تاثرات

کُل ہند اجتماع ارکان جماعت اِسلامی ہند

محمد حسین ذو القرنین

سہ روزہ دعوت میں کل ہند اجتماع ارکان جماعت اسلامی ہند منعقد ہ ۴ تا ۷نومبر ۲۰۱۰؁ء بہ مقام دعوت نگرنئی دہلی پر چند رپورٹیں اور تبصرے شایع ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تبصرہ بہ عنوان : ’’اقامت دین کے علم برداروں کا تاریخ ساز اجتماع‘‘ نصیرالدین صاحب ﴿حیدرآباد﴾ کاتھا۔اجتماع مختلف معنوں میں تاریخی توہوسکتاہے۔ لیکن ابھی اسے تاریخ ساز قرار دینا میرے خیال میں قبل از وقت ہے۔ اس موضوع پر جو دوسرے مضامین آئے ہیں، ان کی حیثیت یا تو روداد کی ہے، جیسے انتظار نعیم صاحب کامضمون ’’یہ تیری رضا کے طلبگاربندے‘‘ ﴿دعوت یکم دسمبر۲۰۱۰؁ء﴾ یا اظہار جذبات کی جیسے ڈاکٹر فاطمہ تنویر کی نظم ’’روح پروراجتماع اک گوشۂ دہلی میں تھا‘‘ ﴿دعوت یکم دسمبر ۲۰۱۰؁ء﴾۔

۲۸نومبر ۲۰۱۰؁ء کے دعوت میں مرکزی ذمے داران جماعت کی ماہانہ نشست منعقدہ ۳۱نومبر کی رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے ،مختصراً اجتماع ارکان کا بھی ذکر ہے۔ اس میں ’’جماعت کی روایات کے مطابق اجتماع کے محاسن اور اس کی کمزوریوں اور خامیوں کابھی جائزہ لیاگیا۔ شرکاءنے اجتماع کے خوش اسلوبی کے ساتھ انعقاد، بہتر انتظامات اور ارکان کی اس میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت پر اطمینان کااظہار کیا۔ نظم کے اعتبار سے خامیوں کا ذکر بھی آیا جس کے سلسلے میں محترم امیرجماعت نے اصلاح پر زور دیا۔‘‘

راقم الحروف کو بھی اس اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ میں تین دِن قبل ہی مرکز پہنچ گیاتھا۔ اجتماع کی تیاریاں شباب پر تھیں۔ بڑا دلفریب منظرتھا، خیمے اور فرش لگائے جارہے تھے، پنڈال میں وسیع اسٹیج آراستہ کیاجارہاتھا، منتظمین اور معاونین کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ میری خواہش ہوئی کہ کیوں نہ اس اجتماع کی کچھ جھلکیاں بیرون ملک مقیم ان ساتھیوں کو بھی دکھلادی جائیں جوبوجوہ اس میں شرکت سے محروم تھے۔ میرا سفری کمپیوٹر میرے ساتھ تھا، مہربان عزیز ڈاکٹر صفی اطہر نے حسب وعدہ یو ایس بی موڈ کام کانظم کردیا اور باہری دنیا سے میرا ربط قائم ہوگیا۔ چنانچہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے میں اجتماع کی جھلکیاں بذریعہ ای میل دوستوں کو بھیجنے لگا، جس کاخیرمقدم کیاگیا۔ ان مراسلوں کی حیثیت صرف جھلکیوں کی ہی تھی۔ان میںکوئی تجزیہ نہیں تھا۔ ان کو پڑھ کر بہت سے ساتھیوں نے یہ تمنا کی کہ کاش وہ بھی اجتماع میں موجود ہوتے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ واضح کردوں کہ ذاتی طورپر میں پوری طرح مطمئن ہوں کہ اس اجتماع میں شرکت پر جو وقت اور مال میں نے صرف کیا وہ ناقابل ذکر ہے، بہ مقابلہ ان فوائد ﴿اور کیف﴾ کے جو مجھے دورانِ اجتماع حاصل ہوئے۔ البتہ کسی بھی پروگرام کا معروضی تجزیہ کرنے کے لیے چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں۔مثلاً:

کیا اس پروگرام کے اہداف ومقاصد واضح طورپر متعین کرلیے گئے تھے؟

کیا اس پر صرف ہونے والے مال، وقت اور توانائیوں کااندازہ لگالیاگیاتھا؟

کیا مذکوربالا تخمینوں کی روشنی میں یہ طے کیاگیاکہ یہ قیمت پروگرام سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج کے مقابلے میں ناقابل لحاظ ہے؟

پروگرام پر عملاً کیا لاگت آئی۔ مال، وقت اور توانائیوں کی شکل میں؟ اور

اس پروگرام سے مطلوبہ اہداف و مقاصد کس حد تک حاصل ہوئے؟

نصیرالدین صاحب نے اپنے مذکوربالا تبصرے کے آخر میں ’’چند قابل غورباتیں‘‘کے تحت کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ مالی مصارف کا تووہ کوئی اندازہ نہیں لگاسکے، البتہ وقت کے تعلق سے ان کے ’’محتاط‘‘ اندازے کے مطابق اس اجتماع پر بحیثیت مجموعی ﴿تمام متعلق افراد کے﴾ ایک سو بیس سال صرف ہوئے۔ اس کے بعد انھوںنے خاصی دل سوزی سے ارکان جماعت اور ذمے داران جماعت سے سوچنے کی اپیل کی ہے کہ مذکور ہ مدت کی قربانی دے کر انھوںنے کیا کچھ حاصل کیا۔ یہ واقعی اہم سوال ہے، اس پر سب سے پہلے مرکزی مجلس شوریٰ کو غورکرنا چاہیے۔

اجتماع پر صرف ہوئے مجموعی وقت کاجواندازہ موصوف نے لگایاہے وہ بہت زیادہ محتاط ہے۔ عام شرکائ نے اجتماع کی تیاری، سفر اور دہلی میں قیام وغیرہ پر اوسطاً آٹھ سے دس دن اور منتظمین ومعاونین نے کم از کم پندرہ سے بیس دن تو لگائے ہی ہوںگے۔ اس لحاظ سے مجموعی مدت تقریباً دو صدیوں پر محیط ہوجاتی ہے۔ مالی مصارف کامحتاط اندازہ تقریباً پونے دو کروڑ روپے ہوتاہے۔ دوسری تنظیموں کے لیے یہ رقم ممکن ہے حقیر ہو لیکن ہمارے لیے بہت بڑی ہے۔ توانائیوں کو ناپنے کا اگرچہ کوئی حتمی پیمانہ میری معلومات کی حد تک ابھی ایجاد نہیں ہوالیکن ایسا بھی نہیں کہ اس میدان کو بالکل خالی چھوڑدیاگیا ہو۔ کسی بھی جدوجہد پرصَرف ہوئی توانائیوں کو ناپنے کے لیے ان کا تقابلی موازنہ کیاجاتاہے کہ اگر یہی توانائیاں کسی اور جدوجہد میں لگائی جاتیں تو اس کے نتائج کیا ہوتے۔

چونکہ ہمارے سامنے تحدیدی طورپر اجتماع کے وہ اہداف و مقاصدنہیںہیں جو اس کے فیصلے کے وقت مرکزی شوریٰ نے طے کیے ہوں گے، اِس لیے ہم صرف ان کا منطقی تصور ہی کرسکتے ہیں۔ مثلاً :

۱- وقفہ وقفہ سے کل ہند اجتماع کی روایت

۲- ارکان جماعت کو قیادت کی نئی فِکر سے آگاہ کرنا۔

۳- ارکان کے اندر سمع و طاعت کے جذبات پروان چڑھانا اور جماعت کے لیے مال، وقت اور توانائیوں کی قربانی کے امتحان کا موقع فراہم کرنا۔

۴-  رفقائ کو اپنی قیادت سے ملنے اور اپنے مرکز کو دیکھنے کا موقع فراہم کرنا۔

۵-  رفقائ کو ملک کے دوسرے حصوں کے رفقائ سے ملنے کا موقع فراہم کرنا۔

۶-  اپنی عددی قوت کامظاہرہ۔

۷- اجتماع کے بعد ہونے والی مجوزہ ریلی کے لیے افرادفراہم کرنا ﴿کیونکہ جماعت کی اپیل کا شاید مقامی عوام زیادہ مثبت جواب نہ دیں﴾۔

پروگرام کا تجزیہ کرتے وقت یہ دیکھاجائے گا کہ ان میں سے کتنے اہداف کس حد تک حاصل کیے گئے اور کیا ان اہداف کو حاصل کرنے کے متبادل کم تر لاگت والے ذرائع بھی ہوسکتے تھے۔ اجتماع کے لیے طے کردہ اہداف بذات خود کس حد تک مناسب تھے، اس پر غور متوسلین جماعت کے لیے شاید خارج ازامکان ہو کیونکہ مرکزی شوریٰ اور مجلس نمایندگان کے فیصلوں کو غالباً موضوع گفتگو نہیں بنایاجاسکتا۔

تقاریر کی شکل میں جو علمی اور فکری مواداجتماع میں پیش کیاگیا، اُس میں سے بیش تر نہ صرف معیاری بلکہ غیرمعمولی (Extraordinary)اور انتہائی فکرانگیز تھا۔ امید ہے کہ مزید گفتگو کرنے کے بعد آیندہ کی پالیسی طے کرنے میں ان افکار سے مدد لی جائے گی۔ البتہ موضوعات کے انتخاب میں مزید تنوع ہونا چاہیے تھا۔ ایسا محسوس ہواکہ موضوعات پر ایک خاص فکرغالب ہے۔ مثلاً : دعوت کا پہلو نہ صرف کمزور بلکہ برسرحاشیہ (Marginalised)تھا۔ سوائے تیسرے دن سکریٹری دعوت کی ایک تقریر کے۔کم از کم متوازی اجلاسوں میں ایک اجلاس کااضافہ اس عنوان سے بھی کیاجاسکتاتھا،جس کی طرف اجتماع سے کئی ہفتوں قبل توجہ بھی دلائی جاچکی تھی اس تاثر کااظہارپینل ڈسکشن کے دوران خود اجتماع کے اسٹیج سے بھی کیاگیا۔

اس میں کوئی شک نہیں بہت سے مواقع پر بالمشافہ خطاب زیاد ہ مؤثر ہوتاہے۔ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ وہی موادتحریری شکل میں اپنی اثر آفرینی کھونہیں دیتا۔ ہمارے بنیادی لٹریچر کاخاصا بڑا حصہ بانی تحریک کی تقاریر پر مشتمل ہے۔ جماعت کے موجودہ متوسلین کی کتنی تعداد ان تقاریر کے وقت وہاں موجود تھی ؟ اور ان میں سے کتنی تقاریر کے وقت یہ اہتمام کیاگیاتھاکہ لوگ دور دراز سے سفر کرکے ان کو سننے کے لیے وہاں پہنچیں؟ حالاں اس وقت نہ تو ویڈو گرافی کی سہولتیں موجودتھیں نہ آج کی طرح اس کا کوئی امکان تھاکہ لوگ اپنے اپنے مقامات پر کسی جگہ جمع ہوکر یا اپنے گھروں میں اسی وقت ان تقاریر کو نہ صرف سن لیں بلکہ مقررین کو دیکھتے بھی رہیں اور اجتماع گاہ میں موجود حاضرین کی طرح سوالات بھی کرسکیں۔ اس کے باوجود وقت، مال اور توانائیوں کی اتنی بڑی قربانی دے کر تقاریر سنوانے کے لیے پورے ملک سے تمام ارکان کو کسی ایک جگہ جمع کرنے پر اصرار کہاں تک مناسب ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آیندہ بھی جوبڑے پروگرام طے کیے جائیں ان کی مجموعی افادیت بمقابلہ لاگت (Cost-benefit analysis)کا کافی پہلے سے مطالعہ کرلینا مناسب ہوگا تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ مفید اور بنایاجاسکے۔

انتظامی لحاظ سے بہتری کی خاصی گنجائش تھی۔ قیام، طہارت کانظم، نمازوں،صفائی، طعام کانظم غرض کہ ہر جگہ کمیاں رہیں، جنھیں تھوڑی توجہ سے ٹھیک کیاجاسکتاتھا۔ حیرت ہے کہ اس اجتماع سے کمپیوٹر کو شجر ممنوعہ کی طرح دور رکھاگیا۔ حالاں کہ خود مرکز جماعت اور پڑوس میںایس آئی او کے دفتر میں کمپیوٹر ماہرین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہوگی۔ رجسٹریشن ، رہائش گاہوں میں مہمانوں کی تقسیم، شرکائ کے بارے میں معلومات، شناختی کار ڈ کی تیاری۔ یہ ساری چیزیں کمپیوٹر کی مدد سے بہتر طورپر منظم کی جاسکتی تھیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ اجتماع کا اپنا ویب سائٹ کافی پہلے سے کام شروع کردیتا ورنہ کم از کم جماعت کی ویب سائٹ پر اس کاایک صفحہ ہوتا جس پر اجتماع کے بارے میں تازہ معلومات بھی آتی رہتیں، تجاویز اورمشورے بھی ملتے رہتے اور ساتھ ہی رجسٹریشن بھی ہوتارہتا۔

آئندہ کُل ہند اجتماع ارکان ﴿اگر ضروری ہی ہو﴾ کے سلسلے میں میری تجاویز ہیں کہ:

۱- اس میں ارکان کی شرکت لازمی نہیں ، بل کہ اختیاری ہو۔

۲-اجتماع کا فیصلہ چند ماہ پہلے کرنے کی بجائے مستقل طورپر ہر میقات کے آخر میں اجتماع کے انعقاد کی روایت شروع کی جائے اور اُس کی تاریخیں متعین کردی جائیں جیسے مارچ کاپہلا ہفتہ جس وقت سارے ملک میں ہی موسم خوش گوار رہتاہے۔

۳-اس اجتماع میں تقاریر کم ہوں اور ارکان کاقیادت سے اور خود باہم آپس میں تبادلہ خیال (Interaction) زیادہ ہو۔ اہم مسائل پر ارکان کی رائے سُنی جائے اور ان کے سوالات کے جوابات دیے جائیں۔

۴-اگر ارکان کی شرکت لازمی ہی ہوتو اگر ممکن ہوتو اس موقع پر سارے انتخابات کرالیے جائیں۔ مجلس نمائندگان، صوبائی مجالس شوریٰ اور امرائے حلقہ جات کے بارے میں استصواب وغیرہ۔ اِس طرح انتخابات سے متعلق سرگرمیوں پر صَرف ہونے والے کثیر وقت کی بچت ہوسکتی ہے۔ لوگ انتخابات کے لیے تیار ہوکر آئیںگے اور جن کو وہ منتخب کرنے جارہے ہیں، ان سے کسی حد تک واقفیت بھی اجتماع کے دوران حاصل کرلیںگے۔ مثلاً غیرعلاقائی بنیادپر مجلس نمائندگان کے انتخاب کے سیاق میں۔

۵-اجتماع کے موضوعات،اس کی ہیئت اور پروگرام کے بارے میں کافی پہلے مشورے طلب کیے جائیں۔

۶-قیم جماعت کی رپورٹ جو کہ پچھلے عرصے میں جماعت کی کارکردگی کے بیان پر مشتمل ہوتی ہے، کافی پہلے ارکان جماعت کو بھیج دی جائے جسے وہ پڑھ کر آئیں۔ اس رپورٹ میں اس چیز کو زیادہ اجاگر کیاجائے کہ میقات کے شروع میں مقرر کردہ اہداف تک پہنچنے میں کتنا خلا رہ گیا، اُس کے کیا اسباب تھے اور تلافی کی آئندہ حکمت عملی کیاہے۔ اجتماع میں رپورٹ کاخلاصہ یاد دہانی کے لیے پاور پوائنٹ کے ذریعے پیش کیاجائے اور اس پر گفتگو کاموقع دیاجائے۔

۷-اجتماع سے مطلوبہ مثبت نتائج کے متابعہ (Follow up)کی اسکیم پہلے سے تیار کرلی جائے اور اس پر منصوبہ بند عمل شروع ہوجائے۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک میں جہاں خود مسلمانوں کی تعداد پندرہ سے بیس کروڑ تک ہے، ہماری عددی قوت ساٹھ برسوں میں آٹھ ہزار سے زائد نہیں بڑھ سکی ہے، جس کی وجہ سے ہم اس طرح کا اجتماع بہ سہولت کرلیتے ہیں۔ اگر ہم اس تعداد اور رفتار پر مطمئن ہیں ﴿جیساکہ محسوس ہوتاہے﴾ تو اور بات ہے۔ ورنہ اگر اس میں اضافے کی سنجیدہ کوشش کے نتیجے میں یہ تعداد چند برسوں میں ڈیڑھ گنی بھی ہوجائے تو کیا پھر بھی ہمارے لیے اکٹھا ہونا ممکن ہوسکے گا؟ اور کس قیمت پر؟

اجتماع کے اختتامی اجلاس کے نوجوان کنوینر امیرحلقہ آندھراپردیش نے امیرجماعت کوالوداعی خطاب کی دعوت دیتے ہوئے جماعت کو متوسلینِ جماعت کا عشق قرار دیا۔ اس کی روشنی میں احمد فراز کا یہ شعر یاد آتاہے :

تم محبت میں کہاں سود وزیاں لے آئے

عشق تو ایک کرشمہ ہے، فسوں ہے، یوں ہے

دنیائے شعر سے عالم واقعہ میں آئیں تو اس اختتامی اجلاس میں امیرجماعت نے اپنی دلسوز تقریر میں یہ گلہ بھی کیاکہ اب بعض باصلاحیت افراد تحریک کے لیے اپنی خدمات کی قیمت مارکیٹ ریٹ پر طلب کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ امیر جماعت کی افتتاحی تقریر کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں۔ اُس میں اِس حقیقت کا صاف گوئی سے اعتراف کیاگیاکہ پچھلے ساٹھ برسوں پرمحیط تحریکی سرگرمیوں کے باوجود ،ہم اب تک اسلام کو اس ملک میںایک متبادل کے طورپر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ دعواے عشق کے مقابلے میں زمینی حقیقتیں کسی اور طرف اشارہ کررہی ہیں اور ان کے مطالبات کچھ اور ہیں جن پر فوری توجہ جماعت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سیاست، الیکشن، استعمار مخالف مہمات، جلسے جلوس، کرپشن مٹائو ریلیاں وغیرہ یہ ساری چیزیں ثانوی ہیں۔‘‘

مارچ 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau