امر بالمعروف و نہی عن المنکر

عتیق احمد شفیق

امربالمعروف ونہی عن المنکر ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ اس کے معنی بھلائیوں کاحکم دینے اور بُرائیوں سے روکنے کے ہیں۔

معروف کے معنی جانے پہچانے کے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جس کی اچھائی اور خوبی کی ہر عقل سلیم گواہی دیتی ہو اور اس کو پسند کرتی ہو۔منکر کے معنی اَن جانے اور نامانوس کے ہیں۔ یہ معروف کی ضد ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں منکر اس فعل کو کہتے ہیں جس کو ہر سلیم الفطرت انسان بُرا جانتا ہواور ناپسند کرتاہو۔

امربالمعروف کامقصد انسانوں کو سماج کے لیے کارآمد اور مفید بناناہے اور نہی عن المنکر کامقصد انسانوں کو سماج کے لیے نقصان دہ بننے سے روکنا ہے۔

امربالمعروف کاسادہ سادینی مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مرضیات پرچلنے کاحکم دیاجائے اور سب سے بڑا معروف اللہ کی حاکمیت اور اس کی الوہیت وربوبیت کو قبول کرنا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ خیر کے سارے سوتے اسی سے پھوٹتے ہیں۔جب کہ نہی عن المنکر کاسادہ سا دینی مفہوم یہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ اور اس کے آخری رسول حضرت محمدﷺ نے روکاہے ان سے آدمی خود رک جائے اور سماج میں رہنے والے دوسرے افراد کو بھی ان سے روکنے کی کوشش کرے۔ سب سے بڑا منکر اللہ کی حاکمیت اور اس کی الوہیت اور ربوبیت کاانکار ہے۔

امربالمعروف ونہی عن المنکر کافریضہ اختیاری نہیں ہے کہ آدمی کا دل چاہے تو ادا کرے اور دل نہ چاہے تو نہ ادا کرے۔ بل کہ یہ واجب ہے جس کے لیے خصوصی طورپر امت مسلمہ کوبرپا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾

’’دنیامیں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایاگیاہے۔ تم نیکی کاحکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سے یہ بات بالکل عیاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ امت مسلمہ کابنیادی فریضہ یہی ہے کہ وہ تمام انسانوں کی اصلاح کی فکر کرے۔ اس آیت میںصاف طور سے یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’تم کولوگوں کے لیے نکالا گیاہے اور تم دوسری امتوں اور قوموں کے مقابلے میں اس لیے افضل ہوکہ تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو۔‘‘ تومنون باللہ کہہ کر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ معروف کا حکم دیاجائے اور منکر سے روکاجائے۔ اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ نے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

من رأی منکم منکراً فلیغیرہ‘‘ بیدہٰ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطبع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔   ﴿مسلم: کتاب الایمان﴾

’’تم میں جو کوئی بُرائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے مٹادے، اس کی قوت نہ ہوتو زبان سے روکے اور اس کی بھی قوت نہ ہوتو دل سے اسے بُرا مانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘

ملت اسلامیہ کو دوسری تمام ملتوں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ مقام اس اہم ذمے داری امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی ادائی ہی پر موقوف ہے۔ جب تک کسی ملّت یا گروہ کو اپنے منصب و مقام کا ادراک نہ ہواُس وقت تک وہ اپنی حقیقت اور قدرو قیمت کو نہیں پہچان سکتاہے۔ ملت کی اہم ذمے داری یہ ہے کہ وہ ساری انسانیت کی قیادت و سیادت کرے ، لیکن وہ اس منصب پر قائم صرف دعووں سے نہیں رہ سکتی۔ بل کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس جو صحیح عقیدہ، درست فکر، صحیح علم ومعرفت، اعلیٰ اخلاقی قدریں، معیاری کرداراورمتوازن نظام زندگی ہے، اسے وہ دوسروں تک منتقل کرے اور دنیا کے ہر میدان میں خواہ وہ علم و معرفت کا میدان ہو یا سائنس اور ٹکنالوجی کا، خواہ وہ حکومت چلانے کا معاملہ ہو یا انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کارگزاری کا یا اسی طرح سے سماجی، رفاہی اور خدمت خلق کا۔ جب تک ملت اسلامیہ ساری اقوام وملل سے آگے اور بلند نہ ہوگی اس وقت تک وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کافریضہ ادا نہیں کرسکتی۔ یہ ملت اسلامیہ کافریضہ منصبی ہے کہ وہ زندگی سے منکرات، شروفساد، بگاڑ اور کرپشن،سرکشی وعدوان، ظلم وزیادتی اور شرک کی آلودگی کے خاتمے کی کوشش کرے اور معروف، بھلائی، خیر، سلامتی اور امن کو فروغ دے اور ایسا ماحول بنائے جہاںامربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائی کا اہتمام کیاجاتاہو۔

اس اہم کام کی انجام دہی کے لیے ایمان شرط ہے۔ کیونکہ ایمان ہی انسان کو معروف کا حکم دینے اور منکرسے روکنے کے لیے مسلسل رواں دواں رکھ سکتاہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو انگیز کرتے ہوئے قدم آگے بڑھانے کی صلاحیت پروان چڑھاسکتاہے۔ ایمان کے سرچشمے سے ہی اتحاد واتفاق، یکجہتی اور میل ،محبت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ یہ ایمان ایثار و قربانی کے جذبے کو کئی گنا بڑھادیتا ہے۔

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ اِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَ ئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ  ﴿آل عمران:۱۰۴﴾

’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کاحکم دیں اور بُرائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں،نگے۔‘‘

اس آیت میں امت مسلمہ کے داعی گروہ ہونے کی حیثیت سے تین کام بتائے گئے ہیں:

۱-دعوت الی الخیر، ۲-امربالمعروف، ۳-نہی عن المنکر

دعوت الی الخیر

غیرمسلم دنیاکو اسلام کی دعوت دینا اور اس کی طرف بلانا دنیا کا سب سے بڑا کام ہے۔ اسی سے دنیا وآخرت میں انسانیت کی فلاح وابستہ ہے۔ اقامت دین کے لیے پہلا مرحلہ دعوت کا ہی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر لوگ اسلام کے نظام رحمت سے واقف ہی نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا امت مسلمہ کااوّلین فریضہ ہے کہ وہ دعوت کے کام کو انجام دے۔ یہ بات واضح رہے کہ دعوت کاکام اقتدار کامحتاج نہیں۔ البتہ اقتدار کے بغیر امربالمعروف و نہی عن المنکر کے مرحلے کو سر کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ حکومت و اقتدار کے بغیر معروف کو عام کرنا اور منکر کو روک دینا اور حدود و تعزیرات کو اصلی صورت میں نافذ کردینا ممکن نہیں ہے۔

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَائ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً  ﴿بقرہ: ۱۴۳﴾

’’اور اس طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’امت وسط‘‘ بنایاہے تاکہ تم دنیا والوں پر گواہ بنو۔‘‘

اس آیت میں امت کو اس کی ذمے داری کااحساس دلاتے ہوئے کہاجارہا ہے کہ تمھاری حیثیت شہدائ علی الناس کی ہے۔ امت وسط کا مفہوم یہ ہے کہ تم ایک ایسا گروہ ہو جو سب سے افضل و بہتر ہے۔ اس امت کے مزاج میںاعتدال وتوازن رچابسا ہے۔ امت وسط کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے قول وعمل سے دین حق کی گواہی دے اورلوگوںکے درمیان عدل وقسط کے قیام کو یقینی بنائے۔ تعلیمات الٰہی اور احکام خداوندی جو رسول کے ذریعے اس تک پہنچے ہیں ،ان کو بالکل واضح انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ لوگوں کے افکار ونظریات، اقدار واعمال، عادت واطوار، رسوم ، رواج کو ٹھیک کرے اور بتائے کہ درست کیاہے اور غلط کیاہے۔ اس امت کا مقصد دنیا والوں کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نظام استوار کرناہے۔

گویاامت وسط کی بڑی اہم ذمے داری یہ ہے کہ وہ شہادت کا فریضہ اسی طرح ادا کرے، جس طرح اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ نے ادا کیا۔جس طرح اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے دین کو اپنی مکمل شکل میں اپنی امت تک نہ صرف اپنے قول سے پہنچایابلکہ اپنے عمل سے بھی کرکے دکھایا۔ ٹھیک اسی طرح سے امت مسلمہ کو دنیا کے ہر ملک اور قوم کے سامنے شہادت حق کا فریضہ ادا کرنا اور دین حنیف کو اس کے اصل روپ میں پہنچاناہے۔

قیامت کے روزجس طرح سے مسلمانوں سے دیگر فرائض و واجبات کے تعلق سے جواب طلبی ہوگی، اسی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق بھی پرسش ہوگی۔ پوچھاجائے گاکہ نبی عربی ختم الرسل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین رحمت تم تک پہنچایاتھا، اس کے لیے تم نے کیا سرگرمیاں دکھائیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی توعرب ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میںبگاڑ اپنی آخری حد کو پہنچ گیاتھا۔ انسانیت نے اپنے پیدا کرنے والے کو بھلادیاتھا۔ نبی ﷺ نے انھیں مشرکوں اور کافروں کے سامنے اسلام کو پیش کیا۔ ان کے سامنے دین حق کی قولی و عملی شہادت دی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ذمے داری بتاتے ہوئے فرمایا:

یٰآ أَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ أَرْسَلْنَاکَ شَاہِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِیْراً o وَدَاعِیْاً اِلَی اللَّہِ بِاِذْنِہٰ وَسِرَاجاً مُّنِیْراً                            ﴿الاحزاب:۴۶-۴۵﴾

’’اے نبی! ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا، اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والااور روشن چراغ بناکر بھیجاہے۔

وَادُعُ اِلَی رَبِّکَ﴿حج:۶۷﴾‘‘آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیے‘‘

بَلَّغْ مَااُنْزِلَ ِالَیْکَ﴿المائدہ: ۶۷﴾‘‘جو کچھ آپ پر نازل کیاگیاہے اس کو پہنچادیجیے‘‘

ہَذابَلَاغٌ لِلنَّاسِ﴿ابراہیم:۵۲﴾‘‘ یہ ایک پیغام ہے جسے لوگوں تک پہنچانا ہے‘‘

چناںچہآپﷺ نے اس ذمے داری کا حق ادا کردیا۔ چونکہ اب قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے اب امت مسلمہ کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ کفار و مشرکین تک دین رحمت کو پہنچائے۔

انفرادی ذمے داری

معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا ملت کے ہر فرد کی انفرادی ذمے داری ہے۔ جب تک ملت کے ہر فرد کے اندر یہ شعور بیدار نہیں ہوگا اس وقت تک پوری ملت اجتماعی طور سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کا حق ادا نہیں کرسکتی ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًامِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَاِلحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ ﴿حم السجدۃ:۳۳﴾

’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہاکہ میں مسلمان ہوں۔

وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُونَ فِیْہَا بِغَیْْرِ حِسَاب ﴿مومن:۴۰﴾

اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطے کہ وہ مومن ہو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوںگے جہاں ان کو بے حساب رزق دیاجائے گا۔ ’’

ادْعُ اِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ﴿نحل:۱۲۵﴾

اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائو حکمت و نصیحت کے پیرائے سے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من دعا الی ہدی کان لہ من الاجر مثلُ اجورِ من تبعہُ لاینقضُ ذلک من اجورہمُ شیئاً۔ ﴿مسلم کتاب العلم من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ﴾

’’جس کسی نے ہدایت کی طرف لوگوں کو بلایا تو اس بلانے والے کو ویسا ہی اجر ملے گا جیساکہ اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے اجر میں کسی طرح کی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔‘‘

مَنْ سَنَّ فِی الاِسلامِ سنۃً حسنۃً فلہ‘‘ اجرُھاَ واجرُھا مَنْ عَمِلَ بہا مِنْ بعدِہٰ من غَیْرِ اَنْ یُنقَضْ مِنْ اُجورہمُ شیٌٔ۔ ﴿مسلم کتاب الزکوٰۃ الحث علی علی الصدقۃ ولوبشق من تمرۃ اوکلمۃ طیبۃ وانہا حجاب من النار۔﴾

’’جواسلام میں کوئی اچھا کام کرے اس کو بھی ثواب ملتاہے اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے کو بھی ثواب ملتاہے اور ان کے ثوابوں میں کمی بھی نہیں ہوگی۔‘‘

فَوَاللّٰہِ لا یَہدِیُ اللّٰہُ بِکَ رجُلاً واحداً خیرٌ لَّکَ من انْ یَّکونَ لک حمرُ النعم۔ ﴿بخاری کتاب المغازی﴾

’’اللہ کی قسم ! اگر تمھارے ذریعے اللہ کسی ایک شخص کو بھی راہ دکھادے تو یہ تمھارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔‘‘

بَلِّغُوا عَنّی ولواٰیَۃً   ﴿بخاری: کتاب الانبیائ﴾

’’میری بات اوروں تک پہنچائوچاہے وہ ایک ہی بات ہو۔‘‘

﴿اَلالیبلغ الشاہد الغائب فلعل بعض من یبلغہ ان یکون اوْ عی لہ‘‘من بعض من سمعہ۔  ﴿صحیح بخاری: باب حجۃ الوداع﴾

’’جویہاں موجود ہے اس کو چاہیے کہ وہ ان باتوںکو ان تک پہنچادے جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتاہے کہ جس کو یہ بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتا ہے۔‘‘

درجِ بالا آیات و احادیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملت اسلامیہ کا ہر فرد اس بات کاذمے دار ہے کہ جودین اس تک پہنچاہے اس کو وہ دوسروں تک پہنچائے۔

اجتماعی غفلت کا انجام بد

امربالمعروف و نہی عن المنکرکاکام کو کرنے پر جہاں دنیا و آخرت کی کامیابی و فلاح کی بشارتیں دی گئی ہیں،وہیں اس فریضے سے غفلت اور بے پروائی برتنے پر سخت وعیدیں بھی ہیں۔ اس کام کو بالکل چھوڑ دینا یا اس میں کوتاہی کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سابقہ ملتوں نے جب اس کام کو چھوڑدیا تو ان پر اللہ کاغضب نازل ہوا اور ان پر ذلت و مسکنت طاری کردی گئی۔ قرآن مجید بنی اسرائیل کی اس طرح تصویر کشی کرتاہے:

لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُودَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَo کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونo﴿المائدہ:۷۸أ۷۹﴾

’’بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اس پر دائوداور عیسیٰؑ  بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انھوںنے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑدیاتھا، بہت ہی بُرا طرزعمل تھا جو انھوںنے اختیار کیا۔‘‘

اس آیت میں نبی اسرائیل کی سب سے بڑی خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ انھوںنے نہی عن المنکر کے فریضے کو چھوڑدیاتھا۔ اس وجہ سے وہ مزید معصیت و گمراہی میں پھنستے چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب مسلط ہوا اور انبیا کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی گئی۔

سورۂ اعراف میں ہے کہ سماج میں ان کے تین طرح کے گروہ تھے۔ ایک کھلم کھلا حدودالٰہی کو توڑتا تھااور نافرمانی و سرکشی کی روش اختیار کیے ہوئے تھا۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو معروف کا حکم دیتے تھے، احکام الٰہی کی پابندی کی طرف متوجہ کرتے تھے اور حکم الٰہی کو توڑنے والوں کو اس حرکت سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب کہ تیسرا گروہ ان لوگوں کاتھا جو خود تو اطاعت گزار تھے مگر سرکش لوگوں کی سرکشی، حکم عدولی اور نافرمانی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ بل کہ وہ لوگ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کو یہ نصیحت بھی کرتے تھے کہ تم اس کے چکر میں کیوں پڑتے ہو؟ مگر مصلحین کاگروہ ان کو یہ جواب دیتاکہ ہم اپنی ذمے داری ادا کررہے ہیں۔ ممکن ہے وہ مان جائیں۔ اگر وہ نہیں مانتے تو کم ازکم ہم تو اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیںگے۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہونے لگی تو اللہ کی جانب سے ان پر عذاب آیا اور اس عذاب سے وہی لوگ بچے جو بھلائی اور اطاعت الٰہی کی نصیحت کا کام انجام دے رہے تھے۔

واَسْأَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ اِذْ یَعْدُونَ فِیْ السَّبْتِ اِذْ تَأْتِیْہِمْ حِیْتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعاً وَیَوْمَ لاَ یَسْبِتُونَ لاَ تَأْتِیْہِمْ کَذَلِکَ نَبْلُوہُم بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَo وَاِذَ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْماً اللّہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَاباً شَدِیْداً قَالُواْ مَعْذِرَۃً اِلَی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَo فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ أَنجَیْْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوٓئ ِ وَأَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ بِعَذَابٍ بَئِیْسٍ بِمَا کَانُواْ یَفْسُقُونoفَلَمَّا عَتَوْاْ عَن مَّا نُہُواْ عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُونُواْ قِرَدَۃً خَاسِئِیْنo                                    ﴿الاعراف:۱۶۲-۱۶۳﴾

’’اور ذرا ان سے اس بستی کاحال پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انھیں یاد دلائو وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت ﴿ہفتہ﴾ کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت کے ہی دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں یہ اس لیے ہوتاتھا کہ ہم ان کی نافرمانیوںکی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے اور انھیں یہ بھی یاد دلائو کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہاتھاکہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے تو انھوںنے جواب دیاکہ ’’ہم یہ سب تمھارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیزکریں۔‘‘ آخرکار جب وہ ان ہدایات کو بالکل ہی فراموش کرگئے جو انھیں یاد کرائی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو بُرائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑلیا۔ پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انھیں روکا گیاتھا تو ہم نے کہا بندر ہوجائو ذلیل و خوار۔‘‘

ان آیات سے واضح ہوجاتاہے کہ اللہ کے عذاب سے صرف وہی لوگ بچائے گئے جو احکام الٰہی کے خود تو پابند تھے ہی ساتھ ہی نافرمانوں کو بھی اطاعت رب اور اتباع احکام ربانی کی طرف توجہ دلاتے تھے اور ان کو منکرات سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ بقیہ وہ دونوں گروہ جو نافرمانی کرتے تھے یا بُرائیوں کو ہوتا دیکھ کرخاموش رہتے تھے اور ان کو مٹانے کی کوئی فکر ان کو لاحق نہیں ہوتی تھی دونوں عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے۔

ایک دوسرے مقام پر ان کے علمائ کی اپنی ذمے داری سے غفلت ، معروف کے فروغ اور منکرات کے ازالے سے تساہُل اور بے توجہی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:

وَتَرَی کَثِیْراً مِّنْہُمْ یُسَارِعُونَ فِیْ الاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ oلَوْلاَ یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ عَن قَوْلِہِمُ الاِثْمَ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَصْنَعُونَo  ﴿المائدہ:۶۲-۶۳﴾

’’تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اورظلم و زیادتی کے لیے دوڑدھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام مال کھاتے ہیں بہت ہی بُری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں کیوں کہ ان کے علمائ، مشائخ انھیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقینابہت ہی بُرا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ کررہے ہیں۔‘‘

ان آیات میں واضح طورپر یہودو نصاریٰ کے علمائ، مشائخ اور صوفیائ کے کردار کی منظرکشی کی گئی ہے۔ آج بھی جب ہم مسلمان علمائ، مشائخ وصوفیائ کی زندگی اور ان کے شب و روز کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں تو ہم ان میں سے ایک کثیر تعداد اسی کردار کی حامل نظرآتی ہے۔ قرآن وحدیث میں جو چیزیں واضح طورپر حرام ہیں مثلاً سود، رشوت وغیرہ۔ عریانیت، گانا بجانا، حرام کمائی اور شرک وغیرہ آج ان سنگین گناہوں پرکوئی نکیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت پر توجہ دینی چاہیے:

وَاتَّقُواْ فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ مِنکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب ﴿الانفال:۲۵﴾

’’اوراس آفت سے بچو جو خاص کر انھیں لوگوں پر نہیں آئے گی جنھوں نے تمھارے اندر سے ظلم کیاہوگا۔ ﴿بلکہ دوسرے بھی لپیٹ میں آئیں گے﴾ یاد رکھو اللہ تعالیٰ سخت پاداش والا ہے۔‘‘

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذی نفسی بیدہٰ لتامرن بالمعروف و لتنہون عن المنکر اولیوشکن اللہُ ان یبعث علیکم عذاباً من عندہ ثم لتدعنہ‘‘ ولایستجاب لکم۔ ﴿ترمذی: ابواب الفتن ماجائ فی الامر بالمعروف والنہی عن المنکر۔﴾

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور معروف کا حکم دو اور منکر سے روکو ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ خدائے تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کردے اس وقت تم اس سے دعا کروگے لیکن تمھاری دعا سنی نہیں جائے گی۔‘‘

اسلام ایک نعمت ہے۔ اس کو تسلیم کرلینے کے بعد دوسروں تک پہنچانا لازمی ہے۔ اس سے غفلت کو قرآن نے ظلم سے تعبیر کیاہے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَتَمَ شَہَادَۃً عِندَہُ مِنَ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ  ﴿البقرہ:۱۴۰﴾

’’ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتاہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائیں؟ اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اوحی اللہ عزو جل الی جبریل علیہ السلام ان تقلب مدینۃ کذا وکذا باہلہا فقال یارب ان فیہم عبدک فلانالم یعصیک طرفۃ عین قال فقال قلبہا علیہ وعلیہم فان وجہہ لہم یتغیر فی ساعۃ قط۔ ﴿رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ مشکوۃ المصابیح کتاب الآداب باب فی الامر بالمعروف والنہی عن المنکر۔﴾

’’اللہ تعالیٰ نے جبریلؑ  کو حکم دیاکہ فلاں شہر کو اس کے باشندوں کے ساتھ الٹ دو اس پر حضرت جبریلؑ  نے فرمایاکہ اے رب! اس میں تیرا فلاں بندہ بھی تو ہے جس نے ایک لمحے کے لیے بھی تیری معصیت نہ کی۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے حضرت جبریل کو حکم دیاکہ اس شہر کو بشمول اس شخص کے اور سارے لوگوں کو پلٹ دو کیونکہ اس شہر میں لوگ میری نافرمانی کرتے رہے اس کے چہرے پر میری خاطر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔‘‘

مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ بُرائیوں کو مٹانے کی جدوجہد اور کوشش لازمی ہے اور اس کام کے لیے کسی بڑے مدرسے کا سندیافتہ ہونا، جیدعالم دین ہونا شرط نہیں ہے ۔ بل کہ جتنا کچھ بھی دین کی تعلیمات آپ کو معلوم ہیں ان کو دوسروں تک پہنچانا لازم ہے۔ بغیر اس کے انسان نہ تو اللہ کی رضاحاصل کرسکتاہے اور نہ آخرت میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا:

من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔ ﴿مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان۔ ترمذی ابواب . باب ماجائ فی تغیر المنکر بالیداوباللسان اوبالقلب۔﴾

’’تم میں سے جو شخص کسی بُرائی کو دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے بدلنے کی کوشش کرے اور یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے اسے بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

معاشرے سے بُرائیوں کے ازالے اور خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ایمان کی علامت ہے۔ یہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے کہ انسان جتنی بھی صلاحیت و قوت رکھتاہے اس کو بھلائیوں کے نشر کرنے اور بُرائیوںکے ازالے کے لیے لگا دے۔

آل عمران کی آیت ۰۱۱ کے الفاظ ’’وتومنون باللہ‘‘ سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ یہ عمل ایمان باللہ کا اظہار ہے۔ ایمان ہوگا تو وہ بُرائی کو برداشت نہیں کرے گا۔ دوسرے یہ کہ معروف و منکر کا صحیح پیمانہ بھی ایمان باللہ ہی متعین کرتاہے ورنہ اہل دنیا کے معروف ومنکر کے پیمانے الگ ہوسکتے ہیں۔ جیساکہ ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ فیشن کے نام پر بُرائیوں کو پھیلایاجارہاہے اور لوگ اس کو اچھا سمجھ کر اختیارکرتے جارہے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ایمان باللہ کے بغیر یہ کام انجام نہیں دیاجاسکتا ہے۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کافریضہ انجام دینے والوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَیْْسُواْ سَوَائ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ أُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَتْلُونَ آیَاتِ اللّہِ آنَائ اللَّیْْلِ وَہُمْ یَسْجُدُونَo یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَأُوْلَ ئِکَ مِنَ الصَّالِحِیْنo                ﴿آل عمران:۳۱۱،۴۱۱﴾

’’مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیںہیں۔ اہل کتاب کے ایسے لوگوں کی برابری ﴿بُرے لوگ نہیں کرسکتے﴾ جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کام حکم دیتے ہیں، بُرائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں یہ صالح لوگ ہیں۔‘‘

امر بالمعروف و نہی عن المنکر اہل ایمان کی مخصوص صفات ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائ بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَ ئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّہُ اِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْم ﴿التوبہ:71﴾

’’مومن مرد اور عورتیںایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیںاور بُرائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی اطاعت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔‘‘

ان آیات میںمومنات اور منافقات کالفظ بھی غورو فکر کی دعوت دیتاہے۔ عورت ہر سماج کو بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کاکوئی بھی کام عورت سے خالی نہیں۔ شہادت حق بھی ایک اہم کام ہے۔ اس سے خواتین کو کیوں محروم رکھاجاتاہے جب کہ اسلام کے نزدیک خیروشر اور حق و باطل کے معرکے میں وہ مردوں کے برابر کے کردارکا حق رکھتی ہیں۔

امربالمعروف ونہی عن المنکر : ایک سماجی ضرورت

امربالمعروف ونہی عن المنکر کاکام صرف دینی وملی فریضہ ہی نہیں ہے، بل کہ معاشرتی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ کیونکہ ماحول کا انسانی زندگی پرکافی اثر پڑتا ہے جس سوسائٹی اور ماحول میں انسان پیداہوتا، پروان چڑھتااور رہتابستاہے اس کے اثرات سے وہ بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا ماحول کو اپنے موافق بنانا ضروری ہے۔ اس بات کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ سماج میں بھلائیاں کرنے کے لیے حالات سازگار ہوں، بھلائی کرنے والوں کو سہارا اور ہمت ملے اور اگرایسا ماحول نہیں بنتا تو پھر آدمی کو خدا بیزار سماج کے غلط اثرات سے بچانا بڑا مشکل ہوجائے گا۔ نیک اور دین دار آدمی کا ایسے سماج میں رہنا آسان نہیں ہے جو صالح اور پاکیزہ نہ ہو ٹھیک اسی طرح جس طرح کوئی شخص خود تو صفائی ستھرائی رکھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے مگر اس کا گھر گندا رہے تو بھلا بتائیے کہ اس کی ذاتی صفائی اس کو کیا فائدہ پہنچائے گی۔ پھر اس گندگی سے جو بیماریاں جنم لیںگی کیا اس سے وہ خود کو محفوظ رکھ پائے گا۔یہی معاملہ سماج میں معروف یا منکر کا بھی ہے۔

سماج میں بھلائی ہوگی تو ایک صالح انسان کااس میں جینا آسان ہوگا لیکن اگر معاشرہ بُرائیوں سے لت پت ہوتو خود کو بُرائیوں سے محفوظ رکھنا بڑا مشکل ہوگا۔ اسی حقیقت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تمثیل کے پیراے میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان فرمایاہے:

’’وہ لوگ جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ان کو اللہ کی نافرمانی سے روکتے نہیں ہیں ان دونوں کی مثال کشتی کے مسافروں کی سی ہے۔ کشتی دومنزلہ ہے قرعہ اندازی کے ذریعے کچھ لوگ اوپری منزل میں بیٹھے اور کچھ نچلی منزل میں۔ تونچلی منزل والے دریاسے پانی نکالنے کے لیے اوپر کی منزل میں جانا چاہتے ہیں تو اوپر کی منزل والے تکلیف محسوس کرتے ہیں تو نچلی منزل والے کلہاڑی سے کشتی کے تختے اکھاڑنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اوپر والوں نے کہاتم یہ کیا حرکت کررہے ہو؟ انھوں نے جواب دیاہمیں پانی چاہیے اوپر پانی لینے جاتے ہیں تو تم کو تکلیف ہوتی ہے اس لیے کشتی کے تختے توڑکردریا سے پانی حاصل کریں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان کرکے فرمایاکہ اگر بالائی منزل والی نیچے کی منزل والوں کاہاتھ پکڑکر روک لیتے ہیں تو انھیں بھی بچالیںگے اور خود بھی بچ جائیں گے اور اگر ان کی حرکت سے ان کو نہیں روکتے تو انھیں بھی ڈبوئیںگے اور خود بھی ڈوبیں گے۔‘‘ ﴿بخاری﴾

مارچ 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau