زیادتی اور خوں ریزی: شیوہ ہے اہل باطل کا

(جہاد (قتال فی سبیل اللہ) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک پہلو نظر انداز ہوجاتا ہے ۔ اور وہ ہے باطل کی عدم رواداری والی طبیعت۔ باطل کی طبیعت میں جبر پسندی، تشدد پسندی اور عسکریت پسندی شامل ہے۔ اہلِ حق پر اہلِ باطل کی طرف سے جنگ مسلط کی جاتی ہے، جس سے نبرد آزما ہونا ان کے لیے لازم ہوجاتا ہے۔ غرض اہلِ حق کے لیے جنگ ایک چوائس نہیں رہتی ہے بلکہ احقاقِ حق کے عظیم مشن کے لیے ایک لازمی ضرورت بن جاتی ہے۔ حق و باطل کی جنگ کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حق جنگ پسندہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ باطل جنگ پسند ہوتا ہے۔ حق توامن کا داعی ہوتا ہے۔درج ذیل مضمون جہاد کے اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ )

حق و باطل کی کشمکش بہت پرانی ہے۔ اس کشمکش میں حق اپنے آپ میں طاقت ور اور باطل بے زور ہوتا ہے۔ حق کے پاس دلائل کی بے پناہ قوت ہوتی ہے اور باطل دلیل سے عاری ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں جب اہل باطل دلیل کے میدان میں خود کو بے بس پاتے ہیں تو وہ غیر اخلاقی طریقوں ، تشدد اور خوں ریزی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور جو معرکہ وہ دلائل کے میدان میں ہار گئے، تلوار کے زور سے جیت لینا چاہتے ہیں۔

قدیم تاریخ

آدم کے دو بیٹے تھے۔ ایک کے پاس حق کی قوت تھی اور دوسرا اس قوت سے محروم تھا۔ اس نے جب یہ محسوس کیا کہ حق کی پشت پناہی اسے حاصل نہیں ہے تو اس نے خوں ریزی کا راستہ اختیار کیا اور اپنے بھائی کو قتل کردیا۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۔ لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ۔ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ۔ فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۔ [المائدة: 27 – 30]

(اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا ’’میں تجھے مار ڈالوں گا‘‘ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے‘‘ ۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔)

یہ حق کے خلاف باطل کی پہلی خوں ریزی تھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا۔جہاں باطل کا غلبہ ہوتا وہاں اللہ تعالی حق کے ساتھ اپنے رسول بھیجتا۔ رسولوں کے پاس حق کی قوت ہوتی اور باطل کے علم بردار حق کی پرامن دعوت کے سامنے ٹک نہیں پاتے تو وہ جبر و تشدد کے ذریعے رسولوں کی دعوت کو دبا نے کی کوشش کرتے۔ رسولوں کی پوری تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ اہل باطل جب دلیل کے میدان میں شکست کھاجاتے تو جبر و تشدد کے راستے پر چل پڑتے۔ رسولوں نے ہمیشہ پر امن طریقے سے اپنی دعوت پیش کی اور مخالفوں نے ہمیشہ اس کے مقابلے میں تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پرامن طریقے سے دلائل سے آراستہ کرکے حق کی دعوت پیش کی۔ لیکن وہ دلائل کے جواب میں دلائل پیش کرنے کے بجائے دھمکی پر اتر آئے ۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ [العنكبوت: 24]

(پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’قتل کر دو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو‘‘ آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔)

حضرت موسی فرعون کے پاس پر امن طریقے سے حق کی دعوت لے کر پہنچے، لیکن فرعون اور اس کے درباری تشدد اور خوں ریزی پر اتر آئے اور قتل کی دھمکی دے ڈالی۔

فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ۔ [غافر: 25]

(پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا تو انہوں نے کہا ’’جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو‘‘ مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی۔)

بعد میں یہی فرعونی اوصاف بنی اسرائیل میں سرایت کرگئے۔ ان کے پاس جو رسول حق کی دعوت لے کر آتے، وہ ان کے پیچھے پڑجاتے اور تکذیب سے آگے بڑھ کر ان کے قتل کے درپے ہوجاتے۔

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَاءَهُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُهُمْ فَرِيقًا كَذَّبُوا وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ ۔ [المائدة: 70]

(ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسول بھیجے، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول اُن کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا۔)

قوم لوط نے حضرت لوط کی دعوت پر کان دھرنے کے بجائے انھیں اور ان کے اہل خانہ کو شہر بدر کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوهُمْ مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ۔[الأعراف: 82]

(مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔‘‘ )

حضرت شعیب کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی رویہ اختیار کیا۔

قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَاشُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ۔ [الأعراف: 88]

(اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ ’’اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا‘‘  شعیبؑ نے جواب دیا “کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟)

بلکہ انھوں نے تو اپنے اور زیادہ خطرناک عزائم کا اظہار کیا۔

قَالُوا يَاشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ ۔ [هود: 91]

(انہوں نے جواب دیا “اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو”)

اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی پوری سیرت ہمارے سامنے ہے۔ آپ نے اپنی دعوت نرمی، خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ پیش کی۔ آپ کے مخالفین نے آپ کے خلاف ہر طرح کا غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا۔ مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور مدینہ میں اسلامی ریاست پر بار بار چڑھائی کی۔

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ۔ [الأنفال: 30]

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔)

غرض یہی اہل باطل کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے۔ عسکریت پسندی، انتہا پسندی، خوں ریزی، دہشت گردی اور جبر و تشدد جیسے سبھی الفاظ باطل پرستوں پر صادق آتے ہیں۔ اہل حق کبھی ان راہوں پر نہیں چلتے۔ نہ حق کی تبلیغ کے لیے اور نہ ہی حق کی اقامت کے لیے۔ حق ان تمام حربوں سے بےنیاز ہوتا ہے۔

جنگ کے قرآنی احکام کا پس منظر

قرآن مجید میں جنگ کا حکم اور اس کی ترغیب بار بار آئی ہے۔ لیکن ہر مقام پر سیاقِ کلام صاف بتاتا ہے کہ یہ حکم ایسے حالات کے لیے ہے جب پانی سر سے اونچا ہوجائے اور جنگ کے لیے ناگزیر حالات پیدا کردیے جائیں۔

ہم یہاں کچھ آیتیں پیش کریں گے۔

وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۔[البقرة: 120]

(یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو)

یہاں یہود و نصاری کی روش بتائی گئی کہ وہ یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ تم راہِ حق پر چلو۔ وہ اس وقت تک تم سے دشمنی ٹھانے رہیں گے جب تک کہ تم ان کے راستے کو اختیار نہ کر لو۔

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔ [البقرة: 190]

(اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، اورزیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا)

اس آیت میں ان اہلِ باطل سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو جنگ کی پہل کرتے اور اہل حق پر جنگ کو مسلط کرتے ۔ اہلِ حق کو حکم دیا جاتا ہے کہ ایسے عسکریت پسندوں کا علاج کریں۔ تاہم زیادتی نہ کریں یعنی جنگ نہ کرنے والوں سے جنگ نہ کریں ۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا [البقرة: 217]

(لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اِس میں لڑ نا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اِس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ قتل سے شدید تر ہے ۔ وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے، تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں۔)

اس آیت میں اہلِ باطل کی سرشت کھول دی گئی اور کہا گیا کہ وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے، تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں۔

اس آیت میں اہلِ باطل کی یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ وہ حق سے روکنے اور پھیرنے کے تمام حربے اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ اللہ کے راستے سے روکنا، مسجد حرام سے روکنا، وہاں سے اہلِ حق کو شہر بدر کرنا، غرض فتنہ و جبر کی کسی بھی صورت سے انھیں دریغ نہیں ہے۔

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا۔ [النساء: 84]

(پس اے نبیؐ! تم اللہ کی راہ میں لڑو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو اور اہل ایما ن کو لڑنے کے لیے اکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زورروک دے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے۔ )

اس آیت سے قتال کے حکم کا یہ پس منظر معلوم ہوا کہ اہلِ کفر کا زور تھا۔ وہ ہر وقت آمادہ جنگ رہتے تھے ۔ ان کے زور کو روکنے اور ان کی عسکریت پسندی پر بند باندھنےکے لیے اہلِ ایمان کو جنگ کرنے کا حکم دیا گیا۔

أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ [التوبة: 13]

(کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔)

اس آیت میں بتایا گیا کہ جن سے جنگ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے وہ سادہ اور بے ضرر لوگ نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے سنگین جرائم کی ایک فہرست ہے۔ عہد شکنی وہ کرتے ہیں۔ رسول کو شہر سے نکال باہر کرنے کی کوشش انہوں نے کی۔ جنگ کی ابتدا بھی انھوں نے ہی کی۔

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ . الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّه.[الحج: 39 – 40]

(اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘ ۔)

یہاں بھی جن اہل حق کو جنگ کی اجازت دی گئی ، ان کے ساتھ اہلِ باطل کی زیادتیاں اپنی ساری حدوں کو پار کرچکی تھیں۔ ان پر ظلم ہوا اور انھیں ناحق گھر سے بے گھر کیا گیا۔

غزوات کی تاریخ

بدر کے موقع پر جو لشکر مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے آیا تھا، اس کی کیفیت قرآن بتاتا ہے:

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (47) وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ ۔ [الأنفال: 47-48]

(اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔)

احد کے موقع پر اہلِ باطل اہلِ حق کے خلاف بڑا لشکر اکٹھا کیے نظر آتے ہیں۔

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔[آل عمران: 173]

(اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو‘‘ ، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے۔)

سورہ احزاب میں خندق کے واقعے کے مناظر پیش کیے گئے ہیں کہ کس طرح اہلِ باطل کے لشکروں نے ہر طرف سے مدینے پر یلغار کردی تھی۔

إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ ۔ [الأحزاب: 10]

(جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے)

اس کے بعد یہودیوں کی سرکوبی کا ذکر ہے اور اس کی وجہ بھی بتادی گئی کہ انھوں نے کفار کے لشکروں کا ساتھ دیا تھا۔

وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا ۔ [الأحزاب: 26]

(پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو)

غرض قرآن مجید میں جہاں بھی جنگ کا ذکر ہےوہاں صورت حال یہی ہے کہ اہلِ باطل نے جنگ کے حالات پیدا کردیے ہیں اور اہلِ حق کے لیے ان حالات سے نپٹنا ضروری ہوگیا ہے۔

اہلِ ایمان پر خوں ریزی حرام ہے

خوں ریزی اہل ایمان کی صفت نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ان پر حرام کی گئی ہے۔

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا۔ [الفرقان: 68]

(اور رحمان کے بندے وہ ہیں ) جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا۔)

بنی اسرائیل کو بھی انسانی جان کی حرمت کی تعلیم دی گئی تھی۔

مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ۔  [المائدة: 32]

(اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘  مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔)

قرآن بتاتا ہے کہ خوں ریزی کسی نبی کے شایانِ شان نہیں ہے۔

مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۔ [الأنفال: 67]

(نبی کے شایانِ شان تو یہی نہیں ہے کہ وہ قیدی بناکر رکھے، زمین میں خوں ریزی کرنا تو دور کی بات ہے۔)

اس جملے کے دوسرے ترجمے بھی کیے گئے ہیں لیکن یہ ترجمہ کئی وجوہ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

جیسے کو تیسے کا اصول

قرآن کی کئی آیتیں بتاتی ہیں کہ اسلام زیادتی اور خوں ریزی کو پسند نہیں کرتا، لیکن جو لوگ زیادتی اور خوں ریزی کو اپنا وتیرہ بنالیں ، ان کے ساتھ جیسے کو تیسا والا رویہ اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مکہ کے مشرکین کے بارے میں کہا گیا:

وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ۔ [البقرة: 191]

(اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔)

ارض حرم کے حوالے سے کہا گیا:

وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ۔ [البقرة: 191]

(اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں، تو تم بھی انہیں مارو۔)

حرمت کے مہینوں کے حوالے سے کہا گیا:

فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ ۔ [البقرة: 194]

(لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو ۔)

دشمنوں کے عام رویے کے حوالے سے کہا گیا:

وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۔ [التوبة: 36]

(اور ان مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں۔)

صلح کے لیے ہمیشہ آمادہ

اہلِ حق کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ ہمیشہ صلح کے لیے آمادہ رہیں۔

وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [الأنفال: 61]

(اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے۔)

خواہ یہ صلح اندیشوں سے گھری ہوئی کیوں نہ ہو۔

وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ۔ [الأنفال: 62]

(اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی۔)

مزاحمتی صفات کی معنویت

جس انسانی گروہ کو ہر طرف سے خطرات درپیش ہوں، اس کے وجود کو مٹادینے کی مسلسل دھمکیاں ملتی رہتی ہوں، پے در پے یورشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ ہو، دشمنوں کے لشکر ان پر حملہ آور ہوتے رہیں، اس گروہ کے اندر اپنی حفاظت کا جذبہ اور طاقت ور مزاحمتی صفات کا پیدا کرنا بلا شبہ مطلوب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے اندر اعلی درجے کی مزاحمتی صفات کو پیدا کرنے کا زبردست انتظام ہے۔

قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ ایسےحالات میں جب کہ جنگ ناگزیر ہوجائے، اہلِ حق کو بزدلی اور کم ہمتی نہیں دکھانی چاہیے۔ شجاعت و بہادری اور صبر و ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ ۔ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۔ [الأنفال: 15-16]

(اے ایمان لانے والو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دُوسرے دستے سے جا ملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔)

ان کا شعار یہ ہونا چاہیے کہ

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

خلاصہ کلام

اسلام کے تصور جنگ کو سمجھنے میں قرآن مجید کی آیتیں بھرپور رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں جنگ کے احکام کا سیاق یہی ہے کہ اہلِ باطل ہی جنگ شروع کرتے ہیں اور جنگ کے حالات پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ اہلِ حق ان کی پیدا کی ہوئی صورت حال کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ ورنہ اصولی طور پر اہلِ حق جنگ پسند نہیں امن پسند ہوتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ قیامِ امن کا مقصد حق کے سامنے سدّ راہ بن سکتا ہے اور اہل ِحق قیامِ امن کی خاطر اقامت حق کے عالمی منصوبے سے دست بردار ہوسکتے ہیں۔حق کسی سرحد کا پابند نہیں ہوسکتا۔ حق کی فطرت میں جاری و ساری رہنا ہے۔ وہ روشنی کی طرح باطل کا سینہ چاک کرتے ہوئے پھیلتا رہتا ہے۔ حق کی اپنی دھار اور مار بہت تیز ہوتی ہے، اس لیے وہ تلوار اور بندوق سے بے نیاز ہوکرباطل کو اپنے زور پر شکست دیتا ہے۔ عہدِ رسالت میں اہلِ باطل نے اہلِ حق کی تلوار سے تو چند بار زخم کھائے لیکن حق کی تیز دھار نے تو پورے جزیرۃ العرب سےباطل کا صفایا ہی کردیا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہر موقع پر اہلِ حق نے پوری جواں مردی کے ساتھ تلوار کا مقابلہ تلوار سے کیا اور اہلِ باطل کے غرور کو خاک میں ملادیا۔ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ حق تلوار کے زور سے نہیں پھیلا، خود اپنے زور سے پھیلا۔

اہلِ حق کو میدانِ مزاحمت میں اترنے پر مجبور کرنے کی مثالیں دورِ حاضر میں بہت زیادہ ہیں۔ خون کی پیاسی اسرائیل کی غاصب ریاست اس کی سب سے شرم ناک مثال ہے۔ علامہ اقبال نے محاصرہ ادرنہ کے عنوان سے اپنی شاہ کار نظم کا آغاز اس شعر سے کیا ہے:

یورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھِڑ گئی

حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا

اس وقت جب کہ دنیا پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں، امن پسند اور انسانیت دوست انسانوں کے لیے خرابی کے اصل اسباب سے آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

زیادتی اور خوں ریزی: شیوہ ہے اہل باطل کا

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223