرانا بیانیہ یا دو ریاستی حل باوجود متعدد کوششوں ( جیسے جینیوا 1997, میڈرڈ 1991, اوسلو 1993 اور کیمپ ڈیوڈ 2000) کے باوجود صورت حال کو بدلنے میں پوری طرح ناکام رہا ہے۔

نوم چومسکی پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس کا ادراک کیا اور اس کو اس طرح بیان کیا کہ امن مذاکرات کا عمل Peace Process  دراصل قضیہ کو حل کرنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا بلکہ وہ تو اس لیے بنایا گیا تھا کہ صورت حال کسی حل کے بغیر یوں ہی جاری رہے اور صورت حال status quo کا یوں ہی جاری رہنا اسرائیل کے حق میں تھا کہ امن مذاکرات کا عمل دنیا میں یوں ہی جاری رکھا جائے اور اس کی آڑ میں اسرائیل زمین ہتھیانے کے عمل کو جاری رکھ سکے اور نئی آبادیاں بساتا چلاجائے۔ اسرائیل کے لیے صورت حال کا یوں ہی بنے رہنا بہت سازگار تھا۔ اس امن مذاکرات کے عمل Peace Process کا ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ رہا ہے کہ جو جرائم اسرائیل نے کیے تھے اسے دونوں فریقوں پر یکساں بانٹ دیا گیا گویا یہ کہا گیا کہ جرائم میں ظالم اور مظلوم دونوں شامل ہیں اور دونوں پر امن کے حصول کی یکساں ذمہ داری ہے۔

پرانے بیانیہ سے نہ صرف یہ کہ حل کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی اس پر مستزاد یہ کہ یہ بیانیہ غیر حقیقت پسندانہ بھی ہے۔

مصنفین جس نئے بیانیہ کو پیش کرتے ہیں اس میں وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حل کو حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔ وہ دو ریاستی حل کے بجائے طرز حکومت میں بدلاؤ Regime Change کے ساتھ یک ریاستی حل One State Solution کو پیش کرتے ہیں –

عرب بہار میں جس طرح تیونس اور مصر میں طرز حکومت ( آمریت سے جمہوریت میں) بدلا، اسی طرح اس خطے میں بھی طرز حکومت بدلے (اسرائیل اور اس کی نو آبادیات کے بجائے فلسطین جمہوری ریاست ہو) لیکن یہ عمل انقلابی کے بجائے اصلاحی ہو اور آنًا فانًا ہونے کے بجائے تدریجی طریقے سے ہو نیز کم سے کم خونی ہو۔

فلسطین جمہوری ریاست کی جانب پیش قدمی کے ضمن میں تین سنگ ہائے میل کو کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔

پہلا سنگ میل

اس یک ریاستی حل کا پہلا قدم یہ ہوگا کہ فلسطین جمہوری ریاست کے تصور کو تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں بحث کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اس میں نئی لغت اور نئی اصطلاحات کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ان سوالات کا جواب مل سکے کہ کس طرح فلسطین کے رہنے والے اور مہاجرین کو یکساں حقوق اور آزادی حاصل رہے (جس طرح کہ ماضی میں اسرائیل سے قبل فلسطینی ریاست قائم تھی جس میں مسلمان, عیسائی اور یہودی آباد تھے اور انھیں یکساں حقوق حاصل تھے) نیز کس طرح یہ ریاست مشرق وسطی میں جمہوری و فلاحی ریاست کی مثال بنے۔

دوسرا سنگ میل

اس بات کی تردید کی جائے کہ یک ریاستی حل اسرائیل کے وجود کا خاتمہ ہے۔ بیرونی دنیا کی تحریکات اسرائیلی ریاست کو ختم کرنے کی مکلف نہیں ہیں لیکن یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے بنیادی نظریہ، پالیسیوں اور اقدامات پر سوال کھڑا کریں جس نے فلسطین کی آدھی آبادی کو ملک بدر کردیا ہے۔

تیسرا سنگ میل

اس غلط فہمی کو دور کیا جانا چاہیے کہ دو ریاستی حل امن کا ہم معنی ہے، جب کہ اس دو ریاستی حل کی تجویز سے سوائے مزید بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ اس طرح یہ کہنا کہ جو لوگ یک ریاستی حل چاہتے ہیں وہ امن کے خلاف ہیں، غیر ذمہ دارانہ موقف رکھتے ہیں, مزید جنگ اور خون خرابہ چاہتے ہیں وغیرہ، اس غلط فہمی کو دور ہونا چاہیے۔ اسرائیل کی حیثیت یہ ہے کہ وہ جمہوری ریاست ہونے کے دعوے کے باوجود، فلسطین کی اکثریت کا نمائندہ نہیں ہے۔

کتاب قارئین کو مشورہ دیتی ہےکہ بین الاقوامی کمیونٹی کو فلسطین کے حق میں کھڑا ہوناچاہیے اور اس بات کی کوشش کی جانی چاہیے کہ اسرائیلی ریاست کا بائیکاٹ کیا جائے, اسرائیلی ریاست کو الگ تھلگ ریاست کے درجے میں ڈالا جائے اور اس پر تحدیدات عائد کی جائیں جب تک کہ وہ اپنی پالیسیوں میں ظلم و بربریت سے باز نہیں آجاتا۔

کتاب میں اس سوال کا جواب دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ دیگر ممالک کے باشندوں کے لیے فلسطین کے حق آواز اٹھانا کیوں ضروری ہے؟ اسرائیل نے فلسطین کو ظلم کے نت نئے ہتھکنڈے آزمانے کی ایک لیباریٹری بنا دیا ہے جہاں سے وہ دنیا کے دوسرے ممالک کو اپنے عوام کے خلاف نت نئے ظالمانہ ہتھکنڈے برآمد کرتا ہے اور باقاعدہ ان کی تربیت بھی کرتا ہے۔ اپنے آپ کو ظلم سے بچانے کا سب سے کارگر طریقہ یہ ہے کہ سب کو ظلم سے بچایا جائے اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی جائے۔

فرینک بارٹ سے کسی نے پوچھا کہ تم کیوں انصاف کے لیے سرگرمی دکھا رہے ہو تو انھوں نے کہا کہ صحیح سوال یہ ہے کہ تم کیوں سرگرم نہیں ہوئے۔ انسانی فطرت انصاف کو پسند کرتی ہے اور ظلم سے نفرت کرتی ہے اس لیے ”انسان“ کے لیے لازم ہے کہ وہ ظلم کو مٹانے اور انصاف کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہو۔

دسمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau