ماحولیاتی مسائل اور ان کا اسلامی حل

اعجاز احمد قاسمی

ماحولیات کے لحاظ سے معاصر دنیا کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔ نہ تو ہوا سانس لینے کے قابل ہے اور نہ ہی دریاؤں اور تالابوں کا پانی بے خوف ہو کر پیا جا سکتا ہے۔ وطن عزیز میں زمین کے پانی کی ابتدائی سطح اس حد تک آلودہ ہو چکی ہے کہ اس سے صحت کو زبردست خطرہ لاحق ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر قصبات اور دیہات تک موٹر گاڑیوں کی کثرت اور ان کے دھوؤں سے فضاآلودہ ہے۔ پلاسٹک کے استعمال سے زمین آلودہ ہے۔صنعتی کل کارخانوں، ریڈیو،ٹیلی ویژن اورلاؤڈ ا سپیکر وغیرہ نے صوتی آلودگی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ ایئرکنڈیشن اور بجلی کے دیگر استعمالات نے فضا میں اوزون کی سطح کو متاثر کیا ہے۔ زیر زمین ایٹمی تجربات نے فضا کی تابکاری میں الگ اضافہ کر دیا ہے۔ سمندرکی تہہ میں ان تجربات نے وہاں کے ماحول کو بگاڑ دیا ہے اور زندگی کے لالے پڑگئے ہیں۔ عراق اور افغانستان میں برسائے گئے لاکھوں گولے اور بارود نے ماحول کے ساتھ موسم کے مزاج میں بھی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔

الغرض خشکی اور تری ہر جگہ انسان کی زندگی اجیرن ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے تمام لوگ حیران و پریشان ہیں اس مشکل سے نجات پانے کے لئے طرح طرح کی تدبیریں اختیار کی جا رہی ہیںلیکن ساری تدبیریں نا کام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ تد بیر کنندگان اسلام کے سایہ میں رہ کر تدبیرنہیں کریں گے تب تک انہیں ناکامی اور نامرادی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ زندگی کے دوسرے تمام مسائل کی طرح ماحولیات کے اس مسئلہ کا بھی پائیداراور تسلی بخش حل صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔پچھلے دو سوسالوں میں صنعتی ترقی ، شہروںکی جانب نقل مکانی اور آبادی کے بے تحاشا پھیلاؤ نے ماحول کو ابتری کا شکار بنا دیا ہے۔ معدنیات کو ہی لے لیجئے مجموعی طور پر زمین کی گود سے سالانہ 6×105ٹن معدنیات نکالی جاتی ہیں اتنی مقدار تو روئے زمین پر انسان کی آمد سے لے کر پوری انسانی تاریخ میں نہیں نکالی گئیں تھیں۔ اس رفتار سے تو ہم اگلے ۲۵ سال میں معدنیات سے تہی دامن ہو جائیں گے۔

ہر سال زمین پر ٹھوس غلاظتیں تیس ہزار ملین ٹن بکھیری جاتی ہیں گردو غبار کی مقدار ۲۵۰؍ملین ٹن ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ 146 ملین ٹن جب کہ N20کی مقدار 53ملین ٹن ہے۔انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر ہم ہر سکنڈ میں فٹبال گراؤنڈ کے برابر جنگلات سے محروم ہو رہے ہیںجہاں تک زہریلے کیمیاوی مادوں کا تعلق ہے تو ستر ہزار ٹن سالانہ صرف امریکہ میں استعمال ہوتے ہیں اب جب کہ توانائی کی عالمی طلب19 18.1×10ٹن کوئلے کے لگ بھگ سالانہ ہے اور کوئلہ6 7150×10ٹن سالانہ استعمال ہوتا چلاآرہاہے تو اس طرح آلودگی اور بھی بڑھے گی۔

ہر روز سو کے لگ بھگ جانداروں کی اقسام ماحول کی آلودگی کے سبب ناپید ہو رہی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی افراط سے گلوبل وارمنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں اگر برف کے ذخائر پگھل جائیں تو سمندر دو سو فٹ اونچے ہو جائیں تب حیات کہاں جائے گی۔ کرۂ ارض کے اوپر اوزون بھی ماحول کی آلودگی سے متاثرہو رہی ہے۔ جس کے اثرات فصلوں ، انسانوں اور دیگر جانداروں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً4.5×1011ٹن آلودگیاں شامل آب بحر کی جاتی ہیں۔ صنعتی فضلات ہوںیا شہری علاقوں کا آب نکاسی ، فضائی آلودگی کے بادل ہوں یا جہازرانی کی غلاظتیں سبھی کچھ سمندروں میں جاگرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تیز ابی بارش سے خشکی پر نقصانات کے ساتھ صرف سویڈن میں 2500جھیلیں مچھلیوں کی بقاء کے لئے خطرہ ہیں جب کہ 6500جھیلوںمیں تیزابیت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے ۔ اسی طرح ناروے میں 1750جھیلیں مچھلیوں کے لئے جائے پناہ نہیں رہیں۔ فضائی آلودگی کو بڑھانے اور موسموںپر اثر انداز ہونے میں زراعت کا عالمی حصہ 25فیصد ،بجلی و توانائی کا  25فیصد ،ٹرانسپورٹ کا 10فیصد، کوئلے گیس کا  10فیصداور صنعتوںکا 10فیصد حصہ ہے۔ صرف امریکہ میں دنیا کی 23فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ فضا میں دھکیل دی جاتی ہے۔ فضاکے لطیف غلاف اور ہواکے دلربا جھونکوں میں اب کاربن ڈائی آکسائڈ سمیت مختلف زہریلی گیسیں در آئی ہیں ایک اندازے کے مطابق فضا میں اوزون کی مقدار 2.3فیصد کم ہونے سے شعاعوں کی شدت 6فیصد اور کینسرکے خطرات 14فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

گاڑیوں کے دھوؤں، سیسہ ملے پٹرول کے عذاب سے شاید ہی زمین کا کوئی خطہ محفوظ ہو بڑے شہروں اور گنجان آبادیوں میں ٹرانسپورٹ نے نیا عذاب برپا کر رکھا ہے۔د ھوؤں کے ساتھ سیسہ کا مہلک زہر ہوا کی موج میں شامل ہو گیا ہے۔ سیسہ انتہائی مہلک اور مضر ہے۔ یہ دماغ کے خلیوںکو ختم کردیتا ہے۔ ہانگ کانگ میں ایک سروے کے مطابق بچوں میں دماغی صلاحیت چار پوانئٹ کم ہوگئی ہے، اس کی وجہ فضاء میں سیسے کی زیادتی ہے اس عنصرسے سانس سمیت کئی طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بے تحاشہ اخراج سے گلوبل وارمنگ کا خطرہ ہے اور ایسا ہوا تو کرۂ زمین کا درجہ حرارت 0.5سینٹی گریڈ بڑھ جانے سے قطبین کی برف پگھل کر دنیا کے نشیبی علاقوں کو ڈبودے گی اگر قطبین کی برف مکمل پگھل جائے تو طوفان نوح دوبارہ آسکتا ہے اور ہمارے سمندروں کی سطح 200فٹ بلند ہو جائے گی۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا بڑا ذریعہ یہی ایندھن اور آگ جلانے کا عمل ہے ان قدرتی ایندھنوں میں کاربن کے اجزاء کے علاوہ کئی زہریلے مادے بھی ہوتے ہیں جو ایک حد تک ہوں تو باعث رحمت اورمفید ہیں مگر ایک حد کے بعدوہی وبال جان ہیں۔ماحولیاتی آلودگی میں صوتی آلودگی ایک اہم مسئلہ ہے ایسی آواز جو 80dbسے بڑھ کر ہو انسانی طبیعت کو نہ صرف مکدر کرتی ہے بلکہ اس سے ذہنی تناؤ بھی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سانس لینے میں دشواری ، ذہنی ارتعاش ، عارضہ قلب، گھبراہٹ، سماعت کی شکایت متلی و قے ،جلد کی سوزش بہرہ پن وغیرہ آواز کے دباؤ کا نتیجہ ہیں روز مرہ زندگی میں رہائشی علاقوں میں شور کا اتار چرھاؤ دن کے وقت 50dbاور شام کو 45dbاور رات کو 40dbسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔

ماحولیات کے سلسلہ میں آبی آلودگی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا بھی سب سے پائیدار حل اسلام کے پاس ہے ۔ قرآن میں متعدد مقامات پر پانی کی اہمیت مختلف اسلوب وانداز میں اجاگر کی گئی ہے۔ بلکہ ایک جگہ پانی کو مدارِحیات قراردیا گیا ہے و جعلنا من الماء کل شیٔ حیّ اس کا تقاضہ یہ ہے کہ آبی ذخیرہ جس طرح بھی اورجس وجہ سے بھی آلودہ اور ناقابل استعمال ہو رہا ہو اس کے اسباب اور عوامل کا بلا تاخیر تدارک اور سد باب ضروری ہے اسلام در اصل مصلحتوں کا ہی دین ہے۔ سماج اور معاشرہ کے لئے جن مصالح کی حصولیابی ضروری ہے وہ اس کی اولیں ترجیحات میں شامل ہے۔ آنحصورﷺ کا واضح ارشاد ہے لاضررولاضرار یعنی نہ کسی کو ابتداء نقصان پہونچایاجائے اور نہ بدلے میں جس کی بناء پر فقہ اسلامی کا یہ قاعدہ کلیہ وجود میں آیا ہے الضرریزال جس میں ذیلی قواعد سے مزید وسعت دی گئی ہے۔ یتحمل الضررالخاص لاجل دفع الضررالعام یعنی عام نقصان کے دفاع کے لئے خصوصی نقصان برداشت کیا جائے گا۔ اور درء المفاسد اولیٰ من جلب المنافع یعنی خرابیوں کو دور کرنا منافع کی حصولیابی سے زیادہ بہتر ہے۔ لہٰذاان قواعد و ضوابط کی روشنی میں صنعتی اکائیوں اور کل کارخانوں کی افادیت اپنی جگہ لیکن ان کی وجہ سے اگر لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان پہونچتا ہو تو بڑے اور پھیلے ہوئے اس نقصان سے بچنے کے لئے محدودو مخصوص نفع اور فائدہ کو ترک کیاجائے گااور ضرر عام کے مقابلے میں ضرر خاص کو انگیز کیا جائے گا۔ لہٰذا جب تک مذکورہ کارخانے خود کو وابستہ نقصانات سے آزاد نہیں کرالیتے ان کو بے روک ٹوک اور لگاتارآبی آلودگی میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔

انہیں مذکورہ ضابطوںکی روشنی میں پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے  پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل، صنعتی فضلات اور گاڑیوں کے دھوؤں کی وجہ سے فضائی آلودگی کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ آلودگیٔ ماحولیات کے سلسلہ میں آلودگی صوت، کل کارخانوں، گاڑیوں، مائیکروفون، ریڈیو اور ٹیلی ویژن وغیرہ سے پیدا ہونے والی آواز اور شور اورچلاہٹ بھی آج کا اہم مسئلہ ہے اس مسئلے کا حل بھی درج ذیل قرآنی آیات کی روشنی میں نکالا جا سکتا ہے۔

(۱)  وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۝۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ(لقمان:۱۹)یعنی اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ سب آوازوں سے زیادہ بڑی آواز گدھے کی آوازہوتی ہے۔

(۲)  وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا(الاحزاب :۷۰) یعنی اور ٹھیک بات کیا کرو۔

(۳)  وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا  (البقرۃ :۸۳)اور لوگوں سے بھلی بات کرو۔

جس کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ گفتگو میں آدمی کا لہجہ دھیما اور معقول ہو اور اپنی سخت اور کرخت آواز سے لوگوں کی ایذارسانی سے خود کو محفوظ رکھے ۔ یہاں تک کہ نماز اور دعاء جیسی عظیم الشان عبادت میں اہل ایمان کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ نہ تو بہت آہستہ ہو اور نہ بہت زور سے ۔

وَلَا تَجْـہَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۱۰ (بنی اسرائیل :۱۱۰) اپنی نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھو اورنہ بہت پست آوازسے ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ (الاعراف :۲۰۵)

اللہ کے رسول نے مساجد میں بلند آواز سے بات کرنے کو قیامت کی ایک علامت قرار دیاہے۔ لاتقوم الساعۃ حتیٰ یتبا ھرالناس فی المساجد (مسند احمد ۱۳؍۱۳۴)یعنی اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مسجدوں میں شور شرابہ نہ کرنے لگیں۔

مسجد کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہاں بلند آواز میں بات نہ کی جائے ۔

جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجاننینکم و شراء کم وبیعکم و خصوما تکم ورفع اصواتکم (سنن ابن ماجہ)یعنی اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں، پاگلوں، خریدوفروخت ، جھگڑوں اور شور شرابے سے دور رکھو۔

جس دین کا یہ مزاج ہو وہ کل کارخانوں کے شور، ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعہ پھیلائی گئی صوتی آلودگی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسرے پہلو سے بھی اسلام میں صوتی آلودگی کی ناپسندیدگی کا ثبوت موجود ہے اسلام کا بڑا تاکیدی حکم ہے کہ مسلم ہو یا غیر مسلم کسی کو بھی کسی انداز سے اور کسی بھی پہلو سے کسی طرح کی تکلیف اور ایذاء نہ دی جائے چند احادیث درج کی جاتی ہیں۔

(۱)  لاتوذواعباد اللہ ولاتعیر وہم ولاتطلبو عوراتھم (مسند احمد ۲؍۲۷۹)اللہ کے بندوں کو تکلیف نہ پہونچاؤنہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے رازوں کے پیچھے پڑو۔

(۲)  تکف شرک من الناس (صحیح مسلم کتاب الایمان)

(۳)کف اذاک عن الناس (مسند احمد ۵؍۱۵۰)

(۴)  المسلم من مسلم المسلمون من لسانہ ویدہ (صحیح بخاری کتاب الایمان)

(۵) لایومن أحدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ (صحیح بخاری کتاب الایمان)

پڑوسیوں کے سلسلے میں خاص طور سے تاکیدی احکام دیئے گئے ہیں۔

(۱)  واللہ لایومن، واللہ لایومن ، واللہ لایومن، قیل ومن یارسول اللہ، قال الذی لا یامن جارہ بو ائقہ (صحیح بخاری ۔ کتاب الادب) یعنی بخدا وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔

(۲) لایدخل الجنۃ من لایامن جارہ بوائقہ (صحیح مسلم ۔کتاب الایمان)

(۳)من کان بومن باللہ والیوم الآخر فلا یوذ جارہ (صحیح بخاری ۔ کتاب الادب)

ان احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی ایسی چیز کا استعمال جو دوسروں کے لئے ایذا کا باعث اور صوتی آلودگی کا ذریعہ ہو نیز پڑوسیوں کی تکلیف کا سبب ہو انتہائی نا مناسب اور غیر درست ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ شجر کاری ہے۔ درخت صنعتی فضلات، کل کارخانوں گاڑیوں وغیرہ کے دھوئیں اور آلودگی کو جذب کرتے ہیں ان سے یہ خود قوت حاصل کرتے ہیں اور انسانی آبادی کو فضائی آلودگی سے بچاتے ہیں۔ اسلام میں اس شجرکاری کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ آنحضورؐنے مختلف پہلوؤں سے اس کی طرف متوجہ کیا ہے آپ کا ارشاد ہے ’’مامن مسلم یغرس غرسا اویزرع زرعا فیا کل منہ طیر أو انسان اوبھیمۃ الاکان لہ بہ صدقۃ‘‘ (صحیح بخاری کتاب الحرث والزراعۃ-کسی غیر آباد اور مردہ زمین کو آباد کرنے اسے زراعت اور شجر کاری کے ذریعہ سرسبز و شاداب بنانے کی ترغیب بھی ذخیرئہ حدیث میں ملتی ہے۔ من أحیی ارضامیتۃ فلہ فیہا اجروما أکلت العافیۃ منہا فھولہ صدقۃ (مسند احمد ) یہاں تک فرمایا گیا کہ ان قامت علی أحدکم القیامۃ وفی یدہ غرسۃ فلیغر سہا (مسند احمد ۳؍۱۸۴ ) شجر کاری کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک میں زمین کو فصلوں اور درختوں سے آباد کرنے کے بجائے اسے اجاڑنے اور تباہ کرنے کو ’’فساد فی الارض‘‘ سے تعبیرکیا گیاہے۔ اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قرآن میں فصلوں اور درختوںکی اس تباہی کو نسل کشی کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا گیاہے۔

وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۝۲۰۵ (البقرہ۲۰۵)قرآن پاک کے مختلف مقامات میں فساد فی الارض سے باز رہنے  اور اصلاح کے بعد اس میں بگاڑ پیدا کرنے سے روکا گیا ہے وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا  (اعراف ۵۶)

ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دوسرے نقصانات کے علاوہ ایک بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ اس کی وجہ سے اوزون کی وہ پرت متاثر ہورہی ہے جو اہل زمین کے لئے اوپر کی تابکاری شعاعوں اور مضر مادوں اوراجزاء کو روکتی ہے اور ایک طرح سے مزاحم کا کام کرتی ہے۔ صنعتی آلودگی بجلی کے سامان اور بالخصوص ایئرکنڈیشن سے جو مادہ خار ج ہوتا ہے وہ اس سطح کے لئے غیر معمولی طور پر نقصان دہ ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے مذکورہ اصول و ضوابط سے کام لیاجا سکتا ہے۔ یعنی ضرر عام کو دور کرنے کے لئے اس طرح کے اسباب تعیش پر روک لگائی جا سکتی ہے۔جس کا نفع محدود و مخصوص ہے۔

فروری 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau