نقد و تبصرہ

اسامہ شعیب علیگ

مصادرِ سیرتِ نبوی

مصنف     :ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی

ناشر          : انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو    اسٹڈیز،جامعہ نگر، نئی دہلی۔۱۱۰۰۲۵

اشاعت: ۲۰۱۶ ء، جلد اول: صفحات:۶۳۸ ، جلد دوم: صفحات:۶۶۶  کل قیمت:۹۹۰ روپے

محترم صدر مجلس عزت مآب نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری صاحب ومعزز شرکائے مجلس! منتخب اہل علم ودانش کی اس مجلس میں اظہارِ خیال میرے لیے بہت بڑی سعادت ہے ۔ اس کے لیے آبجیکٹیو اسٹڈیز اورخاص طور پر اس کے چیئرمین برادر عزیز ڈاکٹر محمد منظورعالم کا یہ عاجز شکر گزار ہے ۔ ہمارے محترم دوست ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی حفظہ اللہ کی سیرت نبوی اورتاریخ اسلام پر بڑ ی وسیع نظر ہے۔ سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں پر انہوںنے اپنے تحقیقی مقالات اورتصنیفات میں روشنی ڈالی ہے اوربعض ان گوشو ں کواجاگر کیا ہے جن کی طرف عموماً نظر نہیں جاتی۔

ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی سے میرے روابط بہت قدیم ہیں۔ سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ اس عاجز کی ادارت  میں اپنی عمر گریزاں کے چونتیس (۳۴)برس پورے کرچکا ہے ۔ اس طویل عرصہ میں اللہ کا شکر ہے کہ اس کے ایک شمارے کا بھی کبھی ناغہ نہیں ہوا ۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کے آغاز ہی سے رفیق محترم ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی کا قلمی تعاون اسےحاصل رہا اوربعض مال ایسے بھی گزرے ہیں کہ ان کی نگارشات بغیر کسی انقطاع کے اس کی زینت بنتی رہی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ہوں کہ آج تک ان کا تعاون تحقیقات اسلامی کوحاصل ہے۔

سیرتِ نبوی پر مشہور تصنیفات کے آغاز میں بطور تمہید مآخذ سیرت پر بھی گفتگو ملتی ہے ، لیکن مصادرِ سیرت پر اردو زبان میں یہ سب سے مبسوط اورجامع کوشش ہے ۔ اس موضوع پر بہت سا مواد جو وسیع ذخیرۂ کتب اور علمی ذخائر موجود ہے ، اسے تحقیق وتنقید کے ساتھ اس کتاب میں یکجا کردیا گیا ہے ۔ ہر ماخذ کی علمی حیثیت بھی متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اہلِ علم ، خاص طور پر سیرت سے دل چسپی رکھنے والے اس سے بہ آسانی فائدہ اُٹھا سکیں گے ۔ دعا ہے کہ ہمارے محترم دوست اورمصنف گرامی کوسیرت طیبہ کی مزید خدمت کی سعادت حاصل ہوا اوراللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت پاک کے مطالعہ، اس سے استفادے اوراس پر عمل  اور زندگی میں اسے جذب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اوراس کے چیرمین برادر عزیز محترم ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا ضروری ہے کہ انہوںنے اس کتاب کواتنے اعلیٰ معیار سے شائع کیا ہے کہ اردو کی دینی اور علمی کتابیں کم ہی اس معیار سے شائع ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازے ۔

( مولانا سید جلال الدین  عمری)

 : ذکر محمد ﷺ

مرتبین     : ڈاکٹر عبیداللہ فہد، ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

ناشر           : سیرت کمیٹی علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی، علی گڑھ

اشاعت    : ۲۰۱۵ء     صفحات:۲۸۰      ، قیمت : درج نہیں

سیرتِ رسول ﷺ پر ہر دور میں متنوع انداز میں عظیم الشان تحریری کام ہواہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے  اور تاقیامت جاری رہے گا۔  علی گڑھ مسلم یوینورسٹی بھی اس عظیم کار خیر میں اپنا رول ادا کرتی   آرہی ہے۔  سالِ گزشتہ میںیونیورسٹی کی سیرت کمیٹی نے ۱۷؍ جنوری تا۲؍ فروری ۲۰۱۵ ء اس دانش گاہ میں متنوع  تقریبات منعقد کیں، جن میںطلبہ و طالبات ،ریسرچ اسکالرس اور اساتذہ کی بھر پور شرکت ر ہی ۔ زیر نظر کتاب دراصل انہی تقریبات کی روداد ہے۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول میں چھ (۶) مبسوط مقالوں کے علاوہ تین( ۳) کانفرنسوں کے صدارتی خطبے بھی شامل ہیں۔پہلا مقالہ’ محمد ﷺ اپنے القاب کی روشنی میں ‘کے عنوان سے ہے۔ اس میںپروفیسر ابوسفیان اصلاحی نے اشعارِ عرب کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کے مختلف القاب کی وضاحت کی ہے۔ دوسرےمقالے’مکہ مکرمہ کے اولین مسلمان‘میں ڈاکٹر احسان اللہ فہد نے علانیہ دعوت سے قبل نبوی جدوجہد پر روشنی ڈالی ہے۔ تیسرا مقالہ ڈاکٹر سعود عالم قاسمی کا ہے ،جس کا عنوان ہے:  ’ تشدد کے جواب میں تحمل ‘ ۔ ایک اور مقالہ بہ عنوان’ عدل نبویﷺ کی فکری بنیادیں ‘ہے، جس میں ڈاکٹر عبیداللہ فہد نے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ایک اور مقالہ ’سیرت نگاری میں ہندو اہل علم کا حصہ ‘ کے موضو ع پر ہے۔ اس میں ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی نے ہندو اہل علم اور دانش وروں کی انگریزی تحریروں کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ ڈاکٹر عبید اقبال کا ایک مقالہ ’ اسوہ رسول ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں ‘کے عنوان سے ہے ۔ کتاب کا دوسراحصہ سیرت کی مختلف تقریبات اورکانفرنسوں کی روداد پر مشتمل ہے ۔

کتاب میں مختلف تقریبات کی روداد ایک سو تیس (۱۳۰) صفحات پر مشتمل ہے۔یہ حصہ غیر ضروری سا لگتا ہے ۔ کیوں کہ اس میںبڑی طوالت سے کام لیا گیا ہے۔ کتاب میں کچھ غلطیاں بھی موجودہیں، جن کی تصحیح ضرور ی ہے۔مثلاً صفحہ ۱۸۹ پر’ افغانستان کی ملالہ یوسف زائی‘ لکھا گیا ہے، جب کہ وہ پاکستان کے سوات علاقے کی ہے، متعدد نام غلط ہو گئے ہیں،۔ مثلاًشوکت احمد دار( ڈار)،محمد یسین گدا(گڈا)، فضل فشوس( فشوش )۔

بہر کیف یہ ایک علمی کاوش ہے، جس پر مرتبین قابل ستائش ہیں۔   ( مجتبیٰ فاروق)

 : وحدتِ ادیان کی حقیقت

مصنف     : جناب محمد اقبال ملا ، سکریٹری شعبہ دعوت ، جماعت اسلامی ہند

ناشر          : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی ۔۲۵

سنہ اشاعت              : ۲۰۱۵ء ،صفحات: ۶۴،قیمت: ۳۰

اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین روز اول سے ایک ہی رہا ہے اور وہ ہے اسلام ۔اسے کسی انسان نے نہیں گھڑا ہے، بلکہ خود اللہ تبارک وتعالی نے نازل کیا ہے۔وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام وقتا فوقتا بھیجتا رہا اوراسی نے آخر میں نبوت کا یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفی ﷺپر ختم کیا۔گویا  اسلام انسانوں کی ہدایت کے لیے الٰہی رہ نمائی کا آ خری ذریعہ ہے ۔ اس کے سوا نوع انسانی کے رشد و ہدایت کے لیے کوئی بھی مذہب یا نظریہ صحیح نہیں ہے ، بلکہ ہر لحاظ سے گم راہی کا سبب ہے۔آج کل کچھ لوگ وحدتِ ادیان کے قائل ہیں۔ان کے مطابق تمام مذاہب حق و صداقت کی طرف رہ نما  ئی کرتے ہیں اور سب یکساں اور درست ہیں ۔

زیر نظر کتاب میں مصنف نے اسی گتھی کو انتہائی حکمت و بصیرت کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ مقدمے میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کتاب اصلاً براداران وطن کے لیے لکھی گئی ہے ، تاکہ وہ وحدت ادیان کی حقیقت کو جان لیں اور ان کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف آ جائے۔

کتاب میں چار ابواب ہیں :پہلا باب’وحدت ادیان کی حقیقت‘ کے عنوان سے ہے ۔اس میں موصوف نے مذہب کی تعریف، سچے مذہب کی خصوصیات ، انسانیت کا پہلا مذہب ،وغیرہ عناوین پر بحث کی ہے ۔ دوسرا باب ’چند بنیادی تصورات اور مذاہب ‘کے عنوان کے تحت ہے ۔اس میں تصورِ خدا ، تخلیق کائنا ت ، زندگی بعد موت کا تصور جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی ہے ۔ فاضل مصنف نے پہلے مختلف مذاہب کے تصورات پیش کیے،  پھران پر مدلل اور جامع تبصرہ کیا۔ تیسراباب ’وحدت ادیان کا ایک اہم پہلو ‘کےعنوان سے ہے۔ چوتھا اور ٓآخری باب ’مکالمہ بین المذاہب‘ جیسے اہم موضوع پر ہے ۔ اس میں مصنف نے بہترین انداز میں اس کے مقاصد بیان کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مکالمہ بین المذاہب کثیر مذہبی و لسانی سماج میں پرامن زندگی ، انسانی بھائی چارہ اور امن و سلامت کے لیے ضروری ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باجود کافی اہمیت کی حامل ہے ۔ اسلام کا تعارف اور دعوت حق کی پیش کش کے دوران داعیوں کے سامنے ایک عملی مسئلہ وحدت ادیان کا پیش آ تا ہے ان کے لیے یہ کار آمد کتاب ہے ۔ امید ہے کہ وہ اس سےبھر پور فائدہ اُٹھائیں گے۔                                        (مجتبیٰ فاروق)

 : اردو صحافت کی موجودہ صورتِ حال

مصنف  و ناشر            : فلاح الدین فلاحی

مطبع        : نیوپرنٹ سینٹر ، دریا گنج ، نئی دہلی

سنہ اشاعت:   ۲۰۱۵ء ،صفحات: ۱۹۲،قیمت: ۱۵۰ روپے

ایک وقت تھا جب صحافت کوبے وقت کی راگنی سے تعبیر کیا جاتا تھا ، مگر آج کے دور کو صحافت کے عروج کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ ملکی نظام میں اگر کسی چیز کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے تووہ صحافت ہے ویسے کبھی صحافت ملک کا پانچواں ستون کہا جاتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب صرف الکٹرانک میڈیا کوہی اعتبار حاصل تھا ،مگر فی زمانہ اس کے ساتھ پرنٹ میڈیا کوبھی اہمیت دی جانے لگی ہے ۔ اس طور پر کہا جاسکتا ہے کہ صحافت موجودہ دورکا سب سے زور آور ، با اثر اور کارگر ذریعۂ معاش ہے ۔ پیشِ نظر کتاب جناب فلاح الدین فلاحی کی پہلی باقاعدہ تصنیف ہے ۔ اس میں پانچ ابواب ہیں اور ہر باب میں چارذیلی عناوین قائم کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب اردو صحافت کی موجودہ صورتِ حال پر روشنی ڈالتی ہے ۔ اگرچہ صحافت کے موضوع پر متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں ، مگر ان میں عموماً صحافت کی اہمیت اوراس کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں دورِ حاضر میں اردو صحافت کی صورتِ حال پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے ، ساتھ ہی اردو صحافت کے گرتے معیار ووقار پر بھی بحث کی گئی ہے ۔ باب اول میں اردو صحافت کی تاریخ اور۱۸۵۷ء کے بعد اردو اخبارات کوزیر بحث لایا گیا ہے ،دوسرا باب اردو صحافت ۱۹۴۷ء سے ۱۹۸۰ء تک پر ہے ۔ اس میں اردواخبارات کی پس ماندگی کے اسباب تلاش کیے گئے ہیں، باب سوم میں ۱۹۸۰سے ۲۰۰تک اردو اخبارات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے ، باب چہارم کا عنوان ہے ’اکیسویں صدی میں اردو صحافت۔ اس میں اردو اخبارات کی موجودہ صورتِ حال سے آگاہی کرائی گئی ہے ۔ باب پنجم میں ’دینی مدارس اورذرائع ابلاغ‘ کے موضوع پر گفتگو کی گئی ہے ، یہ باب بہت اہم اورمفید ہے ، کیوں کہ اس میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ مدارس کے طلبہ کس طرح میڈیا میں قدم رکھ سکتے ہیں اور یہ میدان ان کے لیے کتنا کا ر آمد ہے ۔

زیر نظر کتاب اپنے موضوع پر ایک عمدہ کوشش ہے۔ امید کہ قارئین اسے پسند کریں گے اور مصنف کے قلم کی جولانیاں جاری رہیں گی ۔                                                 (محمد رضوان خان)

 :سفینۂ غمِ دل

مصنف      :پروفیسر محسن عثمانی ندوی

ناشر          :نیو کریسنٹ ،پبلشنگ کمپنی ۲۰۳۵،فلی قاسم جان، دہلی

سنہ اشاعت:۲۰۱۵ء ،صفحات :۲۴             قیمت :۲۰

پروفیسر محسن عثمانی ندوی کا شمار عصر حاضر کے نام ور اہل قلم میں ہوتا ہے۔ موصوف ہمہ جہت شخصیت کے مالک ، معروف اسکالر اور عصری علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اب تک مختلف موضوعات پر ان کی تین درجن سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان کا خاص موضوع موجودہ دور میں عالمِ اسلام کے بدلتے ہوئے حالات ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب میں فاضل مصنف نے  مصر، خلیجی ممالک اور شام میں ہو رہے بے قصور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم،وہاں کی روز مرہ کی زندگی ،بدلتے ہوئے حالات اور سیاسی منظرنامہ کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے۔مصر میں اخوان کے قتل عام اور جمہوری طور سے منتخب مرسی حکومت کو فوج کے ذریعہ برطرف کیے جانے کے مسئلہ پر بھی انہوں نے بے خوف و خطراظہارِ خیال کیا ہے ۔ اسلوب نہایت دردمندانہ اور معذرت خواہا نہ انداز سے پاک اور ادبی چاشنی لیے ہوئے ہے جس میں استعاروں اور محاوروں نے چار چاند لگا دیے ہیں ۔ یہ تحریر آئین جواں مردی، حق گوئی و بے باکی کی مکمل تصویر ہے ۔اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے غیر ضروری لفاظی اور خلل انگیز طوالت سے گریز کیا ہے اور تحریر کو مقصدیت سے دور نہیں ہونے دیا ہے۔

عالم اسلام کے موجودہ حالات سے دل چسپی اور اسلام اور مسلمانوں سے ہمدر دی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک عمدہ اور مؤثر تحریر ہے ۔امید ہے کہ اسے عوام و خواص میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا ئے گا۔

(محمد اسعد فلاحی)

 :   اسلام کے قلعے:دینی مدارس ترمیم اور اصلاح کی ضرورت

مصنف      :پروفیسر محسن عثمانی ندوی

مطبع ٍ         :بھارت آفیسٹ ،گلی قاسم جان ۔دہلی ۱۱۰۰۰۶

سنہ اشاعت             :۲۰۱۵ءصفحات :۴۸قیمت :۳۰

یہ بات تمام اہل ِ اسلام کے نزدیک مسلم ہے کہ مدارس ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ اور اس کی اہم بنیادی ضرورت کی تکمیل کا کام انجام دیتے ہیں ۔یقیناً ملک میں ان کی ایک روشن تاریخ ہے ۔ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیںکر سکتا ۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت کی بقا اور اس کے تشخص کو باقی رکھنے میں ان کا اہم رول رہا ہے ۔

مدارس کے سلسلے میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ وہ خامیوں سے مبرا نہیں ہیں ۔ان کی موجودہ صورت ِ حال یہ ہے کہ نظام اور نصاب دونوںاعتبار سے بہت کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے ۔اسی لیے فارغین مدارس کی ایک بڑی تعدا لاشعوری کے اندھیروں میں غرق اور عصری تقاضوں سے ناواقف ہوتی ہے ۔مدارس میں دین کے بجائے مسلک سکھایا جاتا ہے، اسی لیے فارغین مدارس کی اکثریت دنیا سے بے خبر اور مسلک کے تعلق سے تنگ نظری کا شکار نظر آتی ہے۔مدارس کو موجودہ وقت میں مختلف چیلنج درپیش ہیں ۔ـ’’ملک کے اندر’ صولتِ بزم کافری اور رقصِ بتانِ آزری‘ کا منظر اسٹیج کیا جانے والا ہے ۔ سرکاری تعلیم پر زعفرانی رنگ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے،گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کی تجویز پیش کی جاچکی ہے۔اس شورش طوفاں کو روکنے کے لیے کچھ نئی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔یہ وہ چیلنج ہے جسے علما کو قبول کرنا ہی ہوگا ‘‘۔(ص۔۱۰)

زیرِ نظر کتاب پروفیسرمحسن عثمانی ندوی کی اپنے موضوع پر ایک اہم تصنیف ہے ۔اس میں مدارس میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور ان کے ازالے کے لیے تجاویز اور مشورے دے گئے ہیں ۔فا ضل مصنف نے کئی مدارس سے تعلیم حاصل کی ہے اور بہت سے تعلیمی اداروں میں بہ حیثیت ِ معلم اپنی خدمات انجام دی ہیں ۔موصوف نے اس تحریر میں علما اور دینی مدارس کے فارغین کو اپنا مخاطب بنایا ہے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے خوش آئند بنانے کے لیے وہ اہم رول ادا کریں۔امید ہے کہ یہ تحریر علما اور ذمہ دارانِ مدارس کی توجہ اپنی  طرف مبذول کرے گی اوروہ اپنا مطلوبہ کام انجام دیں گے ۔

(محمد اسعد فلاحی)

 :مسلم مجلس مشاورت -ایک مختصر تاریخ

مصنف     :محمد علم اللہ

ناشر          :فاروس میڈیا اینڈ پبلیشنگ،ڈی ۸۴-ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،نیو دہلی،۱۱۰۰۲۵،

اشاعت: ۲۰۱۵ء، صفحات:۱۹۶، قیمت:۲۰۰

ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلم مفکرین اور رہ نماؤں نے مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہود اور ملک میں ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے مختلف سطحوں پر جد و جہد کی اور تعلیمی ،اصلاحی اوررفاہی میدانوں میں اہم خدمات انجام دیں۔مسلم تنظیموں کی اجتماعی جدوجہد اور مشترکہ نمائندگی سے امتِ مسلمہ اور مسلمانانِ ہند کے بہت سے مسائل حل ہوئے۔اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاور ت نے اہم کردار ادا کیا۔ مجلس مشاورت پرعروج وزوال کے ا دوار آئے،اس کی تقسیم ہوئی،پھر دونوں دھڑوں کا انضمام ہوا۔ضرورت تھی کہ مجلس مشاورت کی تاریخ مرتب کی جائے ،تاکہ نئی  نسل اس کی تاریخ سے واقف ہو،اس کے مقاصد،فوائد اور اثرات کا اسے بہ خوبی علم ہواوراپنے اسلاف کے کارناموں کی روشنی میں وہ اپنے لیے مستقبل کے منصوبے بنا سکے۔زیر نظر کتاب کی صورت میںیہ کام نوجوان مصنف محمدعلم اللہ نے بخوبی انجام دیا ہے۔انھوں نے مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے ان ماس کمیونیکیشن اور ڈپلوما ان جرنلزم کیا ہے اور اس وقت  صحا فت سے جڑے ہوئے ہیں۔اب تک ان کے دو سو(۲۰۰) سے زائد مضامین مختلف اخباروں میں شائع ہو چکے ہیں۔

یہ کتاب نو (۹)ابوب پر مشتمل ہے ، جو یہ ہیں:مسلمانانِ ہند:آزادی کے بعد،مسلم مجلس مشاو ر ت کا قیام،آزمائشوں کا آغاز،مشاورت کا دورِ اضطراب،مشاورت کا صبر آزما دور،مشاورت میں بدمزگی اور تقسیم،سابقہ وقار کو واپس لانے کا جتن اور توقعات کی عدمِ تکمیل ۔ آخر میں کتابیات بھی ہے، جس کی مدد سے مجلس مشاورت کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔کتاب کا سرورق خوب صورت اور کاغذ عمدہ ہے۔اس کے باوجود قیمت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

امید ہے کہ یہ کتاب آزادی کے بعد مسلمانوں کی تاریخی وسیاسی صورتِ حال سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔   (اسامہ شعیب علیگ))

جنوری 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau