ڈیجیٹل پیرنٹگ

ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کی تربیت

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے ہر گوشے میں نمایاں نظر آتی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل فون پر وقت دیکھنا، گھر کی چیزوں کی آن لائن خریداری کرنا، خبریں حاصل کرنا، معلومات حاصل کرنے کے لیے سرچ انجن کا استعمال کرنا، دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے لمحوں میں رابطہ کرلینا اور صفائی ستھرائی اور گھر کے دیگر کاموں میں روبوٹ یا مشینوں کا استعمال کرنا، بچوں کے اسکول سے روزانہ کا اپڈیٹ لینا اور بچوں کو آن لائن کلاس کرانا۔ غرض بہت سے کام ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئے ہیں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو بے حد آسان اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں رہا جہاں ٹیکنالوجی کی موجودگی محسوس نہ ہوتی ہو۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم، معلومات اور تفریح کے بے شمار دروازے کھل گئے ہیں اور سیکھنے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوگئے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کا ایک پہلو اور ہے۔ ٹیکنالوجی سے حد سے زیادہ لگاؤ اور اس کا غیر معتدل استعمال انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان سے دوچار کرتا ہے۔ وقت کی بربادی، جرائم کا فروغ اور بہت سی اجتماعی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ آئیے جانیں کہ ٹیکنالوجی سے تعامل کرتے ہوئے بطور والدین ہم اپنی زندگی کیسے گزاریں اور بچوں کی تربیت کیسے کریں۔

ماضی میں والدین کی ذمہ داری زیادہ تر بچوں کی پرورش اور نگہداشت تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ یعنی بچوں کی پرورش کرنا، انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا، ان پر توجہ دینا اور انہیں مناسب رہنمائی دینا اور ان کی تعلیم کا انتظام کرنا۔ لیکن حالیہ دور میں، جب ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اثر انداز ہو چکی ہے، تو والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہو گیا ہے کہ انہیں اپنے طرزِ تربیت کو بھی وسعت دینی ہوگی اور بچوں کی تربیت کے طریقے کو صرف حقیقی زندگی تک محدود رکھنے کے بجائے ڈیجیٹل دنیا تک بھی پھیلانا ہوگا۔ اس مضمون میں اسی حوالے سے مندرجہ ذیل نکات پر گفتگو ہوگی۔

️موجودہ دور میں بچوں اور والدین کے درمیان پیدا ہونے والے ڈیجیٹل نسلی فاصلے (Digital Generation Gap)کو کم کرنا۔

️ بچوں کی زندگی میں ڈیجیٹل میڈیا کے داخلے سے پیدا ہونے والے چیلنجوں، خطرات اور مسائل کو سمجھنا۔

️ ڈیجیٹل پیرنٹنگ: بچوں کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تربیت (training)کرنا۔

والدین کا ٹیکنالوجی سیکھنا

بدلتے ہوئے نظریات، رہن سہن، غذائیت، فیشن، ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے عوامل نے زندگی گزارنے کے انداز کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کے درمیان اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور اپنے خاندان کو صحیح راستے پر قائم اور مستحکم رکھنا ایک محنت طلب اور ذمہ داری بھرا کام بن گیا ہے۔ اس کے لیے والدین کو سب سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔

(الف) والدین ٹیکنالوجی کیوں سیکھیں؟

ہمیشہ دل میں کارآمد مہارتیں اور نئے علوم سیکھنے کی لگن برقرار رکھیں۔ جدید اور مفید علم انسان کو ہمیشہ وقت کے ساتھ ہم آہنگ، بیدار اور مضبوط بناتا ہے۔ جو شخص یہ سمجھ بیٹھے کہ اس نے ضرورت بھر سیکھ لیا ہے اور اب اسے مزید سیکھنے کی ضرورت نہیں، وہ شخص پچھڑ جاتا ہے۔ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ والدین خود کو زمانے کے ساتھ ہم آہنگ رکھیں۔ جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہو تو والدین کا پرانے طریقوں تک محدود رہنا بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے جسے Digital Generation Gap کہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین بنیادی ٹیکنالوجی کو سمجھیں اور اس سے واقف ہوں۔ جب والدین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ موبائل ایپ کیسے کام کرتے ہیں، انٹرنیٹ پر معلومات کیسے حاصل کی جاتی ہیں اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف خود باخبر رہتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو بھی بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح والدین اپنے بچوں کے لیے ایک سمجھدار اور باخبر رہنما کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کچھ گیم کے ایپ ایسے ہیں جن میں بچوں کو ان سے بات کرنے کے لیے کوئی کردار مل جاتا ہے جو کھیل کھیل میں بچوں سے ان کی ذاتی معلومات نکالتا ہے اور اس کے بعد اغوا، دھوکے اور فراڈ کے حادثات درپیش آتے ہیں۔ کبھی کبھی ان میں آیڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے یا چھپا ہوا کیمرہ ہوتا ہے بظاہر تو ایسے گیم تفریح کے لیے ہوتے ہیں لیکن یہ اپنے اندر خفیہ ایجنڈا بھی رکھتے ہیں، اس طرح والدین کو اگر ٹیکنالوجی کی بنیادی باتیں معلوم نہ ہو تو والدین خود یا ان کے بچے کم علمی کی وجہ سے اس طرح کے جال میں پھنستے ہیں۔

(ب) والدین ٹیکنالوجی کیسے سیکھیں؟

آج کے دور میں ٹیکنالوجی سیکھنے کے ذرائع بہت آسان اور ہر ایک کی پہنچ میں ہیں۔ والدین اگر سیکھنے کا ارادہ کرلیں تو وہ گھر بیٹھے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ والدین یوٹیوب پر تعلیمی ویڈیو کے ذریعے مرحلہ وار سیکھیں۔ اس کے علاوہ مختلف آن لائن کورس اور تعلیمی ویب سائٹیں بھی ایسی ہیں جو بالکل ہی بنیادی اور ابتدائی درجے کی معلومات فراہم کرتی ہیں اور گیجٹ اور اپلیکیشن کو استعمال کرنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ اسی طرح والدین کسی ماہر انسان سے گذارش کرکے اپنے سوالات حل کرسکتے ہیں۔

(ج) والدین کیا سیکھیں؟

والدین کو ٹیکنالوجی کے بنیادی آلات اور ایپلی کیشنوں کا استعمال سیکھنا بہت ضروری ہے۔ انہیں سب سے پہلے موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ جیسے آلات کو درست طریقے سے استعمال کرنا آنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ایپلی کیشنوں کی باریکیوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر والدین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یوٹیوب اور گوگل جیسے پلیٹ فارموں کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاکہ بچوں کو صرف وہی مواد دکھایا جائے جو ان کی عمر اور تربیت کے لیے مناسب ہو۔ اسی طرح والدین کو پیرنٹل لاک (Parental Lock) یا پیرنٹل کنٹرول کے فیچر کے بارے میں بھی معلومات ہونی چاہیے، جن کے ذریعے موبائل یا دیگر گیجٹ پر مخصوص ایپ، ویب سائٹیں یا ویڈیو کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاس ورڈ لگانے، اسکرین ٹائم کو محدود کرنے اور گیجٹ کی سیٹنگ کو کنٹرول کرنے کے طریقے بھی والدین کو سیکھنے چاہئیں۔ اس طرح والدین اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور مثبت ڈیجیٹل ماحول فراہم کرسکتے ہیں اور انہیں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ اس کے نقصانات سے بھی بچا سکتے ہیں۔

والدین کا  ٹیکنالوجی کے چیلنجوں کو سمجھنا

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ایک اہم اور بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی نے بچوں کے لیے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں اور اس کی بدولت تعلیمی میدان میں ایک نمایاں انقلاب برپا ہوا ہے۔ جدید تعلیمی وسائل، آن لائن کلاس اور معلومات تک فوری رسائی نے سیکھنے کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور وسیع بنا دیا ہے۔ تاہم تحقیقات کے مطابق بچے روزانہ کئی گھنٹے ڈیجیٹل آلات استعمال کرتے ہیں۔ اس میں سے کچھ حصہ تعلیم کے لیے ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر وقت تفریح، گیم اور سوشل میڈیا پر صرف ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو مختلف پریشانیاں ہورہی ہیں مثلاً

  •  مسلسل لمبے وقت تک موبائل دیکھنے سے آنکھوں پر دباؤ محسوس ہوتا ہے اور بہت ہی کم عمر سے نگاہ کی کم زوری کا مسئلہ بھی پیش آتا ہے۔
  •  ایک ہی جگہ بہت دیر تک بیٹھے رہنے سے بچے سست اور کاہل ہوجاتے ہیں اور انہیں جسمانی تھکان بھی بار بار ہوتی ہے۔
  •  چونکہ گیجٹ میں بہت سارا تفریح کا سامان مل جاتا ہے اور بار بار بہت سے ویڈیو اور گیم سے گزر کر بچوں کو تنوع کا مزا اتنا آتا ہے کہ ان میں توجہ کی کمی آجاتی ہے، وہ ایک ہی چیز پر زیادہ دیر تک فوکس برقرار نہیں رکھ پاتے۔
  •  گیجٹ سے نکلنے والی شعاعیں نیند کو ٹالتی ہے اور دن بھر بار بار گیجٹ کے استعمال سے نیند میں خوابوں کی وجہ سے خلل آتا ہے۔
  •  بچے ڈیجیٹل آلات پر بہت  انحصار کرنے لگتے ہیں۔ جیسے کچھ سیکھنے سمجھنے کے لیے یا مضمون لکھنے کے لیے یا ہوم ورک کرنے کے لیے۔ ایک حد تک بچوں کی پڑھائی میں اس طرح کی مدد سود مند ہے، لیکن جب بچے ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں تو ان کی تخلیقیت متاثر ہوتی ہیں۔
  • ٹیکنالوجی کی وجہ سے بچے کئی کئی گھنٹے ایک ہی جگہ گیجٹ سے چمٹے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گھر میں اپنے خاندان والوں سے اپنے رشتہ داروں سے اور اپنے دوستوں کے ساتھ نہ زیادہ بات چیت کرپاتے ہیں اور نہ ہی گھل مل پاتے ہیں۔ اس طرح بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔
  • بچے آن لائن سیکیورٹی سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذاتی معلومات (اسکول کا نام، جانے آنے کا وقت، سالگرہ وغیرہ) کوئی بھی بہ آسانی حاصل کرسکتا ہے۔ وہ کسی بھی سائبر فراڈ والے انسان کی دوستی میں پھنس سکتے ہیں۔
  •  انٹرنیٹ کی وجہ سے بچوں کو نامناسب، فحش اور جنسی نوعیت کے مواد تک رسائی مل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ کم عمری میں ایسی باتوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں جو ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔
  • بہت سے ویڈیو میں جھوٹ، دھوکہ، بدتمیزی اور گالیوں جیسی اخلاقی برائیوں کو تفریح بناکر پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ برائی میں لطف لینے لگتا ہے۔
  •  ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل اسکرین کے استعمال، سوشل میڈیا کے دباؤ اور ڈیجیٹل مصروفیات کی زیادتی بچوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور گھبراہٹ جیسے مسائل پیدا کرتی ہے۔
  • سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر بچوں کو طرح طرح کی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں، جن کے اثرات ان کی سوچ اور جذبات پر بھی پڑتے ہیں۔ اکثر اوقات چمک دمک اور ظاہری آسائشوں کو دیکھ کر بچوں کے دلوں میں دنیا کی حد سے زیادہ رغبت پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی ناشکری، حسد اور دوسروں سے موازنہ کرنے جیسے جذبات بھی جنم لینے لگتے ہیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ: کیوں اور کیسے؟

ان تمام خطرات کے باوجود والدین کے لیے ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ترک کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آج تعلیمی میدان میں ٹیکنالوجی کی ضرورت بہت بڑھ چکی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بچے اپنے والدین کو دیکھ کر ہی روزمرہ کی عادات اور طرزِ زندگی سیکھتے ہیں۔ جس طرح والدین کھانا کھاتے ہیں تو بچے بھی کھانا کھانا سیکھتے ہیں، والدین سوتے ہیں تو بچے بھی سونا سیکھتے ہیں، والدین چلتے ہیں، بیٹھتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں تو بچے بھی انہی طریقوں کو اپناتے ہیں۔ اسی طرح جب بچے اپنے والدین کو موبائل یا دیگر گیجٹ استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ بھی ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور انہیں استعمال کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔

آج ٹیکنالوجی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نظر آ رہی ہے اور اس کی ترقی اور نئی ایجادات کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا حقیقتاً ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ والدین بچوں کو ٹیکنالوجی کا درست، متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں تاکہ وہ اس کے فوائد سے فائدہ اٹھا سکیں اور اس کے نقصانات سے محفوظ رہیں۔ اسے ڈیجیٹل پیرنٹنگ کہتے ہیں ۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ سے مراد یہ ہے کہ والدین بچوں کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کریں اور ان کی آن لائن رازداری اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب حکمتِ عملی اختیار کریں۔

نوعمر بچے اور نوجوان انٹرنیٹ پر مختلف خطرات کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں، جیسے:

سائبر بُلِنگ (آن لائن ہراسانی)

  • آن لائن شکار (Online Predators)
  • دھوکہ دہی اور فراڈ (Scams)
  • نامناسب یا غیر اخلاقی مواد (Inappropriate Content)

اس لیے ضروری ہے کہ والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہیں اور انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت دیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ میں یہ بھی شامل ہے کہ والدین بچوں کے اسکرین ٹائم کے لیے حدود مقرر کریں اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں توازن پیدا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو دوسری مفید سرگرمیوں کی طرف بھی راغب کیا جائے، جیسے جسمانی کھیل کود، مطالعہ اور سماجی میل جول تاکہ بچے گیجٹ سے چپکے ہوئے ہی نہ رہیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ کے لیے والدین کی چند تکنیکی صلاحیتوں سے آگاہی ناگزیر ہے۔

والدین اپنے بچوں کے موبائل فون کو ترتیب (setting) دے کر اس پر مختلف چیزوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں، جیسے:

  •  اسکرین ٹائم کی نگرانی (Screen Time Monitoring) اس سے والدین یہ دیکھ سکتے ہیں کہ بچے کس ایپ پر کتنا وقت گزار رہے ہیں۔
  •  والدین روزانہ کے استعمال کی حد (Daily Limits) مقرر کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے فون ایک طے شدہ وقت کی مدت کے بعد خود بخود بند ہوجاتا ہے۔
  • والدین parenting lock کا استعمال کرکے غیر ضروری اور نامناسب ایپ پر پابندی لگا سکتے ہیں۔
  • بیڈ ٹائم کنٹرول (Bedtime Control) مقرر کرنا تاکہ سونے کے وقت موبائل خود بند ہو جائے یا استعمال نہ کیا جا سکے۔
  • مواد کی فلٹرنگ (Content Filtering) کے ذریعے غیر ضروری مواد ہٹ جاتا ہے اور صرف عمر کے مطابق چنا ہوا مواد ہی اسکرین پر آتا ہے۔
  •  ایپ ڈاؤن لوڈ کی اجازت (App Approval) تاکہ بچے کوئی نیا ایپ والدین کی اجازت کے بغیر انسٹال نہ کرسکیں۔
  • لوکیشن ٹریکنگ (Location Tracking) کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچے کہاں جارہے ہیں اور ان کی خبر رہتی ہے اور اگر ان کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہو ان کو فوری مدد پہنچانا آسان ہوجاتا ہے۔
  • یوٹیوب اور سرچ کنٹرول کے ذریعے نامناسب ویڈیو اور سرچ نتائج محدود ہوجاتے ہیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ کا مطلب بچوں کو یہ سکھانا بھی ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے رہیں اور اسے کیسے استعمال کریں۔ جیسے کہ بچے اپنی آن لائن سرگرمیوں (پوسٹ) کے نتائج کو سمجھیں، دوسروں کے ڈیجیٹل حقوق کا احترام کریں اور اپنی ڈیجیٹل شناخت (Digital Footprint) کے بارے میں باخبر اور محتاط رہیں۔

یعنی بچوں کو یہ شعور دیا جائے کہ ان کی آن لائن سرگرمیاں اور باتیں مستقبل میں کبھی بھی ان کی شخصیت کے لیے ضرر رساں اور خطرناک ہوسکتی ہیں، اس لیے انہیں سوچ سمجھ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا استعمال کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارم بچوں کے تعلقات اور ان کی خود اعتمادی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل پیرنٹنگ کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ والدین بچوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ آن لائن دنیا میں مثبت اور صحت مند انداز میں برتاؤ کرنا سیکھیں۔

اس میں درج ذیل باتیں شامل ہیں:

  • آن لائن تعلقات (دوستی) کو مثبت اور صحت مند طریقے سے برقرار رکھنا۔
  • سائبر بُلنگ (Cyberbullying)کو پہچاننا اور اس کا دوٹوک جواب دینا یا اس کی شکایت درج کرانا اور بلاک کرنا۔
  • آن لائن گفتگو کرتے وقت ہمدردی اور احترام کو فروغ دینا اور نرم گوئی اختیار کرنا۔
  • بات چیت کرتے ہوئے لہجے (Tone) کا خیال رکھنا، تحقیر و تذلیل کرنے اور دل آزاری کرنے سے ممکن حد تک پرہیز کرنا۔
  • اختلافات اور تنازعات کو تعمیری انداز میں حل کرنا۔
  • آن لائن سرگرمیوں میں مناسب طور پر شرکت کرنا۔
  • مثبت اور اچھے رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔
  • صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا اور بدتمیزی سے گریز کرنا۔

ان اصولوں کے ذریعے بچوں کو یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اخلاق، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ دوسروں کے ساتھ تعلقات نبھائیں۔

ایک ایسے دور میں جہاں غلط معلومات اور جعلی خبریں عام ہو چکی ہیں، ڈیجیٹل پیرنٹنگ بچوں کو  (Critical Thinking) سوچ سمجھ کر پرکھنے کی صلاحیت سکھاتی ہے تاکہ وہ آن لائن معلومات کو سمجھداری اور غور و فکر کے ساتھ پرکھ سکیں۔ اس کے ذریعے بچے قابلِ اعتماد ذرائع اور گمراہ کن یا غلط مواد کے درمیان فرق کرنا سیکھتے ہیں۔

ڈیجیٹل آلات اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بچوں میں کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، جیسے:

  • بے چینی
  • ڈپریشن
  • نیند کی خرابی

اس لیے ڈیجیٹل پیرنٹنگ میں یہ امر شامل ہے کہ والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نظر رکھیں اور انہیں ڈیجیٹل دنیا میں ایسی صحت مند عادات سکھائیں جو ان کی ذہنی صحت کے لیے مدد گار ہوں۔

ڈیجیٹل خواندگی میں مہارت حاصل کرنا تعلیمی کامیابی اور مستقبل میں بہتر پیشہ ورانہ مواقع کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ڈیجیٹل پیرنٹنگ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بچے ایسی ضروری مہارتیں اور معلومات حاصل کریں جن کی مدد سے وہ اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں ٹیکنالوجی کو مؤثر اور درست طریقے سے استعمال کر سکیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ ٹیکنالوجی کو تخلیقیت اور اختراع کے ساتھ استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ بچوں کے اندر تجسس، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ڈیجیٹل تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تعمیری سرگرمیوں کو اپنایا جاتا ہے، جیسے:

  • کوڈنگ سیکھنا
  • ڈیجیٹل آرٹ بنانا
  • آن لائن تعلیمی پلیٹ فارموں سے سیکھنا

اس طرح بچے ٹیکنالوجی کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ اس بات پر زور دیتی ہے کہ خاندان کے افراد آپس میں آف لائن وقت گزاریں اور آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کو اہمیت دیں۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ گھر کے اندر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح حدود اور اصول مقرر کیے جائیں اور ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو خاندانی تعلقات کو مضبوط کریں اور افراد کے درمیان باہمی روابط کو بہتر بنائیں۔

ٹیکنالوجی نہایت تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے اور ہر روز نئے آلات، ایپ اور آن لائن پلیٹ فارم متعارف ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل پیرنٹنگ اس بات پر اکساتی ہے کہ والدین ان تبدیلیوں سے باخبر رہیں، اپنے بچوں کی سلامتی، شخصیت اور نشوونما پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو سمجھیں، اور اسی کے مطابق اپنی تربیتی حکمتِ عملی اور رہنمائی کے طریقوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے رہیں۔

ڈیجیٹل پیرنٹنگ کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ والدین بچوں کو آن لائن دنیا میں اپنی رازداری اور سلامتی کے بارے میں آگاہ کریں۔ اس سلسلے میں چند اہم امور یہ ہیں:

  • رازداری کے شعور کو فروغ دینا: بچوں کو یہ سمجھانا کہ اپنی ذاتی معلومات کو آن لائن اور آف لائن دونوں جگہ محفوظ رکھنا کیوں ضروری ہے، اور غیر ضروری طور پر اپنی معلومات دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا کتنا خطرناک ہے۔
  • محفوظ پاس ورڈ بنانے کی تربیت دینا: بچوں کی رہنمائی کریں کہ وہ محفوظ اور مضبوط پاس ورڈ بنائیں اور اپنی حساس معلومات یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
  • ️آن لائن ٹریکنگ کے بارے میں آگاہی دینا: بچوں کو یہ بتائیں کہ انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹیں اور ایپ صارفین کی سرگرمیوں کو ٹریک کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی پرائیویسی سیٹنگ کو سمجھ کر درست طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔
  • بچوں کے ہاتھوں میں موبائل اور دیگر ڈیجیٹل گیجٹ دینے سے پہلے درج ذیل اصول طے کر لیے جائیں:
  • اپنے ڈیجیٹل آلات کے استعمال کا وقت ___ منٹ تک محدود رکھا جائے گا۔
  •  اگر آن لائن کوئی پریشان کن یا نامناسب مواد نظر آئے گا تو فوراً والدین کو آگاہ کیا جائے گا۔
  •  انٹرنیٹ پر دوسروں کے ساتھ ہمیشہ شائستگی اور ادب کے ساتھ پیش آنا ہے۔
  • کھانے، سونے اور پڑھائی کے وقت موبائل یا کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس کا استعمال نہیں کرنا ہے۔
  • اپنی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں پوری ایمانداری سے والدین کو باخبر رکھنا ہے۔
  • ڈیجیٹل وسائل کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر نئی چیزیں سیکھنے اور مفید سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔
  • آج کے دور میں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کرنا سکھائیں اور اس کے فتنہ سے بچوں کو بچائیں، تو ہمیں خود ایک مثالی نمونہ بننا ہوگا۔ آئیے، ہم سب مل کر ایک عہد کریں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے بچوں اور خاندان کو محفوظ رکھنے اور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے مثبت تجربات فراہم کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ اس لیے ہم درج ذیل اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرتے ہیں:

  • ہم ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے لیے واضح اصول طے کریں گے۔
  • ہم بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں گے اور ان کی پریشانیوں کو سمجھیں گے۔
  • ہم پرائیویسی اور سیکیورٹی کی اہمیت کو سمجھ کر اور سیکھ کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔
  • ہم خود بھی نئی ٹیکنالوجی کے رجحانات سے آگاہی حاصل کرتے رہیں گے۔
  • ہم بچوں کو کارآمد تکنیکی صلاحیتیں سیکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
  • ہماری ہر ممکن کوشش رہے گی کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کا فائدہ ہو اور وہ منفی تجربات سے محفوظ رہیں۔

آخری اور سب سے ضروری بات

تقوی کے سچے اور گہرے احساس کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کی برائیوں سے محفوظ رہنا ممکن نہیں ہے۔ وہ اللہ کا خیال ہی ہے جو انسان کو بے حیائی کے راستے پر آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ جہاں انگلی کی ایک جنبش شیطانی دنیا میں ڈھکیل سکتی ہے وہاں اللہ کے حآضر و ناظر ہونے کا عقیدہ ہی دل کی خواہش اور انگلی کی جنبش کو بھٹکنے سے بچاسکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل پیرنٹنگ کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ فکر اس بات کی کریں کہ بچے کے دل کی زمین پر ایمان کا پودا اگ جائے اور مسلسل سیرابی سے مضبوط اور تناور ہوتا رہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

ڈیجیٹل پیرنٹگ

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223