ایجابی عبقریت کے پانچ نمونے

سیرتِ رسول ﷺ سے

جنان یوسف | ترجمہ: عرفان وحید

موجودہ حالات میں نشاناتِ راہ کو روشن کرتی ہوئی، اسوۂ رسول ﷺ کے معتبر حوالے سے ایک چشم کشا تحریر

رسول اللہ ﷺ عبقری تھے اور ایجابی عبقریت (positive genius)کے حامل تھے۔ ایسے عظیم انسان جنھیں معلوم تھا کہ وہ ان کمالات سے متصف ہیں جن کی بدولت وہ اللہ کی مدد اور نصرت کے ساتھ، دنیا میں موجود منفی حقیقتوں کے خاتمے کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

شان ایخور (Shawn Achor) نے اپنی کتاب ’مسرت سے پہلے‘ (Before Happiness ) میں مثبت عبقریت کے پانچ کمالات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے رسول کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ میں وہ تمام کمالات بدرجہ اتم نظر آتے ہیں۔

پہلا کمال: پہلا کمال اس حقیقت کا انتخاب کرنا ہے جو سب سے زیادہ قیمتی ہو۔

بسا اوقات ہماری سب سے بڑی غلطی یہ مان لینا ہوتی ہے کہ ہمارا منفی تصور ہی تمام تر حقیقت ہے، اس کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں پائی جاتی۔ رسول اللہ ﷺکو درپیش حقیقت کیا تھی؟ آپؐ ایک یتیم تھے، آپؐ کے بھائی بہن نہیں تھے اور آپؐ پر ایمان لانے والے مٹھی بھر نفوس بھی وہ تھے جو سماج کے مظلوم ترین اور پس ماندہ ترین افراد تھے۔ آپؐ کے اصحاب پر صرف اس جرم کی پاداش میں کہ وہ آپؐ پر ایمان لائے ظلم کے پہاڑ توڑ ے جارہے تھے۔ جب آپؐ کے چچا اور بیوی کا انتقال ہوگیا تو قریش کے لیے آپؐ کو قتل کرنے میں بھی کوئی چیز مانع نہ رہی، اور ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے ایسی کوششیں بھی کیں۔ یہی آپؐ کو درپیش حقیقت تھی، کیا واقعتاً ایسا نہیں ہے؟

کسی عام انسان کو ایسے حالات سے دو چار ہونا پڑتا تو اس کی سرگرمیوں کا تمام تر ارتکاز، اس کی تمام تر توجہ اسی ایک تلخ حقیقت سے نبردآزما ہونے پر ہوتی۔ وہ اس حقیقت سے اتنا مغلوب ہوجاتا کہ اس کے آگے اسے کچھ سجھائی ہی نہ دیتا۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ کے چچا کا انتقال ہوا تو آپؐ نے اپنی توجہ طائف کی جانب مبذول کی۔ جب طائف سے کام نہیں بنا، تو آپؐ کی نگاہیں حج کے ایام پر مرکوز ہوگئیں، کیوں کہ آپؐ جانتے تھے کہ ان ایام میں سارے عرب کے قبیلے مکہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔

مدینہ ہجرت کرجانے کے بعد بھی حالات رسول اکرم ؐ کے لیے سازگار ہونے کے بجائے دشوار تر ہوگئے۔ صحابہ کرامؓ بیمار پڑ گئے۔ انھیں مکہ کی یاد آتی تھی اور وہ اس کی یاد میں اشعار پڑھتےتھے۔ رسول کریم ؐ نے ان حالات میں کیا کیا؟ آپؐ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ صحابہ کے لیے مدینے کو بھی اتنا ہی محبوب بنادے جتنا کہ مکہ تھا۔ آپؐ جانتے تھے کہ دعاؤں سے حقیقت بدلتی ہے۔ اور یہی ہوا بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ مکہ فتح ہونے کے بعد بھی رسول اکرم ؐ اور بہت سے صحابہ مکہ میں نہیں رکے، بلکہ مدینے لوٹ آئے۔

دوسرا کمال: رسول اللہ ؐ جانتے تھے کہ ان کے لیے کیا شے بامعنی ہے۔

ایخور نے معنوی نقوش (meaning markers) کی تعریف ان اشیا کے طور پر کی ہے جو ہماری زندگی میں اہم ہوں اور جن سے ہم کام یابی کی جانب گام زن ہونے کے لیے ذہنی نقشے تیار کرسکیں ۔ معنویت کے بغیر ہماری توانائیاں زائل ہوجاتی ہیں۔ اس بات کا اطلاق تمام چیزوں پر کیا جاسکتا ہے خواہ ان کا تعلق ایکٹیوزم [حرکیت]سے ہو، ملازمت سے ہو یا عبادت سے۔ جب ہم عبادت کرتے کرتے اوب جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم عبادت کی معنویت سے اپنا تعلق قائم نہیں رکھ سکے، یا ہمارے ذہن سے وہ محو ہوگئی۔ جب ایسا ہو تو عبادت محض روزمرہ کا ایک مشغلہ بن جاتی ہے۔ یہی بات ایکٹیوزم پر صادق آتی ہے، ہم اس سے اکتا جاتے ہیں اور بسا اوقات ترک کردیتے ہیں۔ جب ام المومنین حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ؐ کا عبادت میں ایسا انہماک دیکھا کہ آپؐ کے پاؤں تک متورم ہوجاتے تو انھوں نے آپؐ سے پوچھا: ’’یا رسول اللہؐ، آپؐ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔ اللہ نے آپؐ کو تو بخش دیا ہے۔ ‘‘ اس پر رسول اللہ ؐ نے جواب دیا: ’’أفلا أكون عبدا شكورا؟ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘

یہی وجہ ہے کہ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم جو عمل بھی کریں پہلے اس کے ساتھ نیت کو خالص کرلیں۔ اس سے ہمارے عمل میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں موجودہ چیزوں کے ساتھ نیت کا اخلاص شامل کرکے معنویت عطا کرسکتے ہیں (مثلاً کسب حلال)۔ جب ہم جان جائیں کہ ہمارے لیے کون سی چیزیں واقعی معنویت کی حامل ہیں تو ہم ان پر عمل پیرا ہوکر اپنے موجودہ حالات کو بدل سکتے ہیں (مثال کے طور پر کام یا نوکری کے علاوہ کسی شوق یا مشغلے کو اختیار کرنا)۔ علاوہ بریں، اس کا تعلق تنوع پیدا کرنے سے ہے۔ اگر ہم سمجھیں کہ معنویت کا تعلق صرف کام ہی سےہے، اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو نظر انداز کردیں، تو بہت جلدہمیں خالی پن کا احساس آلے گا۔

اللہ کے رسولؐ کی شخصیت متوازن تھی۔ آپؐ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی اچھا وقت گزارتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ ان سے ہنسی مذاق کرتے تھے، خوش طبعی کی باتیں کرتے تھے، حتیٰ کہ ان کے ساتھ دوڑ بھی لگایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺصحابہ کے ساتھ بھی اچھا وقت گزارتے تھے۔ عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کی جانب اس قدر متوجہ رہتے کہ بعض اوقات انھیں گمان ہوتا کہ وہی آپؐ کے سب سے قریبی صحابی ہیں۔

اپنے رب کے حضور بھی رسول اللہ ﷺ اچھا وقت گزارتے تھے، جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہم نے دیکھا۔

تیسرا کمال: آپؐ جانتے تھے کہ اپنے نصب العین کی جانب کس طرح تیزی سے بڑھنا ہے۔

ایخور وضاحت کرتا ہے کہ ہم خود کو اپنےنصب العین سے جتنا قریب محسوس کرتے ہیں، اتنا ہی ہم اس کی جانب بڑھتے ہیں۔ جس طرح کوئی دوڑنے والا جیسے جیسے دوڑ کے خطِ اختتام کی جانب بڑھتا ہے، اتناہی اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ٰقرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس پر ایمان کی بدولت تمام تر مشکلات اور مصائب میں بھی رسول اللہﷺ کو یقین تھا کہ کوئی اچھی صورت پیدا ہو کر رہے گی۔

مزید برآں، رسول اللہ ؐ نے حال کے پیچیدہ مسائل پر توجہ مرکوز نہیں کی بلکہ ہر قدم کو (خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو) اپنی توجہات کا مرکز بنایا اور اس کے ذریعے خود کو حتمی منزل کے قریب تر محسوس کرتے رہے۔ اسی وجہ سے وہ راہ گذر جس سے ہوکر آپؐ گزرے، قابل ِ التفات ٹھہری، اور اس پیش رفت سے آپؐ نے آگے بڑھنے کے لیے توانائی اخذ کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماری منزل کتنی دور یا پاس ہے، اہم بات یہ ہے کہ ہم اسے کہاں دیکھتے ہیں ۔ اگر ہم لوگوں کو کسی کارِخیر کی خاطر انفاق کی ترغیب دیتے ہیں، تو لوگوں کا بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے کا محرک، مثال کے طور پر، یہ حقیقت بنتی ہے کہ آپ پہلے ہی دس فیصد ہدف حاصل کرچکے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو بتائیں کہ آپ کا ہدف ایک لاکھ روپے جمع کرنا ہے، اور آپ دس ہزار جمع کرچکے ہیں تو یہ بات اس سے آسان ہے کہ لوگوں کو کہیں کہ آپ کو نوے ہزار جمع کرنا ہیں، گویا آپ صفر سے شروع کر رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں معاملوں میں رقم اتنی ہی ہے۔ لیکن ہمارا ادراک ہمیں ہدف کی جانب گام زن رہنے کی تحریک دیتا ہے، اور ہمارا ذہن اسے قبول کرتا ہے۔

چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ انتہائی نازک حالات میں مکے سے مدینے کی جانب ہجرت فرمارہے تھے، اس وقت آپؐ نے سراقہ بن مالک سے (جو شروع میں پیغمبر اسلام کو زک پہنچانے کے درپے تھا) فرمایا: ’’سراقہ! اس دن تمھاری کیسی شان ہوگی جب تم کسریٰ کے کنگن پہنو گے؟‘‘ سراقہ اس بات پر بھونچکا رہ گیا۔ ’’کیا کہا، کسریٰ؟‘‘ رسول اللہ ﷺنے جواب دیا: ’’ہاں، کسریٰ۔ ہرمز کا بیٹا کسریٰ (جو وقت کی سپرپاور ایران کا فرماں روا ہے)۔‘‘ مدینہ کی جانب سلامتی کے سفر کے آغاز ہی سے رسول اللہ ﷺ کو اپنا ہدف نظر آرہا تھا، اور آپؐ کو اس ہدف تک پہنچنے کا پورا یقین تھا۔

چوتھا کمال: آپؐ نے اپنے اِدھر ُادھر کے شور و شغب کو نظر انداز کرکے اصل سگنل [پیغام] پر فوکس کیا۔

ایخور مذکورہ کتاب میں کہتا ہے کہ ہمارا دماغ فی سیکنڈ محض ۴۰ بِٹ کی اطلاعات پراسیس کرسکتا ہے، حالانکہ تمام ۱۱؍ ملین اعصابی سرِوں سے مختلف اطلاعات کی ترسیل کا سلسلہ پیہم جاری رہتاہے۔ ان میں سے بیشتر اطلاعات محض شور (noise) ہوتی ہیں، یعنی ایسی اطلاعات جو ہمارے اور مثبت تبدیلی کے مابین مزاحم ہوتی ہیں، جنھیں ہم پراسیس کرتے ہیں ۔ اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اپنی توانائی کا استعمال کہاں کرتے ہیں۔

چنانچہ شور وہ اطلاعات ہیں جو منفی، غلط یا غیر ضروری ہیں، جبکہ سگنل وہ اطلاعات ہیں جو درست اور قابل اعتماد ہیں اور ہمیں ایک عالمِ ممکنات سے روشناس کراتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سگنل پر فوکس کیا۔ یعنی ان چیزوں پر جنھیں وہ مفید استعمال میں لاسکتے تھے۔ مثال کے طور پر، اگر آپؐ اس سگنل پر فوکس کرتے کہ دنیا کی ہرشے آپ کے درپئے آزار ہے، آپؐ کی مخالفت پر کمر بستہ ہے، تو نتیجتاً آپؐ صحیح مواقع آنے پر بھی انھیں حاصل نہ کرپاتے ۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی اپنا فوکس نہیں کھویا۔

جب مہاجرین مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے، تو رسول اللہ ؐ نے مردم شماری کروائی۔ اس سے بھی آپؐ نے ایک سگنل پیدا کیا، کیوں کہ یہ معلومات مفید تھیں۔ پھر آپؐ نے ایک نیا بازار شروع کروایا تاکہ مسلمان کام کاج اور تجارت کرسکیں۔ آپؐ اہل مکہ کے حملوں کے خدشےسےبیٹھ نہیں رہے۔ ایسا نہیں تھا کہ اہل مکہ اور دیگر کی جانب سے کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔ آپؐ نے اس جانب صرف اتنی ہی توجہ کی جتنی کہ ضروری تھی، اس سے زیادہ نہیں۔ آپؐ چاہتے تو اپنی تمام تر توانائیاں مسلمانوں کو ہتھیاروں سے لیس کرنے میں لگادیتے۔ لیکن آپؐ نے اس مسئلے کا حل مدینے میں موجود مختلف قبیلوںسے صلح کے معاہدے کرکے نکالا۔ اس کے بعد آپؐ نے صحابہ کو مدینے میں بسانے پر توجہ فرمائی۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپؐ کو داخلی شور کا مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ بسا اوقات منفی وساوس و خدشات کی وجہ سے ہم خود اپنے بدترین دشمن بن بیٹھتے ہیں۔ لیکن آپؐ کا تعلق اللہ سے بہت مضبوط تھا اور آپؐ جانتے تھے کہ اللہ بھی آپ ؐکی قدر کرتا ہے۔

پانچواں کمال: پانچواں کمال کیا ہے— یہی کہ آپؐ نے اپنی ایجابی حقیقت دوسروں کو بھی منتقل کی۔

آپؐ نے لوگوں کو تعلیم دی کہ کس طرح کڑے حالات میں خیر کا پہلو تلاش کریں۔ آپؐ نے سکھایا کہ کسی بھی بھلے کام کو حقیر نہ سمجھا جائے، حتیٰ کہ کسی کی جانب دیکھ کر مسکرانا بھی معمولی نیکی نہیں۔ جب آپؐ نے معاذ بن جبلؓ کو یمن کا امیر بناکر بھیجا تو انھیں نصیحت فرمائی:

’’تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا۔ انھیں خوش خبری دینا، متنفر مت کرنا۔‘‘ (بخاری)

رسول اللہ ﷺنے ہمیشہ یاد دہانی فرمائی کہ اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ایک بار ایک شخص رسول اللہؐ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کا ارتکاب کیا ہے جس سے اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ تو آپؐ نے اسے یہ آیت سنائی:

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ ۔(سورہ ہود: ۱۱۴)

’’اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیےجو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین بہترین گروہ تھے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺکےمذکورہ اوصاف حسنہ کو حرزِجان بنالیا اور اپنی اپنی ایجابی حقیقتیں پیدا کیں۔

تو کیا آپ کے اندر یہ کمالات موجود ہیں؟

نومبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau