تعلیم: عقل و دل کا حسین امتزاج

ڈاکٹر وسیم احمد ملک

دو مختلف تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیں تو جو موٹے موٹے فرق نظر آتے ہیں ان میں سے چند یہاں عرض کیے جاتے ہیں۔

قدیم یا روایتی طرز تعلیم اور اداروں میں پروفیشنلزم اپنے انداز کا ہے اور بعض اوقات کم ہوتے ہوتے نفی کے درجے میں پہنچ جاتا ہے یہاں تک کہ پرسنل اور پروفیشنل کی تفریق مشکل ہوجاتی ہے۔

دوسری طرف جدید طرز تعلیم کے اداروں میں پروفیشنلزم کے نام پر ایک میکانیکیت در آئی ہے اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک مشین سے معاملات کر رہے ہیں انسانوں سے نہیں۔

ایک دوسرے فرق کو اسکل ڈیولپمنٹ پر فوکس اور عدم فوکس سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ کےہدف کے پیشِ نظر ایسی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں جو بائی پروڈکٹ کے طور پر طالب علموں میں وہ مہارتیں یا سلوکیات پیدا کر سکیں جن کی مستقبل میں ضرورت پڑنے والی ہے۔ مثلاً گروپ ورک اور پھر اس گروپ ورک کا جائزہ کیسے لیا جائے اس کے واضح اور قابلِ قیاس پیمانے اور معیارات۔

اس گروپ یا ٹیم ورک پر بہت کم یا نفی کے برابر توجہ قدیم طرز تعلیم کے اندر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اکیلے ایک فرد کی صلاحیت اور اس کو پرکھنے یا پروان چڑھانے کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔

مذکورہ بالا فرق ریسرچ کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سے زائد ریسرچرس کا مل کرکے کوئی ایک ریسرچ پیپر لکھنا۔ یہ رجحان قدیم طرز تعلیم کے اداروں میں نسبتاً کم ہے۔

ایک دوسرا فرق موضوع یا مضمون کے بجائے در اصل ایک کتاب کے شامل نصاب ہونے کا ہے۔ تمام اداروں پر یہ بات منطبق نہ بھی ہو تو بہت سے اداروں اور ان کے منہج تدریس پر شاید یہ صادق آئے۔

اس کے علاوہ کس مضمون سے کیا کچھ علم اور مہارات ایک طالب علم حاصل کرے گا اس کا واضح بیان اور اس کی جانچ کے سائینٹفک (معقول اور قابل عمل و پیمائش) طریقے اور اسٹپس۔ یہ سب کچھ واضح طور پر کورس کے تعارف کا حصہ ہوتا ہے جو شروع میں ہی طلبا کے سامنے اچھی طرح واضح کر دیا جاتا ہے۔

جدید دانش گاہیں جو ایک بڑی قیمتی چیز روایتی درس گاہوں سے لے سکتی ہیں وہ ہے ایک مکمل شخصیت کا تصور جس میں جذبات اور عقل کا حسین امتزاج ہو۔ انسان نہ محض دل ہے اور نہ صرف اور صرف عقل۔ ثانی الذکر پر حد درجہ فوکس ایک مشینی کلچر کو پروان چڑھاتا ہے جسے دماغ تسلیم کرے تو کرے دل نہیں تسلیم کرتا اور دونوں کے بیچ ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش جاری رہتی ہے۔

مضامین اور موضوعات پر مسلسل نظر ثانی ایک اور واضح فرق ہے۔ جدید اداروں میں تبدیلی کا عمل نسبتاً تیز تر ہے۔ یہ فرق صرف مضامین کی تیز تر تبدیلی میں ہی نہیں بلکہ نئے اور اچھوتے موضوعات کے داخل نصاب کرنے میں بھی نظر آتا ہے۔ ابتکار، سعادت، اور تسامح (ٹولیرینس) جیسے مضامین بھی اب داخل نصاب ہو رہے ہیں۔ روایتی اداروں میں ماحولیات یا گلوبل وارمنگ اور سسٹین ایبلٹی (استدامہ) کے بارے میں بہت کم آگاہی ہوتی ہے۔ اندازہ نہیں ہے کہ یہ مضمون کہیں داخل نصاب ہوگا۔

کیا پڑھایا جائے کے ساتھ ساتھ یا اس سے زیادہ کیسے پڑھایا جائے پر توجہ ایک اور بڑا فرق ہے۔ عجب نہیں یہ فرق اولین ثابت ہو۔ اس باب میں اہل علم کی آراء کا خاص طور سے انتظار رہے گا۔

ایک قدر مشترک جو ہر دو طرح کے اداروں میں تاحال پائی جا رہی ہے وہ ہے پبلک اسپیکنگ پر دونوں کی یکساں توجہ۔ اگر پبلک اسپیکنگ کے بجائے پبلک لسننگ کا کورس پڑھایا جائے یا اسکل پیدا کی جائے تو بہتر نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔

ایک اور فرق ہے سکھانے کے مر حلے کا ایک جگہ جلدی اور دوسری جگہ دیر سے شروع ہونے کا۔

افکار اور شخصیات پر عمارت کا کھڑا ہونا ایک اور فرق ہے۔ آئیڈیاز کی خوب صورتی یہ ہے کہ کوئی آئیڈیا ایسا نہیں ہوتا جس کا محاکمہ نہ ہو سکے یا جس پر تنقید نہ کی جا سکے۔ البتہ شخصیات کے اس درجہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

جدید اداروں اور دانش گاہوں میں بہت زیادہ زور ڈیٹا اور انفارمیشن یا نالج پر ہوتا ہے۔ حکمت کے حصول کی شعوری کوشش کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔ ان چند معروضات پر اگر گفتگو شروع ہوسکے تو وہی گفتگو اس ادنی کوشش کا حاصل ہوگی۔

اکتوبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau