سائِنس ایک اسلامی ورثہ

(2)

غلام حقانی

قرآنِ مجیدمیں بہت ساری ایسی سائنٹفک نشانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا ہمارے ماحول سے تعلق ہے اور ہم ان کا رات دن مشاہدہ کرتے ہیں۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یُزْجِیْ سَحَاباً ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْْنَہ‘ ثُمَّ یَجْعَلُہ‘ رُکَاماً فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِہٰ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئ ِ مِن جِبَالٍ فِیْہَا مِن بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِہِ مَن یَشَآئ ُ وَیَصْرِفُہُ عَن مَّن یَّشَآئ ُ یَکَادُ سَنَا بَرْقِہِ یَذْہَبُ بِالْأَبْصَارِo ﴿النور:۴۳﴾

’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنادیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔ اور وہ آسمان سے، ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے۔ پھر جسے چاہتا ہے ان سے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتاہے ان ﴿کے نقصان﴾ سے بچالیتاہے۔ اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کررہاہے۔ اس میںایک عبرت ہے اہل بصیرت کے لئے۔‘

ہُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَo وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٰ وَالْمَلآَئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٰ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِہَا مَن یَشَآئ ُ وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِیْ اللّہِ وَہُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِo  ﴿الرعد:۱۲،۱۳﴾

’وہی ہے جو تمھیں چمکتی ہوئی بجلیاں ﴿برق﴾ دکھاتا ہے، جنھیں دیکھ کر تمھیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے بادل اٹھاتاہے ۔ بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘

وَہُوَ الَّذِیٓ أَنزَلَ مِنَ السَّمَآئ ِ مَائ ً فَأَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْئ ٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِراً نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبّاً مُّتَرَاکِباً وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّیْْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہاً وَغَیْْرَ مُتَشَابِہٍ انظُرُواْ اِلِی ثَمَرِہِ اِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ اِنَّ فِیْ ذَلِکُمْ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُون   ﴿الانعام:۹۹﴾

’اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اُگائی، پھر اُس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پید کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میںنشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔‘

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّہُ مِنَ السَّمَآئ ِ مِن مَّآئ فَأَحْیَا بِہٰ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِن کُلِّ دَآبَّۃٍ وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَیْْنَ السَّمَآئ وَالأَرْضِ لاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُون ﴿البقرہ:۱۶۴﴾

’بے شک آسمانوںاور زمین کی تخلیق میں رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریائوں اور سمندروں میں چلتی رہتی ہیں،بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میںہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہوائوںکی گردش میں اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہوتے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے یں۔

وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُّسْقِیْکُم مِّمَّا فِیْ بُطُونِہٰ مِن بَیْْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَناً خَالِصاً سَآئِغاً لِلشَّارِبِیْنَ oوَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِیْلِ وَالأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَراً وَرِزْقاً حَسَناً اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَo﴿النحل:۶۶،۶۷﴾

’اور تمھارے لیے مویشیوں میں بھی عبرت یا سبق موجود ہے۔ اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمھیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہوتاہے۔ ﴿اسی طرح﴾ کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمھیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے ہو اور پاک رزق بھی۔ یقینا اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے۔‘

شہد کی مکھی کے تعلق سے فرمایا:

ثُمَّ کُلِیْ مِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً یَخْرُجُ مِن بُطُونِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ فِیْہِ شِفَائ لِلنَّاسِ اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون﴿النحل:۶۹﴾

’اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتاہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے، ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ ‘

وَمِنْ اٰیَاتِہٰ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّلْعَالِمِیْنَ ﴿الروم:۲۲﴾

’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اورزمین کی پیدایش اورتمھاری زبانوں اور تمھاری رنگتوں کا مختلف ہوناہے۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں دانشمندوں کے لیے۔‘

آسمان کی  فضاؤں  میں تیرتے ہوئے پانی سے بوجھل بادل، رِم جھِم، تیزیا طوفانی بارش، کڑکتی چمکی بجلی، مختلف اناجوں کے لہلہاتے کھیت، ہمہ اقسام کے پھلوں سے لدے باغات، دریائوں اور سمندروں میں تیرتی ہوئی سامان سے لدی کشتیاں اور جہاز، گوبر اور خون کے درمیان جانوروں کے پیٹ سے نکلا ہوا لذیذ دودھ، شہد کی مکھی کے اندر سے نکلنے والا ذائقہ دار شفا بخش شہد، انسانی جِلد کی کروڑوں رنگتیں، لاکھوں کی تعداد میں انسانی زبانیں، ہر طرف سائنس ہی سائنس کاماحول، ساری نشانیاں سائنٹفک، ساری ہی دلوں کو چھولینے اور اس میں اُترجانے والی نشانیاں اورمعرفتِ الٰہی کا بہترین ذریعہ۔ اگر ان نشانیوں کو دلوں تک پہنچنے کا موقع دیاجائے تو دلوں پر لگی مہر بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ آنکھوں پر پڑا پردہ بھی چاک ہوسکتاہے۔ لیکن ان نشانیوں کے جھنجھوڑجھنجھوڑکر سوال کرنے کے باوجود کہ … اَاِلِہٌ مَّعَ اللّٰہِ… ’کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ﴿معبود﴾ بھی ہے؟ ‘ …قَلِیلْاً مَّاتَذَکَّرُوْنَ… ’کم ہی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں، کم ہی ہیں جن کے دلوں میں کوئی ہلچل مچتی ہے۔

یہ بات دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے مسلمہ ہے کہ انسان کی تخلیق مرد و عورت دونوں کے نطفوں کے ملاپ سے ہوتی ہے۔ مرد و عورت دونوں ہی کا نطفہ ان کی غذاؤںمیں سے بنتاہے۔ غذا میںاناج، ترکاریاں، دالیں اور پھل شامل ہیں۔ گوشت بھی انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔ اناج، ترکاریاں، دالیں زمین ہی سے اُگتی ہیں اور پھل زمین ہی سے اُگے ہوئے درختوں پر پیدا ہوتے ہیں۔ گوشت کے لیے جن چوپایوں کا استعمال ہوتاہے، اُن کی غذا زمین سے اُگنے والاچارا ہی ہوتا ہے۔ اناج اور دالوں کی فصلوں کے لیے پانی ایک نہایت ہی اہم ضررت ہے۔ پانی مٹی میں ملی ہوئی نمکیات کوساتھ لیے ہوئے یامٹی کا ست لیے ہوئے، پودوں، گھاس اور درختوں کی جڑوں کے ذریعے اوپر پہنچتا ہے جہاں ہوا میںملی ہوئی آکسیجن اور سورج کی روشنی کے تعامل سے کلوروفل وجود میں آتی ہے۔ پتّے والی ترکاریوں سے یہ کلوروفل راست انسانی کی غذا بنتی ہے۔ چوپائے چارے کی شکل میں کلوروفل حاصل کرتے ہیں۔ اناج، دالیںاورپھل بھی کلوروفل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح انسان کی ہرغذا کی بنیاد کلوروفل ہی ہوتی ہے۔ چاہے وہ اناج،دالوں، ترکاریوں اور پھولوں کی شکل میں ہو یا پھر چوپایوں کے گوشت کی شکل میں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ أَمْشَاجٍ ﴿الدھر:۲﴾

’بے شک ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا‘

کسی بھی انسان کی پیدایش، مرد اور عورت دونوں کے مخلوط نطفے سے انجام پاتی ہے۔ مرد کانطفہ نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتاہے اور اس کے تخلیقی مراحل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح عورت کا نطفہ نوعیت کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتاہے اور تخلیقی مراحل کے اعتبار سے بھی۔

مرد کا نطفہ

مرد کانفطہ دواجزاء پر مشتمل ہوتاہے ﴿۱﴾ جرثومہ (Sperm) ﴿۲﴾مَنی (Semen)۔ جرثوموں کاپیدایشی عمل مرد کے خصیوں (Testicles)میں ہوتاہے۔ اوسطاً تیرہ ﴿۳۱﴾ سال کی عمر سے مرد کے خصیوں میں جرثوموں کی پیدایش شروع ہوجاتی ہے اور روزانہ تقریباً ۰۲۱ ملین جرثومے پیدا ہوتے رہتے ہیں، جن میں سے اکثر پنپنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ جرثومے پیدایش کے خلیوں (Cells)کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کی چار دفعہ اس طرح تقسیم عمل میں آتی ہے کہ وہ ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ جرثومے بن جاتے ہیں۔ اس تقسیم کے دوران ان کی ہیئت میں بھی تبدیلی واقع ہوتی جاتی ہے۔ پھر یہ جرثومے ایک کٹھن اور دشوار گزار سفر اختیار کرتے ہوئے خصیوں کی ان نالیوں میں جاپہنچتے ہیں جنھیں Semini Ferousکہاجاتاہے۔ جن کی جملہ تعداد ۰۰۸۱ تک ہوسکتی ہے۔ ان نالیوں (Tubules)میں جرثوموں کی نشوونما بھی ہوتی رہتی ہے اور ساتھ ہی ضروری تبدیلیاں بھی۔ یہاں جرثومے ۴۲ دنوں کے تک پرورش پاتے اور موٹے ہوجاتے ہیں۔ ۴۲ دنوں کے بعد ان کی دو دفعہ کچھ اس طرح تقسیم عمل میں آتی ہے کہ ایک جرثومے کے دو جڑواں جرثومے بن جاتے ہیں۔ جڑواں اس طرح کہ اس تقسیم کے نتیجے میں اصل جرثومے کے اندر پائے جانے والے ۶۴ کروموزوم (Chromosomes) کی بھی تقسیم عمل میں آجاتی ہے اور ہر جڑواں جرثومے میں صرف ۳۲ کروموزوم رہ جاتے ہیں، جن میں ۲۲ کروموزوم جسمی کروموزوم کہلاتے ہیںاور ایک کروموزوم جنسی (Sexual)کروموزوم کہلاتاہے۔ اصل جرثومے میں دو جنسی کروموزوم (X)اور (Y) پائے جاتے ہیں۔ تقسیم کے بعد ایک جڑواں جرثومے کے حصے میں (X)کروموزوم آتاہے تو دوسرے کے حصے میں (Y)کروموزوم ۔(X) کروموزوم کی وجہ سے لڑکی کی پیدایش عمل میں آتی ہے اور (Y)کروموزوم کی وجہ سے لڑکے کی۔ہرجرثومے کے تین جصے ہوتے ہیں ﴿۱﴾ سر ﴿۲﴾جسم ﴿۳﴾لمبی سی دُم۔ سر میں ۳۲ کروموزوم اور دوسرے کیمیائی مادے ہوتے ہیں، جو کہ استقرار حمل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ جسم جرثومے کو نقل و حرکت کے لیے طاقت فراہم کرتا ہے اور لمبی سے دُم جرثومے کو منی میں تیرنے اور آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔

مرد کے نطفے کا دوسرا حصہ منی کہلاتاہے۔ یہ ایک گاڑھا سفیدی مائل سیال ہوتاہے، جو مرد کے مختلف تولیدی اعضاء  سے خارج ہوتا ہے۔ جرثومے منی کے ساتھ ہی خارج ہوتے ہیں اور منی میںتیرتے ہوئے عورت کے بیضے (Ovum)تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنس سے پہلے منی ہی کو سب کچھ سمجھاجاتاتھا۔ جب کہ وہ جرثوموں کے بیضے تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے اور بس۔

عورت کا نطفہ

جس طرح مرد کانطفہ دراصل جرثومہ ہوتاہے، اُسی طرح عورت کا نطفہ دراصل بیضہ ہوتاہے۔ عورت کے تولیدی نظام میں بیضہ دانی یا خصیۃ الرحم (Ovary)کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہر عورت کے دو علاحدہ علاحدہ بیضہ دان ہوتے ہیں۔ ایک رحم کی دائیں جانب اور ایک رحم کی بائیں جانب اور دونوں بیضہ دان دو عدد نالیوں کے ذریعے جنھیں قاذفین (Fallopian Tubes)کہاجاتاہے، رحم سے جُڑجاتے ہیں۔ ماں کے رحم ہی میں لڑکی کے تولیدی اعضاء  کے ساتھ ہی بیضوں کی پیدایش بھی شروع ہوجاتی ہے لیکن ان میں سے اکثر بے کار ہوجاتے ہیں۔ لڑکی کی پیدایش کے موقع پر بیضہ دانوں میںتقریباً ایک ملین بیضے بچ رہتے ہیں جن میںسے مزیدبیضے ناکارہ ہوجاتے ہیں حتیّٰ کہ لڑکی کی بلوغت کے وقت تیس تا چالیس ہزار بچ رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی عورت کے تولیدی دوران (Reproductive Period)یعنی ۱۳ تا ۴۶ سال کی عمر کے دوران صرف چار سو کارآمد بیضے ہی رہ جاتے ہیں۔ ہر بیضہ ایک جھلّی کے اندر جس کو حویصلہ (Follicle)کہاجاتاہے، لپٹا ہوا ہوتاہے۔ وہیں اس کی نشوونما ہوتی ہے اور وہیں وہ پختگی حاصل کرتاہے۔ یعنی (Mature)ہوجاتاہے۔

عورت کے نطفے کاذکر ادھورا رہ جائے گا جب تک یہ نہ معلوم کرلیاجائے کہ عورت کا نطفہ اس مقام تک کس طرح پہنچتاہے ، جہاں کہ عورت اور مرد دونوں کے نطفوں کا ملاپ عمل میں آتاہے۔ ہر عورت کا ایک ماہواری نظام ہوتاہے، جس کا بلوغت کے ساتھ ہی آغاز ہوجاتاہے۔ ماہواری نظام کے نتیجے میں دو اہم باتیں وقوع پزیر ہوتی ہیں: ﴿۱﴾سقوط بیضہ (Ovulation) اور ﴿۲﴾غشاء الرحم (Endometrium)یعنی رحم کے اندرونی حصے میں مناسب تغیرات۔

۱-سقوط بیضہ(Ovulation)

ماہواری نظام کے دوران کسی ایک بیضہ دان میں ایک حویصلہ یا جھلی پختہ ہوکر پھول جاتی ہے اور پھٹ پڑتی ہے۔ جھلی کے پھٹتے ہی ایک لیس دار سیال تیزرفتاری کے ساتھ خارج ہونے لگتاہے اور اپنے ساتھ ایک پختہ بیضے کو لیتے ہوئے فالوپین ٹیوب ﴿بیضہ دان اور رحم کو جوڑنے والی نالی﴾کے اس حصّے کا رخ کرتاہے جس کو انتفاخ (Ampulla) ﴿فالوپین ٹیوب کا آخری اور رحم کا ابتدائی حصہ﴾ کہتے ہیں۔ لیس دار سیال کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں چمکدار ریزے بھی خارج ہوتے ہیں جو بیضے کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر مہینے کسی ایک بیضہ دان میں موجود جھلی ہی پختہ ہوکر پھٹتی ہے اور ایک بیضہ خارج کرتی ہے۔ بیک وقت دو بیضوں کا اخراج یا دو بیضے دانوں سے ایک ایک بیضے کا اخراج شاذونادر ہی ہوتاہے۔ انتفاخ کے مقام پر پہنچنے کے بعد بیضے کی اس طرح تقسیم عمل میں آتی ہے کہ اس میں ۳۲ کروموزوم بچ رہتے ہیں۔ ۲۲ جسمی کروموزوم اور ایک جنسی کروموزوم۔ بیضے میں جنسی کروموزوم ہمیشہ (X)ہی ہوتاہے۔

۲- غشائ الرحم (Endometrium)

میں تخم ریزی (Fertilization)کے بعد بیضے کو اپنے اندر پیوست کرلینے کے لیے مناسب تغیرات عمل میں آتی ہیں۔ اس طرح عورت کا تولیدی نظام مرد کے نطفے کا استقبال کرنے کے لیے ہر طرح تیار ہوجاتاہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَفَرَأَیْْتُم مَّا تُمْنُونَ oأَأَنتُمْ تَخْلُقُونَہُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَo﴿الواقعہ:۵۸،۵۹﴾

’کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو، اس سے بچے تم تخلیق کرتے ہو یا اس کے تخلیق کرنے والے ہم ہیں؟‘

مرداور عورت کے ملاپ کے نتیجے میں انزال کی وجہ سے جو مَنی خارج ہوتی ہے، اُسی منی کے ساتھ تقریباً دس لاکھ جرثومے بھی خارج ہوتے ہیں۔ اسی عمل کو اللہ تعالیٰ نے ’تُمْنُون‘ فرمایاہے ۔ یہ سارے دس لاکھ جرثومے اللہ عزوجل کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو کوئی ایک جرثومہ عورت کے بیضے تک پہنچ پاتاہے ورنہ نہیں۔ اگر کوئی پہنچ پاتا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوتی ہے تو وہ بیضے میں داخل ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو استقرار حمل ہو تو دس لاکھ جرثوموں میں سے کوئی ایک جرثومہ، جس کاانتخاب اللہ عزوجل فرماتاہے، عورت کے پختہ بیضے میںداخل ہوجاتاہے۔ جرثومے کے بیضے میں داخل ہوتے ہی، اس کا سر پھولنے لگتا ہے اور وہ اپنے سر میں موجود ۳۲ کروموزوم اور دوسرے کیمیائی مادے بیضے کے اندر منتقل کردیتاہے اور پھرجرثومے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مرد کے ۳۲ کروموزوم عورت کے ۳۲ کروموزوم سے مل کر ۴۶کی تعداد پوری کرلیتے ہیں اور تخم ریزی کا عمل پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ تخم ریزی کے ساتھ ہی بیضہ، رحم کے اندر پہنچ جاتاہے اور اس کے اندر سماجاتاہے اور اسی کو استقرار حمل کہتے ہیں۔ استقرار حمل کی ساری کیفیت کو اللہ نے اس طرح ظاہر فرمایا ہے:

ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْن o  ﴿المومنون :۱۳﴾

’پھر ہم نے اس کو ایک مضبوط اور محفوظ مکان میں نطفہ بناکر رکھ دیا۔‘

یہاں نطفہ سے مراد تخم ریزی کے بعد والے بیضے سے ہے ، جو کہ رحم کے اندر سماجاتاہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

لِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَخْلُقُ مَا یَشَائ ُ یَہَبُ لِمَنْ یَشَائ ُ اِنَاثاً وَیَہَبُ لِمَن یَشَائ ُ الذُّکُورَ oأَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَاناً وَاِنَاثاً وَیَجْعَلُ مَن یَشَائ ُ عَقِیْماً اِنَّہُ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌo           ﴿الشوریٰ:۴۹،۵۰﴾

’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، جو کچھ چاہتاہے پیدا کرتاہے، جسے چاہتاہے لڑکے عطا کرتا ہے ، جسے چاہتاہے لڑکے اور لڑکیاںملاجلاکر عطا کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنادیتاہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہرچیز پر قادر ہے۔‘

ان آیاتِ مبارکہ میں یَہَبُ ﴿یعنی عطا کرنا﴾کالفظ خاص طورپر قابل توجہ ہے۔ اس لفظ میں خالق کائنات کا یہ پیغام چھپاہوا ہے کہ ظاہری اسباب کے اختیار کرلینے سے یعنی مرد و عورت کے ملاپ سے، چاہے وہ کتنی دفعہ ہی کیوں نہ ہوا ہو اور مرد و عورت کتنے ہی جوان اور صحت مند کیوں نہ ہوں، حمل کا قرار پانا ضروری نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہیں تو کوئی بھی ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے استقرار حمل ناممکن ہوکر رہ جاتاہے۔ جیسے:

۱- مرد وعورت کے ملاپ کے موقعے پر بیضے کا انتفاخ تک نہیں پہنچ پانا۔

۲-  مرد کے جرثومے کا کسی بھی وجہ سے عورت کے بیضے تک نہیں پہنچ پانا۔

۳- بیضے تک پہنچنے کے باوجود ، جرثومے کا اس قابل نہ رہ جانا کہ وہ بیضے میں داخل ہوسکے۔

۴- بیضے میں کسی بھی وجہ سے کروموزوم کی تعداد کا پورا نہ ہونا۔

۵-  جرثومے میں کسی بھی وجہ سے کروموزوم کی تعداد کاپورا نہ ہونا۔

اسی طرح کی پتا نہیں کتنی ہی وجوہ ہوسکتی ہیں، جن کی بنائ پر استقرار حمل ناممکن ہوکر رہ جاتاہے۔ اس کے بعد تمام تولیدی مراحل سے بحفاظت تمام گزرتے ہوئے کسی لڑکی یا لڑکے کی پیدایش اللہ تعالیٰ کی عطا ہی تو ہوتی ہے۔

لڑکی یا لڑکے کی پیدایش

مرد کے نطفے سے متعلّق یہ بتایاگیاہے کہ جرثومے کی جب آخری تقسیم عمل میں آتی ہے تو ایک جرثومے کا جنسی کروموزوم (X)ہوتاہے اور دوسرے کا (Y)۔ مرد کے انزال کے نتیجے میں جرثومے خارج ہوتے ہیں، ان میں دونوں طرح کے جرثومے شامل ہوتے ہیں۔ اب یہ بات صرف اللہ کے اختیار میں ہوتی ہے کہ دس لاکھ جرثوموں میں سے (X)جنسی کروموزوم والا جرثومہ عورت کے بیضے میں داخل ہو یا (Y)جنسی کروموزوم والا۔ (X)کروموزوم والے جرثومے کی وجہ سے لڑکی کی پیدایش عمل میں آتی ہے اور (Y)جنسی کروموزوم والے جرثومے کی وجہ سے لڑکے کی ۔ اس لحاظ سے لڑکی یا لڑکے کی پیدایش کو صرف اللہ کی عطا ہی کہاجاسکتاہے۔ اس میںنہ عورت کی مرضی کا دخل ہے نہ مرد کی ۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ ایک ہی مہینے میں دونوں بیضے دانوں سے ایک ایک حویصلہ یعنی جھلی میں سے ایک ایک پختہ بیضہ نکل پڑتاہے اور اپنے اپنے انتفاخ کے مقام پر چمکدار ریزوں کے درمیان جرثومے کا انتظار کررہاہوتا ہے۔ اور اگر اللہ کے حکم سے دونوں بیضوں میں بھی ختم ریزی انجام پاتی ہے تو جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر دونوں جرثوموں کے جنسی کروموزوم (X)ہوںتوں دونوں لڑکیاں، دونوں کے جنسی کروموزوم (Y)ہوںتو دونوں لڑکے اور ایک کا جنسی کروموزوم (X)اور دوسرے کا (Y)ہوتو ایک لڑکا اور ایک لڑکی جڑواں پیدا ہوتے ہیں۔

بانجھ پن

یا تو عورت کے تولیدی نظام میں نقائص پائے جاتے ہیں یا پھر مرد کے تولیدی نظام میں اور اُن نقائص کی وجہ سے بعض لوگ اولاد کی نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ مشیت الٰہی کے عین مطابق ہوتا ہے۔ قصوروار نہ عورت ہوتی ہے نہ مرد۔

استقرار حمل کے بعد کے مراحل

اللہ تعالیٰ نے نہ صرف استقرار حمل کی کیفیت پر سے ۰۰۴۱ سال پہلے ہی پردہ اٹھایاتھا، بل کہ اُسی وقت استقرارحمل کے بعد کے مراحل سے بھی انسان کو چند جامع اور معنی خیز الفاظ کے ذریعے روشناس کروادیاتھا۔ اللہ فرماتاہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنسَانَ مِن سُلَالَۃٍ مِّن طِیْنٍ oثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ oثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنo             ﴿المومنون:۱۲ – ۱۴﴾

’اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا، پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا، پھر اس بوندکو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنادیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین تخلیق کرنے والا۔‘

تخلیقی مراحل سے گزرنے کے بعد جب کوئی بچہ اس دنیا میں آتاہے تو اس کے جسم کے اندر، ہماری نظروں سے اوجھل، بہت ساری حیرت انگیز دنیائیں آباد ہوتی ہیں۔ دشل کی بے حد اہم دنیا، اعصابی نیٹ ورک سے جڑی ہوئی دماغ کی بھی بے حد اہم دنیا تنفسی نظام، دورانِ خون کا نظام، ہضمی نظام، جگر کے ذریعے غذا کی تحلیل کانظام، گردوں کے ذریعے خون کی صفائی کا نظام، فاضل مادوں کااخراجی نظام، ہڈیوں کا نظام، پورے جسم کا حرکاتی نظام، نیند اور بیداری کا نظام، جلد کی دنیا، آنکھوں کی دنیا، کانوں کی دنیا، ناک کی دنیا وغیرہ وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے اعلان کے مطابق سائنس دانوں کو اِن سب کاتفصیلی مشاہدہ کروادیا ہے۔ اسی لیے عصری علمِ طب پر مبنی ساری ہی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے کروائے ہوئے مشاہدے ہی کی تفصیلات ملتی ہیں، جو دراصل قدرتِ الٰہی کی ایسی نشانیاں ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ربوبیت، الوہیت اور بلاشرکتِ غیرے شہنشاہیت کا صاف صاف پتا چل جاتاہے۔ کتنے ہی غیرمسلموں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی ہی نشانیوں سے متاثر ہوکر قرآنِ مجید کی حقانیت کو تسلیم کرلیاہے۔

فروری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau