دین کی نصرت میں پیچھے نہ رہیں

محی الدین غازی

(اسلام پسند عورتوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دین کی نصرت کے لیے مرد تو جان کھپائیں اور وہ اس کشمکش سے بالکل ہی کنارہ کش رہیں۔ )

قرآن کریم کی آیتیں اور عہد رسالت کی مثالیں صاف بتاتی ہیں کہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے مردوں کا کوشش و محنت کرنا کافی نہیں ہے، عورتوں کو بھی اس میدان میں اترنا ہوگا۔ افسوس کہ دینِ حق کے تعلق سے اس ذمے داری کو بہت سے مردوں نے بھی بھُلادیا اور بہت سی عورتوں نے بھی۔قرآن کریم کی یہ دوآیتیں مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے کافی ہیں:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ یأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَینْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَیقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَیؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَیطِیعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ سَیرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِیزٌ حَكِیمٌ۔‏ وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا وَمَسَاكِنَ طَیبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ۔‏ [التوبة: 71، 72]

(مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجالاتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا،بے شک اللہ غلبے والاحکمت والاہے۔ ان مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعده فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزه محلات کا جو اُن ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کام یابی ہے۔)

اسلامی تحریک کے عظیم رہ نما مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ نے ان آیتوں کی بہترین تفسیر بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں:

‘‘اسلام جس خدا کی بندگی کی طرف بلاتا ہے وہ عورتوں کا بھی ویسا ہی خدا ہے جیسا مردوں کا ہے۔ جس دین کو حق کہتا ہے وہ عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی حق ہے جیسا مردوں کے لیے ہے۔ جس نجات کو مقصود قرار دیتا ہے اس کی ضرورت عورتوں کو بھی ویسی ہی ہے جیسی مردوں کو ہے۔ جس دوزخ سے بچانا چاہتا ہے وہ عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی خوف ناک ہے جتنی مردوں کے لیے ہے اور جس جنت کی امید دلاتا ہے وہ عورتوں کو بھی اپنی ہی کوشش سے مل سکتی ہے، جس طرح مردوں کو اپنی کوشش سے۔ اگر کسی مرد کی نجات کے لیے یہ بات کافی نہیں ہوسکتی کہ اس کی بیوی یا ماں یا بہن ایمان لائی تھی اور خدا کی خوش نودی کے لیے کوشش کرتی رہی تھی، تو ظاہر ہے کہ کوئی عورت بھی محض اس بنا پر نجات نہیں پاسکتی کہ اس کا شوہر یا باپ یا بھائی ایمان لایا تھا اور اس نے اپنے خدا کو خوش کرنے کے لیے جان کھپائی تھی۔ خدا کے ہاں کوئی شخص کچھ بھی نہیں پاسکتا جب تک کہ اس نے خود کچھ پانے کی کوشش نہ کی ہو۔ اس لیے اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کو یکساں اپنی اپنی نجات کی فکر ہو۔ ہر ایک دل و جان سے وہ خدمات بجالائے جو اسے خدا کی سزا سے بچائیں اور اس کے انعام کا مستحق بنائیں۔ کوئی مرد یا عورت اس طرح اپنے آپ کو دوسروں کے ساتھ نہ باندھ لے کہ اسی کے ساتھ بندھے بندھے دوزخ میں جاپہنچے اور نہ کوئی مرد یا عورت ایسی اندھوں کی سی زندگی بسر کرے کہ اس کے اپنے گھر میں دین و ایمان کی روشنی موجود ہو مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔’’(رودادجماعت اسلامی، پنجم)

اسلامی تحریک میں عورتوں کا مقام

فرد کی زندگی کے تمام پہلوؤں، معاشرے کے تمام شعبوں اور ریاست کے تمام اداروں میں اسلام جاری وساری ہوجائے، یہی اقامتِ دین ہے۔ دینِ اسلام کی اقامت مسلم امت کے وجود کا مقصد اور اس کے مقام و منصب کا تقاضاہے۔ دورِ حاضر میں اسلامی تحریک اسی لیے برپا ہوئی ہے تاکہ پوری امت کو یہ فرض یاد دلائے، اسے تیار کرے اور اس کی رہ نمائی کرے۔ یہ کام بہت بڑا اور نہایت دشوار ہے اور اس کی کام یابی کے لیے ضروری ہے کہ مرد وعورت سب اس کام کے لیے آگے بڑھیں۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:

‘‘ہمارے اس کام میں عورتوں کی شرکت اور تعاون کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مردوں کی شرکت اور تعاون کی ہے۔ انسانی زندگی میں آپ برابر کی حصہ دار ہیں اور زندگی کے جو پہلو آپ سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان پہلوؤں سے کسی طرح بھی اہمیت میں کم نہیں ہیں جو مردوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس طرح گاڑی کے دو پہیوں میں سے کوئی بھی اس وقت تک ٹھیک نہیں چل سکتا جب تک دوسرا پہیہ اس کا ساتھ نہ دے، اسی طرح انسان کی اجتماعی زندگی کا نظام بھی کبھی ٹھیک نہیں چل سکتا جب تک کہ اس کے چلانے میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی برابر کا حصہ نہ لیں۔ خدا نے اس گاڑی کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ یہ دو پہیوں پر حرکت کرتی ہے اور اگر ایک پہیہ جم جائے یا الٹی حرکت کرنے لگے تو تنہا دوسرا پہیہ اس کو لے کر زیادہ دور تک اور زیادہ دیر تک نہیں گھسیٹ سکتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی بنا پر ہر اجتماعی تحریک عورتوں کی شرکت اور تعاون کو اہمیت دینے پر مجبور ہے۔ مگر خصوصیت کے ساتھ اسلامی تحریک تو اس کو بہت ہی زیادہ اہمیت دیتی ہے۔’’(روداد، پنجم)

دین کی دعوت آپ کی زندگی کا مشن ہے

انسانوں کے سامنے دین کی دعوت پیش کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ کام سچا جذبہ اور اونچی ہمت چاہتا ہے۔ہر انسانی سماج مردوں اور عورتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مردوں میں اسلام کے تعارف کا کام تو مسلمان مرد اچھی طرح کرسکتے ہیں، لیکن عورتوں میں اسلام کے تعارف کے لیے مسلم عورتوں کوسامنے آنا چاہیے۔ وہی یہ کام بہتر طریقےسے کرسکیں گی۔

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مکہ شہر میں جب اللہ کے رسول ﷺ نے دین کی دعوت کا آغاز کیا تو وہاں کی عورتوں میں یہ دعوت زیادہ تر اسلام لانے والی عورتوں کے ذریعے پہنچی۔ عورتیں اسلام قبول کرتیں پھر عورتوں میں اسلام کی دعوت پیش کرتیں۔ حضرت ام شَریکؓ اس کی ایک شان دار مثال ہیں۔

ام شریکؓ مکہ میں رہتی تھیں، اسلام سے متاثر ہوئیں اور اسے دل سے قبول کرلیا۔ پھر راز داری کے ساتھ قریش کی عورتوں سے جاکر ملاقاتیں کرنے لگیں۔ انھیں اسلام کی خوبیاں بتاتیں، اسلام کی دعوت دیتیں اور ان کے اندر اسلام کا شوق پیدا کرتیں۔ آخر ایک دن قریش کو ان کے اسلام لانے اور قریش کی عورتوں میں اسلام پھیلانے کی خبر مل گئی۔ انھوں نے ان پر بہت ظلم کیے مگر وہ ثابت قدم رہیں۔(حلیةالأولیاء)

حضرت ام شریکؓ کے نمونے سے حوصلہ پاکراگر آپ نے یہ طے کرلیاہے کہ آپ بھی گھر گھر جاکر عورتوں میں دین کا پیغام پہنچائیں گی تو اس کے لیے اپنے آپ کو علمی لحاظ سے تیار کریں۔ کیوں کہ دین کی دعوت کا کام تیاری چاہتا ہے۔

آپ کے ہاتھوں تبدیلی آسکتی ہے

عام طور سےگھر، خاندان اور سماج کے بڑے فیصلے مرد کیا کرتے ہیں۔ وہی پنچ اور سر پنچ ہوتے ہیں۔ لیکن عورت اگر مؤثر شخصیت کی مالک ہو تو وہ پوری قوم کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

سیرت کی کتابوں میں ایک خاتون کا تذکرہ ہے، اللہ کے رسول ﷺ سے اس کی ملاقات سفر کے دوران ہوئی، پہلے وہ خود مسلمان ہوئی پھر بڑی حکمت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے اسلام قبول کرنے کی تجویز رکھی۔

ہوا یہ کہ نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے، راستے میں پانی ختم ہوگیا، تلاش کرنے پر اس عورت کے پاس دو مشکیزے پانی ملا، اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی اجازت سے مشکیزوں سے پانی لیا، سب نے پانی پیا اور اپنے برتنوں میں بھرلیا، مشکیزوں میں پانی پھر بھی کم نہیں ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اچھی خاصی کھجوریں جمع کرکے اسے ایک کپڑے میں باندھ کر دے دیں۔ وہ عورت نبی کریم ﷺ کی برکت اور حسنِ اخلاق سے بہت متاثر ہوئی اور اسلام قبول کرلیا۔ پھر وہ اپنے قبیلے گئی۔ انھیں پورا واقعہ بتایا اور ان کے سامنے اللہ کے رسول ﷺ کی خوب خوب تعریف کی۔ لیکن اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں انھیں نہیں بتایا۔ کچھ عرصے بعد مناسب موقع دیکھ کر اپنے قبیلے کے لوگوں سے کہا : کیا ہی اچھا ہو اگر تم لوگ اسلام قبول کرلو۔ راوی کے الفاظ ہیں: انھوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔( صحیح بخاری)

بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے، وہ تنہا خاتون اپنے پورے قبیلے پر اس طرح اثر انداز ہوئیں کہ سب کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرلیا۔

اقدامی سوچ پیدا کریں

آپ لڑکی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ زندگی کے بڑے فیصلوں اور منصوبوں کے لیےدوسروں پر انحصار کریں۔ جس طرح حوصلہ مند لڑکے اپنے مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں اور ان میں رنگ بھرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں اسی طرح آپ بھی مستقبل کے خواب بُنیں اور ان کی تعبیر کے لیے کوشش ومحنت کریں۔

اسلام آپ کی زندگی کا مشن ہے، تو اس مشن کی تکمیل کے لیے طریقے خود سوچیں۔آگے بڑھ کر پروگرام بنائیں اور انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے پیش قدمی کریں۔

یہاں ہم ایک واقعہ ذکر کریں گے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات کے اندر اقدامی سوچ کتنی زبردست ہوا کرتی تھی۔

ملک عراق کے شہر میسان کے لوگ ایک ایرانی سپہ سالار کی قیادت میں مسلمانوں کے خلاف اکٹھا ہوئے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ مردوں کی فوج لے کر ان کے مقابلے کے لیے نکلے۔ عورتوں کو پیچھے کیمپ میں چھوڑ دیا۔ ان کے درمیان ایک صحابیہ حضرت ازدہ بنت حارثؓ بھی تھیں۔ انھوں نے سب عورتوں کو جمع کیا اور کہا: دیکھو مرد تو سب دشمن کا سامنا کررہے ہیں، ہم یہاں تنہا ہیں۔ ایسے میں دو خطرے ہیں، ایک تو یہ کہ دشمن کو پتہ چل جائے کہ ادھر ہم تنہا ہیں، وہ ہمارے اوپر حملہ آور ہوجائے، اور ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کہیں دشمنوں کی تعداد زیادہ ہو اور وہ مسلمانوں کو شکست دے دیں۔ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ ہم سب وہیں نکل چلیں، اس سے ایک تو دشمن کے ہمارے اوپر حملے کا خطرہ ٹل جائے گا اور دوسرے دشمن سمجھے گا کہ مسلمانوں کے لشکر کے پاس پیچھے سے مدد آگئی ہے اور اس کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ سب عورتوں نے ان کی رائے سے اتفاق کیا،اپنی اوڑھنیوں سے پرچم بنائے، خود انھوں نے ایک بڑا علم بنایا اور لشکر کی شکل بناکر نکل پڑیں۔ حضرت ازدہؓ رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے آگے تھیں۔ عورتوں کا یہ لشکر وہاں پہنچا تو جنگ جاری تھی، جب دشمنوں نے بہت سے جھنڈوں کو لہراتے ہوئے مسلمانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو وہ یہی سمجھے کہ مسلمان فوج کے پاس کمک آپہنچی ہے۔ حضرت ازدہؓ کی چال کام یاب رہی، دشمن سراسیمہ ہوکر بھاگنے لگا اور مسلمانوں نے ان پردھاوا بول کر اچھی طرح سبق سکھادیا۔ (بلاغات النساء)

عام طور سے مردوں کو عورتوں کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہماری روشن تاریخ میں بہادر عورتوں نے مردوں کی حفاظت کے لیے نہایت جرأت مندانہ اقدام کی زبردست مثالیں قائم کی ہیں۔

مضبوط موقف والی بنیں

حضرت طُلَیبؓ کو جب اسلام کی دولت نصیب ہوئی تو وہ اپنی والدہ اروی بنت عبدالمطلب کے پاس گئے، جو پیارے نبیﷺ کی پھوپھی تھیں۔ان سے کہا: امی جان میں نے محمد کی پیروی کرلی ہے اور اللہ رب العالمین پر ایمان لے آیا ہوں۔ ماں نے کہا: وہ تمھارے ماموں زاد بھائی ہیں، واقعی وہ تمھارے سہارے اور پشت پناہی کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ بخدا اگر ہمارے اندر مردوں جیسی قدرت و طاقت ہوتی تو ہم اس کی پیروی بھی کرتے اور اس کا دفاع بھی کرتے۔ تب بیٹے نے کہا: امی جان اسلام قبول کرنے اور نبی کی پیروی کرنے میں اب آپ کے سامنے کیا رکاوٹ ہے، اب تو آپ کے بھائی حمزہؓ بھی اسلام لاچکے ہیں؟ انھوں نے کہا: ذرا انتظار کرکے دیکھ لوں میری بہنیں کیا کرتی ہیں، پھر میں بھی ان میں شامل ہوجاؤں گی۔ بیٹے نے کہا: ماں، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ چلیں، انھیں سلام کریں، ان کی تصدیق کریں اوراللہ کے تنہا معبود ہونے کی گواہی دیں۔انھوں نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت ارویؓ اسلام لانے کے بعد اپنی زبان سے نبی ﷺ کو تقویت پہنچانے میں لگ گئیں۔ وہ اپنے بیٹے کی بھی ہمت بڑھاتیں اور پیارے نبیﷺ کی نصرت وخدمت میں سرگرم رہنے پر ابھارتیں۔(مستدرک حاکم)

عقبہ بن ابی معیط اسلام کا سخت دشمن تھا، اللہ کے رسول ﷺ کو ہر طرح سے تنگ کرتا تھا۔ ایک دن اس کی شرارت پر حضرت طُلَیبؓ نے اس کی خبر لے لی، اس نے حضرت ارویؓ کے پاس جاکر شکایت کی اور کہا: دیکھو یہ تمھارا بیٹا محمد کی حمایت کرتا ہے، اسے سمجھالو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ عظیم ماں نے اپنے بیٹے کی حوصلہ شکنی نہیں کی اور عقبہ سے کہا: محمدﷺ کی حمایت ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا، ہمارے مال اور ہماری جانیں ان کے لیے فدا ہیں۔ (الکامل فی التاریخ)

حضرت اروی ؓ نے پہلے تو سماج کی نگاہ سے دیکھا اور سوچا کہ عورت ذات اتنا بڑا کام نہیں کرسکتی ہے۔ پھر خاندان کے دائرے میں قید ہوکر سوچا کہ سب بہنیں جو کریں گی وہی وہ بھی کریں گی۔ لیکن ایمان کی قوت سے سرشار بیٹے کے ہمت دلانے پر نہ صرف یہ کہ اسلام میں داخل ہوگئیں، بلکہ اس راز سےبھی آشنا ہوئیں کہ ایک تنہا عورت بھی باطل قوتوں کے علی الرغم حق کی تائید اور دینِ حق کا دفاع کرسکتی ہے۔

مضبوط قوت ارادی کی روشن مثال

باپ اور بھائی اسلام کے سخت دشمن، اس کے باوجود عقبہ کی بیٹی ام کلثوم ؓنے اسلام قبول کرلیا، اور یہی نہیں بلکہ سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کا ارادہ بھی کرلیا۔اور جب کوئی رفاقت کے لیے نہیں ملا تو تنہا ہی نکل پڑیں۔ راستے میں قبیلہ خزاعة کا ایک آدمی ملا۔ اس قبیلے سے اللہ کے رسول ﷺ کا دوستی کا معاہدہ تھا۔ اس نے پوچھا کدھر کا ارادہ ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں اللہ کے رسولﷺ کے پاس جانا چاہتی ہوں لیکن مجھے راستہ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا میں آپ کو مدینہ پہنچادوں گا۔ وہ ایک اونٹ لے آیا، انھیں بٹھایا اور اسے لے کر مدینے لے آیا۔حضرت ام کلثوم ؓکہتی ہیں وہ بہترین ساتھی تھا، اللہ اسے جزائے خیر دے۔ وہ آکر مدینہ میں رکیں اور اللہ کے رسولﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں اپنے دین کو بچانے کے لیے آپ کے پاس بھاگ کر آئی ہوں، مجھے پناہ دیجیے، اور ان کی طرف واپس نہ لوٹائیے، ورنہ وہ مجھے دین بدلنے پر مجبور کریں گے اور بہت ستائیں گے اور میرے اندر تعذیب برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی۔ اللہ کو ان کی یہ ادا بہت پسند آئی اور ان کے حق میں قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوئیں۔ بعد میں ان کے دو بھائی آئے اور معاہدے کے تحت انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کوحوالے کرنے سے منع کردیا اور کہا کہ مومن عورتوں پر یہ معاہدہ منطبق نہیں ہوتا ہے۔ (صفة الصفوة)

اپنے ذاتی فیصلے سے اسلام قبول کرنا، گھر کے تمام مردوں کی ناراضی اور دشمنی کو خاطر میں نہ لانا، وطن سے ہجرت کرجانا، اور وہ بھی تنہا ہی نکل پڑنا اور یہ سب کچھ اس زمانے اور علاقے میں کرنا جہاں خطرات بہت زیادہ اور عورت نہایت مجبور سمجھی جاتی تھی، ناقابلِ یقین باتیں لگتی ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے عورت کے اندر یہ قوت ارادی ودیعت کی ہے اور ایمان اسے بیدار کردیتا ہے۔

اسلامی جدوجہد کے لیے زینب غزالی کی مثال

ایک عورت اسلامی کاز کے لیے کتنی زیادہ قربانیاں دے سکتی ہے، یہ ہمیں زینب غزالیؒ سے سیکھنا چاہیے۔

زینب غزالی مصر میں 1917 ء میں پیدا ہوئیں، ان کے والد عالم دین تھے، گیارہ سال کی ہوئیں تو والد کا انتقال ہوگیا۔بڑے بھائی کی مخالفت کے باوجود انھوں نے سرکاری اسکول میں داخلہ لیااور امتیازی نمبرات سے کام یاب ہوتی رہیں۔ اسکول کی تعلیم کے ساتھ وہ بڑے علمائے دین کے درس کی مجلسوں میں حاضری بھی دیتی رہیں اور اس طرح دینی علوم میں بھی مہارت حاصل کرلی۔میٹرک کے بعد مصر کی سب سے بڑی نسائی تحریک ’خواتین یونین‘ میں شامل ہوئیں اور اپنے زور خطابت سے اس میں قائدانہ مقام حاصل کرلیا۔

بعد میں انھیں احساس ہوا کہ ایک اسلامی نسائی تحریک برپا کرنی چاہیے جو اسلام کی روشنی میں مسلمان عورت کو اس کے حقیقی رول سے آشنا کرائے۔ انھوں نے ’ مسلم خواتین‘ (السیدات المسلمات) کے نام سے جمعیت قائم کی اور تھوڑے ہی وقت میں سماج کی ممتاز خواتین کو اس میں شامل کرلیا۔ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کا تعارف اخوان المسلمون سے ہوا اور وہ امام حسن البنا کی دعوت پر اس میں شامل ہوگئیں۔ البتہ جمعیت کو برقرار رکھا۔ 1954ء میں اخوان کے افراد کو جیلوں میں بھر دیا گیا تو انھوں نے قیدیوں کے خاندانوں کو آگے بڑھ کر سہارا دیا اور ان کی ہر طرح سے مدد کی۔جمال عبدالناصر نے بہت کوشش کی کہ وہ اس سے سمجھوتا کرلیں اور اپنی جمعیت کو اشتراکی یونین سے جوڑ دیں لیکن وہ تیار نہیں ہوئیں، ان کے سامنے بڑے آفر رکھے گئے لیکن انھوں نے سب ٹھکرادیے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمارے ساتھ سمجھوتا کرلیں تو آپ کو سماجی امور کی وزارت دے دی جائے گی، انھوں نے ایمان افروز جوا ب دیا: اسلام کی دولت رکھنے والوں کو عہدے اپنی چاہت میں گرفتار نہیں کرپاتے ہیں۔ آخر کار 1965 میں انھیں بھی جیل میں بند کردیا گیا اور چھ سال تک اتنی شدید اذیتیں دی گئیں کہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن وہ صبر واستقامت کا پیکر بنی رہیں۔

جیل سے نکلیں تو دنیا بھر میں دعوتی وتحریکی اسفار شروع کردیے۔ اس دوران انھوں نے 39 مرتبہ حج کے لیے سفر کیا اور سیکڑوں دعوتی اسفار کیے۔ ان کا انتقال 2005 میں ہوا۔ان کی دعوتی جدوجہد نصف صدی پر مشتمل ہے۔

طاقت ور بنیں، اپنی آبرو کی حفاظت خود کریں

شام کی سرزمین پر مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان پے در پے معرکے ہورہے تھے۔ ایک معرکے میں کچھ مسلمان خواتین قیدی بنالی گئیں۔ ان میں حضرت خولہ بنت ازورؓبھی تھیں۔انھوں نے عورتوں کے درمیان ایک جوش سے بھرپور تقریر کی، ان کے اندر کی حمیت وغیرت کو بھڑکایا۔ ان سے کہا: کیا تم اپنے لیے یہ پسند کرو گی کہ ان رومیوں کی باندیاں بن جاؤ، تمھارے بچے ان کے غلام بنیں۔ تمھاری شجاعت اور جواں مردی کہاں ہے جس کا چرچا عرب کے قبیلوں میں ہوتا ہے، کیا تم اپنی بہادری سے ہاتھ دھوچکی ہو، میں سمجھتی ہوں ہمارے لیے قتل ہوجانا غلامی کی ان بیڑیوں میں زندہ رہنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اس پر حضرت عفرہ ؓنے کہا: خولہ تمھاری بات درست ہے، ہماری بہادری اور جنگی مہارت پر دنیا گواہ ہے۔ لیکن کیا کریں، یہ تو تلوار کے جوہر دکھانے کا وقت تھا، مگر دشمن نے بے خبری میں ہم پر حملہ کردیا، اور اب ہتھیار کے بغیر تو ہم بھیڑ بکریوں کی طرح ہیں۔ اس پر خولہؓ نے پھر دہاڑ کر کہا: غیور قوم کی بیٹیو! کیا تم اس کے لیے راضی ہوجاؤ گی کہ ان بدبختوں کی ناجائز اولادیں تمھارے پیٹ میں پلیں۔ کیا موت اس سے بہتر نہیں ہے؟؟

عفرہؓ نے کہا: اللہ کی قسم تم جس چیز کی طرف بلا رہی ہو وہ اس چیزسے کہیں زیادہ ہمیں محبوب ہے جو ہمیں پیش آنے والی ہے۔ پھر سب نے خیموں کے بانس ہاتھ میں لیے۔ ایک بانس خولہؓ نے اپنے کندھے پر رکھا، ان کے پیچھے حضرت عفرہؓ،حضرت مسلمہؓ، حضرت روعہؓ اورحضرت سلمہؓ وغیرہ تھیں۔ خولہؓ کی قیادت میں سب عورتوں نے یکبارگی رومیوں پر دھاوا بول دیا اور پوری قوت کے ساتھ جنگ کی۔ اتنے میں مسلمانوں کا ایک دستہ بھی ان کی مدد کو آ پہنچا اور وہ اللہ کی مدد سے سُرخ رو ہوکر وہاں سے نکل آئیں۔(فتوح الشام)

اسلام کی تصویر کی حفاظت کریں

نبی کریم ﷺ نے جب مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھ اپنے دوست حضرت ابوبکر صدیق ؓکو لے لیا۔ حضرت صدیقؓ کے پاس پانچ چھ ہزار درہم تھے، وہ سب انھوں نے اپنے ساتھ رکھ لیے۔ان کے والد ابوقحافہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور بڑھاپے کے ساتھ نابینا ہوچلے تھے۔ انھیں خبر ملی کہ ابوبکر گھر والوں کو چھوڑ کر ہجرت کرگئے ہیں اور اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا ہے۔ وہ لاٹھی ٹیکتے ان کے گھر آئے اور حضرت صدیقؓ کی بڑی بیٹی اسماء سے کہا: دیکھو تمھارا باپ خود بھی چلا گیا اور سارا مال بھی لے گیا۔ وہ تم لوگوں کو مصیبت میں چھوڑ گیا۔ حضرت اسماء نے سوچا کہ ان کے دادا اس طرح اللہ کے رسولﷺ اور ان کے ابو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں نامناسب باتیں کہیں گے۔ انھوں نے ایک کپڑے کی پوٹلی لی، اس میں کنکر جمع کیے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اس پر رکھا اور کہا ہمارے ابو نے تو ہمارے لیے بہت مال چھوڑا ہے۔ تب وہ خاموش ہوئے اور کہا: اگر اتنا زیادہ تمھارے لیے چھوڑا ہے، تب تو بہت اچھی بات ہے۔ حضرت اسماء کہتی ہیں: ہمارے ابو نے واقعی کچھ نہیں چھوڑا تھا لیکن ہم نے اپنے دادا کو مطمئن اور خاموش کرنے کے لیے یہ چال چلی۔(مستدرک حاکم)

ظاہر ہے کہ حضرت صدیقؓ کو اللہ کی ذات پر پورا بھروسا تھا کہ وہی اصل کارساز ہے اور وہ ان کے پیچھے ان کے گھر والوں کو ضائع نہ کرے گا۔ لیکن یہ بات ان کے مشرک باپ نہیں سمجھ سکتے تھے، ان کو سمجھانے کے لیے حضرت اسماء ؓکی تدبیر کار گر ثابت ہوئی۔

حضرت اسماءؓ نے بظاہر ایک معمولی کوشش کی، لیکن اس کوشش کی پشت پر جو جذبہ کارفرما تھا وہ نہایت اعلی اور عظیم تھا۔ یہ جذبہ کہ اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے دوست کے بارے میں دنیا کو بدگمانی کرنے اور برا کہنے کا موقع نہ ملے۔

اسلام کی حسین تر تصویر پیش کرنے اور اس سے متعلق بدگمانیاں دور کرنے کے میں مسلم خواتین کو بہت بڑا رول ادا کرنا ہے۔ اسے ان کی فکرمندی اور غور وفکر کا اہم موضوع بننا چاہیے۔اسلام پر کیے جانے والے بہت سے اعتراضات کا تعلق مسلم خواتین کے مسائل سے ہے۔ ان کا صحیح اور طاقت ور جواب خواتین ہی کی طرف سے آسکتا ہے۔

اس معرکے میں خواتین پیچھے نہ رہیں

حضرت عثمانؓ کا دور خلافت تھا، روم کی ایک سپاہ نے مسلم علاقے میں گھس کر لوٹ مار کی تھی۔ ان کی تادیب کے لیے مسلمانوں کا ایک دستہ حضرت حبیب بن مسلمہ فہریؓ کی قیادت میں بھیجا گیا۔ ان کی بیوی بھی اس مہم میں ان کے ساتھ تھیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت حبیب کی اہلیہ نے پوچھا جب جنگ زوروں پر ہوگی اور صفیں تتر بتر ہوگئی ہوں گی تو میری تم سے کہاں ملاقات ہوگی۔ جرأت مند قائد نے جواب دیا: رومی سپہ سالار کے خیمے میں یا پھر جنت میں۔۔ ۔جنگ شروع ہوئی، اور آخر کار اللہ نے مسلمانوں کو رومیوں پر فتح بخشی۔ حضرت حبیب تیزی سے رومی سپہ سالار کے خیمے کی طرف لپکے، اسے گرفتار کرنے کے لیے، لیکن جب وہ پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ ان کی اہلیہ ان سے پہلے خیمے میں پہنچ کر فتح کا جھنڈا گاڑ چکی ہیں۔(تاریخ طبری)

جب حق وباطل کا معرکہ برپا ہو، ہر طرف باطل نظریات کا غلغلہ ہو، باطل نظاموں کے شکنجے میں پوری دنیا کسی جاچکی ہو، دینِ حق کو زندگی سے دور رکھنے کی کوششیں عروج پر ہوں اور دینِ حق کو اپنی نصرت کے لیے سچے مردانِ کار کی ضرورت ہو، تو بہترین صورت یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں شانہ بہ شانہ اس میں شریک ہوکر کارِ نمایاں انجام دیں۔ شوہر کا جذبہ بلند ہو تو بیوی بھی جذبات کی بلندی میں پیچھے نہیں رہے۔شوہر کی طرف سے زبردست پیش قدمی کا مظاہرہ ہو تو بیوی کی طرف سے بھی تیز تر پیش قدمی ہو۔

آج جب کہ اسلام کی دنیا کے تمام نظریات ومذاہب کے ساتھ شدید نظریاتی وتہذیبی کشمکش برپا ہے۔ ایسے مرد و خواتین کی شدید ضرورت ہے جو اپنی ساری توانائیوں کو اسلام کے حق میں جھونک دینے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

خاندانِ رسول بہترین نمونہ

مکہ کی زندگی میں حضرت خدیجہ ؓ نے اللہ کے رسولﷺ کو زبردست سہارا دیا تھا۔ آپ انھیں یاد کرتے اور فرماتے: ‘‘جب لوگ میرا انکار کررہے تھے تو وہ مجھ پر ایمان لائی تھیں، جب لوگ مجھے جھٹلارہے تھے تو انھوں نے میری تصدیق کی تھی اور جب لوگ مجھے محروم کردینے کے درپے تھے تو انھوں نے اپنے مال سے میری دل جوئی کی تھی۔’’(مسند احمد)

پھر جب ہم اللہ کے رسول ﷺ کی مدنی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو حق و باطل کےسخت معرکوں میں حضرت عائشہؓ کو موجودپاتے ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ حضرت عائشہؓ جنگ بدر میں شریک ہوئی تھیں۔ جنگ احد کے بارے میں حضرت انس بن مالکؓ آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ جب کچھ لوگ شکست کھاکر اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ چھوڑ بیٹھے، اور بہت سے لوگ زخمی ہوگئے، تو حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلیمؓ دوڑ دوڑ کر اپنی پیٹھ پر مشکیزے لاد ے زخمیوں کے پاس پہنچتیں اور انھیں پانی پلاتیں۔ (بخاری ومسلم)

اسلامی تاریخ کا ایک مختصر مگر عظیم ترین خاندان تین افراد پر مشتمل تھا، حضرت یاسرؓ، ان کی بیوی حضرت سمیہؓ اور ان کے بیٹے حضرت عمارؓ۔ تینوں بالکل آغاز میں اسلام لائے۔ وہ مکہ میں باہر سے آکر بسے تھے۔ عرب کی قبائلی زندگی میں طاقت ور اور محفوظ وہ مانا جاتا تھا جس کی پشت پر اس کے قبیلے کی قوت ہو۔ اس خاندان کی پشت پر کوئی قبیلہ نہیں تھا۔ جس قبیلے کی پناہ میں وہ تھے، وہ ان کے اسلام لانے کی وجہ سے خود ان کی جان کا دشمن ہوچکا تھا۔ایسے حالات میں تینوں کا اسلام قبول کرنا اور پھر شدید ظلم وستم کے باوجود اسلام پر جمے رہنا عزم و ہمت کی نہایت روشن مثال ہے۔ اس میں ہرمسلم خاندان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔حضرت سمیہؓ کو ابوجہل نے نیزہ مار کر شہید کردیا۔ اسلام کی راہ میں سب سے پہلے جامِ شہادت نوش کرنے کی سعادت ان کے حصے میں آئی۔ اللہ کے رسول ﷺ جب اس خاندان پر ظلم و ستم ہوتے دیکھتے تو فرماتے، یاسر کے خاندان والو! صبر کرو، تمھاری منزل جنت ہے۔

دین کی راہ میں شوہر اور بیوی کی مشترکہ جدوجہد کا ایک حسین باب حبشہ کی ہجرت بھی ہے۔ اس ہجرت کا اصل مقصد ملک حبشہ میں دین کی دعوت و تبلیغ تھا۔ یہ نہایت پر خطر مہم تھی، اس میں جانے والے جان ہتھیلی پر رکھ کر گئے تھے۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر صرف دین کی نصرت کی خاطر حبشہ جانے والوں میں کئی ایک کے ساتھ ان کی بیویاں بھی گئی تھیں۔

آپ بہت کچھ کرسکتی ہیں؟

دین کی اقامت کے لیے سرگرم اسلامی تحریک میں شامل ہوکر آپ فعّال رول ادا کرسکتی ہیں۔

چھوٹے چھوٹے گھریلو اجتماعات کرکے اپنی بستی میں دین کا شعور عام کرسکتی ہیں۔

آن لائن پروگرام شروع کرکے قریب و دور کے بہت سے خاندانوں تک دین کی صحیح تعلیم پہنچاسکتی ہیں۔

اپنے محلے کی خواتین کے ساتھ مل کرسماج میں موجود مختلف برائیوں کے خلاف مہم چھیڑ سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دے سکتی ہیں۔

یوٹیوب چینل وغیرہ کا استعمال کرکے اسلام کے تعارف کے لیے مؤثر مواد پیش کرسکتی ہیں۔

ملک کے رسائل و جرائد میں اپنے موقف کومدلل طریقے سے پیش کرسکتی ہیں۔

شرک و الحاد اورظلم و بے حیائی کی مختلف شکلیں مسلم معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتی ہیں، آپ ہم خیال بہنوں کے ساتھ مل کر ان کے خلاف طاقت ور محاذ کھول سکتی ہیں۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ایسی نسل پروان چڑھاسکتی ہیں، جو دین کی خدمت و نصرت کا سچا جذبہ رکھتی ہو۔ آپ کی توجہ اور تربیت ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرسکتی ہے۔ انسان کا جذبہ اور صلاحیت دونوں بیدار ہوجائیں تو کارنامے اس کے قدم چومتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ دین کی نصرت کا جذبہ ہو تو راستے بھی نکل آتے ہیں۔ جب اللہ کی راہ میں کوششیں شروع کردی جائیں تو کام یابیاں قدم چومتی ہیں۔

جنوری 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau