سچ کا سامنا

محمد نصیر الدین

’’سچ کا سامنا‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام ٹیلی ویژن پر پیش کیاجارہاہے۔ جس میں حصہ لینے والوں کی زندگی کے خوشگوار اور تلخ سچائیوں کو پیش کیاجاتا ہے۔ اس پروگرام میں حصہ لینے والوں کو انعامات سے بھی نوازا جاتاہے۔ جو فرد جتنے سچ قبول کرے گا وہ اتنے ہی انعام کا حقدار ہوگا۔ انعام کے لالچ میں بلالحاظ جنس وعقیدہ لوگ اس پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں اور انعام کی خاطر اپنی زندگی کے المناک، تاریک، سیاہ، بدنما اور غیر اخلاقی واقعات کو بھی برسرِعام قبول واقرار کررہے ہیں۔ مذکورہ پروگرام میں حصہ لینے کے لیے نہ کوئی زور زبردستی ہے، نہ کوئی شرط اور نہ کوئی جبرہے۔ بلکہ شرکائ کی مرضی پر پروگرام میں شرکت موقوف ہے۔ کئی لوگ انعامی رقم کے لالچ میں پروگرام میں شریک تو ہوئے لیکن ہمت جواب دے دینے کی وجہ سے اپناارادہ ترک کردیا۔ اس خدشے کی وجہ سے کہ انعامی رقم کے ساتھ ان کا عمل وکردار بھی طشت از بام ہوجائے گا اور ان کے خاندان، پڑوس اور شناساؤں بے عزتی ہوجائے گی اور ان کے چہرے سے وہ نقاب الٹ جائے گی جس کی وجہ سے وہ شریف کہلائے جارہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ پروگرام صحیح ہے یا غلط، اس طرح کے پروگرام پیش ہونے چاہیے یانہیں ایک عام آدمی کی عمومی فکر اورسوچ کھل کر آگئی کہ وہ اپنے غلط اعمال وافعال کو برسرِ عام ظاہر ہونے کو پسند نہیں کرتا۔ اپنے سیاہ کرتوتوں کو وہ چھپائے رکھنا چاہتاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں؟ کیوں وہ دوسروں کے سامنے اپنے سیاہ کرتوتوںکوظاہر کرنا نہیں چاہتا؟ کیا لوگوں کا خوف ہے؟ حکومت کاڈر ہے یا سزا سے بچنا چاہتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات نے انسانوں کو صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے جس میں نیکیوں سے لگاؤ اور برائیوں سے نفرت رکھ دی گئی ہے، اس کی وجہ سے وہ دوسروں کے سامنے اپنے گناہ ظاہر کرنانہیں چاہتا۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ انسان اپنے کالے کرتوتوں کا چند لوگوں کے سامنے اظہار پسند نہیں کرتا لیکن خالق کون ومکاں سے نہ اسے شرم آتی ہے اور نہ اُسے خوف ہے نہ دوزخ کی سزاکاڈر ہے۔ یہ انسان کی جہالت ہے یا ڈھٹائی ؟ قیامت کے دن کو قرآن مجید میں یوم الدین یوم الفصل اور یوم الحساب کہاگیا ہے اور یہ بات واضح طور پر اُسے دی گئی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کاحساب وکتاب دینا ہے۔ قرآن مجید میں : ’’ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمھارے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیاجائے گا۔ پس جو شخص دوزخ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیاگیا۔ سو وہ کامیاب ہے۔‘‘ ﴿آل عمران﴾ دنیا کے امور میں ہر چیز کا وقت اور مدت خود انسان مقرر کرتاہے۔ مثلاً یہ کہ تعلیم کتنی اور کب تک حاصل کرنی ہے، شادی کب کرنی ہے یا گھر کب تعمیر کرنا ہے وغیرہ۔ لیکن قدرتی امور میں انسان کاکوئی عمل دخل نہیںہے۔ جس طرح زندگی ،موت، ہوا، پانی وغیرہ پر انسان کابس نہیں چلتا، اسی طرح قیامت کا وقت انسان نہیں جانتا۔ اس کا وقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ جب بھی کوئی انسان مرتا ہے تو گویا اس کے لیے وہی قیامت کے مانند ہے۔ کیونکہ اس کی مہلت عمل ختم ہوچکی ہے اور وہ اب صرف حساب وکتاب ہی کا منتظر ہے۔ قرآن مجید نے قیامت کی اچانک آمد کو اس طرح بیان کیا ہے:’’ وہ آجائے گی اچانک ان پر اور ان کو بدحواس کردے گی نہ اس کے ہٹانے کی ان کو قدرت ہوگی اور نہ مہلت دی جائے گی۔‘‘ ﴿الانبیائ﴾ نبی کریمﷺ  نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’قیامت ضرور اس حالت میں قائم ہوگی کہ دو شخصوں نے اپنے درمیان ﴿خریدوفروخت کے لیے﴾ کپڑا کھول رکھاہوگا اور ابھی معاملہ طے کرنے اور کپڑا لپیٹنے بھی نہ پائیں گے کہ قیامت واقع ہوجائے گی،ایک انسان اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر جارہا ہوگا اور پی بھی نہ سکے گا۔ انسان اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھائے گا اور اسے کھا بھی نہیں سکے گا۔‘‘ ﴿متفق علیہ﴾

ٹی وی پر ’’سچ کاسامنا‘‘ کرتے ہوئے لوگ مکمل اہتمام کے ساتھ لباس، میکپ اور مع اہل وعیال یادوست احباب کے موجود ہوتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت وہ اس کی مدد کرسکیں! لیکن قیامت کا منظر بالکل الگ ہوگا۔ حضرت عائشہؓ  نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ  سے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختنہ جمع کیے جائیں گے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ  کیا مرد و عورت سب ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے، حضورﷺ  نے فرمایا :’’اے عائشہؓ  قیامت کی سختی اس قدر ہوگی کہ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا دھیان نہ ہوگا۔‘‘ ﴿متفق علیہ﴾

قیامت کے دن کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺ  نے فرمایا: ’’قیامت کے دن سورج مخلوق سے اس قدر قریب ہوجائے گا کہ ان سے بقدر ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور بقدر اعمال کی برائیوں کے لوگ پسینہ میں غرق ہوں گے۔ پس کوئی تو پسینہ میں ٹخنوں تک ہوگا، کسی کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا اور کسی کی کمر تک پسینہ ہوگا اور کسی کی یہ حالت ہوگی کہ سر سے پاؤں تک پسینہ ہوگا اور اس کا پسینہ لگام کی طرح منہ میں گھسا ہواہوگا۔‘‘ ﴿بخاری﴾

دنیا میں ہر موقع پر انسان کے رشتہ دار دوست احباب اس کی مدد اور تعاون کے لیے موجود ہوتے ہیں جو اس کی مالی، جسمانی، اخلاقی ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہوتے ہیں، حتی کہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ لوگ اپنے چاہنے والوں کے لیے مال ودولت تو کیا اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ کتنے ہی مریضوں کے لیے لوگ اپنا گردہ تک بطور عطیہ دے ڈالتے ہیں لیکن قیامت کا منظر اس سے مختلف ہوگا۔ قرآن مجید میں روز قیامت کی نفسانفسی کی کیفیت کو سورۂ لقمان میں اس طرح بیان کیا: ’’اس دن سے ڈرو جس دن نہ باپ بیٹے کا بدلہ چکائے گا اورنہ بیٹا باپ کی طرف سے کوئی مطالبہ اداکرسکے گا۔‘‘ سورۂ عبس میں فرمایا گیا: ’’قیامت کے دن انسان اپنے بھائی سے اور ماں باپ سے اور اپنی بیوی سے اور بیٹیوں سے اور سب سے بھاگے گا۔‘‘ سورۃ معارج میں فرمایا گیا: ’’ نہ دوست دوست کو پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائی دے رہے ہوں گے۔‘‘ سورۂ زخرف میں فرمایاگیا : ’’اس دن دنیاوی دوست ایک دوسرے دشمن بنے ہوئے ہوں گے۔ ہاں! پرہیزگاروں کی دوستی اس دن قائم ہوگی۔‘‘

مذکورِ بالا آیات مبارکہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کا کوئی سہارا اگر ہوگا تو وہ اس کا نامۂ اعمال ہی ہوگا۔ نیک اعمال ہی اس کو قیامت کے دن نجات دلاسکیں گے کوئی رشتہ ناطہ اور تعلق کسی کام نہ آئے گا۔ سورۂ معارج میں بتایاگیا: ’’مجرم چاہے گا کہ اپنی سزا کے بدلے میں اپنی اولاد کو بیوی کو حتی کہ اپنا سارا کنبہ جس کے ساتھ وہ رہتا تھا بلکہ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب ﴿بطور رشوت﴾ دے دے اور پھر اسے چھٹکارا مل جائے۔‘‘ ظاہر ہے خالق کائنات سے بہتر کون انصاف کرسکتا ہے۔ نہ مجرمین کے لیے وہاں سفارش چلے گی نہ رشوت کام آئے گی اور نہ کوئی اور سہارامل پائے گا ۔ تب مجرمین ہم نے اپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے معبود! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا، آپ ہمیں دنیا میں لوٹا دیجیے، ہم نیک کام کریں گے۔ اب ہمیں یقین آگیا‘‘ ﴿حم السجدہ﴾ دنیا میں پولیس چند ٹکوں کی خاطر مجرمین کو چھوڑ دیتی ہے عدلیہ کے منصب پر براجمان افراد سفارشوں اور دولت کے چلتے مجرموں کو بے گناہ ثابت کردیتے ہیں حتی کہ حکومت اقتدار کی خاطر مجرموں کے خلاف مقدمات سے دستبردار ہوجاتی نہیں مزید یہ کہ مجرمین بھی اکثر اوقات جرم سے انکار کردیتے ہیں ’’مظلوموں کی داد رَسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، ثبوت مٹا دیے جاتے ہیں، گواہوں کو ڈرادھمکا کر گواہی سے روکا جاتاہے اور مظلوم انصاف سے محروم کردیاجاتا ہے۔ گجرات میں ہوئے المناک فسادات کے بعد مجرمین کے ساتھ جو معاملات ہوئے وہ مذکورہ حقائق کی تازہ ترین تصویر ہے۔ لیکن قیامت کے دن ایسا نہیں ہوگا مجرم نہ جرم کا انکار کرسکے گا اور نہ گواہوں کو پھیرنے کی وہ طاقت پاسکے گا۔ نبی کریم، نے مزید واضح انداز میں فرمایا ’’ہر مرد وعورت کے خلاف زمین اس کے اعمال کی گواہی دے گی، جو اس کی پشت پر کیے گئے تھے وہ کہے گی کہ اُس نے مجھ پر فلاں، فلاں روز فلاں عمل کیا تھا۔‘‘ ﴿ترمذی﴾ دنیا میں اکثر اوقات بڑے بڑے مجرم، ڈاکو اور غنڈہ عناصر کبھی دولت کے بل بوتے پر، کبھی خوف ودہشت پیدا کرکے، کبھی ڈرا دھمکاکر، کبھی سیاستدانوں کی پشت پناہی کی وجہ سے اور کبھی مظلوم کی بے بسی اور کمزوری کی وجہ سے کئی ایک جرائم کے منظر عام پر آنے یا پولیس اسٹیشن میں اندراج ہونے سے بھی رکوادیتے تھیں۔ لیکن قیامت کے دن ایسا نہ ہوسکے گا۔ ہر انسان کا نامۂ اعمال لکھنے پر جو فرشتے معمور ہیں ان پر کسی کا بس نہیں چلتا بس وہ حکم الٰہی کے مطابق بلاخوف وخطر انسان کے ہر عمل کو لکھتے جارہے ہیں۔

یہ وہ سچ ہے جس کا سامنا دنیا میں آنکھ کھولنے والے ہر انسان کو قیامت کے دن کرناپڑے گا۔ غریب امیر، عورت، مرد، عالم، جاہل، نیک، بد، مسلمان، غیر مسلمان، نوجوان، بوڑھا ہر انسان کو قیامت کے دن کرنا پڑے گا۔ دنیامیں بداعمالیوں اور غلط کاریوں کے بعد انسان سچی توبہ کرکے اللہ کا مقرب بندہ بن سکتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن ایسا ہونا ناممکن ہے۔ دنیا کی عدالتیں مجرموں کے اندر تبدیلی دیکھ کر سزامیں تخفیف بھی کرتی ہیں اور حکمراں بسااوقات معاف بھی کردیتے ہیں لیکن قیامت کے دن ہر شخص کو اپنے اعمال کی جزا یا سزا ملنا یقینی ہے۔ ’’سچ کا سامنا‘‘ ہر ایک کو کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو جتنی نعمتوں سے نوازا ہے، اُسے جو کچھ مقام ومرتبہ دیا ہے اور جتنی کچھ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔اس کے مطابق اُس شخص کو ’’سچ کا سامنا‘‘ کرنا پڑے گا۔ ’’سچ کا سامنا‘‘ ان افراد کے لیے زیادہ سخت ہوگا جو ملت کی قیادت وسیادت کے مقام پر فائز ہیں۔ جنھیں انجمنوں ، اداروں، جماعتوں، سوسائٹیوں، مدارس ومراکز کی امانتیں سونپی گئی ہیں، جنھیں ملت کو باشعور بنانے، معاشرے کی اصلاح کرنے، نسل نوع کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے، افراد ملت کے لیے روٹی روزی کاانتظام کرنے اور غیر مسلم قوم تک پیغام حق پہنچانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔ وہ شخص حقیقی دانا ہے جس نے ’’سچ کا سامنا‘‘ کرنے کی تیاری کی ہے اور وہ شخص احمقوں کی جنت کا باشندہ ہے جو ’’سچ کا سامنا‘‘ کرنے سے غافل ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا ’’حیات کے دروازے کو جب تک کھلا ہے غنیمت جانو، وہ تم پر جلد ہی بند کیاجائے گا اور نیکی کے کاموں کو جب تک تمھیں قدرت ہے غنیمت جانو۔

مارچ 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau