انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس-12

شناخت کا بیانیہ اور +LGBTQIA، تعامل اور تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر محمد رضوان

پچھلے مضمون میں صنفی اضطراب اور شناخت کے حوالے سے تفصیل گزر چکی ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ شناخت، بشمول صنفی شناخت اور بالآخر اس کے تحت صنفی اضطراب جیسی حالتوں کا تعین ایک تہ دار، پیچیدہ اور کثیر الجہت عمل ہے۔ اسے محض ماحول اور جینیات کی دوئی سے نہیں سمجھا جاسکتا، اسی طرح سے یہ تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ شناخت کے تمام تر احساسات ’’معنویت کی تشکیل‘‘ (meaning making) کے عمل سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے صنفی اضطراب ہو یا شناخت کے دوسرے مظاہر، ان سب پر تحقیق اور علاج دونوں کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔

یہ پوزیشن شناخت کے موجودہ بیانیے اور انحرافی جنسی رویوں کے بیانیے کی پوزیشن سے یکسر مختلف ہے، جہاں اس بات کو مان لیا گیا ہے کہ صنفی اضطراب یا صنفی شناخت کے تمام پہلو فیصل ہو چکے ہیں (یہ ایک انتہائی مختلف فیہ بیان ہے)، کنسے اور دیگر محققین کے ذریعے دیے گئے ’’جنسی سیالیت‘‘ (sexual fluidity) کے تصورات حرفِ آخر ہیں (یہ ایک علمی جھوٹ ہے)! اس لیے صنفی اضطراب یا دیگر صنفی شناخت کے مظاہر کو جوں کا توں قبول کرنا چاہیے اور عبوری جراحتوں کا استعمال لازمی طور پر کرکے داخل کے احساس کے متعلق خارج کو بنا لینا چاہیے اور یہ کہ صنفی اضطراب اور دیگر شناخت کی حالتوں کے علاج کی تمام کوششیں بیکار اور فرسودہ ہیں اور مزید یہ کہ اس ضمن میں تحقیق بھی بے سود ہے۔

اب اس مضمون میں شناخت کے بیانیے اور +LGBTQIA کے ڈسکورس کے تعامل پر کچھ باتیں عرض کی جائیں گی۔ اس تعامل کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے شناخت کی بعض تھیوریوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا جائے گا۔ کیوں کہ اصلًا صنفی شناخت اور بالآخر جنسی شناخت کے تمام دلائل انھی تھیوریوں سے اخذ کیے جاتے ہیں۔

جنسی دوئی کے باہر کے جنسی رویوں کو فطری اور درست اور بے ضرر ٹھہرانے والے افراد، ادارے اور کیمپ انھی تھیوریوں کے حوالے دیتے ہیں۔ زیادہ تر انھی سے اپنے دلائل اخذ کرتے ہیں۔ اس لیے ذیل کے سطور میں پہلے شناخت کے بیانیے کے وہ اجزا بیان کیے جائیں گے جو +LGBTQIA سے متعلق ہیں یا اس سے تعامل کرتے ہیں اور پھر ان تھیوریوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا جو اس بیانیے کی تائید میں دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

جوڈتھ بٹلر

ہمارے نزدیک حال میں شناخت کی بحث جس نے بالآخر +LGBTQIA کے پورے ڈسکورس میں جنسی شناخت کے لیے علمی  غذا فراہم کی ہے، وہ جوڈتھ بٹلر (Judith Butler) کے تذکرے سے ہی شروع ہونی چاہیے، (حالاں کہ اس کے بیج بہت پہلے بوئے جا چکے تھے) ۔

جوڈتھ بٹلر اس وقت با حیات ہیں اور اپنی مشہور و معروف دو کتابوں کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور ہوئی ہیں۔ وہ دو کتابیں ہیں:  Gender Trouble:  Feminism and Subversion of Identity جو 1990میں شائع ہوئی اور دوسری  Bodies that matter:  On the discursive limits of sex جو 1993میں منظر عام پر آئی۔ ان دو کتابوں نے موجودہ  کوئیر تھیوری (queer theory)کی تشکیل و تشہیر میں غیر معمولی رول ادا کیا ہے۔ اس کی تیسری سب سے اہم کتاب ہمارے نزدیک  Undoing Gender ہے جو 2004میں منظر عام پر آئی اور اس نے ان دو کتابوں کے ساتھ مل کر علمی حلقوں میں کافی ہلچل پیدا کی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر صنفی شناخت، جنسی شناخت اور +LGBTQIA کے پورے ڈسکورس کو قبول عام دلوانے میں بہت اہم رول ادا کیا۔

ایسا نہیں ہے کہ جوڈتھ بٹلر کی ان دو کتابوں کے مباحث بالکل نئے تھے۔ اصلًا جوڈتھ بٹلر ایک ما بعد جدیدی، اور مابعد ساختی فلسفی ہیں، اور بنیادی طور پر لیوی اسٹروس ( Levi Strauss) اور فوکو (Michel Foucault) سے متاثر نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کا اسلوب بہت جدا گانہ ہے۔ مزید یہ کہ ان کی یہ کتابیں اس وقت منظر عام پر آئیں جو غالبًا شناخت اور بالخصوص قدیم صنفی شناخت اور جنسی دوئی کے تصور کی شکست کا زمانہ تھا اور اس وقت اس طرح کے ڈسکورس اور بیانیے فکری غذا کے لیے بے تاب تھے۔ علمی حلقوں میں ہر وہ چیز جو ساختی بیانیوں پر ضرب لگا سکتی تھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا تھا۔

یہ محض ہمارا خیال نہیں ہے بلکہ اگر قارئین چاہیں تو اس کی تصدیق 1990سے 2010تک کے شناختی بیانیوں اور جنسی شناخت کے ڈسکورس میں ہو رہے انٹلکچول ایکٹیوزم سے کر سکتے ہیں۔ جوڈتھ بٹلر کی ان تینوں کتابوں پر اور شناخت اور بطور خاص صنفی شناخت کی تشکیل پر تنقیدی کتب موجود ہیں جو قارئین چاہیں وہ اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔[1] اس میں مثبت، منفی اور آزمائشی (exploratory)تنقید شامل ہے۔

+LGBTQIA ڈسکورس کے تعامل اور اس پر اثرات کے حوالے سے جوڈتھ بٹلر کی تھیوری کے درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

جوڈتھ بٹلر صنف کے رول کی تشکیل میں صرف ماحول کو ذمہ دار بتاتی ہیں۔ اصطلاحات کے پیچیدہ جنگل اور بٹلر کے ذریعے استعمال شدہ مشکل زبان کے پردے کو اگر ہٹا دیا جائے تو اصلًا وہ وہی بات کہہ رہی ہیں جو بات اب سے پہلے کے مابعد جدیدی اور غیر ساختی فلسفی کہتے آ رہے ہیں اور وہ یہ کہ ’سماجی حقیقت‘ یا جسارت کی جاسکے تو ’حقیقت‘ بجائے خود کوئی شے نہیں ہے بلکہ حقیقت ایک تشکیل (construction) ہے جو فرد اور سماج خود کرتا ہے۔ چناں چہ صنف کا تصور اور اس کی تشکیل اور صنف کی بنیاد پر طے شدہ رول تمام دراصل صرف ایک تعمیر شدہ حقیقت ہے۔

بٹلر کا کہنا ہے کہ شناخت ’کارکردگی پن‘ (performativity) کے ذریعے اور صرف اسی کے ذریعے تشکیل پاتی ہے۔ آسان لفظوں میں ’کارکردگی پن‘  کیا ہے؟ کارکردگی پن کے تصور کے مطابق صنفی شناخت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کے پاس فطری طور پر موجود ہو۔ یعنی فطری طور پر مرد و عورت کا تصور ہی فرسودہ ہے۔ اصلًا مرد و عورت صرف تعمیر شدہ حقیقت ہیں۔ صنف ’کرنے‘ (doing) اور ’کارکردگی‘ (performance) کا ایک جاری و ساری عمل ہے۔ دوسرے لفظوں میں صنفی شناخت ایک مستحکم خصوصیت نہیں ہے بلکہ وہ ایک طرز عمل ہے جو اشاروں، زبان اور اظہار کی دیگر شکلوں کے ذریعے تعمیر کیا جاتا ہے۔ عورتوں/ لڑکیوں/ مادہ/ مونث کے لیے اشارہ، زبان اور اظہار کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں اور لڑکے/مرد/نر کے لیے مختلف۔ صنف کی تعمیر کا عمل بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جاری و ساری ہو جاتا ہے۔ کارکردگی پن تکراری  عمل کے ذریعے صنفی شناخت کی تشکیل کرتا ہے۔ مثلًا بچہ/فرد خود کو تفویض کردہ صنف/جنس کے مطابق کپڑے پہنتا ہے۔ چال ڈھال اختیار کرتا ہے تو دراصل وہ کارکردگی کے ذریعے صنف کی تشکیل کر رہا ہوتا ہے۔

اگر آپ بغور جائزہ لیں تو بٹلر کے اس مقدمے کو آپ کوئر تھیوری کے بہت سے بنیادی مقدمات  کے طور پر شناخت کرلیں گے۔ +LGBTQIA افراد کا بھی یہی کہنا ہے کہ جنس/ صنف مکمل طور پر تشکیل شدہ ہے، وہ کوئی مستحکم شے نہیں ہے۔ چوں کہ وہ تشکیل شدہ  ہے اس لیے اس کا ردتشکیل (deconstruct) بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور جنسی سیالیت کی بنا پر ہر قسم کے جنسی رویے عموم اور نارمل ہیں کیوں کہ جنسی دوئی کے تصورات بچپن سے ذہنوں میں راسخ کیے جاتے ہیں۔ اس لیے صنف کا احساس اور رول دونوں تشکیل شدہ (constructed)ہیں۔

بٹلر کی بنیادی غلطی ان کی تصور کا زمینی حقیقتوں سے بعید تر ہونا ہے۔ مثلًا وہ صنف/جنس کی تشکیل میں حیاتیات کے رول کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتی ہے۔ یہ ان جانے میں بھی ہو سکتا ہے اور جانتے بوجھتے بھی۔ اپنی کتاب ’Gender Trouble‘ میں بٹلر نے کہیں کہیں بین السطور اور ایک جگہ لفظ ’somewhat‘ کا استعمال کر کے صاف طور پر حیاتیات کے رول کا انکار کر دیا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ جس طرح کی تشکیل (construction) کر لیں، عورت بہر حال عورت ہی ہے اور مرد مرد ہی ہے۔

زنانہ/مردانہ یا مرد/عورت مختلف سطحوں پر ایک ہی نوع کی دو مختلف قسمیں ہیں۔ اس حقیقت کو چاہے آپ جس طرح سے مانیں ان کا مختلف ہونا ثابت ہے۔ حیاتیاتی طور پر ہم ثانوی جنسی اعضاءکو زیر بحث نہ بھی لائیں تو داخلی طور مرد و عورت مختلف ہیں۔ مثلًا جینیاتی طور پر‘X ’کروموسوم پر ایسے جین ہیں جو ’Y‘ کروموسوم پر نہیں ہیں۔ یہ جین بعض بیماریوں کے لیے ہیں اور بعض کا کنٹرول صرف عورتوں میں ہوتا ہے۔ یہی بات Y کروموسوم کے لیے صحیح ہے۔ عورتوں کی جینیاتی تشکیل مردوں کی جینیاتی تشکیل سے مختلف ہوتی ہے۔ مردوں میں Y کروموسوم پر X کے مقابلے میں زیادہ جین ہوتے ہیں۔ یہ واضح فرق ہے۔ ان جینوں کے کنٹرول ہونے کا طریقہ مختلف ہے۔ عورتوں کے ہارمون کا نظام مردوں کے ہارمون کے نظام سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ محض کیمیائی فرق نہیں ہے بلکہ ان ہارمون کے افراز کے تحریک (stimuli)بھی مختلف ہوتی ہے۔ عورتوں کے دماغ کی سلوٹوں کی بناوٹ اور ترکیب مردوں سے مختلف ہوتی ہے۔ ان کا حجم مختلف ہوتا ہے۔

ان تمام کی بنا پر وہ پیچیدہ رویہ جو صرف اور صرف مادہ یا خواتین میں پائے جاتے ہیں وہ دراصل اوپر بیان کیے ہوئے ان اختلافی نکات کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں جو مرد اور عورت میں مختلف فیہ ہیں اس میں تعمیر کا بہت زیادہ دخل نہیں ہوتا۔  صنفی رول جیسے خاص انداز میں کپڑے پہننا، خاص انداز میں ضمائز کا استعمال کرنا اور مختلف رول کی تشکیل میں ماحول کا غیر معمولی اثر ہو سکتا ہے۔

اس نکتہ پر قارئین +LGBTQIA کے نفسی معاشرتی ڈسکورس کا وہ بیانیہ تازہ کر لیں جس میں وہ شدومد سے جنسی دوئی کے تمام تصورات جیسے مرد و عورت کو سرے سے خارج کر دیتے ہیں اور جب انھیں ان دونوں میں حیاتیاتی فرق کے حوالے سے دلیل دی جاتی ہے تو اس کے رد کے لیے یہ ڈسکورس بٹلر کے بیانیہ کا سہارا لیتے ہیں۔

ہمارے نزدیک یہ ایک ما بعد جدیدیت زدہ حماقت ہے کہ حیاتیات کے رول کو سرے سے نظر انداز کر دیا جائے۔ جدید تحقیقات نے بالکل روز روشن کی طرح یہ ثابت کر دیا ہےکہ مادہ اور نر دو یکسر مختلف وجود ہیں اور حیاتیات کا رول بڑا غیر معمولی ہے۔ اس حوالے سے کہ بعض جین صرف X کروموسوم پر ہوتے ہیں اور خاص قسم کے رویوں کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو اس سے اتفاق نہ ہو تو بھی جدید تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بعض ہارمون بعض جین کو مادہ اور نر میں ایک الگ طریقوں سے منضبط کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ’مختلف ہونا‘ بجائے خود کسی امتیازی حیثیت کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس لیے یہ کہنا علمی بددیانتی ہے کہ مادہ اور نر میں حیاتیاتی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یا یہ کہ صنف کی تشکیل یا جنس کی تشکیل میں حیاتیات کا بہت معمولی رول ہوتا ہے۔

قارئین کی دل چسپی کے لیے یہاں ایک ڈاکیومنٹری کا تذکرہ کرنا غالبًا بے جا نہ ہوگا جس کا عنوان ’What is a women?‘ ہے۔ اور اسے ایک سیاسی مبصر میٹ ویلش (Matt Walsh)نے بنایا ہے۔ یہ ڈاکیومنٹری گو کہ علمی پہلوؤں سے اتنی مضبوط نہیں ہے تاہم اس میں نر اور مادہ یا عورت اور مرد کے حوالے سے بہت دل چسپ باتیں موجود ہیں۔ واضح ہو کہ ویلش بائیں بازو کے سخت گیر شخص مانے جاتے ہیں اور ان کے بعض مقدمات اور بیانیوں سے ہمیں بھی اختلاف ہے۔

بہرحال بٹلر کے اس نقطہ نظر کو +LGBTQIA  افراد نے اپنے ڈسکورس کی آبیاری کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔ متشدد صنفی شناخت کے ڈسکورس کے حاملین تو یہ تک کہتے ہیں کہ مرد و عورت جیسی کوئی شے ہی نہیں ہے۔

کوئیر تھیوری میں بٹلر کے پیش کردہ دعاوی  (postulates) کی بہت زیادہ اہمیت ہے[2]، اور عام طور پر بٹلر کے مقدمات کو تنقید سے بالاتر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن بٹلر پر خالص علمی تنقید کے بہت سارے پہلو ہیں ، ملاحظہ ہوں:

مختلف ثقافتوں میں صنف کی تشکیل:  بٹلر ایک خاص ورلڈویو پر ارتقا شدہ یا ارتقا پذیر  تہذیب و ثقافت میں ان نظریات کی تخلیق کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ نظریات مختلف ثقافتوں کے لیے قابلِ اعتبار ہوں گے۔ یہ ایک گہرا سوال ہے۔ بادی النظر میں یہ لگتا ہے کہ یہ آفاقی ہیں، جیسے یہ کہنا کہ ہر ثقافت میں صنف اور جنس کی کنڈیشننگ کی جاتی ہے۔ لیکن شناخت پر مبنی رول اور دیگر معاملات میں مختلف ثقافتوں میں حیرت انگیز تنوع ہے۔ کیا اس تنوع کی بھی کاکردگی پن  کے تحت تشریح کی جا سکتی ہے؟

بین طبقہ واریت (intersectionality) کو نظر انداز کرنا:  گو کہ بٹلر کے ذریعے پیش  کیے گئے تصورات کسی حد تک صنف کی تشکیل و تعمیر کی تشریح کرتے ہیں لیکن صنف کی تشکیل و تعمیر میں سیکڑوں مختلف عوامل بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جیسے نسل یا طبقہ یا دوسرے عوامل۔ ان سب سے صرف نظر کیسے ممکن ہے؟ کیا واقعی صرف کارکردگی پن ہی صنف کی تشکیل کرتی ہے؟ یا اور دیگر بہت سارے عوامل مل کر یہ عمل انجام دیتے ہیں۔ اس پر بٹلر کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ اصلًا تو یہی کارکردگی پن ہے۔ دوسرے عوامل حسب استطاعت اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک حیاتیاتی عوامل کو اس پورے فریم ورک میں قبول نہیں کیا جاتا تب تک بات ادھوری رہے گی۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ایک بار جیسے ہی یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حیاتیاتی اعتبار سے مرد و زن مختلف ہیں اسی وقت اس پورے ڈسکورس کی ہوا نکل جاتی ہے۔

کارکردگی پن پر غیر ضروری زور:  ایک اہم نکتہ جو عام طور پر بٹلر کی تنقید میں چھوٹ جاتا ہے وہ نفسیاتی مثالیہ (پیراڈائم) ہے۔ جس کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ نفسیاتی اعتبار سے خواہ اس کی وجوہ کچھ ہوں، نومولود مادہ اور نو مولود نر بنیادی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ ابھی ان نو مولودوں پر ماحول اور کارکردگی پن کا کوئی اثر نہیں ہے۔لیکن اس مقدمے  کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ تمام نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ نر و مادہ نومولود میں نفسیاتی اعتبار سے کوئی فرق ہوتا ہے۔ لیکن قدیم لٹریچر میں یہ بات مانی جاتی ہے۔ اس حوالے سے صنف کی تشکیل میں نفسیاتی پہلووں کے اعتبار سے بٹلر کے یہاں خاموشی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں یہ انتہائی اہم پہلو ہے۔ صنف کی تشکیل یا جنسی شناخت کے تصورات، ان کی معنویت اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر وسیع تر کینوس کے حوالے سے گفتگو ضروری ہے۔

بٹلر کے ذریعے دیے گئے صنفی شناخت اور جنسی شناخت کے بیانیوں پر تنقید کا آخری پہلو ان کی وہ مزاحمت ہے جو وہ شناخت اور درجہ بندی جیسے مرد و عورت یا لڑکا، لڑکی اور رول کی درجہ بندی کے تعریفوں کے حوالے سے ان کے یہاں ملتی ہے۔ یعنی وہ ان تعریفوں کو نہیں مانتی ہیں یا بادل ناخواستہ مانتی ہیں۔ اب آپ اس کو +LGBTQIA کے ڈسکورس سے ملالیں، اس ڈسکورس کی بھی خاصیت یہی ہے کہ یہ جنسیت کی واضح درجہ بندی کا سرے سے انکار کر دیتا ہے۔ (قارئین کو کنسے کے تصور جنس پر پچھلے مضامین کے مباحث دیکھ سکتے ہیں جس میں وضاحت کی گئی ہے مرد و عورت کی طرف میلان کوئی مجرد شے نہیں ہے بلکہ ایک سرے پر مجرد دگر جنسیے (heterosexual) ہیں اور ایک سرے پر مجرد ہم جنسیے (homosexual)اور درمیان میں ہر قسم کی جنسیت موجود ہوتی ہے۔ یعنی درجہ بندی رول نر اور مادہ یہ کوئی مستقل درجے نہیں ہیں!) اصلًا بٹلر اسی بیانیہ کو دوسرے انداز میں پیش کرتی ہیں اور درجہ بندی اور مستقل تقسیم کی تعریفوں کے خلاف نظر آتی ہیں۔

بٹلرکے علاوہ کئی اور اہم تھیوری ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں شناخت اور اس سے جڑی جنسی شناخت اور +LGBTQIA اور جنسی رخ کو براہ راست نہیں، لیکن ان تمام پہلوؤں کی نفسیاتی حرکیات پر بات کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ شناخت اور بطور خاص جنسی شناخت اور صنفی اضطراب کو دوسرے زاویوں سے بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ ہم یہاں کریں گے جو صنفی شناخت اور جنسی شناخت، صنفی اضطراب کے حوالے سے مفید ہے۔ اسے جینڈر اسکیما (schema)تھیوری کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے سینڈرا بیم (Sandra Bem) نے پیش کیا ہے۔

صنفی اسکیما کیا ہے؟

صنفی اسکیما لا شعور میں موجود وہ شبکے (network)، تصورات ہیں جو صنفی شناخت سے متعلق معلومات کو منضبط کرتے ہیں۔ ان کی درج ذیل خاصیتیں ہوتی ہیں:

صنف سے متعلق معلومات کو منضبط کرنا اور انھیں پروسیس کرنا۔ اس میں مردانہ اور زنانہ رویوں، علامات، خاصیتوں کو علیحدہ کرنا اور اپنے احساس کے مطابق اپنانا شامل ہے۔

رویوں پر اثر ڈالنا:  صنفی اسکیما فرد کے رویوں کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ رویے صنفی درجہ بندی کے حوالے سے ہوتے ہیں۔

صنفی اسکیما کی فعالیت:  صنفی اسکیما خودکار (automatic) اور لاشعوری طور پر فعال ہوتے ہیں جب فرد (بچہ) صنف/جنس سے متعلق کسی معلومات سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

صنفی اسکیما کی تشکیل:  صنفی اسکیما بچپن میں بہت ابتدائی ایام میں فیصل ہو جاتے ہیں۔ جیسے جیسے بچے صنف سے متعلق رویوں اور علامات کو اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتے ہیں۔

صنفی شناخت کی تشکیل و تعمیر میں کردار:  صنفی اسکیما فرد کی صنفی شناخت کی تعمیر و تشکیل میں بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بچے صنف کا شعور حاصل کرتے ہیں ویسے ویسے وہ سماج میں موجود صنفی رول کو اپنے اندرون میں شامل کرتے جاتے ہیں۔

اسکیما لچک دار ہوتے ہیں:  اسکیما کی لچک پذیری سے مراد یہ ہے کہ وہ سماجی رویوں، صنفی رول اور صنف سے متعلق مختلف تصورات سے ایکسپوژر کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں۔

سینڈرا بیم کی صنفی اسکیما کی تھیوری اسکیما کی اوپر بیان کردہ خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اور صنفی تشکیل کا ایک نسبتًا  کلی (holistic) نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔

موجودہ کوئیر تھیوری اور +LGBTQIA ڈسکورس سے موازنہ کرنے پر اور اس کے تعامل کو بغور دیکھنے پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ صنفی اسکیما—

ماحول سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اب ذرا تصور کریں، ایک معصوم بچہ ہے جو اپنے آس پاس +LGBTQIA کی مبہم گنجلک اور عجیب و غریب اصطلاحات کو سنتا ہے۔ عجیب و غریب حرکتیں دیکھتا ہے۔ اس پر صنف کی تقسیم کے دسیوں کالم انڈیل دیے جاتے ہیں۔ وہ مستقل ایک ماحول کی زد میں ہے جہاں جنسیت اور صنف پر غیر معمولی زور دیا جا رہا ہے۔ تو اس کے ‘صنفی اسکیما’ کی کیفیت کیا ہوگی۔ کیا یہ صنفی اسکیما غیر فطری طور پر عجیب و غریب اصطلاحات اور رویوں کو پروسیس کرکے فی الواقع ایک معتدل صنفی احساس کی تشکیل میں آسانی سے کام یاب ہو سکے گا۔ حق بات ہے کہ اس طرح کے ماحول میں صنفی اسکیما پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے۔ اور سینڈرا بیم کی تھیوری واضح طور پر یہ ثابت کرنے میں کام یاب ہوتی ہے کہ صنفی اسکیما ایک حقیقت ہے۔ یقینًا اس پر بحث ہے کہ اصلًا یہ تھیوری مرد و زن کی دوئی ہی میں صنفی اسکیما کی تشریح کرتی ہے۔ لیکن اس سے اسکیما کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ صنفی اسکیما حقیقت ہے۔ اگر جینیاتی اثر کے تحت کچھ ‘افراد’ صنفی اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں تو ان کے صنفی اسکیما پر کام کیا جا سکتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ صنفی شناخت/ جنسی شناخت میں ماحول کا کتنا دخل ہے اور جین کا کتنا! اس لیے صنفی اسکیما جین کے کتنے تابع ہیں اور ماحول کے کتنے؟ اس پر مستقل تحقیق کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ صنفی اسکیما ماحول سے بہت زیادہ اثر لیتے ہیں۔ تو لامحالہ ماحول کے ’بڑھتے ہوئے‘ اثر کو ماننا پڑے گا۔ یہاں اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ بعض بچے/ افراد پھر بھی صنفی اضطراب اور دیگر شناخت کے مسائل سے گزر سکتے ہیں۔ لیکن ماحول کا دباؤ کم کرنے سے یہ ممکن ہے کہ زیادہ تر شناخت کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس کے باوجود جو افراد / بچے اس قسم کی حالتوں کا شکار ہوں گے ان کے لیے سپورٹ کا نظام بنایا جا سکتا ہے۔[3]

اصل بات وہی ہے کہ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں کون سا نقطہ نظر زیادہ بہتر ہے۔ سینڈرا بیم کی تھیوری کے سلسلے میں +LGBTQIA کا ڈسکورس متعصب ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ تھیوری دراصل جنسی دوئی کو ہی خاطر میں لاتی ہے اور باقی صنفی/جنسی شناختوں کا احاطہ نہیں کرتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ اسکیما کی لچک پذیری کے تحت اس نکتے کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ جنسی دوئی کے باہر کی صنفی/جنسی شناخت کی تشکیل میں ماحول کا غیر معمولی رول ہو سکتا ہے۔ ایک دل چسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ سینڈرا بیم کے ذریعے دیا گیا اسکیما کی لچک پذیری کا تصور موجودہ دور میں یکایک بڑھتے ہوئے شناختی مسائل کے معاملات کی وضاحت کر سکتا ہے۔ ٹک ٹاک، ریل، اور +LGBTQIA کے پروپیگنڈے کے زیر اثر بچوں کے صنفی اسکیما غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہے ہیں اور وہ اپنے آپ کو صنفی اضطراب اور جنسی شناخت کے پیچیدہ تصورات میں الجھا ہوا پا رہے ہیں۔ ہمارے اس دعوے کا ثبوت وہ تحقیقات ہیں جن میں صنفی اضطراب کی بنا پر افراد عبوری سرجریز /طریقوں (Transitions Surgeries/Processors)  کا استعمال کرتے ہوئے ’عبور‘(transitions) ہوئے۔ لیکن پھر دوبارہ اپنی پیدائش کے وقت تفویض کردہ شناخت پر لوٹ گئے۔ یقینًا اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بعض افراد عبوری سرجری کے بعد مطمئن رہے اور دوبارہ اپنی تفویض کردہ جنس پر نہیں لوٹے۔ لیکن اس قسم کی تحقیقات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں کہ ایسے افراد کا فیصد کتنا ہے؟ وہ کس جغرافیائی خطے سے ہیں؟ ان کے اطمینان کا دورانیہ کتنا ہے؟ کتنے سال سے وہ ‘عبوری’ زندگی گزار رہے ہیں٫ اس قسم کی تحقیقات کی غیر موجودگی میں ایسے دعوے جو عبوری سرجریوں کو صنفی اضطراب کا عمدہ حل بتاتے ہیں، اصل میں جھوٹ کے پلندوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے افراد خال خال ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض ایک عرصے تک ٹھیک ٹھاک رہ رہے ہوں لیکن اسے عموم اور ‘نارمل’ ماننے کے لیے ٹھوس تحقیقات کا ہونا ضروری ہے۔

آخری بات

شناخت کے بیانیے +LGBTQIA  کے ڈسکورس کے تعامل کا مطالعہ ہمیں اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ یہ ڈسکورس شناخت کے پیچیدہ تصورات کو جنسی شناخت کو جواز دینے کے لیے اپناتا ہے۔ اور بڑی چالاکی سے اس کی باریکیوں (nuances)کو غائب کر دیتا ہے جو ماحول اور شناخت سے متعلق ہیں۔ یہ ان تھیوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جو اس کے بیانیے کو تقویت پہچاتی ہیں اور ان تھیوریوں سے صرف نظر کرلیتا ہے جو اس کے بیانیے کی غیر موزونیت کو دکھاتی ہیں یا اسے چیلنج کرتی ہیں یا ایک ایسا نقطہ نظر پیش کرتی ہیں جہاں اس ڈسکورس کے لیے گنجائش کم ہوتی ہے یا ختم ہوتی نظر آتی ہے۔

اگر شناخت کے بیانیہ کے حوالے سے اس پورے ڈسکورس سے اعلی اکادمک مہارت کے ساتھ ایک متبادل جنس کی تھیوری کی تشکیل پر کام کیا جائے تو یہ بہت زیادہ مشکل نہیں کہ ایک متبادل ڈسکورس اور بیانیے کے لیے گنجائش اور قبولیت دونوں حاصل ہو جائیں۔ (جاری)

حوالہ جات


[1] Jagger, Gill (2008). Judith Butler: sexual politics, social change and the power of the performative. New York: Routledge

[2] Morton, Donald (1996). The Material Queer: A Lesbigay Cultural Studies Reader. Westview Press

[3] Ahmed, Sara (2010). The Promise of Happiness. Duke University Press Durham, N.C.

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau