فیملی کونسلنگ سینٹر

ضروری باتیں، رہ نما خطوط

محی الدین غازی

ازدواجی سعادت اور خاندان کا استحکام اللہ تعالی کو مطلوب ہے۔ دین اسلام میں اسے مقصود کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اس کے حصول کے لیے متعدد احکام دیے گئے ہیں۔ سیرت رسول اور سنت رسول میں اس حوالے سے روشن رہ نمائی موجود ہے۔

قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ مسلمان خاندانوں اور معاشروں میں اس حوالے سے بہت زیادہ بیداری، سنجیدگی اور دانائی پائی جائے۔

افراد کا رویہ ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنانے اور خاندان کو مستحکم بنانے والا ہو۔ خاندانوں کا عمومی ماحول ازدواجی رشتوں کے لیے حد درجہ سازگار ہو۔ معاشرے کے رجحانات و معمولات رشتوں اور خاندانوں کے لیے معاون و مددگار ہوں، انھیں کم زور اور مخدوش کرنے والے نہ ہوں۔

ہر خاندان میں ایسے افراد ہونے چاہئیں جو خاندان کے مردوں، عورتوں اور بچوں کی ذہن سازی اور تربیت کا کام کریں۔ انھیں کام یاب ازدواجی زندگی کے نسخے بتائیں، دور و نزدیک کے رشتوں کو نباہنے کا فن سکھائیں اور ان کے رویے میں موجود کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے رہیں۔

معاشرہ اس قدر حساس ہو کہ رشتوں کو بگاڑنے والے ناپسند کیے جائیں اور رشتے بنانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ معاشرے میں بڑی تعداد میں ایسے افراد ہوں جن کے اخلاص اور سمجھ داری پر لوگوں کو بھروسا ہو۔ وہ تنازعات میں ثالث بنائے جائیں اور اختلافات کو دور کرنے کا کام کریں۔

تعلیمی اداروں کے نصاب اور ان کے ہم نصابی نظام تربیت میں بھی ان اہداف کے حصول کی کوشش کی جائے۔ خاندان کی اہمیت و ضرورت کو دلوں میں راسخ کیا جائے، گھر اور خاندان میں ذمے دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی جائے اور تعلقات کو خوش اسلوبی سے نباہنے کے گُر سکھائے جائیں۔

فیملی کونسلنگ اداروں کی ضرورت

رشتوں کو مضبوط و مسرت خیز بنانے اور اختلافات کو حل کرنے میں عام لوگوں اور عمومی ماحول کااہم کردار ہوتا ہے۔ تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی کوششوں کی بھی ضرورت ہے، جہاں اس فن میں مہارت اور تجربہ و تربیت رکھنے والے افراد کی خدمت حاصل ہوں۔ اس مضمون میں ہم ایسے ادارو ں کے لیے رہ نما خطوط فراہم کریں گے۔

فیملی کونسلنگ کی قسمیں:

کونسلنگ کی بہت سی قسمیں ہیں۔ فیملی کونسلنگ، بچوں کی کونسلنگ، بوڑھوں کی کونسلنگ، نشہ اور منشیات سے چھٹکارا دلانے کے لیے کونسلنگ،دماغی صحت کو بہتر بنانے والی کونسلنگ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے کونسلنگ، کیرئیر کونسلنگ، وغیرہ۔

اس مضمون میں ہم خاندان کو مضبوطی اور خوش گواری سے ہم کنار کرنے والی فیملی کونسلنگ پر اپنی گفتگو کو مرکوز رکھیں گے۔

شادی سے پہلے کونسلنگ

کہتے ہیں کہ اگر کسی کام کی ابتدا روشن ہو تو اس کا انجام بھی روشن ہوتا ہے۔ شادی کا رشتہ بہت نازک و حساس اور بسا اوقات کافی پیچیدہ بھی ہوتا ہے۔ دو افراد جو ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ جن کی الگ الگ ماحول میں پرورش ہوتی ہے۔ ان کا مزاج ایک دوسرے سے مختلف او ر کبھی بالکل مختلف ہوتا ہے۔ شادی کے بعد والی زندگی کے تعلق سے الگ الگ تصورات اور توقعات ہوتی ہیں۔ ان کو اس بات کی رہ نمائی تو ملنی چاہیے کہ تمام ترفرق کے باوجود شادی کے رشتے سے وہ مضبوطی کے ساتھ کیسے منسلک ہوسکتے ہیں اور شادی کے اعلی اہداف کو وہ مل جل کر کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔

شادی سے پہلے اگر ہونے والے شوہر اور بیوی کی مناسب ذہن سازی کردی جائے تو ازدواجی رشتے کا خوب صورت آغاز ہوسکتا ہے۔

شادی کے بعد کونسلنگ

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شادی شدہ جوڑوں کے درمیان اگر تعلقات بہت خراب ہوجائیں اور تنازعات شدت اختیار کرجائیں تو ان کی کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے شک تعلقات کی خرابی اور تنازعات کے تصفیے کے لیے کونسلنگ بہت مفید ہوتی ہے۔ لیکن عام شادی شدہ جوڑوں کو بھی کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی زندگی میں خوش گواری اور ان کے بیچ محبت میں اضافہ ہوسکے۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ تو نہیں ہوتی ہے لیکن مطلوبہ مٹھاس بھی نہیں ہوتی ہے اور باہمی تعلقات میں ایک طرح کا پھیکا پن اور بے رنگی ہوتی ہے۔ اسے دور کرنے اور زندگی کو مٹھاس اور حسین رنگوں سے بھرنے کے لیے کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

پورے خاندان کی کونسلنگ

ہندوستانی سماج میں لڑکی شادی کے بعد عام طور سے شوہر کے گھر میں نہیں بلکہ اپنی سسرال میں جاکر رہتی ہے۔ سسرال کے گھر میں ساس سسر، نندیں وغیرہ ہوتے ہیں۔ شوہر کے بھائی اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں۔ ایسے میں شوہر اور بیوی کی کونسلنگ کافی نہیں ہوتی ہے اور ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے اور ضرورت ہو تو شادی کے بعد پورے گھر کی کونسلنگ کی جائے اور انھیں یہ سمجھایا جائے کہ وہ ازدواجی زندگی کو خوش گوار اور پائیدار بنانے میں کس طرح مثبت رول ادا کرسکتے ہیں۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ رشتے داروں کے غیر ذمے دارانہ رویے کی وجہ سےایک جوڑے کی زندگی میں خرابی آجاتی ہے۔ لڑکی کے گھر والوں کی بے جا مداخلت بھی رشتوں کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔ ان کی کونسلنگ بھی کبھی ضروری ہوجاتی ہے۔

تنازعات کی صورت میں کونسلنگ

شادی کا رشتہ اصل میں تو محبت و ہم دردی کا ہوتا ہے۔ لیکن مزاجوں کے اختلاف، ماحول کی ناسازگاری، دوسروں کی بے جا مداخلت اور خود زوجین میں سے کسی کی کوتاہی یا زیادتی کی وجہ سے رشتہ تنازعات میں گھر جاتا ہے۔ ایسی صورت میں رشتے کو بچانے کے لیے کونسلنگ بہت زیادہ ضروری ہوجاتی ہے۔ کونسلنگ جتنی جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تنازعات کی فطرت میں ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی جڑیں گہری ہوتی جاتی ہیں۔ ہر ناخوش گوار نیا واقعہ پرانے جھگڑے کی شدت میں اضافہ کردیتا ہے۔ رشتے داروں کے ذریعے بھی بہت سی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں، لیکن بعض اوقات کونسلنگ کے کسی ماہر کی مداخلت ضروری ہوجاتی ہے۔

فیملی کونسلنگ کے دیگر تقاضے

موجودہ دور میں بین مذاہب شادیوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ کبھی لڑکا مسلمان ہوتا ہے اور کبھی لڑکی۔ دونوں ہی صورتوں میں یہ شادی اسلامی شریعت کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ اس نازک موقع پر جذباتیت اور غیر دانش مندانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے حکمت و دانائی سے کام لیا جائے۔ شادی کرنے والے مسلمان لڑکے یا مسلمان لڑکی کی کونسلنگ کی جائے اور اسے صحیح روش اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ لڑکے یا لڑکی کے سرپرستوں کو بھی حکیمانہ رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دی جائے۔

کونسلنگ کی ضرورت کا احساس اس وقت بھی ہوتا ہے جب اسلام قبول کرنے والے لڑکے یا لڑکی کی شادی مسلم سماج میں ہوتی ہے۔ بسا اوقات دونوں کے سماجی پس منظر میں فرق ہوتا ہے۔ شادی کے بعد ایڈجسٹمنٹ بہتر طریقے سے ہو، اس میں کونسلنگ فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

کونسلنگ کرنے والوں کے ضروری اوصاف

کونسلنگ کرنے والوں کو اپنے اندر ایسے اوصاف بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے جن کے ہوتے وہ اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔ خود اپنے اندر سے مزاج کی خرابیاں دور کریں۔ سنجیدگی، خوش مزاجی اور اعلی ظرفی کے اوصاف پیدا کریں۔ درج ذیل اوصاف کام یاب کونسلنگ کے لیے بہت ضروری ہیں:

صبر کے ساتھ سننے کی استعداد

کسی کی لمبی کہانی سننا ایک صبر آزما کام ہے۔ لیکن بغیر سنے کسی کے احوال سے صحیح طور پر واقف ہونا ممکن نہیں ہے۔ کونسلنگ کے دوران صبر اور توجہ کے ساتھ تمام متعلق فریقوں سے سنا جائے۔ وہ اگر سنانے میں جھجک محسوس کرتے ہوں تو ان کی جھجک دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کا لہجہ اور زبان آپ کے مزاج کے لیے ناگوار ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود احوال سے واقفیت کے لیے سننا ضروری ہے۔

غیر جانب دارانہ رویہ

بعض لوگ جذباتی ہوتے ہیں۔ کسی کی درد بھری کہانی سن کر جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں اور فیصلہ کربیٹھتے ہیں۔ سنتے وقت گہرائی سے تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ کہانی میں کتنا سچ ہے اور کتنی ملاوٹ ہے۔ بسا اوقات سنانے والا اپنی کمیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے دوسرے کے اندر بے شمار خرابیاں بتاتا ہے۔ ایسے میں حقیقت تک پہنچنا مشکل لیکن ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے جذباتی ہوئے بغیر ہر فریق کی پوری بات سننا چاہیے اور کسی نتیجے تک پہنچنے میں جلد بازی نہیں دکھانی چاہیے۔

دور رس نگاہ

بسا اوقات فریقین کی گفتگو کے علاوہ فریقین کے احوال بھی صحیح صورت حال تک پہنچنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی اپنی بات پورے طور پر نہ رکھ پائے، لیکن آپ کا مشاہدہ آپ کو معاملہ کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ اس لیے کونسلنگ کے دوران آپ کی مختلف پہلوؤں پر گہری نگاہ رہنی چاہیے۔

دل نشین گفتگو

کونسلنگ کے عمل میں گفتگو کی صلاحیت کا اہم رول ہوتا ہے۔ معاملے کی حقیقت سے واقف ہونے کے بعد آپ کی ذمے داری ہوتی ہے کہ دونوں فریقوں کے اندر صلح کا جذبہ ابھاریں، ان کو ضد اور انا پسندی کی کیفیت سے باہر لے کر آئیں اور معقول حل کو قبول کرنے کے لیے ان کے اندر سے داعیے کو ابھاریں۔ یہ مشکل کام گفتگو کی اچھی صلاحیت سے آسان ہوجاتے ہیں۔

عزت واحترام کا ماحول

گفتگو کے دوران آپ کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے سامنے والے کو بے عزتی محسوس ہو۔ جو شخص غلطی پر ہے اسے بھی اپنی غلطی کی طرف اس طرح متوجہ کریں کہ اس کی عزت نفس پر آنچ نہ آئے۔ اپنے وقار کو بھی ملحوظ رکھیں اور سامنے والوں کے جذبات کا بھی پورا خیال رکھیں۔

کونسلنگ کی مہارت

فیملی کونسلنگ کا کام کرنے والوں پر یہ بات اچھی طرح واضح رہنی چاہیے کہ یہ پیچیدگی سے بھرپور ایک نازک کام ہے۔ ضروری علم و مہارت کے بغیر یہ کام بہتر طریقے سے انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ مہارت کا سفر طے کرتے ہوئے کچھ باتوں کا خیال ضروری ہے:

دل چسپی ضروری ہے

یہ کام بے دلی سے کرنے کا نہیں ہے۔ اس کام کا محرک ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ چوں کہ ہمیں یہ کام تفویض کیا گیا ہے اس لیے کسی نہ کسی طرح اسے کرتے رہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام حد درجہ دل چسپی چاہتا ہے۔ شوق اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اور سرمایہ لگانے میں کوئی تردد نہ ہو۔ جب دل چسپی اور شوق ہوگا تو سیکھنے کا جذبہ جوان رہے گا۔ سیکھنے کا جذبہ سیکھنے کی پہلی منزل ہے۔ آپ سیکھنے کے جذبے کے بغیر اگر کسی بہترین ٹریننگ کورس یا ورک شاپ میں شرکت کریں گے تو بھی اس سے خاص فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔

سیکھنے کی ضرورت کا احساس

یہ کام بہتر سے بہتر صلاحیت اور مہارت چاہتا ہے، اگر یہ احساس ہوگا تو سیکھنے کے ہر موقع کی جستجو بھی ہوگی اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی ہوگی۔ یہ احساس اس وقت پیدا ہوگا جب اپنی کارکردگی کا باریک بینی سے صحیح جائزہ لیا جائے گا۔ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا ایک مشکل کام ہے، اس لیے اس کام میں دوسرے لوگوں سے بھی مدد لینا چاہیے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب آدمی کچھ سیکھ لیتا ہے اور سیکھنے کے ثمرات دیکھ لیتا ہےتو سیکھنے کی ضرورت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ غرض سیکھنے کا عمل مزید سیکھنے کی ضرورت کا احساس بڑھاتا ہے۔

سیکھنے کا منصوبہ

ماہر بننے کا شوق اور سیکھنے کی ضرورت کا احساس ہی اس پر آمادہ کرے گا کہ آپ سیکھنے کا منصوبہ بنائیں گے۔ اس منصوبے میں کئی باتیں شامل ہوسکیں گی۔ طویل مدتی اور مختصر مدتی کورس، آف لائن اور آن لائن ورک شاپ، موضوع سے متعلق اہم کتابوں کا مطالعہ، کونسلنگ کے ماہرین سے رابطہ اور ان کے تجربات سے استفادہ، اس میدان کے اپنے جیسے جہدکاروں سے رابطہ اور سیکھنے کی کوشش۔ مطلوبہ مہارت کو حاصل کرنے کے لیے درج ذیل کورس کیے جاسکتے ہیں:

علم نفسیات کا کورس

فیملی کونسلنگ کے عمل میں انسانی نفسیات کے ساتھ بہت زیادہ تعامل ہوتا ہے۔ فیملی کونسلنگ کے میدان کو اختیار کرنے والے افراد عام طور سے علم نفسیات کا کورس کرتے ہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ کسی اچھی یونیورسٹی سے باقاعدہ علم نفسیات کی تعلیم حاصل کی جائے۔ البتہ اگر حالات اجازت نہ دیں تو کسی اوپن یونیورسٹی سے ڈگری یا طویل مدتی ڈپلوما کورس کرلینا چاہیے۔ بیرونی ممالک میں قائم کچھ یونیورسٹیاں اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ نفسیات کا آن لائن کورس کراتی ہیں۔ انٹرنیشنل اوپن یونیورسٹی ملیشیا کا آن لائن ڈگری پروگرام قابل ذکر ہے۔

فیملی کونسلنگ کا کورس

ہمارے ملک میں خاص فیملی کونسلنگ کے لیے ڈگری یا ڈپلوما کورس میسر نہیں ہیں، البتہ بعض اداروں کی طرف سے کونسلنگ کے ڈپلوما کورس پیش کیے جاتے ہیں۔ کونسلنگ انڈیا کے نام سے ایک ادارہ آن لائن کورس کراتا ہے اور کورس مکمل ہونے پر سرٹیفیکیٹ بھی دیتا ہے۔ خود سے سیکھنے اور اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے دنیا کے بہت سے ادارے آن لائن کورس پیش کرتے ہیں۔ بہت کم قیمت پر ویڈیو کی شکل میں یہ کورس مل جاتے ہیں۔ udemy.com ایک معروف ویب سائٹ ہے جس پر خاص فیملی کونسلنگ اور پھر مختلف معاون موضوعات پر تعلیمی ویڈیو فراہم کیے جاتےہیں۔

مختلف تھراپی کے کورس

کونسلنگ کا کوئی ایک لگا بندھا طریقہ نہیں ہے۔ مختلف ماہرین نے مختلف طریقے (therapy) تجویز کیے ہیں۔ ہر طریقے کی اپنی خصوصیات اور اپنا محل ہوتا ہے جہاں وہ زیادہ کارگر ہوتا ہے۔

PSYCHOANALYTICAL COUNSELING (نفسیاتی تجزیے پر مبنی کونسلنگ)

BEHAVIORAL COUNSELING (رویے پر مبنی کونسلنگ)

COGNITIVE COUNSELING (سوچ اور نقطہ نظر پر مبنی کونسلنگ)

HUMANISTIC COUNSELING (انسانی خصوصیات پر مبنی کونسلنگ)

اس تصور کے تحت تین طریقے درج کیے جاتے ہیں:

Client-Centered Therapy (فرد پر مرکوز طریقہ علاج)

Gestalt Therapy (درپیش مشکلات پر مرکوز طریقہ علاج)

Existential Therapy (وجود ی فلسفے پر مرکوز طریقہ علاج)

Holistic Counseling (ہمہ جہت کونسلنگ)

کونسلنگ کی مذکورہ بالا ہر تھراپی سے متعلق الگ الگ مختصر مدتی کورس میسر ہیں۔

فیملی قوانین کا علم

فیملی کونسلنگ کے عمل کو انجام دینے والوں کو ملک میں رائج فیملی قوانین کا علم ضرور ہونا چاہیے،تاکہ ان کے مشورے قوانین کے دائرے میں رہیں اور کسی قسم کی قانونی دشواری کا سبب نہ بنیں۔

شرعی احکام و قوانین کا علم

فیملی سے متعلق شرعی احکام کا علم ضروری ہے۔ خاص طور سے مسلم پرسنل لا کے بارے میں بخوبی واقفیت ہونی چاہیے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے مجموعہ قوانین اسلامی کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں دفعہ وار اسلام کے عائلی قوانین کو بیان کیا گیا ہے۔

تجربات کا ریکارڈ اور تجربات کا تبادلہ

بہت اچھا ہو اگر فیملی کونسلنگ کے متعدد مراکز کے درمیان رابطے کا نظام ہو۔ کونسلنگ سینٹر میں ہر کیس کا پورا ریکارڈ تیار کیا جائے۔ اس ریکارڈ سے فائدہ اٹھانے کا موقع رہے۔ اسی طرح اگر کسی سینٹر میں کوئی پیچیدہ کیس آئے تو اس سینٹر کے جہد کار افراد اس کیس کو دیگر جہدکاروں کے سامنے پیش کریں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکیں۔ جدید ٹکنالوجی میں اس طرح کے روابط کے لیےآسان اور قابل عمل صورتیں اختیار کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

فیملی کونسلنگ کا کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر روز اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہیں، اس موضوع پر لکھا گیا مفید لٹریچر اور کیے گئے بیش قیمت تجربات ان کے مستقل مطالعہ میں رہیں، وہ اپنے ناکام تجربات پر مطمئن ہونے کے بجائے ان کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ بھی لیتے رہیں۔ دوسرے انسانوں کے تجربات کی قدر کریں۔ انسانی مسائل کے حل میں انسانی تجربات کی بڑی اہمیت ہے۔ بسا اوقات انسانی تجربات الہی ہدایات کی تفسیر بن جاتے ہیں۔

بیرونی روابط

فیملی کونسلنگ سینٹر کے دیگر اداروں سے روابط کی بڑی اہمیت ہے۔ ہم ذیل میں کچھ اداروں کا ذکر کریں گے:

پولیس اسٹیشن سے رابطہ

عام طور سے پولیس اسٹیشن میں فیملی کونسلنگ کا ایک سیل ہوتا ہے۔ لیکن مسلمان جوڑوں کی فیملی کونسلنگ میں دینی حوالے کی بھی بڑی اہمیت اور تاثیر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے اپنے فیملی کونسلنگ سینٹر زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری آفسوں کی کارکردگی بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں ہوتی ہے۔ اگر فیملی کونسلنگ سینٹر کا مقامی پولیس اسٹیشن سے اچھا رابطہ ہو اور یہ بات طے پاجائے کہ پولیس اسٹیشن والے فیملی تنازعات سے جڑے معاملات کو فیملی کونسلنگ سینٹر میں بھیج دیں گے، تو اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ بعض فیملی کونسلنگ سینٹروں نے یہ تجربہ کیا ہے اور اپنے اثرات و نتائج کے لحاظ سے وہ بہت کام یاب رہا ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ خود فیملی کونسلنگ سینٹر کو پولیس اسٹیشن کی خدمات حاصل کرنا پڑیں، اس لیے بھی یہ رابطہ مضبوط رہنا چاہیے۔

دار القضا سے رابطہ

دار القضا کا کام عام طور سے شرعی قوانین کے مطابق مطلوبہ کارروائی کو انجام دینا ہوتا ہے۔ کہیں کہیں ساتھ میں فیملی کونسلنگ کا کام بھی ہوتا ہے۔ بہرحال دار القضا سے بہتر روابط ہونے چاہئیں تاکہ وہ کسی کیس میں تفریق کی کارروائی شروع کرنے سے فیملی کونسلنگ سینٹر کو موقع دیں کہ وہ اپنی مہارت اور تجربے کے ذریعے تفریق کے اسباب کو دور کرنے اور انھیں ساتھ رہنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔

اسی طرح اگر فیملی کونسلنگ سینٹر میں مطلوبہ کوشش کے بعد یہ رائے بنے کہ اس رشتے کا ختم ہوجانا ہی بہتر ہے، تو دار القضا کو وہ معاملہ ضروری تفصیلات کے ساتھ بھیج دیا جائے کہ وہ اس کی روشنی میں اپنی کارروائی بہتر طریقے سے انجام دے۔

تعلیمی اداروں سے رابطہ

فیملی کونسلنگ سینٹر کا کام یہ بھی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو شادی سے پہلے مناسب آگہی فراہم کرے۔ اگر فیملی کونسلنگ سینٹر کے جہد کاروں کا کالج اور یونیورسٹی سے مسلسل رابطہ رہے، طلبہ و طالبات کے سامنے ان کے لیکچر ہوں، طلبہ و طالبات کو فیملی کونسلنگ کی اہمیت بتائی جائے اور انھیں یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ فیملی کونسلنگ سینٹر میں پری میرج کونسلنگ اور پوسٹ میرج کونسلنگ کا مناسب انتظام ہے، تاکہ وہ حسب ضرورت رابطہ قائم کرسکیں۔

مساجد سے رابطہ

مسلم سماج میں مساجد کی مرکزی اہمیت ہے، بہت سے لوگ اپنے مسائل مسجد کے امام صاحب کے پاس لاکر رکھتے ہیں اور ان سے رہ نمائی چاہتے ہیں۔ مسجد کے امام صاحب کے علم میں بستی کے بہت سے معاملات اور مسائل رہتے ہیں۔

ایک بہتر صورت تو یہ ہے کہ مسجدوں میں فیملی کونسلنگ کا انتظام رہے، مسجد کے ائمہ کرام اس سلسلے میں اپنے علم اور صلاحیت کو پروان چڑھائیں۔

اس کے علاوہ یہ صورت بھی مفید ہوگی کہ فیملی کونسلنگ سینٹر کا مسجد سے رابطہ رہے اور مسجد کے ذمے داران ایسے معاملات فیملی کونسلنگ سینٹر بھیج دیا کریں۔

علمائے شریعت اور ماہرین قانون سے رابطہ

فیملی کونسلنگ کے جہدکاروں کو قانون اور شریعت کا ضروری علم رکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کا رابطہ شریعت اور قانون کے ماہرین سے بھی رہنا چاہیے۔ تاکہ حسب ضرورت وہ ان سے رہ نمائی لیتے رہیں۔ بعض پیچیدہ مسائل میں ماہرین سے مشورہ بہت ضروری ہوتا ہے۔

کونسلنگ کے حدود

فیملی کونسلنگ کا کام کرنے والوں کو اپنے حدود کا صحیح اندازہ ہونا چاہیے۔ جب معاملہ ان کے حدود سے باہر کسی اور میدان کے ماہر سے متعلق ہو تو اس میدان کے ماہرین کے حوالے کرنا چاہیے۔

اگر کوئی شخص نفسیاتی مریض ہو تو اسے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور کونسلنگ سینٹر کونفسیات کے بہتر معالج کی طرف رہ نمائی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ممکنہ مدد بھی کرنی چاہیے۔

اگر متعلقہ عورت یا مرد کسی جنسی مرض یا کم زوری کا شکار ہو، تو اس کا علاج ضرور ہونا چاہیے۔ فیملی کونسلنگ سینٹر کے جہد کاروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ان کا میدان نہیں ہے۔ البتہ ایسے مریضوں کا بہتر علاج کہاں ہوسکے گا؟ اس کے بارے میں بہتر واقفیت انھیں ہونی چاہیے تاکہ وہ رہ نمائی کرسکیں۔

کوئی شخص نفسیاتی مریض ہو یا جنسی مریض، اسے علاج کے لیے آمادہ کرنا مشکل مگر ضروری ہوتا ہے۔ فیملی کونسلنگ سینٹر کے جہد کار اس حوالے سے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

زوجین کے درمیان تفریق کا عمل دار القضا کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ فیملی کونسلنگ سینٹر کے کرنے کا یہ کام نہیں ہے۔ وہ تمام کام جو دار القضا کے کرنے کے ہیں انھیں دار القضا کے حوالے کردینا چاہیے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فریقین میں سے کسی کے لیے تحفظ کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ کوئی شخص خود کشی کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور اسے سمجھانا ممکن معلوم نہیں ہوتا ہے، اسے بھی پولیس کی تحویل میں دینے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ غرض کوئی بھی ایسی صورت پیش آسکتی ہے، جب معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے بجائے پولیس کے حوالے کردینا بہتر ہوتا ہے۔

فیملی کونسلنگ کا آفس کیسا ہو؟

یوں تو فیملی کونسلنگ کا کام کہیں پر بھی بیٹھ کر انجام دیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ اپنے گھر سے، بعض مسجد میں بیٹھ کر اور بعض اپنے ذاتی دفتر یا کسی تنظیم کے دفتر میں بیٹھ کر یہ کام انجام دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ متعلق فرد کے گھر جاکر کونسلنگ کا کام کرتے ہیں۔ تاہم فیملی کونسلنگ کا ایک مستقل مقام ہونا چاہیے جس کے بارے میں لوگ واقف ہوں اور بوقت ضرورت آسانی سے رجوع کرسکیں۔

لیکن باقاعدہ فیملی کونسلنگ سینٹر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے مخصوص جگہ ہو۔ جس میں کم سے کم درج ذیل سہولیات میسر ہوں:

ایک فرنٹ آفس ہو جہاں کمپیوٹر سسٹم ہو اور آنے والوں کا رجسٹریشن ہوتا ہو۔

ویٹنگ ایریا ہو جہاں بیٹھنے کا مناسب اور راحت بخش انتظام ہو۔

کونسلنگ روم ہو جس میں بیٹھ کر یک گونہ خوش گواری کا احساس ہوتا ہو۔

واش روم اور پینے کے پانی کی سہولت بھی موجود ہو۔

آفس کے باہر بورڈ ہو جس میں سینٹر کا نام اور آفس کھلنے کے اوقات درج ہوں۔

آفس میں ریکارڈ محفوظ کرنے کا مناسب انتظام ہو۔

ٹیلی کونسلنگ کا طریقہ

فیملی کونسلنگ کے جہد کاروں سے گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انفرادی کونسلنگ میں بہت سے لوگ آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کے بجائے بذریعہ فون گفتگو کو ترجیح دیتے ہیں۔ ٹیلی کونسلنگ میں وہ زیادہ کھل کر اپنی کیفیت بیان کرپاتے ہیں۔ اس لیے فیملی کونسلنگ سینٹر میں ٹیلی کونسلنگ کا بہتر انتظام ہونا چاہیے۔

فیملی کونسلنگ سینٹر کا بھرپور تعارف

فیملی کونسلنگ کے لیے کچھ ہی افراد رجوع کرتے ہیں۔ لیکن اس انتظام کا علم تمام عوام کو ہونا چاہیے۔ اس کے لیے تعارف کے تمام میسر طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی کارکردگی کتنی عمدہ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ فیملی کونسلنگ سینٹر عوام کے لیے بہت بڑی خدمت انجام دیتا ہے۔ عوام کو اس کی رپورٹ ملنی چاہیے جس کے نتیجے میں عوام کو آپ کو سپورٹ ملے گا۔ کام یابی کاسفر جاری رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔

فیملی کونسلنگ سینٹر کی اچھی شبیہ

فیملی کونسلنگ سینٹر کو عوام کا بھروسا حاصل ہو، یہ بہت ضروری ہے۔ تبھی لوگ اپنے انتہائی پرسنل معاملات کو وہاں پیش کرنے کے لیے آمادہ ہوسکیں گے۔ اس کے لیے درج ذیل کچھ پہلوؤں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

غیر جانب دار

فیملی کونسلنگ سینٹر میں پہنچنے والے زیادہ تر کیس وہ ہوتے ہیں جن میں شوہر اور بیوی کے درمیان نزاع ہوتا ہے۔ کونسلنگ سینٹر کی پہچان ایسی ہونی چاہیے کہ دونوں فریق اسے ایک غیر جانب دار ادارے کی حیثیت سے دیکھیں اور انھیں یہ اطمینان ہو کہ معاملے کو معروضی انداز سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صحیح تشخیص

فیملی کونسلنگ سینٹرمیں آنے والے معاملات کی صحیح تشخیص ہونی چاہیے۔ تشخیص غلط ہوگی تو صحیح حل پیش نہیں کیا جاسکے گا۔ صحیح تشخیص کے لیے معاملہ فہمی والی ذہانت درکار ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی فریق کی دکھ بھری بپتا سن کر کونسلنگ کرنے والا خود جذبات کی رو میں بہہ جائے اور اصل معاملے کو سمجھے بغیر ایک رائے قائم کرلے۔

خیر خواہ

فیملی کونسلنگ سینٹر کے جہد کاروں کو تمام فریقوں کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔ ان کے سوالات بھی اس کی گواہی دیں اور ان کے مشورے بھی۔

رازوں کی حفاظت

فیملی کونسلنگ سینٹر بہت سے خاندانوں کے رازوں کا مخزن ہوتا ہے۔ صحیح مشورے کے لیے بھرپور واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ اس کے لیے سوالات کیے جاتے ہیں اور معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان رازوں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

تقوی و پرہیزگاری

فیملی کونسلنگ کے عمل کو انجام دیتے ہوئے شیطان کے جال میں پھنسنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے بیچ دوری کے اسباب جاننے کے بعد شیطان دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔ اللہ کا خوف نہ ہو تو قدم بہک سکتے ہیں اور آدمی خیانت کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ شوہر اور بیوی سے گفتگو کرتے ہوئے اللہ سے دعا گو رہنا چاہیے کہ وہ شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔

پردے کا مناسب انتظام

بہتر تو یہی ہے کہ خواتین کی کونسلنگ خواتین کے ذریعے ہو۔ فیملی کونسلنگ سینٹر میں مردوں کی کونسلنگ کے لیے مرد ماہرین اور عورتوں کی کونسلنگ کے لیے خاتون ماہرین ہوں۔ جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں مرد کونسلر یا عورت کونسلر مرد و خواتین سب کی کونسلنگ کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پردے کا اہتمام ہونا چاہیے اور خلوت سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔ بہتر ہے کہ کونسلنگ روم کی دیوار شفاف شیشے کی ہونی چاہیے۔ اگر کونسلر مرد ہے تو بہتر ہے کہ عورت کے ساتھ کوئی عورت یا مرد رہے۔

کچھ اہم باتیں

ذہنوں میں بیٹھے ہوئے غلط تصورات کو درست کرنا نہایت اہم کام ہے، کیوں کہ غلط تصورات سے غلط رویے جنم لیتے ہیں۔ ذہن میں جب یہ تصور ہو کہ کچھ رشتے نفرت کے ہوتے ہیں، تو ان رشتوں کے ساتھ لوگوں کا رویہ بھی نفرت اور دشمنی والا ہوجاتا ہے۔ تصورات کی اصلاح کا کام بہت ضروری ہے اس کے بغیر رویے درست نہیں ہوسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ خاندانی زندگی اور رشتوں کے بارے میں صحیح تصورات کے وسیع تعارف کا کام لیا جائے۔

مشاہدات بتاتے ہیں کہ خاندانی مسائل عام طور سے ذہنی ناپختگی اور اخلاقی پستی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے کونسلنگ کے ذریعے صرف متعین نزاعی مسئلہ حل نہیں کیا جائے، بلکہ دونوں فریقوں اور ان کے اہل خانہ کی ذہنی اور اخلاقی سطح بلند کرنے پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جائے۔ یوں تو مسائل ایک بار حل ہوکر بھی بار بار پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن ذہنی پختگی اور اخلاقی بلندی حاصل ہوجائے تو بیشتر مسائل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔

خاندانی زندگی کی کام یابی دو باتوں پر منحصر ہوتی ہے، ذہانت اور سخاوت۔ اکثر رشتے لوگوں کی کم عقلی اور حماقت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، جب کہ ذہین لوگ اپنی ذہانت سے رشتوں کو ہر طرح کے نشیب وفراز میں سنبھالتے رہتے ہیں۔ اسی طرح رشتوں میں اس وقت میلا پن آجاتا ہے جب انسان محبت کے اظہار میں کنجوسی سے کام لیتا ہے، جب کہ دریا دل انسان اپنی سخاوت اور دریا دلی سے بہت سے دلوں کی کدورتیں دھوڈالتا ہے۔ کام یاب کونسلنگ وہ ہے جو انسان کی ذہانت اور سخاوت دونوں کو بیدار کردے۔

عام لوگوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ قانون اور قانونی احکامات صرف نزاعات کا تصفیہ کرنے اور حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جب کہ خوش گوار زندگی گزارنے اور پر بہار گھر بسانے کے لیے تقوی والی احتیاط اور احسان والے اخلاق کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلامی کونسلنگ دراصل قانونی حقوق کی کشمکش سے نکال کر تقوی اور احسان کی بلندیوں سے آشنا کرتی ہے۔ اسلامی تحریک کے ذریعے چلنے والے کونسلنگ سینٹرکا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ خاندانی زندگی میں تقوی اور احسان کی غیر معمولی اہمیت اور بے پناہ تاثیر سے سماج کو آگاہ کریں۔

رشتوں کی ناخوشگواری اور خرابی کو دور کرنے کے لیے صرف نصیحت کافی نہیں ہوتی ہے۔ بے شک اگر صاف اور سچے دل سے نصیحت کی جائے تو اس میں بہت اثر ہوتا ہے، لیکن تشفی بخش حل اور تسلی بخش نتائج کے لیے مسائل کی صحیح تشخیص اور ان کے حل کی حکیمانہ تدبیر بھی ضروری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسائل کی صحیح تشخیص کا ملکہ حاصل کیا جائے اور ایسی تدبیریں دریافت کرنے پر دماغی محنت صرف کی جائے جو مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کی قدرت رکھتی ہوں۔

جبر اور تنگی اسلام میں نہیں ہے۔ جبر اور تنگی کو انسانی فطرت بھی رد کرتی ہے۔ اس لیے مفاہمت کی ایسی راہیں نکالی جائیں کہ گھر کا کوئی فرد گھٹ گھٹ کر زندگی نہیں گزارے۔ تھوڑی مدت کے وقتی جبر کے لیے تو صبر کی راہ اختیار کرنا بلاشبہ مفید ہوسکتا ہے، لیکن ایسی صورت حال کو قبول کرنا جو سالہا سال تنگی اور گھٹن میں مبتلا رکھے، ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے۔

یاد رہے، کوئی ایسا حل یا مشورہ اسلامی نہیں ہوسکتا ہے جس میں ظلم کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہے۔ آپ کی کوششوں کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کم ہوجائے، آپ کے سامنے اصل ہدف یہ ہو کہ گھروں میں ظلم کی شرح کم ہوجائے اور تعلقات میں خوش گواری کی سطح اونچی ہوجائے۔

کچھ حل تکلیف دہ ہوتے ہیں، لیکن بعض حالات میں وہی مناسب ہوتے ہیں۔ اگر زوجین کے درمیان موافقت کی کوئی صورت نہیں بن رہی ہو، تو ان کا ایک دوسرے سے الگ ہوجانا بھی ان کے لیے مناسب حل ہوسکتا ہے۔ بیٹے کا اپنے والدین کے ساتھ رہنا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس کی ازدواجی زندگی کی حفاظت کے لیے کبھی اس کا الگ گھر بسانا ضروری ہوسکتا ہے۔ اس لیے کونسلنگ کے عمل کو ہمارے مروجہ سماجی تصورات میں مقید نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے باہر بھی حل تلاش کرنا چاہیے۔

زخموں کو اچھی طرح دھوئے بغیر سی دینا طبی لحاظ سے درست طریقہ نہیں ہے۔ تعلقات خراب ہوجانے کے بعد مصالحت کرادینا بہت اچھی بات ہے، لیکن مصالحت کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب دل کی کدورتیں صاف ہوجائیں اور ایک دوسرے سے شکایتیں دور ہوجائیں۔ دلوں کی صفائی کے بغیر محض ساتھ رہنے پر راضی کردینا ویسے ہی ہے جیسے زخموں کو دھوئے بغیر سی دینا۔ جس کے نتیجے میں اندر ہی اندر مرض پلتا رہتا ہے اور پھر دوبارہ اور شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔

آخری بات

زوجین کے درمیان اصلاح کا کام بہت اہم ہے۔ یہ کام ضروری ہوتے ہوئے بہت مشکل بھی ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر دلوں میں صلح پسندی اور صلح طلبی ہو تو یہ مشکل کام بھی اللہ کی توفیق سے آسان ہوجائے گا۔ ارشاد باری ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَینِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ یرِیدَا إِصْلَاحًا یوَفِّقِ اللَّهُ بَینَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِیمًا خَبِیرًا [النساء: 35]

(اور اگر تمھیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو الله ان دونو ں میں موافقت کر دے گا بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے) ۔

اس آیت کا تقاضا ہے کہ ہمارے اندر تعلقات کی گرتی دیوار کو سنبھالنے اور بگڑتے معاملات کو بہتر بنانے کا سچا جذبہ ہو۔ یہ جذبہ کونسلنگ کرنے والوں کے دلوں میں بھی ہو اور یہی جذبہ زوجین اور ان کے خاندان والوں کے دلوں میں بھی پیدا کیا جائے۔

جذبہ خیر کے ساتھ دعائے خیر بھی بے حد ضروری ہے۔ کونسلنگ کے پورے عمل کے دوران اللہ کے حضور دعا کی جائے۔ زوجین اور ان کے خاندان والوں کو بھی اللہ کو یاد کرنے اور اللہ سے دعا کرنے کی تلقین کی جائے۔ اللہ بہترین کارساز ہے۔

مارچ 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau